<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی آئی ٹی کمپنیاں کویت کی مارکیٹ کا جائزہ لے رہی ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277974/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنیوں نے کویت کے بازار کا دورہ کرتے ہوئے نئے کاروباری مواقع اور طویل المدتی شراکت داریوں کی امید میں وہاں کی منڈی میں امکانات کا جائزہ لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے تحت پاک کویت ٹیک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں سسٹمز لمیٹڈ، ایبیکس کنسلٹنگ، ٹین پرلز سمیت 17 آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دوسری جانب کویتی حکام اور سرکاری ٹیکنالوجی محکموں کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی کمپنیوں نے کویتی کاروباری برادری کے سامنے اپنی سروسز کا  اس امید کے ساتھ پورٹ فولیو پیش کیا کہ مستقبل میں ان کے ساتھ کئی طویل المدتی کاروباری معاہدے طے پائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ٹین پرلز کے منیجنگ ڈائریکٹر ذیشان آفتاب نے کہا کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے کویت کی مارکیٹ میں ڈیجیٹل تبدیلی کے اہداف سے ہم آہنگ، جدید اور بامعنی خدمات پیش کر کے قدم رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’ہماری بنیادی پیشکشوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور مشین لرننگ پر مبنی حل شامل ہیں، جیسے پریڈکٹیو اینالٹکس، چیٹ بوٹس، اور انٹیلیجنٹ آٹومیشن، جو کاروباری کارکردگی اور صارف کے تجربے میں بہتری لاتے ہیں۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ’’سائبر سیکورٹی خدمات کی فراہمی بھی ناگزیر ہوگی کیونکہ کویت اپنے مالیاتی اور سرکاری شعبوں میں ڈیٹا کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیشان آفتاب کے مطابق حکومت کی اسمارٹ سٹی منصوبہ جات اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری سے آئی ٹی خدمات کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ’’مجموعی طور پر کویت کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا ٹیکنالوجی منظرنامہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے خصوسی نوعیت کے آئی ٹی حلوں کی فراہمی کا امید افزا بازار ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق یہ خدمات پاکستانی کمپنیوں کو خطے میں ’’جدت پسند، چابک دست اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر‘‘ ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر مستحکم کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری امکانات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کویت کی مضبوط معیشت، غیر تیل نجی شعبے کی ترقی، اور کویت وژن 2035 کے تحت جاری ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے منصوبے پاکستان کے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آئی ٹی انڈسٹری کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ کویت کی مارکیٹ آئی ٹی شعبے کی اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت نئے بازاروں کی تلاش کے ذریعے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، یہ سب اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے اقدامات کے تحت کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں کویت میں غیر معمولی ردعمل ملا، جہاں حکام اور کاروباری افراد پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی شہرت سے متاثر نظر آئے۔ ملک کی مثبت اور بہتر ہوتی ہوئی ساکھ ہماری آئی ٹی برآمدات کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی توجہ اس وقت عالمی سطح پر اپنی شناخت بڑھانے، صنعتی تقاضوں کے مطابق جدید حل تیار کرنے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کے کردار کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’’پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ سروسز، سائبر سیکورٹی اور بلاک چین جیسے زیادہ طلب والے شعبوں میں مہارت حاصل کریں، اور کم لاگت مگر اعلیٰ معیار کے حل پیش کریں جو کلائنٹس کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ مارکیٹنگ کے اقدامات کو مربوط بنا کر، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا کر اور حکومتی سطح پر معاون پالیسیوں کے لیے موثر وکالت کے ذریعے، پاکستان کا آئی ٹی شعبہ نمایاں اور تیز رفتار ترقی کر سکتا ہے اور بڑی عالمی کمپنیوں کا مؤثر حریف بن سکتا ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ مالی سال (26-2025) کے ابتدائی دو مہینوں میں آئی ٹی برآمدات میں تسلسل کے ساتھ اضافہ دیکھا گیا، جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد بڑھ کر 691 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ شعبہ ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد ملک کا تیسرا بڑا برآمدی شعبہ ہے اور خدمات کی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ بھی اسی کا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنیوں نے کویت کے بازار کا دورہ کرتے ہوئے نئے کاروباری مواقع اور طویل المدتی شراکت داریوں کی امید میں وہاں کی منڈی میں امکانات کا جائزہ لیا ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے تحت پاک کویت ٹیک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں سسٹمز لمیٹڈ، ایبیکس کنسلٹنگ، ٹین پرلز سمیت 17 آئی ٹی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دوسری جانب کویتی حکام اور سرکاری ٹیکنالوجی محکموں کے اعلیٰ عہدیدار بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔</p>
