<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:26:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:26:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈسکوز کی نجکاری، اصلاح یا مالی جال؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277906/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجکاری کو طویل عرصے سے پاکستان کے توانائی کے شعبے کے بحران کا حل قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن ہماری حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم اب بھی اس تصور کے بنیادی اصول کو قبول کرنے سے کتنے گریزاں ہیں۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتی ہے جب کوئی کمپنی کارکردگی کے ذریعے منافع کماتی ہے۔ جیسے ہی کوئی نجی ادارہ مالی طور پر کامیاب ہوتا ہے، عوامی تحسین کی جگہ شک و شبہات لے لیتے ہیں — جیسے منافع کمانا عوامی خدمت سے غداری کے مترادف ہو۔ یہی ذہنیت ہماری بجلی اور گیس کی صنعتوں کو درمیانے درجے کی کارکردگی میں جکڑے رکھتی ہے، جہاں اصلاحات کے بجائے نااہلی کو فروغ ملتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالوں کی اصلاحاتی گفتگو کے باوجود، بجلی اور گیس دونوں شعبے اب بھی سرکاری کنٹرول میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہاں بیوروکریٹک سرخ فیتہ (ریڈ ٹیپ) فیصلوں کو متاثر کرتا ہے، نہ کہ مارکیٹ مقابلہ یا صارفین کی فلاح۔ حتیٰ کہ گیس کے شعبے میں بھی جب نجی کمپنیاں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں تو ریاستی ادارے اکثر گیس ٹرانسپورٹیشن ٹیرف یا انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے ان کی راہ روکتے ہیں۔ یہ اقدامات سرمایہ کاری کو مایوس کن بناتے ہیں اور پرانے ریاستی اجارہ دار نظام کو قومی مفاد کے نام پر قائم رکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ مفاد عوام کے نہیں بلکہ اختیار کے تحفظ کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے میں بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ پالیسی ساز مقابلے اور کارکردگی کی جتنی بھی بات کریں، ریاست اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ نجی شراکت داری کے تمام منصوبے وزارتوں، ریگولیٹرز اور کمیٹیوں کے جال میں الجھ کر رہ جاتے ہیں، جو سہولت کار بننے کے بجائے نگہبان  کا کردار ادا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ عوامی نظام کام کرتا ہے اور نہ نجی نظام کو کام کرنے دیا جاتا ہے۔ یوں ایک غیر مؤثر مخلوط ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے جہاں نقصانات، بدانتظامی اور سیاسی مداخلت ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے توانائی نظام میں ایک اور بڑی ساختی خامی  اس کی ریگولیٹری تقسیم ہے۔ دو علیحدہ ریگولیٹرز — نیپرا بجلی کے لیے اور اوگرا تیل و گیس کے لیے — دو وزارتوں، یعنی پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کے تحت کام کرتے ہیں۔ ہر وزارت اپنی الگ پالیسیوں اور ترجیحات پر چلتی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن گیس کے شعبے کی نگران بھی ہے، جس سے ذمہ داریوں میں مزید ابہام اور ہم آہنگی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقسیم شدہ نظام اکثر متضاد فیصلے جنم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک اتھارٹی صنعتوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ گیس سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے گرڈ بجلی استعمال کریں تاکہ اضافی صلاحیت بروئے کار لائی جا سکے، جبکہ دوسری اتھارٹی ٹیرف میں کراس سبسڈی ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے جس سے یہ تبدیلی مالی طور پر غیر پرکشش بن جاتی ہے — نتیجتاً دونوں صارفین کو کھو دیتی ہیں۔ جب بجلی کی اوسط ایندھن لاگت 10 روپے فی یونٹ ہو، تو زیادہ سے زیادہ ٹیرف 25 روپے فی یونٹ ہونا چاہیے، نہ کہ 35 روپے فی یونٹ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کو ایک مربوط ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو تضاد کے بجائے ہم آہنگی اور مختصر انتظامی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کو یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کا نجکاری کا رویہ بھی الٹا اور متضاد ہے۔ وہ منافع بخش اداروں کی نج کاری سے گریز کرتی ہے کہ کہیں منافع بخش اثاثے بیچنے پر تنقید نہ ہو، جبکہ خسارہ دینے والے ادارے — جنہیں سب سے زیادہ نجی نظم و ضبط کی ضرورت ہے — بدستور ریاستی کنٹرول میں رکھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ غیر مؤثر سرکاری اداروں کو اہل نجی ہاتھوں میں منتقل کیا جائے تاکہ انہیں فعال اور منافع بخش بنایا جا سکے۔ لیکن ہم اس کے برعکس کرتے ہیں — ناکام اداروں کو تھامے رکھتے ہیں اور منافع بخش اداروں پر بحث میں وقت ضائع کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ہماری خسارہ دینے والی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اس ادارہ جاتی ناکامی کی سب سے واضح مثال ہیں۔ ہر سال وہ چوری، ناقص بل وصولی اور سیاسی مداخلت کے باعث اربوں روپے کا نقصان کرتی ہیں۔ یہ نقصانات یا تو ٹیکس دہندگان سے پورے کیے جاتے ہیں یا صارفین پر سرچارج کی صورت میں منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت انہیں شفاف اور کارکردگی پر مبنی نجکاری کے لیے پیش کرنے کے بجائے اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے، جس سے نااہلی کا چکر جاری رہتا ہے۔ درحقیقت، انہی کمپنیوں کو سب سے پہلے نجی شعبے کے حوالے کیا جانا چاہیے، نہ کہ اُن اداروں کو جو پہلے ہی بہتر کام کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک  پاکستان میں نجکاری سے متعلق متضاد رویے کی نمایاں ترین مثال ہے۔ تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود، کے-الیکٹرک آج بھی نہ مکمل طور پر نجی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر خودمختار۔ کمپنی کی انتظامیہ اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں ایندھن کی فراہمی کے کوٹے، ٹیرف منظوری، پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں اور ریگولیٹری اجازت ناموں کے پیچھے گزارتے ہیں — بجائے اس کے کہ وہ کراچی میں سروس کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ سب سے سادہ ترغیبی پیکجز، جیسے کووڈ کے زمانے میں صنعتی صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا “انکریمنٹل پیکیج”، بیوروکریٹک کھینچا تانی کے باعث سالوں تاخیر کا شکار رہے — اور آج تک کراچی کے صنعتی صارفین کو کووڈ انکریمنٹل پیکیج کی رقم موصول نہیں ہوئی۔ ہر وہ فیصلہ جو تجارتی بنیادوں پر ہونا چاہیے، سیاسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ کراچی کے شہری اب بھی کے-الیکٹرک کو بجلی کی سروس کے مسائل پر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جبکہ کمپنی خود اب بھی وفاقی کنٹرول کی کئی پرتوں میں جکڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے-الیکٹرک کا تجربہ ایک وسیع تر حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: پاکستان اب تک اتنا بالغ نہیں ہوا کہ نج کاری کو اس کے اصل مقصد کے مطابق کام کرنے دیا جا سکے۔ ہم اداروں کی نج کاری تو کر دیتے ہیں، مگر انہیں اب بھی بیوروکریسی کی طرز پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک ہم یہ نہیں مان لیتے کہ نجی یوٹیلٹیز کو واضح تجارتی اصولوں کے تحت، روزمرہ حکومتی مداخلت سے آزاد ہو کر کام کرنے دیا جائے، نج کاری کبھی اپنے وعدے کے نتائج نہیں دے سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آنے والا کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ” (سی ٹی بی سی ایم) دراصل اس لیے متعارف کرایا گیا تھا کہ حقیقی مسابقت پیدا ہو — تاکہ بڑے صارفین براہِ راست بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے بجلی خرید سکیں۔ لیکن اگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) کو اپنے سپلائی یونٹس الگ کرنے اور برابر کی بنیاد پر مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں ملے گی، تو سی ٹی بی سی ایم محض پرانی اجارہ داریوں کو نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ پیدا کر دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز کو اتنی خودمختاری ضرور ہونی چاہیے کہ وہ صنعتی صارفین کو براہِ راست بجلی فروخت کر سکیں؛ ورنہ وہ صرف لائن رینٹ جمع کرنے والے ادارے بن کر رہ جائیں گی — جو نقصانات کا بوجھ اٹھائیں گی، مگر آمدنی کمانے کا اختیار نہیں رکھیں گی، اور صارفین یا ٹیکس دہندگان کی سبسڈیوں پر ہی زندہ رہیں گی۔ کوئی سرمایہ کار اپنے سرمایہ کو ایسے وائر بزنس میں خطرے میں نہیں ڈالے گا جو چوری کے شکار، سبسڈی یافتہ صارفین کو بجلی فراہم کرتا ہو اور جسے ادائیگی کے قابل صنعتی صارفین تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک واضح تجارتی خودمختاری اور برابر کا میدان  فراہم نہ کیا جائے۔ سرمایہ کار تبھی آئیں گے جب انہیں ریگولیٹری استحکام، منصفانہ قیمتوں کے تعین کا نظام، اور کارکردگی کی بنیاد پر مقابلے کا حق دیا جائے — نہ کہ سیاسی مداخلت کی بنیاد پر۔ اگر کسی ڈسکوز کو صرف لائن رینٹ اکٹھا کرنے اور زیادہ نقصان والے علاقوں کو چلانے تک محدود کر دیا جائے تو یہ کوئی کاروباری موقع نہیں، بلکہ مالی جال  ہے۔ ہم مختلف ممالک کے کامیاب بجلی مارکیٹ ماڈلز کو بغیر کسی سائنسی تجزیے یا مطالعے کے کاپی پیسٹ کر رہے ہیں — یہ سوچے بغیر کہ آیا وہ ہمارے حالات سے مطابقت رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ اور یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ نجی ڈسکوز کو دی جانے والی سبسڈی کا اصل استعمال کون اور کیسے جانچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے، تو پالیسی سازوں کو پرانے طریقوں سے ناتا توڑنے کا حوصلہ دکھانا ہوگا۔ اصلاحات نئی کمیٹیاں بنانے یا ہر چند سال بعد پالیسی دستاویزیں تیار کرنے سے نہیں آتیں — بلکہ اداروں کو سیاسی مداخلت اور بیوروکریٹک گلے میں پھنسے طوق سے آزاد کرنے سے آتی ہیں۔ توانائی کے شعبے کو اب حکومتی بجٹ کے انحصار سے نکل کر پائیدار اور مسابقتی ڈھانچے میں داخل ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے کا راستہ واضح ہے۔
