<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی فورسز کا حملہ، کشتیوں کو روک لیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جہازوں پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا اور انہیں غزہ کی جانب جاتے ہوئے روک لیا۔ تنظیم کے مطابق، یہ جہاز محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریڈم فلوٹیلا کولیشن ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جو فلسطینی حامی تنظیموں پر مشتمل ہے۔ یہ اتحاد اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کے لیے شہری سمندری مہمات منظم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ فلوٹیلا کے تمام جہاز اور مسافر محفوظ ہیں، انہیں اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا گیا ہے اور جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ قانونی بحری ناکہ بندی کو توڑنے اور جنگی علاقے میں داخل ہونے کی ایک اور ناکام کوشش انجام کو پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ چند روز میں دوسری مرتبہ پیش آیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے تقریباً 40 جہازوں کو روک کر 450 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا۔ یہ قافلہ گلوبل سُمُود فلوٹیلا کے نام سے امدادی سامان غزہ پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے سگنلز جام کر دیے اور کم از کم دو کشتیوں پر  چڑھائی کی۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو بین الاقوامی پانیوں پر کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، ہمارا فلوٹیلا کسی کے لیے خطرہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولیشن کے مطابق، جہازوں میں ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر مالیت کی امداد موجود تھی، جس میں ادویات، سانس لینے کے آلات اور غذائی اشیاء شامل تھیں — یہ سامان غزہ کے متاثرہ اسپتالوں کے لیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے حکام کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے میں 1,200 افراد مارے گئے اور 251 کو یرغمال بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جہازوں پر اسرائیلی فوج نے حملہ کیا اور انہیں غزہ کی جانب جاتے ہوئے روک لیا۔ تنظیم کے مطابق، یہ جہاز محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر روانہ ہوئے تھے۔</strong></p>
<p>فریڈم فلوٹیلا کولیشن ایک بین الاقوامی نیٹ ورک ہے جو فلسطینی حامی تنظیموں پر مشتمل ہے۔ یہ اتحاد اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے کے لیے شہری سمندری مہمات منظم کرتا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ فلوٹیلا کے تمام جہاز اور مسافر محفوظ ہیں، انہیں اسرائیلی بندرگاہ منتقل کر دیا گیا ہے اور جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ قانونی بحری ناکہ بندی کو توڑنے اور جنگی علاقے میں داخل ہونے کی ایک اور ناکام کوشش انجام کو پہنچی۔</p>
<p>یہ واقعہ چند روز میں دوسری مرتبہ پیش آیا ہے۔ اس سے قبل اسرائیل نے تقریباً 40 جہازوں کو روک کر 450 سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا تھا۔ یہ قافلہ گلوبل سُمُود فلوٹیلا کے نام سے امدادی سامان غزہ پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔</p>
<p>فریڈم فلوٹیلا کولیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے سگنلز جام کر دیے اور کم از کم دو کشتیوں پر  چڑھائی کی۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کو بین الاقوامی پانیوں پر کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، ہمارا فلوٹیلا کسی کے لیے خطرہ نہیں تھا۔</p>
<p>کولیشن کے مطابق، جہازوں میں ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر مالیت کی امداد موجود تھی، جس میں ادویات، سانس لینے کے آلات اور غذائی اشیاء شامل تھیں — یہ سامان غزہ کے متاثرہ اسپتالوں کے لیے تھا۔</p>
<p>غزہ کے حکام کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کے حملے میں 1,200 افراد مارے گئے اور 251 کو یرغمال بنایا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277910</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 11:45:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/08114227b154083.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/08114227b154083.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
