<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:37:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:37:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مسز وتنابے کی واپسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انتشار کی بھی ایک حد ہوتی ہے، مگر 2025 نے اسے ازسرِنو طے کر دیا ہے۔ اس سال کی مالیاتی افراتفری کے معیار پر بھی گزشتہ چند دنوں نے بیشتر تجارتی حلقوں کو ششدر کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ین زمین بوس ہوا۔ ڈالر نے پرواز پکڑی۔ سونا آسمان کو چھو گیا۔ فرانس لڑکھڑا گیا۔ اور ہیج فنڈز، جو حال ہی میں گرتے ہوئے ڈالر، مضبوط سونے اور بتدریج سنبھلتے ین میں اطمینان بخش سرمایہ کاری کر رہے تھے، اچانک انہیں یاد آیا کہ بازار کی اصل غیر یقینی کیسی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیشہ کی طرح خاموش مگر خطرناک کھلاڑی، جاپان نے کھیل کا نقشہ پلٹ دیا جب تھَیچر نواز سانائے تاکائچی نے شیشے کی چھت توڑ کر ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے کی دوڑ میں جگہ بنائی ، جس سے شرحِ سود پر مرکزی بینک کے ساتھ امریکی طرز کی ٹکراؤ کی فضا پیدا ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹیں قیادت میں تبدیلی کے بعد کسی حد تک اصلاحاتی تسلسل کی متوقع تھیں مگر جو سامنے آیا وہ اس کے برعکس تھا، مزید مالیاتی توسیع کا واضح عندیہ اور غالباً بینک آف جاپان کی جانب سے کم عجلت کا اشارہ۔ یہی ایک عنصر ین کے تیزی سے گرنے کے لیے کافی ثابت ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں ین کیری ٹریڈ کی بحالی کا آغاز ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اچانک “مسز وتنابے” کا نام مالیاتی خبروں میں دوبارہ گونجنے لگا، وہ علامتی جاپانی گھریلو سرمایہ کار خواتین جنہوں نے دو ہزار کی دہائی کے ابتدائی “سنہری کیری دور” میں گھر بیٹھے زرمبادلہ مارکیٹوں میں حصہ لے کر منافع کمایا۔ اب جب دنیا مستحکم ثالثی (آربیٹریج) کے کسی بھی موقع کی متلاشی ہے، اُن کی روایت ایک نئی زندگی پا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ وہ سرمایہ کار طبقہ جو منافع کی تلاش میں ہے، سونے کے غیر متوقع اتار چڑھاؤ اور ٹرمپ کے تجارتی محصولات کی واپسی سے زخم خوردہ ہے، اسے کسی نہ کسی ایسے فریم ورک کی ضرورت تھی جو منطقی دکھائی دے۔ کیری ٹریڈ نے یہی سہارا فراہم کیا، ین میں قرض لیجیے اور کسی بھی متحرک اثاثے میں لگایئے جو منافع دے۔ چند بیس پوائنٹس پر زندہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے یہ کسی لائف لائن سے کم نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈالر کی حالیہ بحالی بھی طاقت کی نہیں بلکہ بقا کی علامت ہے۔ کئی ماہ سے ڈالر بتدریج کمزور ہو رہا تھا، فیڈ کی ساکھ گھٹ رہی تھی، ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ڈالر مخالف عوامیت پسندی دوبارہ مقبول ہو رہی تھی، اور محفوظ سرمایہ کاری کے بہاؤ سونے کی طرف جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر اس ہفتے منظر نامہ بدل گیا، ڈالر کے مضبوط ہونے کی نہیں بلکہ دوسروں کے کمزور پڑنے کی وجہ سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو فرانس کی سیاسی بےچینی کے باعث دباؤ میں آیا، نیوزی لینڈ ڈالر (کیوی) بڑے پیمانے کی شرح سود میں کمی سے گر گیا، اور ین — جو حالیہ چکر میں کم قیمت سمجھا جا رہا تھا، تکنیکی سطحیں حیران کن آسانی سے توڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجہ ایک شدید افراتفری کی صورت میں نکلا: ڈالر کے خلاف بیٹنگ کرنے والے پسپا ہوئے، ین کے خریدار کچلے گئے، اور فارن ایکسچینج مارکیٹوں میں تیزی سے ازسرِنو پوزیشننگ شروع ہو گئی۔ رسک ریورسلز کئی ماہ بعد پہلی بار ڈالر کے حق میں جھک گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رفتار پر مبنی ماڈلز الٹ گئے۔ حقیقی ادارہ جاتی سرمایہ کار اچانک واشنگٹن میں نسبتاً مالیاتی استحکام کی بات کرنے لگے، حالانکہ ایک اور شٹ ڈاؤن بحران سر پر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران سونا 4,000 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا۔ ای ٹی ایف فنڈز میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ۔ مبصرین نے “نئے مالیاتی عہد” کی پیش گوئیاں شروع کر دیں۔ وہی نیوز لیٹرز جو گزشتہ ماہ سونے کی غیر یقینی حرکت سے خبردار کر رہے تھے اب تیزی کے اہداف چھاپنے میں سبقت لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف امریکی شٹ ڈاؤن کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ پورے عالمی بازار کا مزاج: نروس، غیر یقینی اور ہر سرخی پر چونکنے والا۔ مرکزی بینک شرحیں کم کر رہے ہیں، جنگیں ختم نہیں ہو رہیں، قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مہنگائی ختم ہو چکی ہے مگر شرحیں پھر بھی گر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں سونے کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بعض ماہرین نے یاد دلایا کہ سونا ہیج کے طور پر بدترین اثاثہ ہے اگر آپ وقت کی پرواہ کرتے ہیں۔ یہ غیر مستحکم ہے، منافع نہیں دیتا، اور اس کی تیزی زیادہ تر خوف سے جڑی ہوتی ہے نہ کہ بنیادی عوامل سے۔ جب مارکیٹ کی دھن تھمتی ہے تو یہ اتنی ہی شدت سے نیچے بھی آ سکتا ہے۔ اور جب بیانیاتی رفتار غالب ہو، تو تکنیکی اشارے بے معنی ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اب سوال یہ ہے کہ سرمایہ کہاں جائے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاکس مہنگے ہیں، بانڈز بے ربط، کرپٹو اب بھی غیر یقینی اور سونا تکنیکی طور پر حد سے بڑھا ہوا۔ یوں عالمی لیکویڈیٹی کی پرانی سواری، ین کیری ٹریڈ، ہی وہ واحد “بہترین بُرا خیال” بچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان صرف ریٹیل سرمایہ کاروں تک محدود نہیں۔ پیشہ ورانہ سرمایہ کاری کے بہاؤ بھی اس سمت بڑھ رہے ہیں۔ سوآپ اسپریڈز حقیقی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، امپلائیڈ وولیٹیلیٹی اب تک قابو میں ہے اور جب تک بینک آف جاپان اپنی پالیسی پر قائم رہتا ہے جبکہ باقی دنیا لڑکھڑا رہی ہے، اس تجارت کے جاری رہنے کے امکانات مضبوط دکھائی دیتے ہیں،
اگرچہ، ہمیشہ کی طرح، یہ بھی ہمیشہ نہیں چلے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے ٹیرف بالآخر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کریں گے ۔ فیڈ ممکن ہے ایک بار پھر پسپا ہو جائے۔ اور جاپان، جو بظاہر ہمیشہ محتاط اور غیر جارحانہ دکھائی دیتا ہے، بازار کو اُس وقت حیران کرنے کی عادت رکھتا ہے جب توقع سب سے کم ہو۔ مگر فی الحال، رجحان ہی سب سے بڑا سہارا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;افراتفری سے دوچار عالمی منظرنامے میں، جہاں کبھی کبھار ہی سہی، مگر ڈالر خود محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے، جہاں مہنگائی سے بچاؤ کی علامت وہ دھات ہے جو کوئی منافع نہیں دیتی،اور جہاں بہترین منافع جاپانی قرض لے کر برازیلی بانڈز پر داؤ لگانے سے حاصل ہوتا ہے،ایسے میں شک یا بدگمانی ہی شاید سب سے زیادہ عقلمندانہ حکمتِ عملی بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہی بات مسز وتانابے کی، وہ دراصل کبھی منظر سے غائب نہیں ہوئیں؛