اوّل، نیپرا  اور اوگرا کے درمیان ریگولیٹری اور پالیسی سمت کو متحد کیا جائے تاکہ فیصلے ہم آہنگ اور ایک دوسرے کی تقویت دینے والے ہوں۔
دوم، کارکردگی کے لحاظ سے سب سے کمزور ڈسکوز کی شفاف معاہدوں کے تحت نجکاری کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ کارکردگی کو انعام اور صارفین کے مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سوم، نجی یوٹیلٹیز کو مستحکم، مارکیٹ پر مبنی اصولوں کے تحت کام کرنے کا اختیار دیا جائے، تاکہ وہ مسلسل سیاسی مداخلت سے آزاد رہیں۔
اور آخر میں، سی ٹی بی سی ایم کے تحت ڈسکوز کو الگ کر کے براہِ راست صنعتی صارفین کو فروخت کا اختیار دیا جائے، تاکہ حقیقی مسابقت پیدا ہو۔ تب ہی ان اداروں کی تجارتی قدر بڑھے گی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی پیدا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے توانائی کے اداروں کی نجکاری اس لیے ناکام نہیں ہوئی کہ یہ غلط تصور ہے، بلکہ اس لیے کہ ہم نے اسے کبھی صحیح معنوں میں نافذ ہی نہیں کیا۔ ہم نے ملکیت تو نجی ہاتھوں میں دی، مگر اختیارات بدستور مرکز میں رکھے۔ ہم نے ریگولیٹرز تو بنائے، مگر انہیں حکومتی اثر سے آزاد نہیں کیا۔ ہم نے مارکیٹ کی بات تو کی، مگر مقابلے کی گنجائش نہیں دی۔ ہم نے نجی شعبے کو بلایا، مگر اس پر بھروسہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پالیسی ساز واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان کا توانائی شعبہ درست راہ پر آئے، تو انہیں اس خودفریبی سے نکلنا ہوگا کہ اختیار برقرار رکھنے سے استحکام آتا ہے۔ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہوگی جب حکومت پیچھے ہٹے، وزارتیں اور ریگولیٹرز ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں، اور نجی شعبے پر بھروسہ کیا جائے کہ وہ مقابلے کے ذریعے کارکردگی فراہم کرے گا۔
جب تک ایسا نہیں ہوتا، نجکاری محض ایک اور مہنگا سراب بنی رہے گی — یا شاید ایک ایسی کڑوی حقیقت جسے ہم اب تک قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجکاری کو طویل عرصے سے پاکستان کے توانائی کے شعبے کے بحران کا حل قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن ہماری حقیقت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم اب بھی اس تصور کے بنیادی اصول کو قبول کرنے سے کتنے گریزاں ہیں۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتی ہے جب کوئی کمپنی کارکردگی کے ذریعے منافع کماتی ہے۔ جیسے ہی کوئی نجی ادارہ مالی طور پر کامیاب ہوتا ہے، عوامی تحسین کی جگہ شک و شبہات لے لیتے ہیں — جیسے منافع کمانا عوامی خدمت سے غداری کے مترادف ہو۔ یہی ذہنیت ہماری بجلی اور گیس کی صنعتوں کو درمیانے درجے کی کارکردگی میں جکڑے رکھتی ہے، جہاں اصلاحات کے بجائے نااہلی کو فروغ ملتا ہے۔</strong></p>
<p>سالوں کی اصلاحاتی گفتگو کے باوجود، بجلی اور گیس دونوں شعبے اب بھی سرکاری کنٹرول میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہاں بیوروکریٹک سرخ فیتہ (ریڈ ٹیپ) فیصلوں کو متاثر کرتا ہے، نہ کہ مارکیٹ مقابلہ یا صارفین کی فلاح۔ حتیٰ کہ گیس کے شعبے میں بھی جب نجی کمپنیاں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں تو ریاستی ادارے اکثر گیس ٹرانسپورٹیشن ٹیرف یا انتظامی رکاوٹوں کے ذریعے ان کی راہ روکتے ہیں۔ یہ اقدامات سرمایہ کاری کو مایوس کن بناتے ہیں اور پرانے ریاستی اجارہ دار نظام کو قومی مفاد کے نام پر قائم رکھتے ہیں۔ حقیقت میں یہ مفاد عوام کے نہیں بلکہ اختیار کے تحفظ کا ہے۔</p>
