<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ٹی سیکٹر میں فوری اصلاحات کے لیے انتظامی اقدامات ضروری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277998/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر میں فوری اصلاحات کے لیے انتظامی اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ غیر حل شدہ ادارہ جاتی مسائل سالانہ 1.2 ارب امریکی ڈالر سے زائد برآمدات کی آمدنی کو محدود کررہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد نے اس شعبے کی وسیع صلاحیت، ریکارڈ برآمدات اور کلیدی ساختی چیلنجز کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس شعبہ مالی سال 2024–25 میں دگنا ہو کر 3.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو ملک کی مجموعی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حقیقت میں آئی ٹی برآمدات 5 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہیں، تاہم پالیسی کی ناکامیوں کی وجہ سے 1.2 ارب ڈالر کا فرق موجود ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ درجے کی فری لانس کمیونٹی اور متعدد آئی ٹی کمپنیاں پیچیدہ فارن ایکسچینج ریپیٹریشن اور ٹیکس تعمیل کے عمل کی وجہ سے رسمی بینکنگ نظام استعمال نہیں کرتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد نے آئی ٹی برآمدات کو کم از کم 25 فیصد بڑھانے اور مقابلہ جاتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے تین اہم اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق جون 2025 میں ختم ہونے والی عارضی ٹیکس چھوٹ کو مستقل 100 فیصد انکم ٹیکس کریڈٹ میں تبدیل کیا جائے اور ٹرن اوور پر لگنے والا نقصان دہ کم از کم ٹیکس ختم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئرلینڈ اور سنگاپور کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عارضی مراعات طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری اور آئی پی کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک  کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل ایکسپورٹرز ایف ایکس سمپلیفکیشن ونڈو قائم کرے، جس کے تحت بینک ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے ثبوت جیسے پائینئر سٹیٹمنٹس قبول کریں تاکہ پراسیڈز رئیلائزیشن سرٹیفیکیٹس جلد جاری کیے جا سکیں۔ ان کے بقول، اس اقدام سے ریکارڈ شدہ برآمدات میں فوری طور پر 1.2 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملک کا 99 فیصد آئی ٹی ہارڈویئر درآمدی ہے، جو زر مبادلہ اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی سے مطالبہ کیا کہ وہ آئی ٹی ہارڈویئر کی مقامی پیداوار کو ترجیح دے اور سبسڈی یافتہ زمین اور ٹیکس چھوٹ جیسے مستقل مراعات فراہم کرے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مقامی قدر شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مہارت کے بڑے خلاء کی طرف بھی توجہ دلائی، بتاتے ہوئے کہ سالانہ 75,000 آئی ٹی گریجویٹس میں سے 90 فیصد برآمداتی ملازمتوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے قومی اپ اسکلنگ پروگرام کی ضرورت پر زور دیا، جس کا مرکز مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ ہو۔ ان کے بقول، AI 2030 تک معیشت میں 20 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے، نصاب کو ہر 12 تا 24 ماہ میں اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ آئی ٹی سیکٹر میں فوری اصلاحات کے لیے انتظامی اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ غیر حل شدہ ادارہ جاتی مسائل سالانہ 1.2 ارب امریکی ڈالر سے زائد برآمدات کی آمدنی کو محدود کررہے ہیں۔</strong></p>
<p>میاں زاہد نے اس شعبے کی وسیع صلاحیت، ریکارڈ برآمدات اور کلیدی ساختی چیلنجز کو اجاگر کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس شعبہ مالی سال 2024–25 میں دگنا ہو کر 3.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو ملک کی مجموعی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حقیقت میں آئی ٹی برآمدات 5 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہیں، تاہم پالیسی کی ناکامیوں کی وجہ سے 1.2 ارب ڈالر کا فرق موجود ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ درجے کی فری لانس کمیونٹی اور متعدد آئی ٹی کمپنیاں پیچیدہ فارن ایکسچینج ریپیٹریشن اور ٹیکس تعمیل کے عمل کی وجہ سے رسمی بینکنگ نظام استعمال نہیں کرتیں۔</p>
<p>میاں زاہد نے آئی ٹی برآمدات کو کم از کم 25 فیصد بڑھانے اور مقابلہ جاتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے تین اہم اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق جون 2025 میں ختم ہونے والی عارضی ٹیکس چھوٹ کو مستقل 100 فیصد انکم ٹیکس کریڈٹ میں تبدیل کیا جائے اور ٹرن اوور پر لگنے والا نقصان دہ کم از کم ٹیکس ختم کیا جائے۔</p>
<p>انہوں نے آئرلینڈ اور سنگاپور کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ عارضی مراعات طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کاری اور آئی پی کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک  کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل ایکسپورٹرز ایف ایکس سمپلیفکیشن ونڈو قائم کرے، جس کے تحت بینک ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کے ثبوت جیسے پائینئر سٹیٹمنٹس قبول کریں تاکہ پراسیڈز رئیلائزیشن سرٹیفیکیٹس جلد جاری کیے جا سکیں۔ ان کے بقول، اس اقدام سے ریکارڈ شدہ برآمدات میں فوری طور پر 1.2 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملک کا 99 فیصد آئی ٹی ہارڈویئر درآمدی ہے، جو زر مبادلہ اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی سے مطالبہ کیا کہ وہ آئی ٹی ہارڈویئر کی مقامی پیداوار کو ترجیح دے اور سبسڈی یافتہ زمین اور ٹیکس چھوٹ جیسے مستقل مراعات فراہم کرے تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مقامی قدر شامل ہو۔</p>
<p>انہوں نے مہارت کے بڑے خلاء کی طرف بھی توجہ دلائی، بتاتے ہوئے کہ سالانہ 75,000 آئی ٹی گریجویٹس میں سے 90 فیصد برآمداتی ملازمتوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے قومی اپ اسکلنگ پروگرام کی ضرورت پر زور دیا، جس کا مرکز مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ ہو۔ ان کے بقول، AI 2030 تک معیشت میں 20 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے، نصاب کو ہر 12 تا 24 ماہ میں اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277998</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Oct 2025 11:53:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/10114834dec82ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/10114834dec82ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