بس خاموشی اور صبر کے ساتھ انتظار کر رہی تھیں کہ عالمی مرکزی بینک ایک بار پھر افراتفری کو عروج پر پہنچا دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور بالآخر انہوں نے ایسا کر دکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انتشار کی بھی ایک حد ہوتی ہے، مگر 2025 نے اسے ازسرِنو طے کر دیا ہے۔ اس سال کی مالیاتی افراتفری کے معیار پر بھی گزشتہ چند دنوں نے بیشتر تجارتی حلقوں کو ششدر کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ین زمین بوس ہوا۔ ڈالر نے پرواز پکڑی۔ سونا آسمان کو چھو گیا۔ فرانس لڑکھڑا گیا۔ اور ہیج فنڈز، جو حال ہی میں گرتے ہوئے ڈالر، مضبوط سونے اور بتدریج سنبھلتے ین میں اطمینان بخش سرمایہ کاری کر رہے تھے، اچانک انہیں یاد آیا کہ بازار کی اصل غیر یقینی کیسی ہوتی ہے۔</p>
<p>ہمیشہ کی طرح خاموش مگر خطرناک کھلاڑی، جاپان نے کھیل کا نقشہ پلٹ دیا جب تھَیچر نواز سانائے تاکائچی نے شیشے کی چھت توڑ کر ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے کی دوڑ میں جگہ بنائی ، جس سے شرحِ سود پر مرکزی بینک کے ساتھ امریکی طرز کی ٹکراؤ کی فضا پیدا ہو گئی۔</p>
<p>مارکیٹیں قیادت میں تبدیلی کے بعد کسی حد تک اصلاحاتی تسلسل کی متوقع تھیں مگر جو سامنے آیا وہ اس کے برعکس تھا، مزید مالیاتی توسیع کا واضح عندیہ اور غالباً بینک آف جاپان کی جانب سے کم عجلت کا اشارہ۔ یہی ایک عنصر ین کے تیزی سے گرنے کے لیے کافی ثابت ہوا۔</p>
<p>یوں ین کیری ٹریڈ کی بحالی کا آغاز ہوا۔</p>
<p>اچانک “مسز وتنابے” کا نام مالیاتی خبروں میں دوبارہ گونجنے لگا، وہ علامتی جاپانی گھریلو سرمایہ کار خواتین جنہوں نے دو ہزار کی دہائی کے ابتدائی “سنہری کیری دور” میں گھر بیٹھے زرمبادلہ مارکیٹوں میں حصہ لے کر منافع کمایا۔ اب جب دنیا مستحکم ثالثی (آربیٹریج) کے کسی بھی موقع کی متلاشی ہے، اُن کی روایت ایک نئی زندگی پا رہی ہے۔</p>
<p>اور اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ وہ سرمایہ کار طبقہ جو منافع کی تلاش میں ہے، سونے کے غیر متوقع اتار چڑھاؤ اور ٹرمپ کے تجارتی محصولات کی واپسی سے زخم خوردہ ہے، اسے کسی نہ کسی ایسے فریم ورک کی ضرورت تھی جو منطقی دکھائی دے۔ کیری ٹریڈ نے یہی سہارا فراہم کیا، ین میں قرض لیجیے اور کسی بھی متحرک اثاثے میں لگایئے جو منافع دے۔ چند بیس پوائنٹس پر زندہ عالمی مالیاتی نظام کے لیے یہ کسی لائف لائن سے کم نہیں۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈالر کی حالیہ بحالی بھی طاقت کی نہیں بلکہ بقا کی علامت ہے۔ کئی ماہ سے ڈالر بتدریج کمزور ہو رہا تھا، فیڈ کی ساکھ گھٹ رہی تھی، ٹرمپ کی واپسی کے ساتھ ڈالر مخالف عوامیت پسندی دوبارہ مقبول ہو رہی تھی، اور محفوظ سرمایہ کاری کے بہاؤ سونے کی طرف جا رہے تھے۔</p>
<p>مگر اس ہفتے منظر نامہ بدل گیا، ڈالر کے مضبوط ہونے کی نہیں بلکہ دوسروں کے کمزور پڑنے کی وجہ سے۔</p>
<p>یورو فرانس کی سیاسی بےچینی کے باعث دباؤ میں آیا، نیوزی لینڈ ڈالر (کیوی) بڑے پیمانے کی شرح سود میں کمی سے گر گیا، اور ین — جو حالیہ چکر میں کم قیمت سمجھا جا رہا تھا، تکنیکی سطحیں حیران کن آسانی سے توڑ گیا۔</p>
<p>نتیجہ ایک شدید افراتفری کی صورت میں نکلا: ڈالر کے خلاف بیٹنگ کرنے والے پسپا ہوئے، ین کے خریدار کچلے گئے، اور فارن ایکسچینج مارکیٹوں میں تیزی سے ازسرِنو پوزیشننگ شروع ہو گئی۔ رسک ریورسلز کئی ماہ بعد پہلی بار ڈالر کے حق میں جھک گئے۔</p>
<p>رفتار پر مبنی ماڈلز الٹ گئے۔ حقیقی ادارہ جاتی سرمایہ کار اچانک واشنگٹن میں نسبتاً مالیاتی استحکام کی بات کرنے لگے، حالانکہ ایک اور شٹ ڈاؤن بحران سر پر تھا۔</p>
