<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:48:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:48:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا: اعتماد میں کمی کی عکاسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277919/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے تجارتی خسارے میں موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ اسی رفتار سے ہوا ہے جیسا کہ مالی سال 2022 میں دیکھا گیا تھا، جب آخری نمو کا مرحلہ ابھی شروع ہو رہا تھا۔ اس بار نہ کوئی نمو کا مرحلہ ہے، نہ سرمایہ کاری کی لہر، اور نہ ہی خسارے کی وضاحت کرنے کے لیے کوئی کہانی موجود ہے۔ پھر بھی، خسارہ بڑھ رہا ہے، بغیر اس کے کہ اس کی مالی اعانت کے لیے ضروری سرمایہ کاری کی آمد ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی خسارہ بذاتِ خود برا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ اضافہ عموماً ترقی کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اس وقت اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے درآمدات کرتے ہیں جس میں پلانٹ اور مشینری، خام مال، اور ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے جو مستقبل کی پیداوار کو سہارا دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ صارفین کی درآمدات بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں اگر یہ مسابقت پیدا کر کے قیمتوں میں نظم قائم کریں۔ ایسے خسارے تب ہی پائیدار ہوتے ہیں جب ان کے مقابلے میں کیپٹل انفلوز موجود ہو لیکن جب سرمایہ کاری غائب ہوجائے تو یہی خسارہ ترقی کے انجن کے بجائے ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹس اب اس بیان کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران خالص غیر ملکی سرمایہ کاری معمولی رہی، سالانہ اوسطاً ایک ارب ڈالر سے کم اور جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم رہی۔ مالی سال 2025 میں خالص ایف ڈی آئی تقریباً 2.4 ارب ڈالر تک گرگئی جبکہ مشرقی ہمسایہ ملک میں یہ 80 ارب ڈالر تھی۔ مالی سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں بھی یہ رجحان بہتر نہیں ہوا۔ اگست 2025 میں خالص ایف ڈی آئی صرف 156 ملین ڈالر رہی جبکہ ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً 2.9 ارب ڈالر تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاری نے بیرونی خسارے کا محض 5 فیصد ہی پورا کیا، یعنی یہ کوئی سہارا نہیں بلکہ محض بعد میں خیال آنے والا پہلو ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرحلے کو جو چیز منفرد طور پر تشویشناک بناتی ہے وہ سرمائے کی وہ نوعیت ہے جو اب ملک سے باہر جارہا ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان نے مارکیٹ کی تلاش میں کی جانے والی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری  پر انحصار کیا: یہ وہ عالمی صارفین، آٹو موٹیو اور سروس سیکٹر کی کمپنیاں تھیں جنہوں نے 1980 کی دہائی اور 2000 کی دہائی کے درمیان ایک نوجوان، تیزی سے شہری آبادی اور بڑھتے ہوئے متوسط طبقے پر شرط لگاتے ہوئے یہاں قدم رکھا تھا۔ یہ کمپنیاں یہاں برآمد کرنے نہیں بلکہ فروخت کرنے کے لیے تھیں۔ وہ کرنسی بحرانوں، توانائی کی قلت اور پالیسی کی تبدیلیوں کے دوران بھی یہاں موجود رہیں، مگر اب وہ ملک چھوڑ کر جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروکٹر اینڈ گیمبل نے مقامی مینوفیکچرنگ کو ختم کردیا ہے اور اپنے آپریشنز تیسرے فریق کے ڈسٹری بیوٹرز کے حوالے کردیے ہیں، جبکہ اس کی ذیلی کمپنی جلیٹ پاکستان ڈی لسٹنگ پر غور کر رہی ہے۔ یاماہا نے کرنسی کے اتار چڑھاؤ، زیادہ ان پٹ لاگت اور غیر یقینی درآمدی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے رواں ستمبر میں اپنا موٹر سائیکل پلانٹ بند کردیا۔ رائڈ ہیلنگ سروس اوبر سب سے پہلے ملک سے نکلی، جس کے بعد گزشتہ ماہ اس کی ذیلی کمپنی کریم  نے اپنا کاروبار لپیٹ لیا۔ شیل  نے مسلسل نقصانات اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مقامی آپریشنز میں اپنا کنٹرولنگ حصہ فروخت کر دیا۔ سیمنز  نے اپنے پورے انرجی ڈویژن کو فروخت کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ محض وقتی غلط سرمایہ کاری نہیں جو ناکام ہوئی ہو۔ یہ طویل مدتی سرمایہ کار ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اتار چڑھاؤ سہتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری جاری رکھی لیکن اب یہ نتیجہ اخذ کرچکے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہیں۔ جب صارفین پر مبنی سرمایہ بھی ملک چھوڑ کر جانے لگتا ہے تو یہ ڈیموگراف اسٹوری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر دنیا کی پانچویں سب سے بڑی، سب سے کم عمر اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی والا ملک بھی ان کمپنیوں کو برقرار نہیں رکھ سکتا جو صرف صابن، ایندھن، اور موٹر سائیکلیں فروخت کرنے آئی تھیں، تو پھر بڑھتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ کا دعویٰ دم توڑ جاتا ہے، اور اگر مارکیٹ کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کاروں کو بھی ماحول ناقابلِ برداشت لگے تو کارکردگی کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کار جو فیکٹریاں لگاتے ہیں، سپلائی چینز کو مربوط کرتے ہیں اور برآمدات کرتے ہیں وہ تو ایک نظر بھی نہیں ڈالیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجوہات پوشیدہ نہیں ہیں۔ پالیسی غیر متوقع ہے۔ ٹیکس نظام ظالمانہ ہے۔ ریگولیشن کا رویہ معاندانہ ہے۔ درآمدی قوانین بغیر کسی اطلاع کے بدل جاتے ہیں۔ منافع کی واپسی  سرکاری صوابدید پر منحصر ہے۔ زرمبادلہ کی شرح کا انتظام غیر شفاف ہے۔ توانائی کے اخراجات غیر مسابقتی ہیں۔ ہر نیا بجٹ پرانے زخموں کو بھرنے کے بجائے انہیں دوبارہ تازہ کردیتا ہے۔ سرمایہ کار معاشی سائیکلوں سے فرار نہیں ہورہے، وہ خراب اور غیر مؤثر پالیسی ساز ثقافت سے فرار ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرونی خسارے کو پورا کرنے کے لیے جب ایف ڈی آئی دستیاب نہ ہو تو ریاست کو قرضوں کے بہاؤ  کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کرنٹ اکاونٹ  میں مختصر مدت کے لیے سرپلس پیدا کرنے کے لیے درآمدات پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اس پابندی کے باوجود، جولائی 2025 میں پھر بھی 254 ملین امریکی ڈالر کا خسارہ دیکھا گیا۔ پالیسی ساز اقتصادی استحکام کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ معاشی سکڑاؤ کا جشن منا رہے ہوتے ہیں۔ شرحِ نمو دم توڑ جاتی ہے، زرمبادلہ  ذخائر کم ہوتے ہیں اور اگلا بحران شروع ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار بار بار دہرایا جاتا ہے کیونکہ اصل وجہ کبھی نہیں بدلتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساب کتاب انتہائی سادہ ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً 60 سے 65 ارب امریکی ڈالر کی اشیاء درآمد کرتا ہے اور اس کے نصف سے بھی کم برآمد کرتا ہے۔ کیپٹل انفلوز کے بغیر اس فرق کو قرضوں کے ذریعے پورا کرنا پڑتا ہے۔ جب قرض لینا ہی بیرونی مالیات کا واحد ذریعہ بن جاتا ہے، تو ڈیفالٹ  ایک دائمی خطرہ بن جاتا ہے جو میکرو اکنامک پالیسی کے طور پر چھپایا جاتا ہے۔ ہر کمپنی کا انخلا، ہر چھوٹی بڑی سرمایہ کاری کے موقع سے محرومی، الگ واقعہ نہیں بلکہ نظام پر عدم اعتماد کا ووٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری حکام اب بھی اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی بات کرتے ہیں، گویا صرف بیان بازی سے سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے، لیکن اعدادوشمار ایک مختلف حقیقت بیان کرتے ہیں۔ نئے مالی سال کے صرف تین ماہ میں 9.4 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ، ماہانہ 2.9 ارب ڈالر کا تجارتی فرق اور ماہانہ 156 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی آمد ایک تصویر پیش کرتے ہیں جسے کسی بھی طرح درست نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی اینڈ جی، یاماہا، اوبر، کریم، شیل، سیمنز اور درجنوں چھوٹی کمپنیوں کا انخلا محض اتفاق نہیں؛ یہ نتائج ہیں، اور یہ اس حکمرانی کی قیمت ہے جو اداروں کی بجائے وقتی اور بے ترتیب فیصلوں پر مبنی ہے۔ اعتماد سے پورا کیا جانے والا تجارتی خسارہ عزم کی علامت ہے جبکہ جمود اور غیر فعال پالیسی سے پورا کیا جانے والا خسارہ ناکامی کی علامت ہے۔ پاکستان کی موجودہ سمت واضح طور پر یہ بتا رہی ہے کہ یہ ناکامی ہے۔ پالیسی ساز اسے اصلاح کہہ سکتے ہیں، لیکن سرمایہ کار اسے فریب سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے تجارتی خسارے میں موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ 9.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ اسی رفتار سے ہوا ہے جیسا کہ مالی سال 2022 میں دیکھا گیا تھا، جب آخری نمو کا مرحلہ ابھی شروع ہو رہا تھا۔ اس بار نہ کوئی نمو کا مرحلہ ہے، نہ سرمایہ کاری کی لہر، اور نہ ہی خسارے کی وضاحت کرنے کے لیے کوئی کہانی موجود ہے۔ پھر بھی، خسارہ بڑھ رہا ہے، بغیر اس کے کہ اس کی مالی اعانت کے لیے ضروری سرمایہ کاری کی آمد ہو۔</strong></p>
<p>تجارتی خسارہ بذاتِ خود برا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ اضافہ عموماً ترقی کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اس وقت اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے درآمدات کرتے ہیں جس میں پلانٹ اور مشینری، خام مال، اور ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے جو مستقبل کی پیداوار کو سہارا دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ صارفین کی درآمدات بھی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں اگر یہ مسابقت پیدا کر کے قیمتوں میں نظم قائم کریں۔ ایسے خسارے تب ہی پائیدار ہوتے ہیں جب ان کے مقابلے میں کیپٹل انفلوز موجود ہو لیکن جب سرمایہ کاری غائب ہوجائے تو یہی خسارہ ترقی کے انجن کے بجائے ایک ذمہ داری بن جاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے بیرونی اکاؤنٹس اب اس بیان کی عکاسی کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران خالص غیر ملکی سرمایہ کاری معمولی رہی، سالانہ اوسطاً ایک ارب ڈالر سے کم اور جی ڈی پی کے ایک فیصد سے بھی کم رہی۔ مالی سال 2025 میں خالص ایف ڈی آئی تقریباً 2.4 ارب ڈالر تک گرگئی جبکہ مشرقی ہمسایہ ملک میں یہ 80 ارب ڈالر تھی۔ مالی سال 2025 کے ابتدائی مہینوں میں بھی یہ رجحان بہتر نہیں ہوا۔ اگست 2025 میں خالص ایف ڈی آئی صرف 156 ملین ڈالر رہی جبکہ ماہانہ تجارتی خسارہ تقریباً 2.9 ارب ڈالر تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاری نے بیرونی خسارے کا محض 5 فیصد ہی پورا کیا، یعنی یہ کوئی سہارا نہیں بلکہ محض بعد میں خیال آنے والا پہلو ہے۔</p>
<p>اس مرحلے کو جو چیز منفرد طور پر تشویشناک بناتی ہے وہ سرمائے کی وہ نوعیت ہے جو اب ملک سے باہر جارہا ہے۔ کئی دہائیوں تک پاکستان نے مارکیٹ کی تلاش میں کی جانے والی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری  پر انحصار کیا: یہ وہ عالمی صارفین، آٹو موٹیو اور سروس سیکٹر کی کمپنیاں تھیں جنہوں نے 1980 کی دہائی اور 2000 کی دہائی کے درمیان ایک نوجوان، تیزی سے شہری آبادی اور بڑھتے ہوئے متوسط طبقے پر شرط لگاتے ہوئے یہاں قدم رکھا تھا۔ یہ کمپنیاں یہاں برآمد کرنے نہیں بلکہ فروخت کرنے کے لیے تھیں۔ وہ کرنسی بحرانوں، توانائی کی قلت اور پالیسی کی تبدیلیوں کے دوران بھی یہاں موجود رہیں، مگر اب وہ ملک چھوڑ کر جارہی ہیں۔</p>
<p>پروکٹر اینڈ گیمبل نے مقامی مینوفیکچرنگ کو ختم کردیا ہے اور اپنے آپریشنز تیسرے فریق کے ڈسٹری بیوٹرز کے حوالے کردیے ہیں، جبکہ اس کی ذیلی کمپنی جلیٹ پاکستان ڈی لسٹنگ پر غور کر رہی ہے۔ یاماہا نے کرنسی کے اتار چڑھاؤ، زیادہ ان پٹ لاگت اور غیر یقینی درآمدی پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے رواں ستمبر میں اپنا موٹر سائیکل پلانٹ بند کردیا۔ رائڈ ہیلنگ سروس اوبر سب سے پہلے ملک سے نکلی، جس کے بعد گزشتہ ماہ اس کی ذیلی کمپنی کریم  نے اپنا کاروبار لپیٹ لیا۔ شیل  نے مسلسل نقصانات اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مقامی آپریشنز میں اپنا کنٹرولنگ حصہ فروخت کر دیا۔ سیمنز  نے اپنے پورے انرجی ڈویژن کو فروخت کر دیا۔</p>
<p>یہ محض وقتی غلط سرمایہ کاری نہیں جو ناکام ہوئی ہو۔ یہ طویل مدتی سرمایہ کار ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اتار چڑھاؤ سہتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری جاری رکھی لیکن اب یہ نتیجہ اخذ کرچکے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع محدود ہیں۔ جب صارفین پر مبنی سرمایہ بھی ملک چھوڑ کر جانے لگتا ہے تو یہ ڈیموگراف اسٹوری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کردیتا ہے۔</p>
<p>اگر دنیا کی پانچویں سب سے بڑی، سب سے کم عمر اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی والا ملک بھی ان کمپنیوں کو برقرار نہیں رکھ سکتا جو صرف صابن، ایندھن، اور موٹر سائیکلیں فروخت کرنے آئی تھیں، تو پھر بڑھتی ہوئی صارفین کی مارکیٹ کا دعویٰ دم توڑ جاتا ہے، اور اگر مارکیٹ کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کاروں کو بھی ماحول ناقابلِ برداشت لگے تو کارکردگی کی تلاش میں آنے والے سرمایہ کار جو فیکٹریاں لگاتے ہیں، سپلائی چینز کو مربوط کرتے ہیں اور برآمدات کرتے ہیں وہ تو ایک نظر بھی نہیں ڈالیں گے۔</p>
