<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ بندی کے بعد اسرائیلی افواج کے انخلا پر غزہ کے شہری اپنے تباہ شدہ گھروں کی جانب روانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278019/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دو سالہ طویل جارحیت کے اختتام کے معاہدے کے تحت جنگ بندی  پر عملدرآمد اور اسرائیلی افواج کے پیچھے ہٹنے کے آغاز کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی جمعے کے روز غزہ کے دشت و بیابان کو عبور کرتے ہوئے اپنے ویران اور تباہ حال گھروں کی جانب لوٹنے لگے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساحلی سڑک کے کنارے ریتلے ساحلوں کے ساتھ ساتھ ایک طویل انسانی قافلہ پیدل شمال کی سمت، غزہ شہر، جو اس محصور علاقے کا سب سے بڑا شہری آبادی ہے، کی جانب بڑھتا رہا۔ یہی شہر چند روز قبل اسرائیل کی حالیہ سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک کے دوران نشانے پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;40 سالہ اسماعیل زیدہ نے غزہ سٹی کے شیخ رضوان علاقے میں کہا کہ “خدا کا شکر ہے میرا گھر اب بھی قائم ہے،” “لیکن علاقہ برباد ہوچکا ہے، میرے پڑوسیوں کے گھر تباہ ہیں،سارے محلے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی غزہ میں لوگ اس دھول اڑاتے ویران منظر سے گزر رہے تھے جو کبھی غزہ کا دوسرا بڑا شہر، خانیونس، تھا، وہی شہر جسے اسرائیلی افواج نے رواں سال کے آغاز میں زمین بوس کر دیا تھا۔ بیشتر لوگ خاموشی سے چل رہے تھے۔ ایک لڑکا جھاگ کے گدے کا بوجھ سنبھالتا لڑکھڑا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی عمر کے ایک شخص، احمد البُریم، نے ایک سائیکل دھکیلا جس کے اگلے اور پچھلے حصے پر لکڑی کے ٹکڑوں کے گٹھے بندھے ہوئے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ کو کھانا پکانے کے لیے یہی ایندھن درکار تھا،انہی ملبوں سے وہ بس اتنا ہی واپس حاصل کر پائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ “ہم اپنے علاقے گئے، وہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم اب کہاں جائیں گے۔ ہم اپنا سامان، کپڑے، حتیٰ کہ سردیوں کے کپڑے بھی نہیں نکال سکے۔ کچھ بھی باقی نہیں رہا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر (عالمی وقت کے مطابق صبح 9 بجے) پر نافذ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی افواج کو 24 گھنٹوں میں شہری علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہے، اگرچہ وہ اب بھی غزہ کے نصف سے زائد حصے پر قابض رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔ “اگر یہ کام آسان طریقے سے ہو جائے تو بہتر، ورنہ مشکل راستہ اختیار کیا جائے گا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے دن گزرتا گیا اور یہ واضح ہوتا گیا کہ فوجی دستے شہروں کے داخلی راستوں سے ہٹ گئے ہیں، تو کیمپوں میں پناہ لینے والے بے گھر فلسطینیوں کا ابتدائی ہجوم ایک بڑے ریلا بن کر اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف لوٹنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چالیس سالہ مہدی صقلہ نے بتایا کہ ان کے خاندان نے جنگ بندی کی خبر سنتے ہی شمال کی سمت، غزہ سٹی کی جانب روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ “یقیناً اب گھر نہیں رہے، سب تباہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے گھروں کی جگہ پر لوٹ رہے ہیں، چاہے ملبے ہی پر کیوں نہ ہو۔ یہ بھی ہمارے لیے بڑی خوشی کی بات ہے۔ دو سال سے ہم دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکومت نے جمعے کی صبح کے اوائل میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کی منظوری دی۔ معاہدے کے تحت، اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد حماس کے پاس 72 گھنٹے ہوں گے کہ وہ زیرِ حراست 20 اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے، جب کہ اسرائیل اپنی جیلوں میں قید 250 طویل المدتی فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے دوران گرفتار 1,700 فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ توقع ہے کہ روزانہ سینکڑوں ٹرک خوراک اور طبی امداد لے کر غزہ پہنچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے غزہ کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی فوجی کنٹرول والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا، “معاہدے کی پاسداری کریں اور اپنی سلامتی کو یقینی بنائیں۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی عوام نے دو سالہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا، جس میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلاوطن حماس رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ انہیں امریکہ اور دیگر ثالثوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو یہ اسرائیلی جارحیت روکنے کی اب تک کی سب سے مؤثر کوشش ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب بھی بہت کچھ غیر یقینی ہے۔ فریقین نے تاحال ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری نہیں کی جنہیں اسرائیلی مغویوں کے بدلے آزاد کیا جانا ہے۔ حماس اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے چند اہم ترین رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے اگلے مراحل پر بھی ابھی اتفاق نہیں ہو سکا، جن میں یہ سوالات شامل ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تباہ شدہ غزہ کی حکمرانی کس کے ہاتھ میں ہوگی، اور حماس ، جو اسرائیل کے غیر مسلح ہونے کے مطالبے کو مسترد کر چکی ہے، کا مستقبل کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کے انخلا والے علاقوں میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا حماس نمایاں تعداد میں دوبارہ سڑکوں پر نظر آئے گی، ایسا قدم اسرائیل اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے روز خطے کا دورہ کریں گے، ممکنہ طور پر مصر میں ہونے والی دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے، جبکہ اسرائیلی پولیس کے مطابق وہ پیر کو ٹرمپ کے دورے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دو سالہ طویل جارحیت کے اختتام کے معاہدے کے تحت جنگ بندی  پر عملدرآمد اور اسرائیلی افواج کے پیچھے ہٹنے کے آغاز کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی جمعے کے روز غزہ کے دشت و بیابان کو عبور کرتے ہوئے اپنے ویران اور تباہ حال گھروں کی جانب لوٹنے لگے۔</strong></p>
<p>ساحلی سڑک کے کنارے ریتلے ساحلوں کے ساتھ ساتھ ایک طویل انسانی قافلہ پیدل شمال کی سمت، غزہ شہر، جو اس محصور علاقے کا سب سے بڑا شہری آبادی ہے، کی جانب بڑھتا رہا۔ یہی شہر چند روز قبل اسرائیل کی حالیہ سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک کے دوران نشانے پر تھا۔</p>
<p>40 سالہ اسماعیل زیدہ نے غزہ سٹی کے شیخ رضوان علاقے میں کہا کہ “خدا کا شکر ہے میرا گھر اب بھی قائم ہے،” “لیکن علاقہ برباد ہوچکا ہے، میرے پڑوسیوں کے گھر تباہ ہیں،سارے محلے صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔”</p>
<p>جنوبی غزہ میں لوگ اس دھول اڑاتے ویران منظر سے گزر رہے تھے جو کبھی غزہ کا دوسرا بڑا شہر، خانیونس، تھا، وہی شہر جسے اسرائیلی افواج نے رواں سال کے آغاز میں زمین بوس کر دیا تھا۔ بیشتر لوگ خاموشی سے چل رہے تھے۔ ایک لڑکا جھاگ کے گدے کا بوجھ سنبھالتا لڑکھڑا رہا تھا۔</p>
<p>درمیانی عمر کے ایک شخص، احمد البُریم، نے ایک سائیکل دھکیلا جس کے اگلے اور پچھلے حصے پر لکڑی کے ٹکڑوں کے گٹھے بندھے ہوئے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ کو کھانا پکانے کے لیے یہی ایندھن درکار تھا،انہی ملبوں سے وہ بس اتنا ہی واپس حاصل کر پائے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ “ہم اپنے علاقے گئے، وہ صفحہ ہستی سے مٹ چکا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم اب کہاں جائیں گے۔ ہم اپنا سامان، کپڑے، حتیٰ کہ سردیوں کے کپڑے بھی نہیں نکال سکے۔ کچھ بھی باقی نہیں رہا۔”</p>
<p>اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی کا معاہدہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر (عالمی وقت کے مطابق صبح 9 بجے) پر نافذ ہوا۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی افواج کو 24 گھنٹوں میں شہری علاقوں سے پیچھے ہٹنا ہے، اگرچہ وہ اب بھی غزہ کے نصف سے زائد حصے پر قابض رہیں گی۔</p>