<p>اسی دوران سونا 4,000 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا۔ ای ٹی ایف فنڈز میں ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی ۔ مبصرین نے “نئے مالیاتی عہد” کی پیش گوئیاں شروع کر دیں۔ وہی نیوز لیٹرز جو گزشتہ ماہ سونے کی غیر یقینی حرکت سے خبردار کر رہے تھے اب تیزی کے اہداف چھاپنے میں سبقت لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>یہ صرف امریکی شٹ ڈاؤن کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ پورے عالمی بازار کا مزاج: نروس، غیر یقینی اور ہر سرخی پر چونکنے والا۔ مرکزی بینک شرحیں کم کر رہے ہیں، جنگیں ختم نہیں ہو رہیں، قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ مہنگائی ختم ہو چکی ہے مگر شرحیں پھر بھی گر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں سونے کو خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>تاہم بعض ماہرین نے یاد دلایا کہ سونا ہیج کے طور پر بدترین اثاثہ ہے اگر آپ وقت کی پرواہ کرتے ہیں۔ یہ غیر مستحکم ہے، منافع نہیں دیتا، اور اس کی تیزی زیادہ تر خوف سے جڑی ہوتی ہے نہ کہ بنیادی عوامل سے۔ جب مارکیٹ کی دھن تھمتی ہے تو یہ اتنی ہی شدت سے نیچے بھی آ سکتا ہے۔ اور جب بیانیاتی رفتار غالب ہو، تو تکنیکی اشارے بے معنی ہو جاتے ہیں۔</p>
<p><strong>اب سوال یہ ہے کہ سرمایہ کہاں جائے؟</strong></p>
<p>اسٹاکس مہنگے ہیں، بانڈز بے ربط، کرپٹو اب بھی غیر یقینی اور سونا تکنیکی طور پر حد سے بڑھا ہوا۔ یوں عالمی لیکویڈیٹی کی پرانی سواری، ین کیری ٹریڈ، ہی وہ واحد “بہترین بُرا خیال” بچا ہے۔</p>
<p>یہ رجحان صرف ریٹیل سرمایہ کاروں تک محدود نہیں۔ پیشہ ورانہ سرمایہ کاری کے بہاؤ بھی اس سمت بڑھ رہے ہیں۔ سوآپ اسپریڈز حقیقی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، امپلائیڈ وولیٹیلیٹی اب تک قابو میں ہے اور جب تک بینک آف جاپان اپنی پالیسی پر قائم رہتا ہے جبکہ باقی دنیا لڑکھڑا رہی ہے، اس تجارت کے جاری رہنے کے امکانات مضبوط دکھائی دیتے ہیں،
اگرچہ، ہمیشہ کی طرح، یہ بھی ہمیشہ نہیں چلے گی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ٹرمپ کے ٹیرف بالآخر مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کریں گے ۔ فیڈ ممکن ہے ایک بار پھر پسپا ہو جائے۔ اور جاپان، جو بظاہر ہمیشہ محتاط اور غیر جارحانہ دکھائی دیتا ہے، بازار کو اُس وقت حیران کرنے کی عادت رکھتا ہے جب توقع سب سے کم ہو۔ مگر فی الحال، رجحان ہی سب سے بڑا سہارا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>افراتفری سے دوچار عالمی منظرنامے میں، جہاں کبھی کبھار ہی سہی، مگر ڈالر خود محفوظ پناہ گاہ بن جاتا ہے، جہاں مہنگائی سے بچاؤ کی علامت وہ دھات ہے جو کوئی منافع نہیں دیتی،اور جہاں بہترین منافع جاپانی قرض لے کر برازیلی بانڈز پر داؤ لگانے سے حاصل ہوتا ہے،ایسے میں شک یا بدگمانی ہی شاید سب سے زیادہ عقلمندانہ حکمتِ عملی بن چکی ہے۔</p>
<p>رہی بات مسز وتانابے کی، وہ دراصل کبھی منظر سے غائب نہیں ہوئیں؛
بس خاموشی اور صبر کے ساتھ انتظار کر رہی تھیں کہ عالمی مرکزی بینک ایک بار پھر افراتفری کو عروج پر پہنچا دیں۔</p>
<p>اور بالآخر انہوں نے ایسا کر دکھایا۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277968</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 16:42:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/091556477b34d68.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/091556477b34d68.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