<p>اس کی وجوہات پوشیدہ نہیں ہیں۔ پالیسی غیر متوقع ہے۔ ٹیکس نظام ظالمانہ ہے۔ ریگولیشن کا رویہ معاندانہ ہے۔ درآمدی قوانین بغیر کسی اطلاع کے بدل جاتے ہیں۔ منافع کی واپسی  سرکاری صوابدید پر منحصر ہے۔ زرمبادلہ کی شرح کا انتظام غیر شفاف ہے۔ توانائی کے اخراجات غیر مسابقتی ہیں۔ ہر نیا بجٹ پرانے زخموں کو بھرنے کے بجائے انہیں دوبارہ تازہ کردیتا ہے۔ سرمایہ کار معاشی سائیکلوں سے فرار نہیں ہورہے، وہ خراب اور غیر مؤثر پالیسی ساز ثقافت سے فرار ہو رہے ہیں۔</p>
<p>بیرونی خسارے کو پورا کرنے کے لیے جب ایف ڈی آئی دستیاب نہ ہو تو ریاست کو قرضوں کے بہاؤ  کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ کرنٹ اکاونٹ  میں مختصر مدت کے لیے سرپلس پیدا کرنے کے لیے درآمدات پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ اس پابندی کے باوجود، جولائی 2025 میں پھر بھی 254 ملین امریکی ڈالر کا خسارہ دیکھا گیا۔ پالیسی ساز اقتصادی استحکام کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ معاشی سکڑاؤ کا جشن منا رہے ہوتے ہیں۔ شرحِ نمو دم توڑ جاتی ہے، زرمبادلہ  ذخائر کم ہوتے ہیں اور اگلا بحران شروع ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار بار بار دہرایا جاتا ہے کیونکہ اصل وجہ کبھی نہیں بدلتی۔</p>
<p>حساب کتاب انتہائی سادہ ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً 60 سے 65 ارب امریکی ڈالر کی اشیاء درآمد کرتا ہے اور اس کے نصف سے بھی کم برآمد کرتا ہے۔ کیپٹل انفلوز کے بغیر اس فرق کو قرضوں کے ذریعے پورا کرنا پڑتا ہے۔ جب قرض لینا ہی بیرونی مالیات کا واحد ذریعہ بن جاتا ہے، تو ڈیفالٹ  ایک دائمی خطرہ بن جاتا ہے جو میکرو اکنامک پالیسی کے طور پر چھپایا جاتا ہے۔ ہر کمپنی کا انخلا، ہر چھوٹی بڑی سرمایہ کاری کے موقع سے محرومی، الگ واقعہ نہیں بلکہ نظام پر عدم اعتماد کا ووٹ ہے۔</p>
<p>سرکاری حکام اب بھی اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی بات کرتے ہیں، گویا صرف بیان بازی سے سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکتا ہے، لیکن اعدادوشمار ایک مختلف حقیقت بیان کرتے ہیں۔ نئے مالی سال کے صرف تین ماہ میں 9.4 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ، ماہانہ 2.9 ارب ڈالر کا تجارتی فرق اور ماہانہ 156 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی آمد ایک تصویر پیش کرتے ہیں جسے کسی بھی طرح درست نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>پی اینڈ جی، یاماہا، اوبر، کریم، شیل، سیمنز اور درجنوں چھوٹی کمپنیوں کا انخلا محض اتفاق نہیں؛ یہ نتائج ہیں، اور یہ اس حکمرانی کی قیمت ہے جو اداروں کی بجائے وقتی اور بے ترتیب فیصلوں پر مبنی ہے۔ اعتماد سے پورا کیا جانے والا تجارتی خسارہ عزم کی علامت ہے جبکہ جمود اور غیر فعال پالیسی سے پورا کیا جانے والا خسارہ ناکامی کی علامت ہے۔ پاکستان کی موجودہ سمت واضح طور پر یہ بتا رہی ہے کہ یہ ناکامی ہے۔ پالیسی ساز اسے اصلاح کہہ سکتے ہیں، لیکن سرمایہ کار اسے فریب سمجھتے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277919</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 13:21:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/08124955266d69b.webp" type="image/webp" medium="image" height="1067" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/08124955266d69b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