<p>بجلی کے شعبے میں بھی یہی مسئلہ موجود ہے۔ پالیسی ساز مقابلے اور کارکردگی کی جتنی بھی بات کریں، ریاست اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ نجی شراکت داری کے تمام منصوبے وزارتوں، ریگولیٹرز اور کمیٹیوں کے جال میں الجھ کر رہ جاتے ہیں، جو سہولت کار بننے کے بجائے نگہبان  کا کردار ادا کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نہ عوامی نظام کام کرتا ہے اور نہ نجی نظام کو کام کرنے دیا جاتا ہے۔ یوں ایک غیر مؤثر مخلوط ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے جہاں نقصانات، بدانتظامی اور سیاسی مداخلت ساتھ ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے توانائی نظام میں ایک اور بڑی ساختی خامی  اس کی ریگولیٹری تقسیم ہے۔ دو علیحدہ ریگولیٹرز — نیپرا بجلی کے لیے اور اوگرا تیل و گیس کے لیے — دو وزارتوں، یعنی پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کے تحت کام کرتے ہیں۔ ہر وزارت اپنی الگ پالیسیوں اور ترجیحات پر چلتی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن گیس کے شعبے کی نگران بھی ہے، جس سے ذمہ داریوں میں مزید ابہام اور ہم آہنگی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔</p>
<p>یہ تقسیم شدہ نظام اکثر متضاد فیصلے جنم دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک اتھارٹی صنعتوں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ گیس سے بجلی پیدا کرنے کے بجائے گرڈ بجلی استعمال کریں تاکہ اضافی صلاحیت بروئے کار لائی جا سکے، جبکہ دوسری اتھارٹی ٹیرف میں کراس سبسڈی ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے جس سے یہ تبدیلی مالی طور پر غیر پرکشش بن جاتی ہے — نتیجتاً دونوں صارفین کو کھو دیتی ہیں۔ جب بجلی کی اوسط ایندھن لاگت 10 روپے فی یونٹ ہو، تو زیادہ سے زیادہ ٹیرف 25 روپے فی یونٹ ہونا چاہیے، نہ کہ 35 روپے فی یونٹ۔</p>
<p>ملک کو ایک مربوط ریگولیٹری اور پالیسی فریم ورک کی ضرورت ہے جو تضاد کے بجائے ہم آہنگی اور مختصر انتظامی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی منصوبہ بندی کو یقینی بنائے۔</p>
<p>حکومت کا نجکاری کا رویہ بھی الٹا اور متضاد ہے۔ وہ منافع بخش اداروں کی نج کاری سے گریز کرتی ہے کہ کہیں منافع بخش اثاثے بیچنے پر تنقید نہ ہو، جبکہ خسارہ دینے والے ادارے — جنہیں سب سے زیادہ نجی نظم و ضبط کی ضرورت ہے — بدستور ریاستی کنٹرول میں رکھے جاتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>نجکاری کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ غیر مؤثر سرکاری اداروں کو اہل نجی ہاتھوں میں منتقل کیا جائے تاکہ انہیں فعال اور منافع بخش بنایا جا سکے۔ لیکن ہم اس کے برعکس کرتے ہیں — ناکام اداروں کو تھامے رکھتے ہیں اور منافع بخش اداروں پر بحث میں وقت ضائع کرتے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>ہماری خسارہ دینے والی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اس ادارہ جاتی ناکامی کی سب سے واضح مثال ہیں۔ ہر سال وہ چوری، ناقص بل وصولی اور سیاسی مداخلت کے باعث اربوں روپے کا نقصان کرتی ہیں۔ یہ نقصانات یا تو ٹیکس دہندگان سے پورے کیے جاتے ہیں یا صارفین پر سرچارج کی صورت میں منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت انہیں شفاف اور کارکردگی پر مبنی نجکاری کے لیے پیش کرنے کے بجائے اپنے کنٹرول میں رکھتی ہے، جس سے نااہلی کا چکر جاری رہتا ہے۔ درحقیقت، انہی کمپنیوں کو سب سے پہلے نجی شعبے کے حوالے کیا جانا چاہیے، نہ کہ اُن اداروں کو جو پہلے ہی بہتر کام کر رہے ہیں۔</p>
