<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 11:47:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 11:47:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نظامِ معیشت کی ازسرِنو تشکیل ناگزیر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40278014/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;موجودہ معاشی نظام عوام اور کرۂ ارض دونوں کے مفادات کو نظرانداز کرتا ہے، جب کہ دنیا کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو دونوں کی خدمت کرے۔ اس تبدیلی کے حصول کے لیے محض معمولی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی، یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معیشتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور ان کے فوائد کس کو پہنچتے ہیں، اس پورے ڈھانچے کی گہری ازسرِنو تشکیل کی جائے۔‘‘، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرِ معیشت ماریانا مازاکاتو کا مضمون “ دی بروکن اکنامک آرڈر” (میگزین فارن افیئرز، 25 فروری) سے اقتباس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ کئی برسوں سے میڈیا کے ٹاک شوز اور پالیسی سوچ کے غالب رجحانات میں نیو لبرل نظریات کے حامل ماہرینِ معاشیات کی بالادستی نمایاں رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو لبرل ازم، اس سے جڑی سخت بچت پالیسیوں اور معیشت کو دباؤ میں رکھنے والے اقدامات کے نقصانات برسوں سے زیرِ بحث ہیں، مگر اس کے باوجود بار بار وہی ذہنیت رکھنے والے ماہرین کو اعلیٰ عہدوں پر لایا جاتا ہے، چاہے وہ وزیرِ خزانہ ہوں، مرکزی بینک کے گورنر، منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین یا دیگر معاشی وزارتوں کے سربراہان۔ یہ عمل محض نادانی نہیں لگتا بلکہ اس بات کی واضح اشارہ ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتیں دانستہ طور پر ایسے افراد کو چُنتی رہی ہیں جو نیو لبرل ازم پر مبنی استحصالی سیاسی و معاشی ادارہ جاتی ڈھانچے کو برقرار رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان اس حقیقت سے بھی نمایاں ہوتا ہے کہ نیو لبرل پالیسیوں پر تنقید کرنے والے یا ان کے نقصانات اجاگر کرنے والے ماہرینِ معیشت کو پالیسی مباحثوں یا میڈیا میں نہ ہونے کے برابر جگہ یا وقت دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چار دہائیوں کے دوران، بالخصوص 2007-08 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے، نیو لبرل ازم، حد سے بڑھتی کفایت شعاری کی پالیسیوں اور معیشت کو کاروباری چکروں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے رجحان کو شدید جانچ پرکھ کا سامنا ہے۔ آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات، مطلق غربت میں کمی کے طویل رجحان کے الٹ جانے، اور معیشت و معاشرے میں کم ہوتی ہوئی لچک نے ان پالیسیوں کو مزید تشویش کا باعث بنا دیا ہے—ایسا رجحان جو تیزی سے بڑھتے ماحولیاتی بحران اور کووڈ وبا کے بعد مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ حالیہ میڈیا مباحثوں اور معیشت کے چاروں بڑے شعبوں، حقیقی، بجٹ (فسکل)، بیرونی اور مانیٹری/ فنانشل، کی پالیسیوں میں بھی حکومت کے کردار کو (غلط طور پر) محدود کرنے سے متعلق خدشات کو تسلیم کرنے کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی وزارتوں اور اداروں کی تشکیل اور ان کے ذریعے بنیادی سطح پر تنظیمی ماحول، بشمول سرکاری محکموں، سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز)، نجی شعبے کی کمپنیوں اور کاروباری افراد، اور مجموعی منڈیوں کے لیے معاون فضا فراہم کرنے کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاطر خواہ عوامی سرمایہ کاری فراہم کرے اور مجموعی طور پر فعال، ہدفی اور مقصد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور ترغیبی ڈھانچوں کے ذریعے معیشت میں پیداواریت اور وسائل کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنائے، جن میں لین دین کے اخراجات میں کمی بھی شامل ہے، جو بنیادی طور پر تلاش اور معلومات سے متعلقہ لاگتیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، پالیسی کا زور اب بھی ریگن۔