<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسلم ممالک کا عسکری اتحاد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278058/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ دنیا کو تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہوئے دیکھنے کا بہترین وقت ہے، مگر اس تبدیلی میں حصہ لینے یا سرگرم رہنے کا یہ بدترین دور ہے جو لوگ اس کشمکش میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں ان کا انجام شہادت، نسل کُشی  یا پھر لاپتا ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیشتر فوری کارروائیوں کا مرکز مشرق وسطیٰ ہے، لیکن تباہ کُن سونامی کا اثر دنیا کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ زیادہ تر ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں ہے، مگر اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال دنیا کا سب سے محفوظ مقام  مالوِناس (فاک لینڈ جزائر) معلوم ہوتا ہے،چونکہ مارگریٹ تھیچر اب ریٹائر ہو چکی ہیں، اس لیے مزید حملوں کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بڑی خبر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہے، جس  پر ابھی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اصل بات معاہدے کی تفصیلات میں  پوشیدہ ہے، تاہم اس موقع پر چند مسلم ممالک کی عسکری صلاحیتوں کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک کے پاس  خودمختارانہ دفاعی اختیار  بھی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً دو دہائی قبل پانچ مسلم اکثریتی ممالک عسکری طاقت کے لحاظ سے نمایاں تھے جن میں ترکیہ ، مصر، پاکستان، ایران اور انڈونیشیا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ سن 2000 کے بعد چند دیگر مسلم ریاستیں بھی اس صف میں شامل ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ترکیہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمانی سلطنت  یورپ کا  بیمار شخص کہلانے والا ملک ہے۔ فوجی بغاوتوں (1960، 1971، 1980) اور 2016 کی ناکام فوجی کوشش کے باوجود ترکی ایک مضبوط اسلامی ریاست ہےجس کی حقیقی فی کس آمدنی تقریباً 28 ہزار امریکی ڈالر ہے، جبکہ دفاعی بجٹ 1.8 فیصد (2022) یعنی تقریباً 30 ارب ڈالر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے پاس 445,000 فعال فوجی و سیکیورٹی اہلکار ہیں۔اسلحہ زیادہ تر ملکی پیداوار اور مغربی نظاموں پر مشتمل ہے، تاہم حالیہ برسوں میں چین اور روس سے بھی جدید ہتھیار حاصل کیے گئے ہیں۔ترکیہ  کی دفاعی صنعت مضبوط ہے، جو برآمدات اور داخلی ضروریات دونوں کو پورا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ  1952 سے نیٹو کا رکن ہے اور ازمیر میں نیٹو کی زمینی کمانڈ کے ساتھ انجرلک میں امریکی فضائی اڈہ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مصر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک اور کم از کم 3200 قبل مسیح سے  دریائے نیل کا سیلاب تب بھی ایک بڑی خبر تھا، آج بھی ہے۔ جدید مصر کی تاریخ میں جمال عبدالناصر اور غیر وابستہ تحریک (این اے ایم) کا نام نمایاں ہے۔ ان کے بعد فوجی حکمران آئےجن میں انور سادات، حسنی مبارک اور موجودہ صدر عبدالفتح السیسی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اخوان المسلمون  کے محمد مُرسی صرف دو سال (2013–14) حکومت کر سکے۔
مصر کی فی کس حقیقی آمدنی 11,800 ڈالر (2021) ہے۔فوجی اہلکاروں کی تعداد تقریباً 450,000 اور مرکزی سیکیورٹی فورسز 300,000 ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلحہ کا ذخیرہ ملکی پیداوار، پرانے سوویت اور جدید مغربی نظاموں کا مجموعہ ہے۔خلیجی ممالک (جی سی سی) کی جانب سے مصر میں بھاری سرمایہ کاری جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت 1979 میں ختم ہوئی اور شاید یہ دنیا کی پہلی حکومت تھی جو ایک پارٹی کی میزبانی کے جرم میں ختم کردی گئی۔ یاد رہے   پرسیپولس کی تقریب میں پاکستان کے جنرل یحییٰ خان بھی شریک تھے اور شاید سب سے زیادہ شراب بھی انہوں نے ہی پی تھی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب سے ایران میں اسلام پسند حکومت قائم ہے۔ایران کی حقیقی فی کس آمدنی 13,000 ڈالر ہے۔دفاعی اخراجات 2.1 فیصد (2022) یعنی تقریباً 23 ارب ڈالر۔
فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 550 سے 600 ہزار، جبکہ اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی ) تقریباً 200,000 اور قدس فورس کے اہلکار 15,000 ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلحہ کا ذخیرہ ملکی ساختہ، قدیم اور جدید نظاموں پر مشتمل ہے، چین، روس، سوویت یونین، امریکہ اور جزوی طور پر شمالی کوریا سے بھی حاصل کیاگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی کس حقیقی آمدنی 4,700 ڈالر (اعدادوشمار کے درست ہونے کی تصدیق صرف آئی ایم ایف کر سکتا ہے)۔دفاعی اخراجات 4 فیصد (2022) یعنی تقریباً 20 ارب ڈالر۔فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد 630,000، جن میں سے تقریباً 150,000 فرنٹیئر کور اور رینجرز پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے اسلحہ خانے میں چین، فرانس، روس، ترکی، یوکرین، برطانیہ اور امریکہ کے نظام شامل ہیں۔پاکستان کی ملکی دفاعی صنعت بھی وسیع اور فعال ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1949 میں نیدرلینڈ سے آزادی حاصل کی۔صدر سُکارنو (غیر وابستہ تحریک کے بانی ارکان میں سے ایک) نے 1967 تک غیر منظم جمہوریت چلائی، بعد ازاں سوہارتو نے 1998 تک اقتدار سنبھالا۔اب جمہوریت قائم ہے۔فی کس حقیقی آمدنی 12,000 ڈالر (2022)۔دفاعی بجٹ 0.8 فیصد یعنی تقریباً 15 ارب ڈالر۔فوجی اہلکاروں کی تعداد 400,000 ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلحہ کا ذخیرہ چین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، روس، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ سے حاصل شدہ نظاموں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پانچ ممالک طویل عرصے سے اسلامی عسکری قوت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، تاہم 1990 کی دہائی کے بعد چند تیل سے مالا مال مسلم ریاستوں نے بھی نمایاں فوجی طاقت حاصل کر لی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی کس آمدنی 47,000 ڈالر (2022)۔دفاعی اخراجات 7.8 فیصد یعنی تقریباً 92 ارب ڈالر۔کل فعال فوجی اہلکار 225,000 جبکہ سعودی گارڈز میں مزید 100,000۔اسلحہ کا ذخیرہ جدید امریکی اور یورپی نظاموں پر مشتمل ہے۔
2022 میں سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات (یواےای)&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ ستمبر 2020 میں کیا۔فی کس آمدنی 67,000 ڈالر (2019)۔دفاعی بجٹ 5.6 فیصد یعنی تقریباً 29 ارب ڈالر۔فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 65,000۔اسلحہ کا ذخیرہ جدید امریکی، یورپی اور روسی نظاموں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہیں وہ  بڑے کھلاڑی جبکہ دیگر مسلم ممالک بھی اب قابلِ ذکر دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماخذ: سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک 2023-2024