<p>کے-الیکٹرک  پاکستان میں نجکاری سے متعلق متضاد رویے کی نمایاں ترین مثال ہے۔ تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود، کے-الیکٹرک آج بھی نہ مکمل طور پر نجی ہے اور نہ ہی مکمل طور پر خودمختار۔ کمپنی کی انتظامیہ اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں ایندھن کی فراہمی کے کوٹے، ٹیرف منظوری، پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں اور ریگولیٹری اجازت ناموں کے پیچھے گزارتے ہیں — بجائے اس کے کہ وہ کراچی میں سروس کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔</p>
<p>حتیٰ کہ سب سے سادہ ترغیبی پیکجز، جیسے کووڈ کے زمانے میں صنعتی صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا “انکریمنٹل پیکیج”، بیوروکریٹک کھینچا تانی کے باعث سالوں تاخیر کا شکار رہے — اور آج تک کراچی کے صنعتی صارفین کو کووڈ انکریمنٹل پیکیج کی رقم موصول نہیں ہوئی۔ ہر وہ فیصلہ جو تجارتی بنیادوں پر ہونا چاہیے، سیاسی شکل اختیار کر لیتا ہے۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ کراچی کے شہری اب بھی کے-الیکٹرک کو بجلی کی سروس کے مسائل پر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، جبکہ کمپنی خود اب بھی وفاقی کنٹرول کی کئی پرتوں میں جکڑی ہوئی ہے۔</p>
<p>کے-الیکٹرک کا تجربہ ایک وسیع تر حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے: پاکستان اب تک اتنا بالغ نہیں ہوا کہ نج کاری کو اس کے اصل مقصد کے مطابق کام کرنے دیا جا سکے۔ ہم اداروں کی نج کاری تو کر دیتے ہیں، مگر انہیں اب بھی بیوروکریسی کی طرز پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک ہم یہ نہیں مان لیتے کہ نجی یوٹیلٹیز کو واضح تجارتی اصولوں کے تحت، روزمرہ حکومتی مداخلت سے آزاد ہو کر کام کرنے دیا جائے، نج کاری کبھی اپنے وعدے کے نتائج نہیں دے سکے گی۔</p>
<p>آنے والا کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ” (سی ٹی بی سی ایم) دراصل اس لیے متعارف کرایا گیا تھا کہ حقیقی مسابقت پیدا ہو — تاکہ بڑے صارفین براہِ راست بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے بجلی خرید سکیں۔ لیکن اگر ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) کو اپنے سپلائی یونٹس الگ کرنے اور برابر کی بنیاد پر مقابلہ کرنے کی اجازت نہیں ملے گی، تو سی ٹی بی سی ایم محض پرانی اجارہ داریوں کو نئے ناموں کے ساتھ دوبارہ پیدا کر دے گا۔</p>
<p>ڈسکوز کو اتنی خودمختاری ضرور ہونی چاہیے کہ وہ صنعتی صارفین کو براہِ راست بجلی فروخت کر سکیں؛ ورنہ وہ صرف لائن رینٹ جمع کرنے والے ادارے بن کر رہ جائیں گی — جو نقصانات کا بوجھ اٹھائیں گی، مگر آمدنی کمانے کا اختیار نہیں رکھیں گی، اور صارفین یا ٹیکس دہندگان کی سبسڈیوں پر ہی زندہ رہیں گی۔ کوئی سرمایہ کار اپنے سرمایہ کو ایسے وائر بزنس میں خطرے میں نہیں ڈالے گا جو چوری کے شکار، سبسڈی یافتہ صارفین کو بجلی فراہم کرتا ہو اور جسے ادائیگی کے قابل صنعتی صارفین تک رسائی سے محروم رکھا گیا ہو۔</p>
