<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے بجائے وینیزویلا کی رہنما کو نوبل امن انعام دینے پر تنقید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278017/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے وینیزویلا کی حزبِ اختلاف کی رہنما ماریہ کورینا ماچادو کو نوبل امن انعام دینے کے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ٹرمپ اس ایوارڈ کے لیے جارحانہ انداز میں لابنگ کرتے رہے  اور کئی بین الاقوامی جنگ بندی معاہدوں میں اپنے کردار کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے پلیٹ فارم ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ٹوئٹ  میں کہا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگیں ختم کریں گے اور جانیں بچائیں گے۔ وہ ایک انسان دوست دل رکھتے ہیں اور ان جیسا کوئی نہیں جو اپنی مرضی کی طاقت سے پہاڑوں کو ہلا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے کہا کہ نوبل کمیٹی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن پر سیاست کو ترجیح دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروے کی نوبل کمیٹی نے وینیزویلا کی ماریہ کورینا ماچادو کو سالانہ ایوارڈ دیا اور انہیں  آمریت کے خلاف  اٹھ کھڑی ہونے والی آزادی کی بہادر محافظ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں اس انعام کے لیے اپنی مہم تیز کر دی تھی اور اسی ہفتے انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا، جسے انہوں نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم جمعہ کی صبح اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر انہوں نے غزہ معاہدے پر جشن منانے والے حامیوں کی تین ویڈیوز شیئر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نوبل انعام کے مستحق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ انہوں نے اعلیٰ فوجی حکام سے گفتگو میں کہا تھا کہ کیا مجھے نوبل انعام ملے گا؟ بالکل نہیں وہ اسے کسی ایسے شخص کو دے دیں گے جس نے کچھ بھی نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں یہ انعام نہیں ملا تو یہ امریکہ کی بڑی توہین ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق رواں سال کے نوبل انعام کے لیے نامزدگیاں 31 جنوری تک جمع کرائی گئی تھیں، جبکہ صدر ٹرمپ 20 جنوری کو اپنی دوسری مدت کے لیے وائٹ ہاؤس واپس آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے وینیزویلا کی حزبِ اختلاف کی رہنما ماریہ کورینا ماچادو کو نوبل امن انعام دینے کے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ٹرمپ اس ایوارڈ کے لیے جارحانہ انداز میں لابنگ کرتے رہے  اور کئی بین الاقوامی جنگ بندی معاہدوں میں اپنے کردار کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے پلیٹ فارم ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ٹوئٹ  میں کہا کہ صدر ٹرمپ امن معاہدے کرتے رہیں گے، جنگیں ختم کریں گے اور جانیں بچائیں گے۔ وہ ایک انسان دوست دل رکھتے ہیں اور ان جیسا کوئی نہیں جو اپنی مرضی کی طاقت سے پہاڑوں کو ہلا سکے۔</p>
<p>ترجمان نے کہا کہ نوبل کمیٹی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امن پر سیاست کو ترجیح دیتی ہے۔</p>
<p>ناروے کی نوبل کمیٹی نے وینیزویلا کی ماریہ کورینا ماچادو کو سالانہ ایوارڈ دیا اور انہیں  آمریت کے خلاف  اٹھ کھڑی ہونے والی آزادی کی بہادر محافظ قرار دیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں اس انعام کے لیے اپنی مہم تیز کر دی تھی اور اسی ہفتے انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا اعلان کیا تھا، جسے انہوں نے اپنی سفارتی کامیابی قرار دیا۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے نوبل کمیٹی کے فیصلے پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا، تاہم جمعہ کی صبح اپنے ٹرتھ سوشل اکاؤنٹ پر انہوں نے غزہ معاہدے پر جشن منانے والے حامیوں کی تین ویڈیوز شیئر کیں۔</p>
<p>ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نوبل انعام کے مستحق ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ماہ انہوں نے اعلیٰ فوجی حکام سے گفتگو میں کہا تھا کہ کیا مجھے نوبل انعام ملے گا؟ بالکل نہیں وہ اسے کسی ایسے شخص کو دے دیں گے جس نے کچھ بھی نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر انہیں یہ انعام نہیں ملا تو یہ امریکہ کی بڑی توہین ہوگی۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق رواں سال کے نوبل انعام کے لیے نامزدگیاں 31 جنوری تک جمع کرائی گئی تھیں، جبکہ صدر ٹرمپ 20 جنوری کو اپنی دوسری مدت کے لیے وائٹ ہاؤس واپس آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278017</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Oct 2025 20:35:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/102008506e48ea7.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/102008506e48ea7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
