<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 13:50:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 13:50:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ارسا نے ربیع سیزن 2025-26 کے لیے 8 فیصد پانی کی قلت کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے منگل کے روز ربیع سیزن 2025-26 کے لیے پانی کی مجموعی قلت 8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دے دی، جو گزشتہ 10 برسوں میں سب سے کم ہے اور پوسٹ-ارسا اوسط قلت 18 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ ارسا ایڈوائزری کمیٹی (آئی اے سی) کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین صاحبزادہ محمد شبیر نے کی۔ اجلاس کا مقصد اکتوبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے لیے ربیع سیزن کے پانی کی دستیابی کے تخمینے کی منظوری دینا تھا۔ اجلاس میں ارسا کے اراکین، وزارت آبی وسائل کے چیف انجینئرنگ ایڈوائزر، واپڈا کے واٹر و پاور ونگز کے نمائندگان، پنجاب و سندھ کے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹریز سمیت دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں خریف 2025 کے موسم کا جائزہ لیا گیا اور اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ حقیقی آبی آمد 122.364 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) رہی، جو تخمینے سے 18 فیصد، دس سالہ اوسط سے 19 فیصد اور گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ تھی۔ صوبوں نے 62.394 ایم اے ایف پانی استعمال کیا جبکہ ارسا کی جانب سے 99.292 ایم اے ایف تک فراہمی ممکن بنائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں کی جانب سے پانی کا کم استعمال غیر معمولی برسات اور سیلاب کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں تمام ذخائر 99 فیصد گنجائش تک بھر گئے۔ 30 ستمبر 2025 کو کل ذخیرہ 13.214 ایم اے ایف ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ربیع 2025-26 کے لیے رِم اسٹیشن  سے 22.016 ایم اے ایف پانی کی آمد کا تخمینہ لگایا گیا، جس کی متفقہ منظوری دی گئی۔ اس بنیاد پر 8 فیصد مجموعی قلت مقرر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبہ وار مجوزہ پانی کی تقسیم یوں ہے:
پنجاب: 18.207 ایم اے ایف (گزشتہ سال 15.561 ایم اے ایف)،
سندھ: 13.734 ایم اے ایف(گزشتہ سال 12.154 ایم اے ایف)،
خیبرپختونخوا: 0.791 ایم اے ایف (گزشتہ سال 0.668 ایم اے ایف)،
بلوچستان: 1.171 ایم اے ایف (گزشتہ سال 1.044 ایم اے ایف)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسا کے مطابق یہ تخمینہ گزشتہ 10 سال کی اوسط اور گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پانی کی دستیابی ظاہر کرتا ہے، جس سے زرعی سرگرمیوں اور آبپاشی نظام میں بہتری کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے منگل کے روز ربیع سیزن 2025-26 کے لیے پانی کی مجموعی قلت 8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دے دی، جو گزشتہ 10 برسوں میں سب سے کم ہے اور پوسٹ-ارسا اوسط قلت 18 فیصد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ ارسا ایڈوائزری کمیٹی (آئی اے سی) کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت چیئرمین صاحبزادہ محمد شبیر نے کی۔ اجلاس کا مقصد اکتوبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے لیے ربیع سیزن کے پانی کی دستیابی کے تخمینے کی منظوری دینا تھا۔ اجلاس میں ارسا کے اراکین، وزارت آبی وسائل کے چیف انجینئرنگ ایڈوائزر، واپڈا کے واٹر و پاور ونگز کے نمائندگان، پنجاب و سندھ کے محکمہ آبپاشی کے سیکریٹریز سمیت دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس میں خریف 2025 کے موسم کا جائزہ لیا گیا اور اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ حقیقی آبی آمد 122.364 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) رہی، جو تخمینے سے 18 فیصد، دس سالہ اوسط سے 19 فیصد اور گزشتہ سال سے 14 فیصد زیادہ تھی۔ صوبوں نے 62.394 ایم اے ایف پانی استعمال کیا جبکہ ارسا کی جانب سے 99.292 ایم اے ایف تک فراہمی ممکن بنائی گئی۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں کی جانب سے پانی کا کم استعمال غیر معمولی برسات اور سیلاب کے باعث ہوا، جس کے نتیجے میں تمام ذخائر 99 فیصد گنجائش تک بھر گئے۔ 30 ستمبر 2025 کو کل ذخیرہ 13.214 ایم اے ایف ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ربیع 2025-26 کے لیے رِم اسٹیشن  سے 22.016 ایم اے ایف پانی کی آمد کا تخمینہ لگایا گیا، جس کی متفقہ منظوری دی گئی۔ اس بنیاد پر 8 فیصد مجموعی قلت مقرر کی گئی۔</p>
<p>صوبہ وار مجوزہ پانی کی تقسیم یوں ہے:
پنجاب: 18.207 ایم اے ایف (گزشتہ سال 15.561 ایم اے ایف)،
سندھ: 13.734 ایم اے ایف(گزشتہ سال 12.154 ایم اے ایف)،
خیبرپختونخوا: 0.791 ایم اے ایف (گزشتہ سال 0.668 ایم اے ایف)،
بلوچستان: 1.171 ایم اے ایف (گزشتہ سال 1.044 ایم اے ایف)۔</p>
<p>ارسا کے مطابق یہ تخمینہ گزشتہ 10 سال کی اوسط اور گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پانی کی دستیابی ظاہر کرتا ہے، جس سے زرعی سرگرمیوں اور آبپاشی نظام میں بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277900</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Oct 2025 10:13:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/08101236d4e5d55.webp" type="image/webp" medium="image" height="786" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/08101236d4e5d55.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