تھیچر دور کے نیو لبرل طرزِ فکر میں الجھا ہوا ہے، جس میں حکومت کو صرف نجی شعبے کی معاون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو صرف اُس وقت مداخلت کرتی ہے جب منڈی ناکام ہو جائے؛ جہاں افراطِ زر کو محض زرِسیاستی مظہر سمجھا جاتا ہے، اور اس کے تدارک کے لیے ضرورت سے زیادہ کفایت شعاری پر مبنی طلب میں کمی کی پالیسیوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس کئی ممالک، بشمول پاکستان، میں حکومت کے کردار کے بتدریج کم ہونے، حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جنہیں کبھی سوشلسٹ جمہوری پالیسیوں کے مضبوط قلعے سمجھا جاتا تھا (جیسے اسکینڈے نیوین ممالک)، اور آؤٹ سورسنگ کے بڑھتے رجحان، زیادہ مالیاتی انحصار (اوور فنانشلائزیشن) کے باعث درکار مزاحمتی سرمایہ کاریوں سے وسائل کا رخ منافعاتی سرگرمیوں کی طرف موڑ دینے سے، پبلک سیکٹر حقیقی نوعیت کے خطرات سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اور تلاشِ معاش یا بہتر طرزِ زندگی کے لیے نقلِ مکانی کے اسباب کو روکنے اور عدم مساوات، غربت اور پالیسی پر دولت مند طبقات کے ناجائز اثرورسوخ کے سدباب کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، غیرضروری حد تک سرکاری اداروں کے حجم میں کمی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ حیران کن طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو وسیع پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے، وفاقی سطح پر پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور صوبائی سطح پر سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پیز) میں نمایاں کمی پر زور دیا جا رہا ہے، یہ کہہ کر کہ مختص وسائل موثر طریقے سے خرچ نہیں ہو رہے، یا کرپشن کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح عوامی اخراجات کی سطح اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے بجائے، بعض پالیسی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رقم کو براہِ راست گھریلو سطح پر منتقل کیا جائے جبکہ مجموعی طور پر سرکاری اخراجات میں شدید کٹوتی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں عوامی وسائل کے موثر استعمال میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے، یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ محصولات سے حاصل رقم کو زیادہ تر نجی شعبے کے منافعاتی اخراجات کے ذریعے استعمال کیا جائے، حالانکہ وہ اکثر کم موثر اور غیر متوازن ثابت ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان کی فلاح، خوشحالی اور پائیدار اور لچک دار معیشت کے قیام پر خرچ نہیں ہوتا تو پھر منتخب نمائندوں اور ان کے مقرر کردہ سرکاری عہدیداروں کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟ اور کیوں کمزور ریگولیشن کے تحت چلنے والے نجی ادارے اس کے استعمال کے فیصلے کریں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا کردار معیشت کی فعال بہتری کے عمل میں ہونا چاہیے۔ عوامی معاشی مفادات کا تحفظ اس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی ضرورت سے زیادہ خودمختاری پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، مثلاً مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) میں حکومت کی زیادہ نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ معاشی پالیسی سازوں کی موجودہ صف، جو نیو لبرل ازم، مونیٹر ازم، اور واشنگٹن کنسینسز کی قدیم فکری رُت میں جکڑی ہوئی ہے، معاشی نمو کو بطور مقصد دیکھتی ہے، نہ کہ بطور ذریعہ جس کے ذریعے نمو کے فوائد منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت غیر نیو لبرل راستہ اختیار کرے، جس میں معاشی نمو زیادہ سے زیادہ محنت کش طبقے کو شامل کرے، وسیع تر کاروباری ذہنوں کو مواقع فراہم کرے اور ایسا نظام تشکیل دے جس میں سرمایے اور محنت دونوں کے منافع شفاف اور منصفانہ عمل کے نتیجے میں طے ہوں۔ایسا نظام صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوامی شعبہ موثر اور باصلاحیت ہو۔