<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 03:58:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 03:58:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈی میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جب اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہوا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی تناؤ میں کمی آئی۔ ساتھ ہی امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی اجناس کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 0.51 فیصد یا 34 سینٹ کمی کے بعد فی بیرل 65.91 ڈالر رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 0.61 فیصد یا 38 سینٹ گر کر 62.17 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او این ڈی اے کے سینیئر تجزیہ کار کیلون وونگ نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے سے جغرافیائی خطرات میں کمی آئی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں کمی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس نے دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو جمعرات کو کابینہ کا اجلاس بلا کر جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ نے ماضی میں تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا تھا، کیونکہ اس سے خطے میں ممکنہ تیل فراہمی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ تھا۔ تاہم موومو آسٹریلیا اینڈ نیوزی لینڈ کے سی ای او مائیکل میکارتھی نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی سے مشرقِ وسطیٰ کی تیل فراہمی میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اوپیک پلس اپنی پیداوار کے اہداف پہلے ہی حاصل نہیں کر پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز امریکی توانائی معلوماتی ادارے  کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ میں تیل کی کھپت دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح 21.99 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ اکتوبر کے آغاز میں عالمی تیل طلب میں قدرے سست روی دیکھی گئی ہے، جبکہ چین، جرمنی اور امریکہ میں سرگرمیوں میں کمی کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے پہلے ہفتے میں عالمی تیل طلب 105.9 ملین بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 لاکھ بیرل زیادہ لیکن اندازوں سے 90 ہزار بیرل کم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈی میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جب اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے پر اتفاق ہوا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی تناؤ میں کمی آئی۔ ساتھ ہی امریکی ڈالر کی مضبوطی نے بھی اجناس کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 0.51 فیصد یا 34 سینٹ کمی کے بعد فی بیرل 65.91 ڈالر رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 0.61 فیصد یا 38 سینٹ گر کر 62.17 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔</p>
<p>او این ڈی اے کے سینیئر تجزیہ کار کیلون وونگ نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے سے جغرافیائی خطرات میں کمی آئی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں کمی ہوئی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس نے دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو جمعرات کو کابینہ کا اجلاس بلا کر جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیں گے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ نے ماضی میں تیل کی قیمتوں کو سہارا دیا تھا، کیونکہ اس سے خطے میں ممکنہ تیل فراہمی کے خطرات بڑھنے کا خدشہ تھا۔ تاہم موومو آسٹریلیا اینڈ نیوزی لینڈ کے سی ای او مائیکل میکارتھی نے کہا کہ حالیہ جنگ بندی سے مشرقِ وسطیٰ کی تیل فراہمی میں کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ اوپیک پلس اپنی پیداوار کے اہداف پہلے ہی حاصل نہیں کر پایا۔</p>
<p>گزشتہ روز امریکی توانائی معلوماتی ادارے  کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ میں تیل کی کھپت دسمبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح 21.99 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے کہا کہ اکتوبر کے آغاز میں عالمی تیل طلب میں قدرے سست روی دیکھی گئی ہے، جبکہ چین، جرمنی اور امریکہ میں سرگرمیوں میں کمی کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے پہلے ہفتے میں عالمی تیل طلب 105.9 ملین بیرل یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 لاکھ بیرل زیادہ لیکن اندازوں سے 90 ہزار بیرل کم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277951</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Oct 2025 11:43:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/091143103cf0004.webp" type="image/webp" medium="image" height="648" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/091143103cf0004.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