<p>نجکاری اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک واضح تجارتی خودمختاری اور برابر کا میدان  فراہم نہ کیا جائے۔ سرمایہ کار تبھی آئیں گے جب انہیں ریگولیٹری استحکام، منصفانہ قیمتوں کے تعین کا نظام، اور کارکردگی کی بنیاد پر مقابلے کا حق دیا جائے — نہ کہ سیاسی مداخلت کی بنیاد پر۔ اگر کسی ڈسکوز کو صرف لائن رینٹ اکٹھا کرنے اور زیادہ نقصان والے علاقوں کو چلانے تک محدود کر دیا جائے تو یہ کوئی کاروباری موقع نہیں، بلکہ مالی جال  ہے۔ ہم مختلف ممالک کے کامیاب بجلی مارکیٹ ماڈلز کو بغیر کسی سائنسی تجزیے یا مطالعے کے کاپی پیسٹ کر رہے ہیں — یہ سوچے بغیر کہ آیا وہ ہمارے حالات سے مطابقت رکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ اور یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ نجی ڈسکوز کو دی جانے والی سبسڈی کا اصل استعمال کون اور کیسے جانچے گا۔</p>
<p>اگر پاکستان کو آگے بڑھنا ہے، تو پالیسی سازوں کو پرانے طریقوں سے ناتا توڑنے کا حوصلہ دکھانا ہوگا۔ اصلاحات نئی کمیٹیاں بنانے یا ہر چند سال بعد پالیسی دستاویزیں تیار کرنے سے نہیں آتیں — بلکہ اداروں کو سیاسی مداخلت اور بیوروکریٹک گلے میں پھنسے طوق سے آزاد کرنے سے آتی ہیں۔ توانائی کے شعبے کو اب حکومتی بجٹ کے انحصار سے نکل کر پائیدار اور مسابقتی ڈھانچے میں داخل ہونا ہوگا۔</p>
<p>آگے کا راستہ واضح ہے۔
اوّل، نیپرا  اور اوگرا کے درمیان ریگولیٹری اور پالیسی سمت کو متحد کیا جائے تاکہ فیصلے ہم آہنگ اور ایک دوسرے کی تقویت دینے والے ہوں۔
دوم، کارکردگی کے لحاظ سے سب سے کمزور ڈسکوز کی شفاف معاہدوں کے تحت نجکاری کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ کارکردگی کو انعام اور صارفین کے مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سوم، نجی یوٹیلٹیز کو مستحکم، مارکیٹ پر مبنی اصولوں کے تحت کام کرنے کا اختیار دیا جائے، تاکہ وہ مسلسل سیاسی مداخلت سے آزاد رہیں۔
اور آخر میں، سی ٹی بی سی ایم کے تحت ڈسکوز کو الگ کر کے براہِ راست صنعتی صارفین کو فروخت کا اختیار دیا جائے، تاکہ حقیقی مسابقت پیدا ہو۔ تب ہی ان اداروں کی تجارتی قدر بڑھے گی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی پیدا ہوگی۔</p>
<p>پاکستان کے توانائی کے اداروں کی نجکاری اس لیے ناکام نہیں ہوئی کہ یہ غلط تصور ہے، بلکہ اس لیے کہ ہم نے اسے کبھی صحیح معنوں میں نافذ ہی نہیں کیا۔ ہم نے ملکیت تو نجی ہاتھوں میں دی، مگر اختیارات بدستور مرکز میں رکھے۔ ہم نے ریگولیٹرز تو بنائے، مگر انہیں حکومتی اثر سے آزاد نہیں کیا۔ ہم نے مارکیٹ کی بات تو کی، مگر مقابلے کی گنجائش نہیں دی۔ ہم نے نجی شعبے کو بلایا، مگر اس پر بھروسہ نہیں کیا۔</p>
<p>اگر پالیسی ساز واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان کا توانائی شعبہ درست راہ پر آئے، تو انہیں اس خودفریبی سے نکلنا ہوگا کہ اختیار برقرار رکھنے سے استحکام آتا ہے۔ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہوگی جب حکومت پیچھے ہٹے، وزارتیں اور ریگولیٹرز ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں، اور نجی شعبے پر بھروسہ کیا جائے کہ وہ مقابلے کے ذریعے کارکردگی فراہم کرے گا۔
جب تک ایسا نہیں ہوتا، نجکاری محض ایک اور مہنگا سراب بنی رہے گی — یا شاید ایک ایسی کڑوی حقیقت جسے ہم اب تک قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277906</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 11:26:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/081123304014211.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/081123304014211.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
