<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ:23 اہلکار شہید، 200 جنگجو ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278062/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ شب سرحد پار شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے کم از کم 23 اہلکار شہید جبکہ 200 سے زائد افغان طالبان جنگجو اور دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج نے گزشتہ رات پاک افغان سرحد کے ساتھ پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے کے اپنے  مقاصد کے لیے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ میں دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے تو پاکستان کی عوام اور ریاست چین سے نہیں بیٹھیں گے اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی اس لعنت  کو  جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/2r8IMw52XNc?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت کی یہ بزدلانہ کارروائی جس میں فائرنگ اور چند زمینی حملے شامل تھے، سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کرنے اور دہشت گردی کو سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کی گئی ،تاکہ فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو تقویت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی چوکس مسلح افواج نے پوری سرحد پر اس حملے کو فیصلہ کن انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز اور ان کے خوارجی اتحادیوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کے کیمپوں اور چوکیوں، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جو دہشت گرد تنظیموں کو سہولت فراہم کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران خوارج، فتنہ الہند اور داعش کے عناصر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شہری آبادی کو نقصان سے بچانے اور ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بے لگام کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد پر طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سرحد کی دوسری جانب افغان علاقے میں موجود دشمن کی اکیس پوزیشنوں کو بھی مختصر مدت کے لیے اپنے قبضے میں لیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے متعدد تربیتی کیمپوں کو، جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہے تھے، ناکارہ بنا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر کے مطابق رات بھر جاری جھڑپوں کے دوران پاکستان کے 23 بہادر سپاہی وطن  کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے، جبکہ 19  اہلکار زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ معتبر انٹیلی جنس معلومات اور نقصان کے تخمینے کے مطابق دو سو سے زائد طالبان اور ان سے وابستہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان کی چوکیوں، کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورکس کو پہنچنے والا بنیادی ڈھانچے کا نقصان سرحد کے طول و عرض میں وسیع ہے، جو حکمت عملی سے لے کر آپریشنل گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاک فوج کے ترجمان کے مطابق  مسلح افواج ملکی علاقائی سالمیت، عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ وطن کے دفاع اور دشمن قوتوں کو شکست دینے کے عزم میں کوئی کمزوری نہیں آنے دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی عوام تشدد اور جنگ و جدل کے بجائے تعمیری سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے غدارانہ استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے تشویش ظاہر کی کہ یہ سنگین اشتعال انگیزی اس وقت پیش آئی جب طالبان کے وزیرِ خارجہ بھارت کے دورے پر تھے، جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان حکومت کسی بھی غلط فہمی یا غیر ذمہ دارانہ جارحانہ روش سے گریز کرے اور افغان عوام کی بھلائی، امن، خوشحالی اور ترقی کو ترجیح دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ رات کا واقعہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز پاکستان کی سرزمین کے بہادر بیٹوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی نے حملہ آوروں کو زبردست دھچکا پہنچایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محسن نقوی کے مطابق پاکستانی جوانوں نے دو سو سے زائد افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا اور وطن کے دفاع میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ داخلہ نے کہا کہ حملہ آوروں کو مؤثر جواب دینا افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ قربانی کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے والے سیکیورٹی اہلکار قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ شب سرحد پار شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے کم از کم 23 اہلکار شہید جبکہ 200 سے زائد افغان طالبان جنگجو اور دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج نے گزشتہ رات پاک افغان سرحد کے ساتھ پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیا۔</p>
<p>اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے کے اپنے  مقاصد کے لیے بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ میں دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی جاری رکھتی ہے تو پاکستان کی عوام اور ریاست چین سے نہیں بیٹھیں گے اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی اس لعنت  کو  جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/2r8IMw52XNc?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' loading='lazy' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>طالبان حکومت کی یہ بزدلانہ کارروائی جس میں فائرنگ اور چند زمینی حملے شامل تھے، سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کرنے اور دہشت گردی کو سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے کی گئی ،تاکہ فتنہ الخوارج کے مذموم عزائم کو تقویت دی جا سکے۔</p>
<p>بیان کے مطابق اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی چوکس مسلح افواج نے پوری سرحد پر اس حملے کو فیصلہ کن انداز میں پسپا کیا اور طالبان فورسز اور ان کے خوارجی اتحادیوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔</p>
<p>طالبان کے کیمپوں اور چوکیوں، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور ان نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کی گئیں جو دہشت گرد تنظیموں کو سہولت فراہم کر رہے تھے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ کارروائی کے دوران خوارج، فتنہ الہند اور داعش کے عناصر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ شہری آبادی کو نقصان سے بچانے اور ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔</p>
<p>ان بے لگام کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد پر طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سرحد کی دوسری جانب افغان علاقے میں موجود دشمن کی اکیس پوزیشنوں کو بھی مختصر مدت کے لیے اپنے قبضے میں لیا گیا، جبکہ دہشت گردی کے متعدد تربیتی کیمپوں کو، جو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہے تھے، ناکارہ بنا دیا گیا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر کے مطابق رات بھر جاری جھڑپوں کے دوران پاکستان کے 23 بہادر سپاہی وطن  کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے، جبکہ 19  اہلکار زخمی ہوئے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ معتبر انٹیلی جنس معلومات اور نقصان کے تخمینے کے مطابق دو سو سے زائد طالبان اور ان سے وابستہ دہشت گرد مارے گئے، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>طالبان کی چوکیوں، کیمپوں، ہیڈکوارٹرز اور دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورکس کو پہنچنے والا بنیادی ڈھانچے کا نقصان سرحد کے طول و عرض میں وسیع ہے، جو حکمت عملی سے لے کر آپریشنل گہرائی تک پھیلا ہوا ہے۔</p>
<p>پاک فوج کے ترجمان کے مطابق  مسلح افواج ملکی علاقائی سالمیت، عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ وطن کے دفاع اور دشمن قوتوں کو شکست دینے کے عزم میں کوئی کمزوری نہیں آنے دی جائے گی۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی عوام تشدد اور جنگ و جدل کے بجائے تعمیری سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے غدارانہ استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے تشویش ظاہر کی کہ یہ سنگین اشتعال انگیزی اس وقت پیش آئی جب طالبان کے وزیرِ خارجہ بھارت کے دورے پر تھے، جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ملک ہے۔</p>
<p>ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان حکومت کسی بھی غلط فہمی یا غیر ذمہ دارانہ جارحانہ روش سے گریز کرے اور افغان عوام کی بھلائی، امن، خوشحالی اور ترقی کو ترجیح دے۔</p>
<p>گزشتہ رات کا واقعہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز پاکستان کی سرزمین کے بہادر بیٹوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہوئے۔</p>
<p>وزیرِ داخلہ نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کارروائی نے حملہ آوروں کو زبردست دھچکا پہنچایا۔</p>
<p>محسن نقوی کے مطابق پاکستانی جوانوں نے دو سو سے زائد افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا۔</p>
<p>انہوں نے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا اور وطن کے دفاع میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کو سراہا۔</p>
<p>وزیرِ داخلہ نے کہا کہ حملہ آوروں کو مؤثر جواب دینا افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت اور جذبۂ قربانی کا مظہر ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے والے سیکیورٹی اہلکار قوم کے حقیقی ہیرو ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278062</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Oct 2025 09:31:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسکرائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/130931105e67edb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/130931105e67edb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
