<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طورخم سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278068/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر طورخم سرحد کو تجارتی سرگرمیوں اور پیدل مسافروں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طورخم سرحد کی بندش کے باعث دونوں اطراف سے ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت اور پیدل گزرگاہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جبکہ تمام مال بردار گاڑیاں لنڈی کوتل منتقل کر دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق طورخم سرحد کی تجارتی اور پیدل آمدورفت کی بندش دونوں ممالک کے عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر سرحد کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل 21 فروری کو سرحدی علاقے میں تعمیراتی سرگرمیوں پر پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان اختلافات کے بعد طورخم بارڈر کراسنگ کے ذریعے آمدورفت کو معطل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال مارچ میں مزید بگڑ گئی جب پاکستانی اور افغان طالبان فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے دوران آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فائرنگ کے نتیجے میں کئی مکانات، ایک مسجد اور کلیئرنگ ایجنٹس کے دفاتر توپ خانے کے گولوں کی زد میں آئے، جبکہ سرحد پار فائرنگ کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دونوں جانب کے قبائلی عمائدین نے مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں کیں، جو بالآخر مثبت نتائج پر منتج ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور افغانستان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر طورخم سرحد کو تجارتی سرگرمیوں اور پیدل مسافروں کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>طورخم سرحد کی بندش کے باعث دونوں اطراف سے ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدورفت اور پیدل گزرگاہ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے، جبکہ تمام مال بردار گاڑیاں لنڈی کوتل منتقل کر دی گئی ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق طورخم سرحد کی تجارتی اور پیدل آمدورفت کی بندش دونوں ممالک کے عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنے گی، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر سرحد کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل 21 فروری کو سرحدی علاقے میں تعمیراتی سرگرمیوں پر پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان اختلافات کے بعد طورخم بارڈر کراسنگ کے ذریعے آمدورفت کو معطل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>صورتحال مارچ میں مزید بگڑ گئی جب پاکستانی اور افغان طالبان فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے دوران آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔</p>
<p>اس فائرنگ کے نتیجے میں کئی مکانات، ایک مسجد اور کلیئرنگ ایجنٹس کے دفاتر توپ خانے کے گولوں کی زد میں آئے، جبکہ سرحد پار فائرنگ کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا۔</p>
<p>بعد ازاں دونوں جانب کے قبائلی عمائدین نے مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کی کوششیں کیں، جو بالآخر مثبت نتائج پر منتج ہوئیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278068</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 09:29:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/13092730a358365.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/13092730a358365.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
