<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278037/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ایک خاموش مگر تشویشناک کارپوریٹ انخلا کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ وہ عالمی کمپنیاں جو کبھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اب یا تو ملک چھوڑ رہی ہیں یا اپنی سرگرمیاں محدود کر رہی ہیں۔ شیل پاکستان نے اپنا مکمل شیئر ایک مقامی خریدار کو بیچ دیا۔ حال ہی میں پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) نے اعلان کیا کہ وہ اپنی براہِ راست سرگرمیاں ختم کرے گی۔ ایلی للی، سانوفي اور دیگر بین الاقوامی دواساز کمپنیوں نے یا تو اپنے کاروباری پورٹ فولیو فروخت کر دیے ہیں یا اپنی پیداوار نمایاں طور پر کم کر دی ہے۔ سیمنز، جو کبھی صنعتی ٹیکنالوجی کی علامت تھی، اب پاکستان میں بمشکل موجود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کمپنیوں کے اس انخلا کی وجوہات صرف چند کارپوریشنز کے مالیاتی گوشواروں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک گہری کہانی بیان کرتی ہیں، ایک ایسی معیشت کی جو اعتماد، پیش گوئی اور سرمایہ کاری کی بنیادی شرائط کے بحران سے دوچار ہے۔ اگر پاکستان کے معاشی، مالیاتی اور سماجی منظرنامے پر ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اثرات کو سمجھنا ہے تو ضروری ہے کہ ان کی موجودگی کے تینوں پہلوؤں پر پڑنے والے اثرات کا ادراک کیا جائے، ایک حقیقت جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس (او آئی سی سی آئی ) کے ارکان کا پاکستان کے قومی خزانے میں حصہ مجموعی محصولات اور ٹیکسوں کا ایک بڑا حصہ ہے، جن میں تقریباً ایک تہائی محصولات انہی سے وصول کی جاتی ہیں۔ سنہ 2023 میں او آئی سی سی آئی کے رکن اداروں نے حکومت کو 2.4 ٹریلین روپے کے ٹیکس اور محصولات ادا کیے۔ گزشتہ دس برسوں (2023 تک) میں انہوں نے پاکستان میں 22.6 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو ملکی معیشت پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے رکن ادارے ہر سال اوسطاً 455 ارب روپے سے زائد کی نئی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی )، روزگار اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے اقدامات کے ذریعے بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 10 لاکھ افراد کو براہِ راست یا بالواسطہ روزگار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا نے ٹیکس وصولیوں، غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے، روزگار اور سماجی جدت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی صنعت پہلے ہی دباؤ میں ہے، اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا سے پیدا ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کمپنیوں کے انخلا کے رجحان کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کے اسباب کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے — اور ان میں سے کئی عوامل نہایت واضح ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلے کی جڑ میں وسیع معاشی عدم استحکام ( میکرواکنامک انسٹیبیلیٹی)  ہے۔ کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ، زرمبادلہ کی کمی، اور کمپنیوں کے لیے منافع ملک سے باہر منتقل کرنے میں مشکلات نے پاکستان میں کاروبار کرنا ایک انتہائی پرخطر معاملہ بنا دیا ہے۔ برسوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں شکایت کرتی آئی ہیں کہ وہ ڈالرز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتیں تاکہ منافع تقسیم کریں یا ضروری خام مال درآمد کر سکیں — جس سے ان کے نقد بہاؤ ( کیش فلو) پر شدید اثر پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر یقینی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے ایک غیرمستحکم پالیسی ماحول، جو اتنی تیزی سے بدلتا ہے کہ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں رہتا۔ ٹیکس کی شرحیں سال کے وسط میں بدل جاتی ہیں، ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر ہوتی ہے، اور مختلف شعبوں پر اچانک اضافی سرچارجز عائد کر دیے جاتے ہیں۔ توانائی اور دواسازی کے شعبوں میں قیمتوں پر سرکاری کنٹرول اور ریگولیٹری فیصلوں میں تاخیر نے منافع کو کم کر دیا ہے۔ اور جب کمپنیاں ان تمام رکاوٹوں کے باوجود کام جاری رکھتی ہیں، تو انہیں بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو وقت، پیسہ اور حوصلہ تینوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ بعض اوقات تو منصفانہ کاروباری اصولوں کی پاسداری بھی ایک چیلنج بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی کارپوریٹ بورڈز جب اپنے جنوبی ایشیائی سرمایہ کاری پورٹ فولیوز کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک سادہ نتیجے پر پہنچتے ہیں: 240 ملین صارفین کے اس بڑے بازار میں پاکستان سے حاصل ہونے والے منافع خطرے کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ اس لیے سرمایہ بنگلہ دیش، ویتنام یا مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے، وہ منڈیاں جو زیادہ مستحکم پالیسی ماحول، بہتر لاجسٹکس، اور بہتر منافع بخش مواقع فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کارپوریٹ انخلا کی معاشی قیمت بے حد زیادہ ہے، اور زیادہ تر ناقابلِ پیمائش بھی۔ ہر وہ ملٹی نیشنل کمپنی جو پاکستان سے جاتی ہے، اپنے ساتھ صرف سرمایہ نہیں لے جاتی بلکہ مہارتوں، سپلائی چینز اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ایک پورے نظام کو بھی ختم کر جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;جب شیل جیسی کمپنی ملک چھوڑتی ہے تو وہ اپنے ساتھ توانائی کی ترسیل اور آپریشنز کی دہائیوں پر محیط مہارت بھی لے جاتی ہے۔ جب پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) یا ایلی للی اپنی سرگرمیاں ختم کرتی ہیں تو سینکڑوں تربیت یافتہ کارکن عالمی معیار کی پیداوار، کوالٹی اسٹینڈرڈز اور جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور جب سیمنز اپنا حجم گھٹاتی ہے، تو پاکستان تکنیکی علم و ہنر کے اُس تسلسل سے محروم ہو جاتا ہے جو ملک کی انجینئرنگ صلاحیت کو مضبوط بنا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اس انخلا کے رجحان کو ریورس ( تبدیل) کیا جا سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب ہاں میں ہے۔ یہ رجحان قابلِ واپسی ہے، بشرطیکہ بااعتماد، فوری اور ساختی نوعیت کے اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے حکومت کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے زرمبادلہ کی منتقلی کی ضمانت یقینی بنانا ہوگی۔ منافع کی ترسیل میں تاخیر نے پاکستان کی ساکھ کو اتنا نقصان پہنچایا ہے جتنا کسی ایک ٹیکس پالیسی کی تبدیلی نے نہیں پہنچایا۔ اس کے لیے ایک شفاف اور وقت کے تعین کے ساتھ منافع کی ترسیل کا نظام ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، پالیسی کے استحکام کو ادارہ جاتی شکل دینا ہوگی۔ سرمایہ کاروں کو طویل المدت ٹیکس اور ٹیرف کے تسلسل کی یقین دہانی درکار ہے۔ حکومت اس مقصد کے لیے “انویسٹمنٹ اسٹیبلٹی پیکٹس” متعارف کرا سکتی ہے، تین سالہ معاہدے جن کے تحت کمپنیوں کو غیر متوقع مالیاتی تبدیلیوں سے تحفظ دیا جائے، بدلے میں روزگار اور برآمدات کے اہداف طے کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، ریگولیٹری اداروں کو “کنٹرول” کے بجائے “فراہم کنندہ” کا کردار اپنانا ہوگا۔ لائسنسنگ، قیمتوں اور کوالٹی سے متعلق ضوابط کے لیے خدمات کی مدت کا تعین ہونا چاہیے۔ ڈیجیٹل طریقہ کار کے فروغ سے بدعنوانی، تاخیر اور غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے نظام کو قابلِ اعتماد بنانا ضروری ہے۔ بار بار کی لوڈشیڈنگ، اچانک ٹیرف میں اضافے، اور بندرگاہوں پر رکاوٹیں صنعتی مسابقت کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اس کے لیے ایک “انڈسٹریل ریلی ایبلٹی پیکیج” متعارف کرایا جا سکتا ہے، جو ہائی ویلیو سیکٹرز کو پیشگی اور مستحکم توانائی فراہمی کی ضمانت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اس انخلا کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خصوصی طور پر، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی حکومت کا اسٹریٹجک پارٹنر بن کر سرمایہ کاروں کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک مشترکہ انویسٹر کانفیڈنس ٹاسک فورس، جس کی مشترکہ صدارت وزیرِ خزانہ اور او آئی سی سی آئی  کی قیادت کریں، ایک ایسا فاسٹ ٹریک پلیٹ فارم بن سکتی ہے جہاں سرمایہ کاروں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ اس فورم کی کامیابی کا پیمانہ حل شدہ کیسز کی تعداد ہو، نہ کہ صرف ہونے والی ملاقاتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں حکومت اور نجی شعبے دونوں کو مل کر پاکستان کی عالمی ساکھ کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف پالیسیوں پر نہیں بلکہ تاثر پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ مؤثر مواصلات، نمایاں اصلاحات اور اقتصادی اعداد و شمار میں شفافیت کے ذریعے بتدریج یہ بیانیہ خطرے سے بحالی کی طرف تبدیل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ایک خاموش مگر تشویشناک کارپوریٹ انخلا کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ وہ عالمی کمپنیاں جو کبھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اب یا تو ملک چھوڑ رہی ہیں یا اپنی سرگرمیاں محدود کر رہی ہیں۔ شیل پاکستان نے اپنا مکمل شیئر ایک مقامی خریدار کو بیچ دیا۔ حال ہی میں پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) نے اعلان کیا کہ وہ اپنی براہِ راست سرگرمیاں ختم کرے گی۔ ایلی للی، سانوفي اور دیگر بین الاقوامی دواساز کمپنیوں نے یا تو اپنے کاروباری پورٹ فولیو فروخت کر دیے ہیں یا اپنی پیداوار نمایاں طور پر کم کر دی ہے۔ سیمنز، جو کبھی صنعتی ٹیکنالوجی کی علامت تھی، اب پاکستان میں بمشکل موجود ہے۔</strong></p>
<p>ان کمپنیوں کے اس انخلا کی وجوہات صرف چند کارپوریشنز کے مالیاتی گوشواروں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک گہری کہانی بیان کرتی ہیں، ایک ایسی معیشت کی جو اعتماد، پیش گوئی اور سرمایہ کاری کی بنیادی شرائط کے بحران سے دوچار ہے۔ اگر پاکستان کے معاشی، مالیاتی اور سماجی منظرنامے پر ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اثرات کو سمجھنا ہے تو ضروری ہے کہ ان کی موجودگی کے تینوں پہلوؤں پر پڑنے والے اثرات کا ادراک کیا جائے، ایک حقیقت جس سے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔</p>
<p>اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس (او آئی سی سی آئی ) کے ارکان کا پاکستان کے قومی خزانے میں حصہ مجموعی محصولات اور ٹیکسوں کا ایک بڑا حصہ ہے، جن میں تقریباً ایک تہائی محصولات انہی سے وصول کی جاتی ہیں۔ سنہ 2023 میں او آئی سی سی آئی کے رکن اداروں نے حکومت کو 2.4 ٹریلین روپے کے ٹیکس اور محصولات ادا کیے۔ گزشتہ دس برسوں (2023 تک) میں انہوں نے پاکستان میں 22.6 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جو ملکی معیشت پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے رکن ادارے ہر سال اوسطاً 455 ارب روپے سے زائد کی نئی سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی )، روزگار اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے اقدامات کے ذریعے بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 10 لاکھ افراد کو براہِ راست یا بالواسطہ روزگار حاصل ہے۔</p>