اسی لیے معاشی پالیسی سازوں کی نئی قیادت کی ضرورت کافی پہلے سے محسوس کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>موجودہ معاشی نظام عوام اور کرۂ ارض دونوں کے مفادات کو نظرانداز کرتا ہے، جب کہ دنیا کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو دونوں کی خدمت کرے۔ اس تبدیلی کے حصول کے لیے محض معمولی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی، یہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ معیشتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور ان کے فوائد کس کو پہنچتے ہیں، اس پورے ڈھانچے کی گہری ازسرِنو تشکیل کی جائے۔‘‘، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرِ معیشت ماریانا مازاکاتو کا مضمون “ دی بروکن اکنامک آرڈر” (میگزین فارن افیئرز، 25 فروری) سے اقتباس</strong></p>
<p>گزشتہ کئی برسوں سے میڈیا کے ٹاک شوز اور پالیسی سوچ کے غالب رجحانات میں نیو لبرل نظریات کے حامل ماہرینِ معاشیات کی بالادستی نمایاں رہی ہے۔</p>
<p>نیو لبرل ازم، اس سے جڑی سخت بچت پالیسیوں اور معیشت کو دباؤ میں رکھنے والے اقدامات کے نقصانات برسوں سے زیرِ بحث ہیں، مگر اس کے باوجود بار بار وہی ذہنیت رکھنے والے ماہرین کو اعلیٰ عہدوں پر لایا جاتا ہے، چاہے وہ وزیرِ خزانہ ہوں، مرکزی بینک کے گورنر، منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیئرمین یا دیگر معاشی وزارتوں کے سربراہان۔ یہ عمل محض نادانی نہیں لگتا بلکہ اس بات کی واضح اشارہ ہے کہ مسلسل آنے والی حکومتیں دانستہ طور پر ایسے افراد کو چُنتی رہی ہیں جو نیو لبرل ازم پر مبنی استحصالی سیاسی و معاشی ادارہ جاتی ڈھانچے کو برقرار رکھ سکیں۔</p>
<p>یہ رجحان اس حقیقت سے بھی نمایاں ہوتا ہے کہ نیو لبرل پالیسیوں پر تنقید کرنے والے یا ان کے نقصانات اجاگر کرنے والے ماہرینِ معیشت کو پالیسی مباحثوں یا میڈیا میں نہ ہونے کے برابر جگہ یا وقت دیا جاتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ چار دہائیوں کے دوران، بالخصوص 2007-08 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد سے، نیو لبرل ازم، حد سے بڑھتی کفایت شعاری کی پالیسیوں اور معیشت کو کاروباری چکروں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے رجحان کو شدید جانچ پرکھ کا سامنا ہے۔ آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات، مطلق غربت میں کمی کے طویل رجحان کے الٹ جانے، اور معیشت و معاشرے میں کم ہوتی ہوئی لچک نے ان پالیسیوں کو مزید تشویش کا باعث بنا دیا ہے—ایسا رجحان جو تیزی سے بڑھتے ماحولیاتی بحران اور کووڈ وبا کے بعد مزید نمایاں ہو کر سامنے آیا۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ حالیہ میڈیا مباحثوں اور معیشت کے چاروں بڑے شعبوں، حقیقی، بجٹ (فسکل)، بیرونی اور مانیٹری/ فنانشل، کی پالیسیوں میں بھی حکومت کے کردار کو (غلط طور پر) محدود کرنے سے متعلق خدشات کو تسلیم کرنے کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی وزارتوں اور اداروں کی تشکیل اور ان کے ذریعے بنیادی سطح پر تنظیمی ماحول، بشمول سرکاری محکموں، سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز)، نجی شعبے کی کمپنیوں اور کاروباری افراد، اور مجموعی منڈیوں کے لیے معاون فضا فراہم کرنے کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>درحقیقت، حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خاطر خواہ عوامی سرمایہ کاری فراہم کرے اور مجموعی طور پر فعال، ہدفی اور مقصد پر مبنی طرزِ حکمرانی اور ترغیبی ڈھانچوں کے ذریعے معیشت میں پیداواریت اور وسائل کی تقسیم کی کارکردگی کو بہتر بنائے، جن میں لین دین کے اخراجات میں کمی بھی شامل ہے، جو بنیادی طور پر تلاش اور معلومات سے متعلقہ لاگتیں ہیں۔</p>
