<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی اور عرب ممالک کا پیرس اجلاس، غزہ کے بعد از جنگ منصوبے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277999/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے یورپی اور عرب اتحادیوں کا جمعرات کو پیرس میں اجلاس ہوا، جس میں غزہ کے بعد از جنگ مستقبل کو تشکیل دینے پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال اب یہ ہے کہ آیا اس موقع کو پائیدار امن میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس اجلاس میں یورپی اور عرب وزرائے خارجہ نے شرکت کی، جسے غزہ میں سلامتی، گورننس، تعمیر نو اور انسانی امداد جیسے امور پر عملی تفصیلات طے کرنے کا موقع قرار دیا گیا۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے بتایا کہ شرکا نے اپنے ممکنہ کردار اور مالی معاونت کے نکات پر اتفاق کیا ہے، جنہیں امریکا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ ماہ ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں دو ریاستی حل کی سمت اقدامات کی توثیق کی گئی، ساتھ ہی حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ یورپی اور عرب حکام نے تاہم ٹرمپ منصوبے میں موجود خلا پر تشویش ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں شریک قطر، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جنہوں نے حماس کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے منصوبے میں اقوامِ متحدہ کے تحت ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا، اٹلی اور آذربائیجان نے اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ ان کا ملک نہ صرف سلامتی بلکہ تعمیر نو میں بھی اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی ذرائع کے مطابق فرانس اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ میں اس مجوزہ فورس کے مینڈیٹ پر ابتدائی مشاورت شروع کر دی ہے، جبکہ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ موقع کو دیرپا امن کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے یورپی اور عرب اتحادیوں کا جمعرات کو پیرس میں اجلاس ہوا، جس میں غزہ کے بعد از جنگ مستقبل کو تشکیل دینے پر غور کیا گیا۔ یہ اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر اتفاق کیا۔</strong></p>
<p>اس معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال اب یہ ہے کہ آیا اس موقع کو پائیدار امن میں بدلا جا سکتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>پیرس اجلاس میں یورپی اور عرب وزرائے خارجہ نے شرکت کی، جسے غزہ میں سلامتی، گورننس، تعمیر نو اور انسانی امداد جیسے امور پر عملی تفصیلات طے کرنے کا موقع قرار دیا گیا۔ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بارو نے بتایا کہ شرکا نے اپنے ممکنہ کردار اور مالی معاونت کے نکات پر اتفاق کیا ہے، جنہیں امریکا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ ماہ ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں دو ریاستی حل کی سمت اقدامات کی توثیق کی گئی، ساتھ ہی حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ یورپی اور عرب حکام نے تاہم ٹرمپ منصوبے میں موجود خلا پر تشویش ظاہر کی ہے۔</p>
<p>اجلاس میں شریک قطر، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جنہوں نے حماس کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں مدد دی۔</p>
<p>ٹرمپ کے منصوبے میں اقوامِ متحدہ کے تحت ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا، اٹلی اور آذربائیجان نے اس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اٹلی کے وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ ان کا ملک نہ صرف سلامتی بلکہ تعمیر نو میں بھی اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>سفارتی ذرائع کے مطابق فرانس اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ میں اس مجوزہ فورس کے مینڈیٹ پر ابتدائی مشاورت شروع کر دی ہے، جبکہ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ موقع کو دیرپا امن کے لیے استعمال کرنا ناگزیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277999</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Oct 2025 12:00:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/1011590101a8cdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/1011590101a8cdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