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مشاہدہ کرنے کا اچھا وقت ہے۔ دنیا از سرِ نو تشکیل دی جا رہی ہے، لیکن کسی سرگرم شریک یا کارکن کے لیے یہ بُرا وقت ہے۔ آپ کو شہید کیا جا سکتا ہے، نسل کشی کا شکار ہونا پڑ سکتا ہے یا پھر ”ایم۔آئی۔اے“ یعنی لاپتہ ہو سکتے ہیں۔ زیادہ تر کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کے گرد گھوم رہی ہیں، مگر اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کا سب سے محفوظ مقام فی الحال مالوِناس (فاک لینڈ آئی لینڈز) ہے۔ چونکہ مارگریٹ تھیچر اب ریٹائر ہو چکی ہیں، اس لیے مزید حملوں کا کوئی امکان نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ بڑی خبر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ ہے۔ فی الحال اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اصل حقیقت تفصیلات میں چھپی ہے۔ تاہم، کچھ مسلم ممالک کی عسکری صلاحیتوں کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک کے پاس “خودمختارانہ عسکری فیصلے کرنے کی طاقت” ہے؟ تقریباً دو دہائیاں قبل پانچ مسلم اکثریتی ممالک کو عسکری لحاظ سے طاقتور مانا جاتا تھا — ترکی، مصر، پاکستان، ایران اور انڈونیشیا۔ سن 2000 کے بعد کچھ دیگر ممالک بھی اس صف میں شامل ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عثمانی سلطنت، جسے کبھی “یورپ کا بیمار شخص” کہا گیا۔ فوجی بغاوتوں (1960، 1971، 1980) کی تاریخ رکھنے والا ملک۔ تازہ ترین بغاوت کی کوشش جولائی 2016 میں ہوئی۔ اس کے باوجود ترکی ایک مضبوط اسلامی ریاست ہے۔ حقیقی فی کس آمدنی تقریباً 28 ہزار ڈالر ہے۔ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا 1.8 فیصد (2022) یعنی تقریباً 30 ارب ڈالر ہیں۔ فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد 445,000 ہے۔ اسلحہ ساز صنعت مضبوط ہے جو ملکی ضروریات اور برآمدات دونوں کے لیے ہتھیار تیار کرتی ہے۔ ترکی 1952 سے نیٹو کا رکن ہے، ازمیر میں نیٹو لینڈ فورس کمانڈ اور انجرلیک میں امریکی/نیٹو ایئربیس بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصر&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قدیم تہذیبوں کا گہوارہ، جس کی تاریخ 3200 قبل مسیح تک جاتی ہے۔ دریائے نیل کا سیلاب تب سے آج تک زندگی کا محور ہے۔ جدید دور میں جمال عبدالناصر اور غیر وابستہ تحریک (NAM) کا کردار نمایاں رہا۔ بعد ازاں فوجی حکمران انور سادات، حسنی مبارک اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی آئے۔ محمد مرسی (اخوان المسلمون) کی حکومت صرف دو سال (2013–14) رہی۔ مصر کی حقیقی فی کس آمدنی 11,800 ڈالر (2021) ہے۔ فوجی اہلکاروں کی تعداد 4.5 لاکھ فعال اور 3 لاکھ مرکزی سیکیورٹی فورسز پر مشتمل ہے۔ عسکری ساز و سامان مقامی، سوویت دور کے اور جدید مغربی نظاموں کا امتزاج ہے۔ خلیجی ممالک خصوصاً جی سی سی کی جانب سے مصر میں سرمایہ کاری میں تیزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت 1979 میں انقلابِ ایران کے ذریعے ختم ہوئی — شاید تاریخ کی واحد حکومت جو “دعوتِ شامیان” کے دوران ختم ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہی جنرل یحییٰ خان نے اس محفل میں سب سے زیادہ شیمپین پی تھی۔
اسلامی حکومت تب سے قائم ہے۔ حقیقی فی کس آمدنی 13,000 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 2.1 فیصد (2022) یعنی تقریباً 23 ارب ڈالر ہے۔ فعال فوجی تعداد 5.5 تا 6 لاکھ، 2 لاکھ پاسدارانِ انقلاب اور 15 ہزار القدس فورس پر مشتمل ہے۔ ہتھیاروں میں مقامی، چینی، سوویت، روسی، امریکی اور کچھ شمالی کوریائی نظام شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی فی کس آمدنی تقریباً 4,700 ڈالر ہے (حقیقتاً اعداد و شمار صرف آئی ایم ایف کو معلوم ہیں)۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 4 فیصد (2022) یعنی تقریباً 20 ارب ڈالر ہے۔ مسلح افواج کے کل اہلکار 6.3 لاکھ ہیں، جن میں فرنٹیئر کور اور پاکستان رینجرز کے تقریباً 1.5 لاکھ اہلکار شامل ہیں۔ دفاعی سازوسامان چین، فرانس، روس، ترکی، یوکرین، برطانیہ اور امریکہ سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ ملکی دفاعی صنعت بھی خاصی ترقی یافتہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1949 میں نیدرلینڈ سے آزادی حاصل کی۔ صدر سوئیکارنو غیر وابستہ تحریک کے بانی ارکان میں سے تھے۔ 