<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب کی تحمل سے کام لینے کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278065/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب نے اتوار کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو افغان افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان کے سخت عسکری ردعمل کا باعث بنا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان جو ایکس پر شائع ہوا، میں دونوں ممالک سے کشیدگی کو کم کرنے، مکالمے اور تحمل  اختیار کرنے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید زور دیا گیا کہ مزید تصادم سے گریز کیا جائے اور بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی رویہ اپنایا جائے۔ سعودی عرب کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں اور سرحدی کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں دونوں ملک سے ضبط و تحمل دکھانے اور تعمیری مکالمے میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ وہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، جو امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے ہیں، خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہوں، تاکہ دونوں ممالک خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سعودی بیان میں حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دستخط شدہ دفاعی معاہدے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس میں تحمل اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دفاعی معاہدے میں باہمی دفاع کی شقیں شامل ہیں اور یہ موجودہ سرحدی کشیدگی کے دوران خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملے کے مترادف ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، کچھ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر 28 اکتوبر کو ریاض کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہوگا، جسے اکثر مستقبل کا اسلامی نیٹو کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم نہ تو وزیراعظم کے دفتر اور نہ ہی وزارت خارجہ نے اس دورے کا سرکاری اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی عرب نے اتوار کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جو افغان افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کے بعد پاکستان کے سخت عسکری ردعمل کا باعث بنا۔</strong></p>
<p>سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان جو ایکس پر شائع ہوا، میں دونوں ممالک سے کشیدگی کو کم کرنے، مکالمے اور تحمل  اختیار کرنے کی اپیل کی۔</p>
<p>بیان میں مزید زور دیا گیا کہ مزید تصادم سے گریز کیا جائے اور بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی رویہ اپنایا جائے۔ سعودی عرب کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپوں اور سرحدی کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔</p>
<p>بیان میں دونوں ملک سے ضبط و تحمل دکھانے اور تعمیری مکالمے میں شامل ہونے کی درخواست کی گئی تاکہ خطے میں امن و استحکام یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>سعودی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ وہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے پرعزم ہے، جو امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے ہیں، خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ سعودی عرب خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مضبوط ہوں، تاکہ دونوں ممالک خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکیں۔</p>
<p>اگرچہ سعودی بیان میں حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دستخط شدہ دفاعی معاہدے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، تاہم اس میں تحمل اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دفاعی معاہدے میں باہمی دفاع کی شقیں شامل ہیں اور یہ موجودہ سرحدی کشیدگی کے دوران خاص توجہ حاصل کر رہا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملے کے مترادف ہوگا۔</p>
<p>دریں اثنا، کچھ رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر 28 اکتوبر کو ریاض کے تین روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہوگا، جسے اکثر مستقبل کا اسلامی نیٹو کہا جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم نہ تو وزیراعظم کے دفتر اور نہ ہی وزارت خارجہ نے اس دورے کا سرکاری اعلان کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278065</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 09:07:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/130905385bbe587.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/130905385bbe587.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