<p>ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا نے ٹیکس وصولیوں، غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے، روزگار اور سماجی جدت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی صنعت پہلے ہی دباؤ میں ہے، اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا سے پیدا ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے کوئی متبادل ذریعہ موجود نہیں۔</p>
<p>ان کمپنیوں کے انخلا کے رجحان کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کے اسباب کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے — اور ان میں سے کئی عوامل نہایت واضح ہیں۔</p>
<p>مسئلے کی جڑ میں وسیع معاشی عدم استحکام ( میکرواکنامک انسٹیبیلیٹی)  ہے۔ کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ، زرمبادلہ کی کمی، اور کمپنیوں کے لیے منافع ملک سے باہر منتقل کرنے میں مشکلات نے پاکستان میں کاروبار کرنا ایک انتہائی پرخطر معاملہ بنا دیا ہے۔ برسوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں شکایت کرتی آئی ہیں کہ وہ ڈالرز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتیں تاکہ منافع تقسیم کریں یا ضروری خام مال درآمد کر سکیں — جس سے ان کے نقد بہاؤ ( کیش فلو) پر شدید اثر پڑا۔</p>
<p>اس غیر یقینی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے ایک غیرمستحکم پالیسی ماحول، جو اتنی تیزی سے بدلتا ہے کہ اس پر عملدرآمد ممکن نہیں رہتا۔ ٹیکس کی شرحیں سال کے وسط میں بدل جاتی ہیں، ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر ہوتی ہے، اور مختلف شعبوں پر اچانک اضافی سرچارجز عائد کر دیے جاتے ہیں۔ توانائی اور دواسازی کے شعبوں میں قیمتوں پر سرکاری کنٹرول اور ریگولیٹری فیصلوں میں تاخیر نے منافع کو کم کر دیا ہے۔ اور جب کمپنیاں ان تمام رکاوٹوں کے باوجود کام جاری رکھتی ہیں، تو انہیں بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو وقت، پیسہ اور حوصلہ تینوں کو زائل کر دیتی ہیں۔ بعض اوقات تو منصفانہ کاروباری اصولوں کی پاسداری بھی ایک چیلنج بن جاتی ہے۔</p>
<p>عالمی کارپوریٹ بورڈز جب اپنے جنوبی ایشیائی سرمایہ کاری پورٹ فولیوز کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک سادہ نتیجے پر پہنچتے ہیں: 240 ملین صارفین کے اس بڑے بازار میں پاکستان سے حاصل ہونے والے منافع خطرے کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ اس لیے سرمایہ بنگلہ دیش، ویتنام یا مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے، وہ منڈیاں جو زیادہ مستحکم پالیسی ماحول، بہتر لاجسٹکس، اور بہتر منافع بخش مواقع فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p>اس کارپوریٹ انخلا کی معاشی قیمت بے حد زیادہ ہے، اور زیادہ تر ناقابلِ پیمائش بھی۔ ہر وہ ملٹی نیشنل کمپنی جو پاکستان سے جاتی ہے، اپنے ساتھ صرف سرمایہ نہیں لے جاتی بلکہ مہارتوں، سپلائی چینز اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ایک پورے نظام کو بھی ختم کر جاتی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>جب شیل جیسی کمپنی ملک چھوڑتی ہے تو وہ اپنے ساتھ توانائی کی ترسیل اور آپریشنز کی دہائیوں پر محیط مہارت بھی لے جاتی ہے۔ جب پروکٹر اینڈ گیمبل (پی اینڈ جی) یا ایلی للی اپنی سرگرمیاں ختم کرتی ہیں تو سینکڑوں تربیت یافتہ کارکن عالمی معیار کی پیداوار، کوالٹی اسٹینڈرڈز اور جدید مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اور جب سیمنز اپنا حجم گھٹاتی ہے، تو پاکستان تکنیکی علم و ہنر کے اُس تسلسل سے محروم ہو جاتا ہے جو ملک کی انجینئرنگ صلاحیت کو مضبوط بنا سکتا تھا۔</p>
