<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پینٹاگون امریکی بحریہ کے اگلی نسل کے لڑاکا طیارے کی منظوری جلد دیگا، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277913/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) مہینوں کی تاخیر کے بعد رواں ہفتے بحریہ کے اگلی نسل کے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے ڈیزائن اور تیاری کے لیے کمپنی کے انتخاب کا اعلان کرنے والا ہے، جو چین کا مقابلہ کرنے کے امریکی منصوبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بوئنگ کمپنی اور نارتھروپ گرومین کارپوریشن کے درمیان اس منصوبے کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے۔ یہ نیا ایف/اے-ایکس ایکس طیارہ امریکی بحریہ کے موجودہ ایف/اے-18ای/ایف سپر ہارنیٹ بیڑے کی جگہ لے گا جو 1990 کی دہائی سے سروس میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعے کے روز اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی منظوری دی۔ ممکن ہے کہ بحریہ اس ہفتے کے آخر تک فاتح کمپنی کا اعلان کر دے، تاہم ماضی میں بھی آخری لمحے کی رکاوٹوں کے باعث عمل تاخیر کا شکار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایف/اے-ایکس ایکس منصوبہ جدید اسٹیلتھ خصوصیات، زیادہ پرواز کی حد، طویل سروس دورانیہ، اور بغیر پائلٹ لڑاکا طیاروں کے ساتھ انضمام کی صلاحیت سے لیس ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین پہلے ہی پانچویں اور چھٹی نسل کے طیاروں پر تیزی سے کام کر رہا ہے، اس لیے یہ فیصلہ امریکہ کے لیے ٹیکنالوجی کی دوڑ میں قدم برابر رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروجیکٹ میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ پینٹاگون اور کانگریس کے درمیان فنڈنگ کا تنازع تھا۔ پینٹاگون نے صرف 74 ملین ڈالر کی ابتدائی فنڈنگ کی درخواست دی تھی، جبکہ کانگریس نے بجٹ میں 750 ملین ڈالر اضافی رکھ کر منصوبے کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ مزید 1.4 ارب ڈالر مالی سال 2026 کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق دونوں کمپنیوں کی انجینئرنگ صلاحیتوں اور سپلائی چین کے دباؤ پر بھی بحث جاری تھی۔ تاہم پینٹاگون نے بالآخر اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ ممکنہ طور پر دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے، جبکہ ابتدائی طیارے 2030 کی دہائی میں سروس میں شامل کیے جائیں گے۔ موجودہ ایف/اے-18 فائٹرز 2040 کی دہائی تک استعمال میں رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) مہینوں کی تاخیر کے بعد رواں ہفتے بحریہ کے اگلی نسل کے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کے ڈیزائن اور تیاری کے لیے کمپنی کے انتخاب کا اعلان کرنے والا ہے، جو چین کا مقابلہ کرنے کے امریکی منصوبے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>بوئنگ کمپنی اور نارتھروپ گرومین کارپوریشن کے درمیان اس منصوبے کے لیے سخت مقابلہ جاری ہے۔ یہ نیا ایف/اے-ایکس ایکس طیارہ امریکی بحریہ کے موجودہ ایف/اے-18ای/ایف سپر ہارنیٹ بیڑے کی جگہ لے گا جو 1990 کی دہائی سے سروس میں ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جمعے کے روز اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی منظوری دی۔ ممکن ہے کہ بحریہ اس ہفتے کے آخر تک فاتح کمپنی کا اعلان کر دے، تاہم ماضی میں بھی آخری لمحے کی رکاوٹوں کے باعث عمل تاخیر کا شکار رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایف/اے-ایکس ایکس منصوبہ جدید اسٹیلتھ خصوصیات، زیادہ پرواز کی حد، طویل سروس دورانیہ، اور بغیر پائلٹ لڑاکا طیاروں کے ساتھ انضمام کی صلاحیت سے لیس ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین پہلے ہی پانچویں اور چھٹی نسل کے طیاروں پر تیزی سے کام کر رہا ہے، اس لیے یہ فیصلہ امریکہ کے لیے ٹیکنالوجی کی دوڑ میں قدم برابر رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>پروجیکٹ میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ پینٹاگون اور کانگریس کے درمیان فنڈنگ کا تنازع تھا۔ پینٹاگون نے صرف 74 ملین ڈالر کی ابتدائی فنڈنگ کی درخواست دی تھی، جبکہ کانگریس نے بجٹ میں 750 ملین ڈالر اضافی رکھ کر منصوبے کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔ مزید 1.4 ارب ڈالر مالی سال 2026 کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق دونوں کمپنیوں کی انجینئرنگ صلاحیتوں اور سپلائی چین کے دباؤ پر بھی بحث جاری تھی۔ تاہم پینٹاگون نے بالآخر اس منصوبے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔</p>
<p>یہ معاہدہ ممکنہ طور پر دسیوں ارب ڈالر مالیت کا ہو سکتا ہے، جبکہ ابتدائی طیارے 2030 کی دہائی میں سروس میں شامل کیے جائیں گے۔ موجودہ ایف/اے-18 فائٹرز 2040 کی دہائی تک استعمال میں رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277913</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 12:04:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/081202211c5a403.webp" type="image/webp" medium="image" height="270" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/081202211c5a403.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