<p>پاکستانی کمپنیوں نے کویتی کاروباری برادری کے سامنے اپنی سروسز کا  اس امید کے ساتھ پورٹ فولیو پیش کیا کہ مستقبل میں ان کے ساتھ کئی طویل المدتی کاروباری معاہدے طے پائیں گے۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ٹین پرلز کے منیجنگ ڈائریکٹر ذیشان آفتاب نے کہا کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے کویت کی مارکیٹ میں ڈیجیٹل تبدیلی کے اہداف سے ہم آہنگ، جدید اور بامعنی خدمات پیش کر کے قدم رکھا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’ہماری بنیادی پیشکشوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) اور مشین لرننگ پر مبنی حل شامل ہیں، جیسے پریڈکٹیو اینالٹکس، چیٹ بوٹس، اور انٹیلیجنٹ آٹومیشن، جو کاروباری کارکردگی اور صارف کے تجربے میں بہتری لاتے ہیں۔‘‘</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ’’سائبر سیکورٹی خدمات کی فراہمی بھی ناگزیر ہوگی کیونکہ کویت اپنے مالیاتی اور سرکاری شعبوں میں ڈیٹا کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔‘‘</p>
<p>ذیشان آفتاب کے مطابق حکومت کی اسمارٹ سٹی منصوبہ جات اور مقامی ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری سے آئی ٹی خدمات کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ’’مجموعی طور پر کویت کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا ٹیکنالوجی منظرنامہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے خصوسی نوعیت کے آئی ٹی حلوں کی فراہمی کا امید افزا بازار ہے۔‘‘</p>
<p>ان کے مطابق یہ خدمات پاکستانی کمپنیوں کو خطے میں ’’جدت پسند، چابک دست اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر‘‘ ٹیکنالوجی شراکت دار کے طور پر مستحکم کر سکتی ہیں۔</p>
<p>کاروباری امکانات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کویت کی مضبوط معیشت، غیر تیل نجی شعبے کی ترقی، اور کویت وژن 2035 کے تحت جاری ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے منصوبے پاکستان کے آئی ٹی برآمد کنندگان کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان آئی ٹی انڈسٹری کے سینئر نائب چیئرمین محمد عمیر نظام نے کہا کہ کویت کی مارکیٹ آئی ٹی شعبے کی اس جارحانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت نئے بازاروں کی تلاش کے ذریعے برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، یہ سب اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے اقدامات کے تحت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں کویت میں غیر معمولی ردعمل ملا، جہاں حکام اور کاروباری افراد پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی شہرت سے متاثر نظر آئے۔ ملک کی مثبت اور بہتر ہوتی ہوئی ساکھ ہماری آئی ٹی برآمدات کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر رہی ہے۔‘‘</p>
<p>پاکستان کی توجہ اس وقت عالمی سطح پر اپنی شناخت بڑھانے، صنعتی تقاضوں کے مطابق جدید حل تیار کرنے اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کے کردار کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک شراکت داریوں کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’’پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ سروسز، سائبر سیکورٹی اور بلاک چین جیسے زیادہ طلب والے شعبوں میں مہارت حاصل کریں، اور کم لاگت مگر اعلیٰ معیار کے حل پیش کریں جو کلائنٹس کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ مارکیٹنگ کے اقدامات کو مربوط بنا کر، نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا کر اور حکومتی سطح پر معاون پالیسیوں کے لیے موثر وکالت کے ذریعے، پاکستان کا آئی ٹی شعبہ نمایاں اور تیز رفتار ترقی کر سکتا ہے اور بڑی عالمی کمپنیوں کا مؤثر حریف بن سکتا ہے۔‘‘</p>
<p>موجودہ مالی سال (26-2025) کے ابتدائی دو مہینوں میں آئی ٹی برآمدات میں تسلسل کے ساتھ اضافہ دیکھا گیا، جو سالانہ بنیاد پر 18 فیصد بڑھ کر 691 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ شعبہ ٹیکسٹائل اور چاول کے بعد ملک کا تیسرا بڑا برآمدی شعبہ ہے اور خدمات کی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ بھی اسی کا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277974</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 20:34:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/09202145a331e21.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/09202145a331e21.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