</blockquote>
<p>سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اس انخلا کے رجحان کو ریورس ( تبدیل) کیا جا سکتا ہے؟</p>
<p>جواب ہاں میں ہے۔ یہ رجحان قابلِ واپسی ہے، بشرطیکہ بااعتماد، فوری اور ساختی نوعیت کے اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>سب سے پہلے حکومت کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے زرمبادلہ کی منتقلی کی ضمانت یقینی بنانا ہوگی۔ منافع کی ترسیل میں تاخیر نے پاکستان کی ساکھ کو اتنا نقصان پہنچایا ہے جتنا کسی ایک ٹیکس پالیسی کی تبدیلی نے نہیں پہنچایا۔ اس کے لیے ایک شفاف اور وقت کے تعین کے ساتھ منافع کی ترسیل کا نظام ناگزیر ہے۔</p>
<p>دوسرا، پالیسی کے استحکام کو ادارہ جاتی شکل دینا ہوگی۔ سرمایہ کاروں کو طویل المدت ٹیکس اور ٹیرف کے تسلسل کی یقین دہانی درکار ہے۔ حکومت اس مقصد کے لیے “انویسٹمنٹ اسٹیبلٹی پیکٹس” متعارف کرا سکتی ہے، تین سالہ معاہدے جن کے تحت کمپنیوں کو غیر متوقع مالیاتی تبدیلیوں سے تحفظ دیا جائے، بدلے میں روزگار اور برآمدات کے اہداف طے کیے جائیں۔</p>
<p>تیسرا، ریگولیٹری اداروں کو “کنٹرول” کے بجائے “فراہم کنندہ” کا کردار اپنانا ہوگا۔ لائسنسنگ، قیمتوں اور کوالٹی سے متعلق ضوابط کے لیے خدمات کی مدت کا تعین ہونا چاہیے۔ ڈیجیٹل طریقہ کار کے فروغ سے بدعنوانی، تاخیر اور غیر یقینی صورتِ حال کو ختم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>چوتھا، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے نظام کو قابلِ اعتماد بنانا ضروری ہے۔ بار بار کی لوڈشیڈنگ، اچانک ٹیرف میں اضافے، اور بندرگاہوں پر رکاوٹیں صنعتی مسابقت کو تباہ کر دیتی ہیں۔ اس کے لیے ایک “انڈسٹریل ریلی ایبلٹی پیکیج” متعارف کرایا جا سکتا ہے، جو ہائی ویلیو سیکٹرز کو پیشگی اور مستحکم توانائی فراہمی کی ضمانت دے۔</p>
<p>ملک کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اس انخلا کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>خصوصی طور پر، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی حکومت کا اسٹریٹجک پارٹنر بن کر سرمایہ کاروں کے تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک مشترکہ انویسٹر کانفیڈنس ٹاسک فورس، جس کی مشترکہ صدارت وزیرِ خزانہ اور او آئی سی سی آئی  کی قیادت کریں، ایک ایسا فاسٹ ٹریک پلیٹ فارم بن سکتی ہے جہاں سرمایہ کاروں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ اس فورم کی کامیابی کا پیمانہ حل شدہ کیسز کی تعداد ہو، نہ کہ صرف ہونے والی ملاقاتیں۔</p>
<p>آخر میں حکومت اور نجی شعبے دونوں کو مل کر پاکستان کی عالمی ساکھ کو دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف پالیسیوں پر نہیں بلکہ تاثر پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ مؤثر مواصلات، نمایاں اصلاحات اور اقتصادی اعداد و شمار میں شفافیت کے ذریعے بتدریج یہ بیانیہ خطرے سے بحالی کی طرف تبدیل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278037</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Oct 2025 17:01:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/11164451d1617fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/11164451d1617fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
