<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:39:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:39:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ فلوٹیلا سے گرفتاری کے بعد اسرائیلی حراست میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گریٹا تھنبرگ کا الزام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277909/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے منگل کے روز الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور دیگر کارکنان کو اسرائیلی حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریٹا تھنبرگ نے اسٹاک ہوم میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اسرائیلی فوج نے اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ خبر کا مرکز یہ بنے کہ گریٹا پر تشدد ہوا کیونکہ اصل کہانی یہ نہیں، اصل دکھ تو غزہ کے عوام کا ہے جو روزانہ ناقابلِ بیان مظالم برداشت کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریٹا تھنبرگ نے بتایا کہ انہیں صاف پانی تک دستیاب نہیں تھا جبکہ بعض قیدیوں کو ضروری ادویات سے بھی محروم رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے رائٹرز کے تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل نہیں دیا، تاہم وزارت کے ایک ترجمان نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ تمام زیرِ حراست افراد کو پانی، کھانا اور واش روم کی سہولتیں فراہم کی گئیں اور ان کے قانونی حقوق مکمل طور پر محفوظ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریٹا تھنبرگ گلوبل سُمُود فلوٹیلا نامی جہاز رانی مہم کا حصہ تھیں جو غزہ کے لیے امدادی سامان پہنچانے اور محصور فلسطینیوں کی حالتِ زار کو اجاگر کرنے کے لیے نکلی تھی۔ اس مہم کے دوران 478 افراد کو اسرائیل نے حراست میں لے کر پیر کے روز ملک بدر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے فلوٹیلا کو حماس کے حق میں تشہیری حربہ قرار دے کر مسترد کیا اور غزہ میں بھوک کے بحران سے متعلق رپورٹس کو مبالغہ آمیز کہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈش کارکنوں کے مطابق، گرفتاری کے دوران گریٹا تھنبرگ کو دھکے دیے گئے اور زبردستی اسرائیلی پرچم اوڑھایا گیا، تاہم گریٹا تھنبرگ نے اس واقعے کا اپنی پریس کانفرنس میں ذکر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سویڈن کی حکومت پر بھی تنقید کی کہ اس نے حراست کے دوران انہیں درکار مدد فراہم نہیں کی۔ سویڈش حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ غزہ کے سفر سے بارہا باز رہنے کی ہدایت دے چکی تھی، تاہم پھر بھی قونصلر معاونت فراہم کی گئی اور اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ سویڈش شہریوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے منگل کے روز الزام عائد کیا ہے کہ انہیں اور دیگر کارکنان کو اسرائیلی حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔</strong></p>
<p>گریٹا تھنبرگ نے اسٹاک ہوم میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو اسرائیلی فوج نے اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ خبر کا مرکز یہ بنے کہ گریٹا پر تشدد ہوا کیونکہ اصل کہانی یہ نہیں، اصل دکھ تو غزہ کے عوام کا ہے جو روزانہ ناقابلِ بیان مظالم برداشت کر رہے ہیں۔</p>
<p>گریٹا تھنبرگ نے بتایا کہ انہیں صاف پانی تک دستیاب نہیں تھا جبکہ بعض قیدیوں کو ضروری ادویات سے بھی محروم رکھا گیا۔</p>
<p>اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے رائٹرز کے تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل نہیں دیا، تاہم وزارت کے ایک ترجمان نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ تمام زیرِ حراست افراد کو پانی، کھانا اور واش روم کی سہولتیں فراہم کی گئیں اور ان کے قانونی حقوق مکمل طور پر محفوظ رہے۔</p>
<p>گریٹا تھنبرگ گلوبل سُمُود فلوٹیلا نامی جہاز رانی مہم کا حصہ تھیں جو غزہ کے لیے امدادی سامان پہنچانے اور محصور فلسطینیوں کی حالتِ زار کو اجاگر کرنے کے لیے نکلی تھی۔ اس مہم کے دوران 478 افراد کو اسرائیل نے حراست میں لے کر پیر کے روز ملک بدر کر دیا۔</p>
<p>اسرائیل نے فلوٹیلا کو حماس کے حق میں تشہیری حربہ قرار دے کر مسترد کیا اور غزہ میں بھوک کے بحران سے متعلق رپورٹس کو مبالغہ آمیز کہا۔</p>
<p>سویڈش کارکنوں کے مطابق، گرفتاری کے دوران گریٹا تھنبرگ کو دھکے دیے گئے اور زبردستی اسرائیلی پرچم اوڑھایا گیا، تاہم گریٹا تھنبرگ نے اس واقعے کا اپنی پریس کانفرنس میں ذکر نہیں کیا۔</p>
<p>انہوں نے سویڈن کی حکومت پر بھی تنقید کی کہ اس نے حراست کے دوران انہیں درکار مدد فراہم نہیں کی۔ سویڈش حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ غزہ کے سفر سے بارہا باز رہنے کی ہدایت دے چکی تھی، تاہم پھر بھی قونصلر معاونت فراہم کی گئی اور اسرائیل پر زور دیا گیا کہ وہ سویڈش شہریوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277909</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 11:37:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0811353716aee5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0811353716aee5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
