<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 22:22:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 22:22:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سڈنی میں فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد کا احتجاج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278055/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں اتوار کے روز فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ منتظمین کے مطابق تقریباً 30,000 افراد نے مرکزی کاروباری علاقے میں نکالی گئی ریلی میں شرکت کی۔ یہ احتجاج اس وقت ہوا جب عدالت نے رواں ہفتے سڈنی اوپیرا ہاؤس کے باہر مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطین ایکشن گروپ کے مطابق اتوار کو آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں 27 احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں سڈنی اور میلبورن بھی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی، تاہم حکام کے مطابق مظاہرہ پُرامن رہا اور کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مظاہرے اس وقت ہوئے جب اسرائیلی افواج نے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ سے انخلا شروع کیا۔ اس جنگ میں اب تک دسیوں ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کا بیشتر علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سڈنی مظاہرے کی منتظم امل ناصر نے کہا کہ چاہے جنگ بندی برقرار بھی رہے، اسرائیل اب بھی غزہ اور مغربی کنارے پر فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قبضہ اور اسرائیل میں فلسطینیوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک دراصل ایک نسل پرستانہ نظام  کی شکل اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر آسٹریلوی یہودی کونسل نے احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرہ کرنے والے امن معاہدے کی کامیابی نہیں چاہتے، جس سے جنگ جاری رہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ غزہ حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں اتوار کے روز فلسطین کے حق میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ منتظمین کے مطابق تقریباً 30,000 افراد نے مرکزی کاروباری علاقے میں نکالی گئی ریلی میں شرکت کی۔ یہ احتجاج اس وقت ہوا جب عدالت نے رواں ہفتے سڈنی اوپیرا ہاؤس کے باہر مظاہرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔</strong></p>
<p>فلسطین ایکشن گروپ کے مطابق اتوار کو آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں 27 احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں سڈنی اور میلبورن بھی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کی حتمی تعداد جاری نہیں کی گئی، تاہم حکام کے مطابق مظاہرہ پُرامن رہا اور کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔</p>
<p>یہ مظاہرے اس وقت ہوئے جب اسرائیلی افواج نے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے تحت جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں غزہ سے انخلا شروع کیا۔ اس جنگ میں اب تک دسیوں ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کا بیشتر علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔</p>
<p>سڈنی مظاہرے کی منتظم امل ناصر نے کہا کہ چاہے جنگ بندی برقرار بھی رہے، اسرائیل اب بھی غزہ اور مغربی کنارے پر فوجی قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قبضہ اور اسرائیل میں فلسطینیوں کے ساتھ منظم امتیازی سلوک دراصل ایک نسل پرستانہ نظام  کی شکل اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>ادھر آسٹریلوی یہودی کونسل نے احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرہ کرنے والے امن معاہدے کی کامیابی نہیں چاہتے، جس سے جنگ جاری رہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ غزہ حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278055</guid>
      <pubDate>Sun, 12 Oct 2025 11:52:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