1967 تک ان کی غیر مستحکم جمہوریت جاری رہی، بعدازاں سوہارتو نے 1998 تک حکومت کی۔ اب ایک فعال جمہوریت ہے۔ حقیقی فی کس آمدنی 12,000 ڈالر (2022) ہے۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد یعنی تقریباً 15 ارب ڈالر ہے۔ مسلح افواج کے فعال اہلکار 4 لاکھ ہیں۔ فوجی سازوسامان چین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈ، روس، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مندرجہ بالا پانچ ممالک مسلم دنیا کی عسکری ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ تاہم، 1990 کی دہائی کے بعد کچھ تیل سے مالا مال مسلم ممالک نے بھی جدید اسلحہ حاصل کر کے اپنی حیثیت مستحکم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی کس جی ڈی پی 47,000 ڈالر (2022)۔ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا 7.8 فیصد یعنی تقریباً 92 ارب ڈالر۔ فعال فوجی اہلکار 2.25 لاکھ اور 1 لاکھ سعودی نیشنل گارڈ میں۔ اسلحہ زیادہ تر امریکہ اور یورپ سے درآمد شدہ جدید نظاموں پر مشتمل ہے۔ 2022 میں سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ستمبر 2020 میں اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ پر دستخط کیے۔ فی کس جی ڈی پی 67,000 ڈالر (2019)۔ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً 5.6 فیصد یعنی 29 ارب ڈالر ہیں۔ فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 65,000 ہے۔ فوجی سازوسامان امریکہ، یورپ اور روس سے حاصل کردہ جدید ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ہیں مسلم دنیا کی وہ بڑی قوتیں جو اپنی عسکری طاقت اور تزویراتی اہمیت کے باعث نمایاں مقام رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماخذ: سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بُک 2023–2024
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یہ دنیا کو تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہوئے دیکھنے کا بہترین وقت ہے، مگر اس تبدیلی میں حصہ لینے یا سرگرم رہنے کا یہ بدترین دور ہے جو لوگ اس کشمکش میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں ان کا انجام شہادت، نسل کُشی  یا پھر لاپتا ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔</strong></p>
<p>بیشتر فوری کارروائیوں کا مرکز مشرق وسطیٰ ہے، لیکن تباہ کُن سونامی کا اثر دنیا کے کونے کونے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ زیادہ تر ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں ہے، مگر اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>فی الحال دنیا کا سب سے محفوظ مقام  مالوِناس (فاک لینڈ جزائر) معلوم ہوتا ہے،چونکہ مارگریٹ تھیچر اب ریٹائر ہو چکی ہیں، اس لیے مزید حملوں کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p>حالیہ بڑی خبر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہے، جس  پر ابھی تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ اصل بات معاہدے کی تفصیلات میں  پوشیدہ ہے، تاہم اس موقع پر چند مسلم ممالک کی عسکری صلاحیتوں کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہیں۔</p>
<p>سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک کے پاس  خودمختارانہ دفاعی اختیار  بھی ہے؟</p>
<p>تقریباً دو دہائی قبل پانچ مسلم اکثریتی ممالک عسکری طاقت کے لحاظ سے نمایاں تھے جن میں ترکیہ ، مصر، پاکستان، ایران اور انڈونیشیا شامل ہیں۔</p>
<p>جبکہ سن 2000 کے بعد چند دیگر مسلم ریاستیں بھی اس صف میں شامل ہو گئیں۔</p>
<p><strong>ترکیہ</strong></p>
<p>عثمانی سلطنت  یورپ کا  بیمار شخص کہلانے والا ملک ہے۔ فوجی بغاوتوں (1960، 1971، 1980) اور 2016 کی ناکام فوجی کوشش کے باوجود ترکی ایک مضبوط اسلامی ریاست ہےجس کی حقیقی فی کس آمدنی تقریباً 28 ہزار امریکی ڈالر ہے، جبکہ دفاعی بجٹ 1.8 فیصد (2022) یعنی تقریباً 30 ارب ڈالر ہے۔</p>
