<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نہیں تو پھر نوبیل امن انعام کا حق دار کون؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277963/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جیسے جیسے نوبیل امن انعام 2025 کے اعلان کا وقت قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کی نظریں ناروے کے دارالحکومت اوسلو پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی جمعہ کی صبح 11 بجے (0900 جی ایم ٹی) رواں سال کے نوبیل امن انعام کا اعلان کرے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مگر ایک بات تقریباً یقینی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ انعام اس بار بھی نہیں جیت پائیں گے، چاہے وہ اس کے کتنے ہی خواہش مند کیوں نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2024 میں دنیا بھر میں ریاستی سطح پر جاری مسلح تنازعات کی تعداد 1946 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جب سے سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی نے عالمی تنازعات کا ڈیٹا مرتب کرنا شروع کیا تھا۔ ایسی صورت حال میں نوبیل امن انعام کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ دنیا کو امن کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے متعدد بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے  آٹھ تنازعات حل کیے ہیں اور اسی بنیاد پر نوبیل انعام کے حقدار ہیں، لیکن بین الاقوامی امور کے ماہرین اس دعوے کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈش پروفیسر پیٹر والنسٹین کا کہنا ہے  اس سال نوبیل انعام ٹرمپ کو نہیں ملے گا  لیکن شاید ہوسکتا ہے کہ اگلے سال مل جائے کہ جب ان کی مختلف کوششوں  مثلاً غزہ بحران سے متعلق اقدامات پر گرد بیٹھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ نینا گریگر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی  پیس میکر پالیسیز نوبیل کے بانی الفریڈ نوبیل کی وصیت کے برعکس ہیں، جس میں بین الاقوامی تعاون ،قوموں کے بھائی چارے اور اسلحے میں کمی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں جس میں عالمی معاہدوں سے دستبرداری، اتحادیوں سے تجارتی جنگیں، داخلی جبر اور اظہارِ رائے پر پابندیاں شامل ہیں نوبیل انعام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال 338 افراد و اداروں کو امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ، جن کی تفصیلات روایتی طور پر 50 سال تک راز میں رکھی جاتی ہیں۔ سابقہ انعام یافتگان ارکانِ پارلیمنٹ، وزراء اور مخصوص ماہرین  نامزدگی کے اہل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر متنازعہ انتخاب کی توقع&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناروے کے بین الاقوامی امور کے ادارے کے ڈائریکٹر ہیلوارڈ لیرا کے مطابق  حالیہ برسوں میں نوبیل کمیٹی نے  انسانی حقوق، جمہوریت، آزادیٔ صحافت اور خواتین جیسے موضوعات پر توجہ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے بقول میرا اندازہ ہے کہ اس بار کوئی کم تنازعہ والا امیدوار منتخب کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی دنیا میں بڑھتے ہوئے انتشار کے خلاف پیغام دینے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس یا اقوام متحدہ کی ایجنسیوں جیسے یواین ایچ سی آر یا یو این آر ڈبلیو اے  کو اعزاز دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح صحافتی آزادیوں کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر انعام کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کو بھی دیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی کی طرح نوبیل کمیٹی کسی غیر متوقع فرد یا ادارے کو بھی منتخب کر سکتی ہے، جیسا کہ اس کا معمول رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جیسے جیسے نوبیل امن انعام 2025 کے اعلان کا وقت قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کی نظریں ناروے کے دارالحکومت اوسلو پر مرکوز ہو گئی ہیں۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی جمعہ کی صبح 11 بجے (0900 جی ایم ٹی) رواں سال کے نوبیل امن انعام کا اعلان کرے گی۔</strong></p>
<p>مگر ایک بات تقریباً یقینی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ انعام اس بار بھی نہیں جیت پائیں گے، چاہے وہ اس کے کتنے ہی خواہش مند کیوں نہ ہوں۔</p>
<p>سال 2024 میں دنیا بھر میں ریاستی سطح پر جاری مسلح تنازعات کی تعداد 1946 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے جب سے سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی نے عالمی تنازعات کا ڈیٹا مرتب کرنا شروع کیا تھا۔ ایسی صورت حال میں نوبیل امن انعام کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ دنیا کو امن کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے متعدد بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے  آٹھ تنازعات حل کیے ہیں اور اسی بنیاد پر نوبیل انعام کے حقدار ہیں، لیکن بین الاقوامی امور کے ماہرین اس دعوے کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہیں۔</p>
<p>سویڈش پروفیسر پیٹر والنسٹین کا کہنا ہے  اس سال نوبیل انعام ٹرمپ کو نہیں ملے گا  لیکن شاید ہوسکتا ہے کہ اگلے سال مل جائے کہ جب ان کی مختلف کوششوں  مثلاً غزہ بحران سے متعلق اقدامات پر گرد بیٹھ جائے گی۔</p>
<p>اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ نینا گریگر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی  پیس میکر پالیسیز نوبیل کے بانی الفریڈ نوبیل کی وصیت کے برعکس ہیں، جس میں بین الاقوامی تعاون ،قوموں کے بھائی چارے اور اسلحے میں کمی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں جس میں عالمی معاہدوں سے دستبرداری، اتحادیوں سے تجارتی جنگیں، داخلی جبر اور اظہارِ رائے پر پابندیاں شامل ہیں نوبیل انعام کی روح سے مطابقت نہیں رکھتیں۔</p>
<p>رواں سال 338 افراد و اداروں کو امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ، جن کی تفصیلات روایتی طور پر 50 سال تک راز میں رکھی جاتی ہیں۔ سابقہ انعام یافتگان ارکانِ پارلیمنٹ، وزراء اور مخصوص ماہرین  نامزدگی کے اہل ہوتے ہیں۔</p>
<p>غیر متنازعہ انتخاب کی توقع</p>
<p>ناروے کے بین الاقوامی امور کے ادارے کے ڈائریکٹر ہیلوارڈ لیرا کے مطابق  حالیہ برسوں میں نوبیل کمیٹی نے  انسانی حقوق، جمہوریت، آزادیٔ صحافت اور خواتین جیسے موضوعات پر توجہ دی ہے۔</p>
<p>ان کے بقول میرا اندازہ ہے کہ اس بار کوئی کم تنازعہ والا امیدوار منتخب کیا جائے گا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمیٹی دنیا میں بڑھتے ہوئے انتشار کے خلاف پیغام دینے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس یا اقوام متحدہ کی ایجنسیوں جیسے یواین ایچ سی آر یا یو این آر ڈبلیو اے  کو اعزاز دے سکتی ہے۔</p>
<p>اسی طرح صحافتی آزادیوں کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر انعام کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کو بھی دیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ماضی کی طرح نوبیل کمیٹی کسی غیر متوقع فرد یا ادارے کو بھی منتخب کر سکتی ہے، جیسا کہ اس کا معمول رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277963</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 14:11:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/091328390e2f4c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/091328390e2f4c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
