<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 05:58:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 05:58:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ٹی ڈی سی نیٹ ورک میں بڑا بریک ڈاؤن، نیپرا کا کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277984/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعرات کو کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے، جسے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے نیٹ ورک میں پیش آنے والے بڑے سسٹم بریک ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارروائی 23 جنوری 2023 کو صبح 7 بج کر 34 منٹ پر ہونے والے ملکی سطح کے بلیک آؤٹ کے بعد عمل میں لائی گئی، جب ملک بھر میں بجلی کا نظام کئی گھنٹوں تک معطل رہا۔ نظام تقریباً 20 گھنٹے بعد، 24 جنوری کو مکمل طور پر بحال ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے اس غیر معمولی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس نے پاور پلانٹس، گرڈ اسٹیشنز، سائٹس اور دفاتر کا دورہ کیا، متعلقہ اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے اور شواہد جمع کیے تاکہ واقعے کی وجوہات کا منصفانہ تعین کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ واقعے سے قبل کے الیکٹرک کا نظام این ٹی ڈی سی سے منسلک تھا۔ کے الیکٹرک کا زیادہ تر نیٹ ورک نارتھ کراچی انڈسٹریل  سب اسٹیشن سے جبکہ ایک حصہ جھمپیر-II گرڈ اسٹیشن (220 کلو وولٹ) سے منسلک تھا۔ اس وقت کے الیکٹرک کی کل کھپت 1,246 میگاواٹ تھی، جس میں سے 708 میگاواٹ این ٹی ڈی سی سے درآمد کیا جا رہا تھا، جبکہ 538 میگاواٹ کے ای کی اپنی پیداوار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب  نارتھ کراچی انڈسٹریل سے علیحدگی ہوئی تو کے الیکٹرک کو 521 میگاواٹ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ نظام میں کراس ٹرپ اسکیم اور بعد ازاں انڈر فریکوئنسی اسکیم فعال ہوئیں جن کے ذریعے 624 میگاواٹ لوڈ شیڈ کیا گیا، جو مطلوبہ کمی سے زیادہ تھا۔ اس کے باوجود، بی کیو پی ایس-III کا یونٹ 10 (249 میگاواٹ) ایک تکنیکی خرابی کے باعث ٹرپ کر گیا، جس کے بعد یونٹ 20 (239 میگاواٹ) اور ایس این پی سی پلانٹ (40 میگاواٹ) بھی اوورلوڈنگ کے باعث بند ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکوائری کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بحالی کا عمل صبح 8:32 پر شروع کیا گیا، تاہم بی کیو پی ایس-II اور دیگر بلیک اسٹارٹ پلانٹس بار بار ٹرپ ہوتے رہے، جس سے بحالی میں تاخیر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے قرار دیا کہ کے الیکٹرک کا ردعمل غیر تسلی بخش تھا اور اس نے اپنے فرائض نیپرا ایکٹ کی شق 14B(4) اور گرڈ کوڈ کی مختلف دفعات کے مطابق انجام نہیں دیے۔ چنانچہ اتھارٹی نے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ وہ یہ رقم 15 دن کے اندر نیپرا کے نامزد بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے، بصورت دیگر جرمانہ بحیثیت واجباتِ اراضی وصول کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک کے ترجمان نے نیپرا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ این ٹی ڈی سی کے سسٹم میں خرابی کے نتیجے میں ہونے والے بریک ڈاؤن پر کے الیکٹرک کو جرمانہ کرنا حیران کن ہے۔ ترجمان کے مطابق کمپنی فیصلہ تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جمعرات کو کے الیکٹرک پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے، جسے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے نیٹ ورک میں پیش آنے والے بڑے سسٹم بریک ڈاؤن کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ کارروائی 23 جنوری 2023 کو صبح 7 بج کر 34 منٹ پر ہونے والے ملکی سطح کے بلیک آؤٹ کے بعد عمل میں لائی گئی، جب ملک بھر میں بجلی کا نظام کئی گھنٹوں تک معطل رہا۔ نظام تقریباً 20 گھنٹے بعد، 24 جنوری کو مکمل طور پر بحال ہوا۔</p>
<p>نیپرا نے اس غیر معمولی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی، جس نے پاور پلانٹس، گرڈ اسٹیشنز، سائٹس اور دفاتر کا دورہ کیا، متعلقہ اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے اور شواہد جمع کیے تاکہ واقعے کی وجوہات کا منصفانہ تعین کیا جا سکے۔</p>
<p>تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ واقعے سے قبل کے الیکٹرک کا نظام این ٹی ڈی سی سے منسلک تھا۔ کے الیکٹرک کا زیادہ تر نیٹ ورک نارتھ کراچی انڈسٹریل  سب اسٹیشن سے جبکہ ایک حصہ جھمپیر-II گرڈ اسٹیشن (220 کلو وولٹ) سے منسلک تھا۔ اس وقت کے الیکٹرک کی کل کھپت 1,246 میگاواٹ تھی، جس میں سے 708 میگاواٹ این ٹی ڈی سی سے درآمد کیا جا رہا تھا، جبکہ 538 میگاواٹ کے ای کی اپنی پیداوار تھی۔</p>
<p>جب  نارتھ کراچی انڈسٹریل سے علیحدگی ہوئی تو کے الیکٹرک کو 521 میگاواٹ کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ نظام میں کراس ٹرپ اسکیم اور بعد ازاں انڈر فریکوئنسی اسکیم فعال ہوئیں جن کے ذریعے 624 میگاواٹ لوڈ شیڈ کیا گیا، جو مطلوبہ کمی سے زیادہ تھا۔ اس کے باوجود، بی کیو پی ایس-III کا یونٹ 10 (249 میگاواٹ) ایک تکنیکی خرابی کے باعث ٹرپ کر گیا، جس کے بعد یونٹ 20 (239 میگاواٹ) اور ایس این پی سی پلانٹ (40 میگاواٹ) بھی اوورلوڈنگ کے باعث بند ہو گئے۔</p>
<p>انکوائری کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بحالی کا عمل صبح 8:32 پر شروع کیا گیا، تاہم بی کیو پی ایس-II اور دیگر بلیک اسٹارٹ پلانٹس بار بار ٹرپ ہوتے رہے، جس سے بحالی میں تاخیر ہوئی۔</p>
<p>نیپرا نے قرار دیا کہ کے الیکٹرک کا ردعمل غیر تسلی بخش تھا اور اس نے اپنے فرائض نیپرا ایکٹ کی شق 14B(4) اور گرڈ کوڈ کی مختلف دفعات کے مطابق انجام نہیں دیے۔ چنانچہ اتھارٹی نے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو ہدایت کی کہ وہ یہ رقم 15 دن کے اندر نیپرا کے نامزد بینک اکاؤنٹ میں جمع کرائے، بصورت دیگر جرمانہ بحیثیت واجباتِ اراضی وصول کیا جائے گا۔</p>
<p>کے الیکٹرک کے ترجمان نے نیپرا کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ این ٹی ڈی سی کے سسٹم میں خرابی کے نتیجے میں ہونے والے بریک ڈاؤن پر کے الیکٹرک کو جرمانہ کرنا حیران کن ہے۔ ترجمان کے مطابق کمپنی فیصلہ تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277984</guid>
      <pubDate>Fri, 10 Oct 2025 09:46:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/100945103ab56fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="388" width="690">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/100945103ab56fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