<p>ترکیہ کے پاس 445,000 فعال فوجی و سیکیورٹی اہلکار ہیں۔اسلحہ زیادہ تر ملکی پیداوار اور مغربی نظاموں پر مشتمل ہے، تاہم حالیہ برسوں میں چین اور روس سے بھی جدید ہتھیار حاصل کیے گئے ہیں۔ترکیہ  کی دفاعی صنعت مضبوط ہے، جو برآمدات اور داخلی ضروریات دونوں کو پورا کرتی ہے۔</p>
<p>ترکیہ  1952 سے نیٹو کا رکن ہے اور ازمیر میں نیٹو کی زمینی کمانڈ کے ساتھ انجرلک میں امریکی فضائی اڈہ بھی موجود ہے۔</p>
<p><strong>مصر</strong></p>
<p>دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک اور کم از کم 3200 قبل مسیح سے  دریائے نیل کا سیلاب تب بھی ایک بڑی خبر تھا، آج بھی ہے۔ جدید مصر کی تاریخ میں جمال عبدالناصر اور غیر وابستہ تحریک (این اے ایم) کا نام نمایاں ہے۔ ان کے بعد فوجی حکمران آئےجن میں انور سادات، حسنی مبارک اور موجودہ صدر عبدالفتح السیسی شامل ہیں۔</p>
<p>اخوان المسلمون  کے محمد مُرسی صرف دو سال (2013–14) حکومت کر سکے۔
مصر کی فی کس حقیقی آمدنی 11,800 ڈالر (2021) ہے۔فوجی اہلکاروں کی تعداد تقریباً 450,000 اور مرکزی سیکیورٹی فورسز 300,000 ہیں۔</p>
<p>اسلحہ کا ذخیرہ ملکی پیداوار، پرانے سوویت اور جدید مغربی نظاموں کا مجموعہ ہے۔خلیجی ممالک (جی سی سی) کی جانب سے مصر میں بھاری سرمایہ کاری جاری ہے۔</p>
<p><strong>ایران</strong></p>
<p>شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت 1979 میں ختم ہوئی اور شاید یہ دنیا کی پہلی حکومت تھی جو ایک پارٹی کی میزبانی کے جرم میں ختم کردی گئی۔ یاد رہے   پرسیپولس کی تقریب میں پاکستان کے جنرل یحییٰ خان بھی شریک تھے اور شاید سب سے زیادہ شراب بھی انہوں نے ہی پی تھی ۔</p>
<p>تب سے ایران میں اسلام پسند حکومت قائم ہے۔ایران کی حقیقی فی کس آمدنی 13,000 ڈالر ہے۔دفاعی اخراجات 2.1 فیصد (2022) یعنی تقریباً 23 ارب ڈالر۔
فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی تعداد 550 سے 600 ہزار، جبکہ اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی ) تقریباً 200,000 اور قدس فورس کے اہلکار 15,000 ہیں۔</p>
<p>اسلحہ کا ذخیرہ ملکی ساختہ، قدیم اور جدید نظاموں پر مشتمل ہے، چین، روس، سوویت یونین، امریکہ اور جزوی طور پر شمالی کوریا سے بھی حاصل کیاگیا۔</p>
<p><strong>پاکستان</strong></p>
<p>فی کس حقیقی آمدنی 4,700 ڈالر (اعدادوشمار کے درست ہونے کی تصدیق صرف آئی ایم ایف کر سکتا ہے)۔دفاعی اخراجات 4 فیصد (2022) یعنی تقریباً 20 ارب ڈالر۔فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد 630,000، جن میں سے تقریباً 150,000 فرنٹیئر کور اور رینجرز پر مشتمل ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے اسلحہ خانے میں چین، فرانس، روس، ترکی، یوکرین، برطانیہ اور امریکہ کے نظام شامل ہیں۔پاکستان کی ملکی دفاعی صنعت بھی وسیع اور فعال ہے۔</p>
<p><strong>انڈونیشیا</strong></p>
<p>1949 میں نیدرلینڈ سے آزادی حاصل کی۔صدر سُکارنو (غیر وابستہ تحریک کے بانی ارکان میں سے ایک) نے 1967 تک غیر منظم جمہوریت چلائی، بعد ازاں سوہارتو نے 1998 تک اقتدار سنبھالا۔اب جمہوریت قائم ہے۔فی کس حقیقی آمدنی 12,000 ڈالر (2022)۔دفاعی بجٹ 0.8 فیصد یعنی تقریباً 15 ارب ڈالر۔فوجی اہلکاروں کی تعداد 400,000 ہے۔</p>
<p>اسلحہ کا ذخیرہ چین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، روس، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ سے حاصل شدہ نظاموں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>یہ پانچ ممالک طویل عرصے سے اسلامی عسکری قوت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، تاہم 1990 کی دہائی کے بعد چند تیل سے مالا مال مسلم ریاستوں نے بھی نمایاں فوجی طاقت حاصل کر لی ہے۔</p>
<p><strong>سعودی عرب</strong></p>