<p>تاہم، پالیسی کا زور اب بھی ریگن۔تھیچر دور کے نیو لبرل طرزِ فکر میں الجھا ہوا ہے، جس میں حکومت کو صرف نجی شعبے کی معاون کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو صرف اُس وقت مداخلت کرتی ہے جب منڈی ناکام ہو جائے؛ جہاں افراطِ زر کو محض زرِسیاستی مظہر سمجھا جاتا ہے، اور اس کے تدارک کے لیے ضرورت سے زیادہ کفایت شعاری پر مبنی طلب میں کمی کی پالیسیوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس کئی ممالک، بشمول پاکستان، میں حکومت کے کردار کے بتدریج کم ہونے، حتیٰ کہ ان ممالک میں بھی جنہیں کبھی سوشلسٹ جمہوری پالیسیوں کے مضبوط قلعے سمجھا جاتا تھا (جیسے اسکینڈے نیوین ممالک)، اور آؤٹ سورسنگ کے بڑھتے رجحان، زیادہ مالیاتی انحصار (اوور فنانشلائزیشن) کے باعث درکار مزاحمتی سرمایہ کاریوں سے وسائل کا رخ منافعاتی سرگرمیوں کی طرف موڑ دینے سے، پبلک سیکٹر حقیقی نوعیت کے خطرات سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، اور تلاشِ معاش یا بہتر طرزِ زندگی کے لیے نقلِ مکانی کے اسباب کو روکنے اور عدم مساوات، غربت اور پالیسی پر دولت مند طبقات کے ناجائز اثرورسوخ کے سدباب کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، غیرضروری حد تک سرکاری اداروں کے حجم میں کمی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ حیران کن طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو وسیع پیمانے پر عوامی سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے، وفاقی سطح پر پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور صوبائی سطح پر سالانہ ترقیاتی پروگراموں (اے ڈی پیز) میں نمایاں کمی پر زور دیا جا رہا ہے، یہ کہہ کر کہ مختص وسائل موثر طریقے سے خرچ نہیں ہو رہے، یا کرپشن کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح عوامی اخراجات کی سطح اور وسائل کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے بجائے، بعض پالیسی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رقم کو براہِ راست گھریلو سطح پر منتقل کیا جائے جبکہ مجموعی طور پر سرکاری اخراجات میں شدید کٹوتی کی جائے۔</p>
<p>یوں عوامی وسائل کے موثر استعمال میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے بجائے، یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ محصولات سے حاصل رقم کو زیادہ تر نجی شعبے کے منافعاتی اخراجات کے ذریعے استعمال کیا جائے، حالانکہ وہ اکثر کم موثر اور غیر متوازن ثابت ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عوام کے ٹیکس کا پیسہ ان کی فلاح، خوشحالی اور پائیدار اور لچک دار معیشت کے قیام پر خرچ نہیں ہوتا تو پھر منتخب نمائندوں اور ان کے مقرر کردہ سرکاری عہدیداروں کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟ اور کیوں کمزور ریگولیشن کے تحت چلنے والے نجی ادارے اس کے استعمال کے فیصلے کریں؟</p>
<p>حکومت کا کردار معیشت کی فعال بہتری کے عمل میں ہونا چاہیے۔ عوامی معاشی مفادات کا تحفظ اس کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی ضرورت سے زیادہ خودمختاری پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، مثلاً مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) میں حکومت کی زیادہ نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔</p>
<p>مزید یہ کہ معاشی پالیسی سازوں کی موجودہ صف، جو نیو لبرل ازم، مونیٹر ازم، اور واشنگٹن کنسینسز کی قدیم فکری رُت میں جکڑی ہوئی ہے، معاشی نمو کو بطور مقصد دیکھتی ہے، نہ کہ بطور ذریعہ جس کے ذریعے نمو کے فوائد منصفانہ طور پر تقسیم ہوں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت غیر نیو لبرل راستہ اختیار کرے، جس میں معاشی نمو زیادہ سے زیادہ محنت کش طبقے کو شامل کرے، وسیع تر کاروباری ذہنوں کو مواقع فراہم کرے اور ایسا نظام تشکیل دے جس میں سرمایے اور محنت دونوں کے منافع شفاف اور منصفانہ عمل کے نتیجے میں طے ہوں۔ایسا نظام صرف اسی صورت ممکن ہے جب عوامی شعبہ موثر اور باصلاحیت ہو۔اسی لیے معاشی پالیسی سازوں کی نئی قیادت کی ضرورت کافی پہلے سے محسوس کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40278014</guid>
      <pubDate>Tue, 14 Oct 2025 19:04:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/10164331d702e2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/10164331d702e2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