<p>وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے نشریاتی خطاب میں کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک حماس کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا۔ “اگر یہ کام آسان طریقے سے ہو جائے تو بہتر، ورنہ مشکل راستہ اختیار کیا جائے گا۔”</p>
<p>جیسے جیسے دن گزرتا گیا اور یہ واضح ہوتا گیا کہ فوجی دستے شہروں کے داخلی راستوں سے ہٹ گئے ہیں، تو کیمپوں میں پناہ لینے والے بے گھر فلسطینیوں کا ابتدائی ہجوم ایک بڑے ریلا بن کر اپنے تباہ شدہ گھروں کی طرف لوٹنے لگا۔</p>
<p>چالیس سالہ مہدی صقلہ نے بتایا کہ ان کے خاندان نے جنگ بندی کی خبر سنتے ہی شمال کی سمت، غزہ سٹی کی جانب روانہ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ “یقیناً اب گھر نہیں رہے، سب تباہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے گھروں کی جگہ پر لوٹ رہے ہیں، چاہے ملبے ہی پر کیوں نہ ہو۔ یہ بھی ہمارے لیے بڑی خوشی کی بات ہے۔ دو سال سے ہم دربدری کی زندگی گزار رہے ہیں۔”</p>
<p>اسرائیلی حکومت نے جمعے کی صبح کے اوائل میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کی منظوری دی۔ معاہدے کے تحت، اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد حماس کے پاس 72 گھنٹے ہوں گے کہ وہ زیرِ حراست 20 اسرائیلی مغویوں کو رہا کرے، جب کہ اسرائیل اپنی جیلوں میں قید 250 طویل المدتی فلسطینی قیدیوں اور جنگ کے دوران گرفتار 1,700 فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ توقع ہے کہ روزانہ سینکڑوں ٹرک خوراک اور طبی امداد لے کر غزہ پہنچیں گے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے غزہ کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی فوجی کنٹرول والے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا، “معاہدے کی پاسداری کریں اور اپنی سلامتی کو یقینی بنائیں۔”</p>
<p>اس معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی اور فلسطینی عوام نے دو سالہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کیا، جس میں 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔</p>
<p>جلاوطن حماس رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ انہیں امریکہ اور دیگر ثالثوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو یہ اسرائیلی جارحیت روکنے کی اب تک کی سب سے مؤثر کوشش ثابت ہوگی۔</p>
<p>تاہم اب بھی بہت کچھ غیر یقینی ہے۔ فریقین نے تاحال ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری نہیں کی جنہیں اسرائیلی مغویوں کے بدلے آزاد کیا جانا ہے۔ حماس اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے چند اہم ترین رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے اگلے مراحل پر بھی ابھی اتفاق نہیں ہو سکا، جن میں یہ سوالات شامل ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تباہ شدہ غزہ کی حکمرانی کس کے ہاتھ میں ہوگی، اور حماس ، جو اسرائیل کے غیر مسلح ہونے کے مطالبے کو مسترد کر چکی ہے، کا مستقبل کیا ہوگا۔</p>
<p>حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کے انخلا والے علاقوں میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا حماس نمایاں تعداد میں دوبارہ سڑکوں پر نظر آئے گی، ایسا قدم اسرائیل اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھے گا۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اتوار کے روز خطے کا دورہ کریں گے، ممکنہ طور پر مصر میں ہونے والی دستخطی تقریب میں شرکت کے لیے، جبکہ اسرائیلی پولیس کے مطابق وہ پیر کو ٹرمپ کے دورے کی تیاری کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278019</guid>
      <pubDate>Sat, 11 Oct 2025 00:39:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/11001332348cba8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/11001332348cba8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