<p>فی کس آمدنی 47,000 ڈالر (2022)۔دفاعی اخراجات 7.8 فیصد یعنی تقریباً 92 ارب ڈالر۔کل فعال فوجی اہلکار 225,000 جبکہ سعودی گارڈز میں مزید 100,000۔اسلحہ کا ذخیرہ جدید امریکی اور یورپی نظاموں پر مشتمل ہے۔
2022 میں سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کرنے والا ملک تھا۔</p>
<p><strong>متحدہ عرب امارات (یواےای)</strong></p>
<p>اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ ستمبر 2020 میں کیا۔فی کس آمدنی 67,000 ڈالر (2019)۔دفاعی بجٹ 5.6 فیصد یعنی تقریباً 29 ارب ڈالر۔فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 65,000۔اسلحہ کا ذخیرہ جدید امریکی، یورپی اور روسی نظاموں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>یہ ہیں وہ  بڑے کھلاڑی جبکہ دیگر مسلم ممالک بھی اب قابلِ ذکر دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ماخذ: سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک 2023-2024
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
<p>یہ مشاہدہ کرنے کا اچھا وقت ہے۔ دنیا از سرِ نو تشکیل دی جا رہی ہے، لیکن کسی سرگرم شریک یا کارکن کے لیے یہ بُرا وقت ہے۔ آپ کو شہید کیا جا سکتا ہے، نسل کشی کا شکار ہونا پڑ سکتا ہے یا پھر ”ایم۔آئی۔اے“ یعنی لاپتہ ہو سکتے ہیں۔ زیادہ تر کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کے گرد گھوم رہی ہیں، مگر اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔</p>
<p>دنیا کا سب سے محفوظ مقام فی الحال مالوِناس (فاک لینڈ آئی لینڈز) ہے۔ چونکہ مارگریٹ تھیچر اب ریٹائر ہو چکی ہیں، اس لیے مزید حملوں کا کوئی امکان نہیں۔</p>
<p>تازہ بڑی خبر سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک ڈیفنس معاہدہ ہے۔ فی الحال اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ اصل حقیقت تفصیلات میں چھپی ہے۔ تاہم، کچھ مسلم ممالک کی عسکری صلاحیتوں کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔</p>
<p>اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان ممالک کے پاس “خودمختارانہ عسکری فیصلے کرنے کی طاقت” ہے؟ تقریباً دو دہائیاں قبل پانچ مسلم اکثریتی ممالک کو عسکری لحاظ سے طاقتور مانا جاتا تھا — ترکی، مصر، پاکستان، ایران اور انڈونیشیا۔ سن 2000 کے بعد کچھ دیگر ممالک بھی اس صف میں شامل ہو گئے ہیں۔</p>
<p>ترکی</p>
<p>عثمانی سلطنت، جسے کبھی “یورپ کا بیمار شخص” کہا گیا۔ فوجی بغاوتوں (1960، 1971، 1980) کی تاریخ رکھنے والا ملک۔ تازہ ترین بغاوت کی کوشش جولائی 2016 میں ہوئی۔ اس کے باوجود ترکی ایک مضبوط اسلامی ریاست ہے۔ حقیقی فی کس آمدنی تقریباً 28 ہزار ڈالر ہے۔ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا 1.8 فیصد (2022) یعنی تقریباً 30 ارب ڈالر ہیں۔ فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی کل تعداد 445,000 ہے۔ اسلحہ ساز صنعت مضبوط ہے جو ملکی ضروریات اور برآمدات دونوں کے لیے ہتھیار تیار کرتی ہے۔ ترکی 1952 سے نیٹو کا رکن ہے، ازمیر میں نیٹو لینڈ فورس کمانڈ اور انجرلیک میں امریکی/نیٹو ایئربیس بھی موجود ہے۔</p>
<p>مصر</p>
<p>قدیم تہذیبوں کا گہوارہ، جس کی تاریخ 3200 قبل مسیح تک جاتی ہے۔ دریائے نیل کا سیلاب تب سے آج تک زندگی کا محور ہے۔ جدید دور میں جمال عبدالناصر اور غیر وابستہ تحریک (NAM) کا کردار نمایاں رہا۔ بعد ازاں فوجی حکمران انور سادات، حسنی مبارک اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی آئے۔ محمد مرسی (اخوان المسلمون) کی حکومت صرف دو سال (2013–14) رہی۔ مصر کی حقیقی فی کس آمدنی 11,800 ڈالر (2021) ہے۔ فوجی اہلکاروں کی تعداد 4.5 لاکھ فعال اور 3 لاکھ مرکزی سیکیورٹی فورسز پر مشتمل ہے۔ عسکری ساز و سامان مقامی، سوویت دور کے اور جدید مغربی نظاموں کا امتزاج ہے۔ خلیجی ممالک خصوصاً جی سی سی کی جانب سے مصر میں سرمایہ کاری میں تیزی ہے۔</p>
