<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:54:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:54:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر دو روزہ دورے پر بھارت پہنچ گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277911/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچ گئے، جہاں ان کے ہمراہ کاروبار، ثقافت اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد نمائندے موجود ہیں۔ اس دورے کا مقصد برطانیہ اور بھارت کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے  کو فروغ دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک نے جولائی میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورہ لندن کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ٹیکسٹائل، گاڑیوں اور وِسکی سمیت متعدد مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں کمی کی جائے گی اور کاروباری اداروں کو زیادہ مارکیٹ رسائی فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین سال سے جاری مذاکرات مئی 2025 میں مکمل ہوئے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے عالمی ٹیرف بحران کے پس منظر میں تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ یہ معاہدہ دنیا کی پانچویں اور چھٹی بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت کو 34 ارب ڈالر (25.5 ارب پاؤنڈ) تک بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یہ صرف ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ ترقی کے لیے لانچ پیڈ ہے۔ بھارت 2028 تک دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے، اور یہ موقع برطانیہ کے لیے غیر معمولی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران کیئر اسٹارمر جمعرات کو نریندر مودی سے دوطرفہ ملاقات کریں گے، جس میں معاہدے کو آئندہ سال کے اندر نافذ کرنے کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برٹش ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں لندن اور دہلی کے درمیان تیسری روزانہ پرواز شروع کرے گی، جبکہ مانچسٹر ایئرپورٹ بھی انڈیگو ایئرلائن کے ذریعے نئی دہلی کے لیے نیا روٹ متعارف کرائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے میں ڈایجیو اور اسکاچ وِسکی ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ نئے تجارتی معاہدے کے تحت وِسکی پر عائد درآمدی ٹیرف 150 فیصد سے کم ہو کر 75 فیصد کر دیا جائے گا، جو آئندہ دس سال میں بتدریج 40 فیصد تک لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر بھارت پہنچ گئے، جہاں ان کے ہمراہ کاروبار، ثقافت اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد نمائندے موجود ہیں۔ اس دورے کا مقصد برطانیہ اور بھارت کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے آزاد تجارتی معاہدے  کو فروغ دینا ہے۔</strong></p>
<p>دونوں ممالک نے جولائی میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے دورہ لندن کے دوران اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت ٹیکسٹائل، گاڑیوں اور وِسکی سمیت متعدد مصنوعات پر ٹیرف میں نمایاں کمی کی جائے گی اور کاروباری اداروں کو زیادہ مارکیٹ رسائی فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>تین سال سے جاری مذاکرات مئی 2025 میں مکمل ہوئے، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے عالمی ٹیرف بحران کے پس منظر میں تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ یہ معاہدہ دنیا کی پانچویں اور چھٹی بڑی معیشتوں کے درمیان تجارت کو 34 ارب ڈالر (25.5 ارب پاؤنڈ) تک بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔</p>
<p>کیئر اسٹارمر نے کہا کہ یہ صرف ایک کاغذی معاہدہ نہیں بلکہ ترقی کے لیے لانچ پیڈ ہے۔ بھارت 2028 تک دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے جا رہا ہے، اور یہ موقع برطانیہ کے لیے غیر معمولی ہے۔</p>
<p>دورے کے دوران کیئر اسٹارمر جمعرات کو نریندر مودی سے دوطرفہ ملاقات کریں گے، جس میں معاہدے کو آئندہ سال کے اندر نافذ کرنے کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوگی۔</p>
<p>برٹش ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2026 میں لندن اور دہلی کے درمیان تیسری روزانہ پرواز شروع کرے گی، جبکہ مانچسٹر ایئرپورٹ بھی انڈیگو ایئرلائن کے ذریعے نئی دہلی کے لیے نیا روٹ متعارف کرائے گا۔</p>
<p>دورے میں ڈایجیو اور اسکاچ وِسکی ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ نئے تجارتی معاہدے کے تحت وِسکی پر عائد درآمدی ٹیرف 150 فیصد سے کم ہو کر 75 فیصد کر دیا جائے گا، جو آئندہ دس سال میں بتدریج 40 فیصد تک لایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277911</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 11:52:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/081150374f6703c.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/081150374f6703c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