<p>ایران</p>
<p>شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت 1979 میں انقلابِ ایران کے ذریعے ختم ہوئی — شاید تاریخ کی واحد حکومت جو “دعوتِ شامیان” کے دوران ختم ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہی جنرل یحییٰ خان نے اس محفل میں سب سے زیادہ شیمپین پی تھی۔
اسلامی حکومت تب سے قائم ہے۔ حقیقی فی کس آمدنی 13,000 ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 2.1 فیصد (2022) یعنی تقریباً 23 ارب ڈالر ہے۔ فعال فوجی تعداد 5.5 تا 6 لاکھ، 2 لاکھ پاسدارانِ انقلاب اور 15 ہزار القدس فورس پر مشتمل ہے۔ ہتھیاروں میں مقامی، چینی، سوویت، روسی، امریکی اور کچھ شمالی کوریائی نظام شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستان</p>
<p>حقیقی فی کس آمدنی تقریباً 4,700 ڈالر ہے (حقیقتاً اعداد و شمار صرف آئی ایم ایف کو معلوم ہیں)۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 4 فیصد (2022) یعنی تقریباً 20 ارب ڈالر ہے۔ مسلح افواج کے کل اہلکار 6.3 لاکھ ہیں، جن میں فرنٹیئر کور اور پاکستان رینجرز کے تقریباً 1.5 لاکھ اہلکار شامل ہیں۔ دفاعی سازوسامان چین، فرانس، روس، ترکی، یوکرین، برطانیہ اور امریکہ سے حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ ملکی دفاعی صنعت بھی خاصی ترقی یافتہ ہے۔</p>
<p>انڈونیشیا</p>
<p>1949 میں نیدرلینڈ سے آزادی حاصل کی۔ صدر سوئیکارنو غیر وابستہ تحریک کے بانی ارکان میں سے تھے۔ 1967 تک ان کی غیر مستحکم جمہوریت جاری رہی، بعدازاں سوہارتو نے 1998 تک حکومت کی۔ اب ایک فعال جمہوریت ہے۔ حقیقی فی کس آمدنی 12,000 ڈالر (2022) ہے۔ دفاعی بجٹ جی ڈی پی کا 0.8 فیصد یعنی تقریباً 15 ارب ڈالر ہے۔ مسلح افواج کے فعال اہلکار 4 لاکھ ہیں۔ فوجی سازوسامان چین، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈ، روس، جنوبی کوریا، برطانیہ اور امریکہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔</p>
<p>مندرجہ بالا پانچ ممالک مسلم دنیا کی عسکری ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔ تاہم، 1990 کی دہائی کے بعد کچھ تیل سے مالا مال مسلم ممالک نے بھی جدید اسلحہ حاصل کر کے اپنی حیثیت مستحکم کی ہے۔</p>
<p>سعودی عرب</p>
<p>فی کس جی ڈی پی 47,000 ڈالر (2022)۔ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا 7.8 فیصد یعنی تقریباً 92 ارب ڈالر۔ فعال فوجی اہلکار 2.25 لاکھ اور 1 لاکھ سعودی نیشنل گارڈ میں۔ اسلحہ زیادہ تر امریکہ اور یورپ سے درآمد شدہ جدید نظاموں پر مشتمل ہے۔ 2022 میں سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک تھا۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات</p>
<p>ستمبر 2020 میں اسرائیل کے ساتھ ابراہیم معاہدہ پر دستخط کیے۔ فی کس جی ڈی پی 67,000 ڈالر (2019)۔ دفاعی اخراجات جی ڈی پی کا تقریباً 5.6 فیصد یعنی 29 ارب ڈالر ہیں۔ فوجی و سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد 65,000 ہے۔ فوجی سازوسامان امریکہ، یورپ اور روس سے حاصل کردہ جدید ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔</p>
<p>یہ ہیں مسلم دنیا کی وہ بڑی قوتیں جو اپنی عسکری طاقت اور تزویراتی اہمیت کے باعث نمایاں مقام رکھتی ہیں۔</p>
<p>ماخذ: سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بُک 2023–2024
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278058</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Oct 2025 13:33:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فاروق حسن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/1212354504f5cf6.gif" type="image/gif" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/1212354504f5cf6.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
