<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور ملائیشیا کا تجارتی، دفاعی اور حلال صنعت میں تعلقات مضبوط کرنے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277872/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف کے کوالالمپور دورے کے دوران پاکستان اور ملائیشیا نے تجارتی، سرمایہ کاری، دفاع اور حلال صنعت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ اعلان ملائیشیا کی وزارت خارجہ اور پاکستان ہائی کمیشن کی مشترکہ پریس ریلیز میں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشین وزیراعظم انورابراہیم کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف نے 5 سے 7 اکتوبر تک ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا، جو ان کے منصب سنبھالنے کے بعد ملائیشیا کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ دونوں ممالک نے 1957 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے جسے 2019 میں اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر بلند کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakinMalaysia_/status/1975420407932166220?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1975420407932166220%7Ctwgr%5Ed3f7136402a8f2ae0decf243d443df02df4cd918%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40386247"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اجلاس میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور دوستی اور مضبوط شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باقاعدہ اعلیٰ سطح تبادلے برقرار رکھنے، وزیر خارجہ کی سطح پر مشترکہ کمیشن اجلاس دوبارہ منعقد کرنے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزرائے اعظم نے تجارتی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا اور دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی جاری کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مارکیٹ تک بہتر رسائی، کاروباری سہولت کاری اور ملائیشیا-پاکستان قریبی اقتصادی شراکت داری معاہدہ کے مؤثر استعمال کے ذریعے متوازن اور پائیدار اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا نے پاکستان میں فوڈ پروسیسنگ اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر پام آئل کی برآمدات میں اضافہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے حلال مصنوعات کی پیداوار، سرٹیفیکیشن کے باہمی اعتراف اور ماحولیاتی ذمہ داری کے اصولوں پر تعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پائیدار زرعی طریقوں کی اہمیت کو تسلیم کیا اور مشترکہ تحقیق، جدت اور پائیدار زرعی پیداوار کے طریقوں کی ترقی کے امکانات کو تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفاعی شعبے میں دونوں ممالک نے مشترکہ دفاعی تعاون کمیٹی  کے تحت جاری مضبوط تعاون، علم و ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اسی طرح تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، اور ادارہ جاتی شراکت داریوں میں بھی مزید تعاون پر اتفاق ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فضائی رابطے بڑھانے، سیاحت کو فروغ دینے، عوامی تعلقات مضبوط کرنے اور پاکستانی تارکین وطن کے مثبت کردار کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ توانائی کی سلامتی، متبادل توانائی، ماحولیاتی لچک، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں نے صحت عامہ، دوا سازی اور طبی آلات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ ان شعبوں میں عوامی صحت اور تجارتی تبادلوں کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں برادر ممالک کے وزرائے اعظم نے سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں مثبت توقعات کا اظہار کیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے عوامی رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کیا اور ملائیشیا میں پاکستانی تارکین وطن کے قومی ترقی میں مثبت کردار کا خیرمقدم کیا۔ رہنماؤں نے تکنیکی تربیت اور ہنر کی ترقی سمیت لیبر کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہنماؤں نے توانائی کی سلامتی اور پائیداری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے متبادل توانائی، توانائی کے تبادلے اور ماحولیاتی لچک کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا جس میں علم کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں رہنماؤں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت  کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے لیے اپنے عزم کی تصدیق کی جس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے شعبے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/anwaribrahim/status/1975440138328285483?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1975440138328285483%7Ctwgr%5Ed3f7136402a8f2ae0decf243d443df02df4cd918%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40386247"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم ملائیشیا نے شہباز شریف کی دورے کے اختتام پر پاکستان کے وزیر اعظم اور وفد کی ملائیشیا کے سرکاری دورے کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا یہ دورہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دیرینہ قریبی دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جو باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انور ابراہیم نے کہا کہ یہ دورہ تجارتی، سرمایہ کاری، حلال صنعت، تعلیم اور دفاع کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جو ملائیشیا اور پاکستان کے عوام کی خوشحالی، امن اور فلاح و بہبود کے لیے مفید ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف کے کوالالمپور دورے کے دوران پاکستان اور ملائیشیا نے تجارتی، سرمایہ کاری، دفاع اور حلال صنعت سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا ہے۔ یہ اعلان ملائیشیا کی وزارت خارجہ اور پاکستان ہائی کمیشن کی مشترکہ پریس ریلیز میں کیا گیا۔</strong></p>
<p>ملائیشین وزیراعظم انورابراہیم کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف نے 5 سے 7 اکتوبر تک ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا، جو ان کے منصب سنبھالنے کے بعد ملائیشیا کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔ دونوں ممالک نے 1957 میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے جسے 2019 میں اسٹریٹجک شراکت داری کے طور پر بلند کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakinMalaysia_/status/1975420407932166220?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1975420407932166220%7Ctwgr%5Ed3f7136402a8f2ae0decf243d443df02df4cd918%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40386247"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>دورے کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ اجلاس میں علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور دوستی اور مضبوط شراکت داری کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے باقاعدہ اعلیٰ سطح تبادلے برقرار رکھنے، وزیر خارجہ کی سطح پر مشترکہ کمیشن اجلاس دوبارہ منعقد کرنے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>دونوں وزرائے اعظم نے تجارتی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو تسلیم کیا اور دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی جاری کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے مارکیٹ تک بہتر رسائی، کاروباری سہولت کاری اور ملائیشیا-پاکستان قریبی اقتصادی شراکت داری معاہدہ کے مؤثر استعمال کے ذریعے متوازن اور پائیدار اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کی تصدیق کی۔</p>
<p>ملائیشیا نے پاکستان میں فوڈ پروسیسنگ اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر پام آئل کی برآمدات میں اضافہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے حلال مصنوعات کی پیداوار، سرٹیفیکیشن کے باہمی اعتراف اور ماحولیاتی ذمہ داری کے اصولوں پر تعاون مضبوط کرنے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>انہوں نے پائیدار زرعی طریقوں کی اہمیت کو تسلیم کیا اور مشترکہ تحقیق، جدت اور پائیدار زرعی پیداوار کے طریقوں کی ترقی کے امکانات کو تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>دفاعی شعبے میں دونوں ممالک نے مشترکہ دفاعی تعاون کمیٹی  کے تحت جاری مضبوط تعاون، علم و ٹیکنالوجی کی منتقلی اور دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اسی طرح تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، اور ادارہ جاتی شراکت داریوں میں بھی مزید تعاون پر اتفاق ہوا۔</p>
<p>فضائی رابطے بڑھانے، سیاحت کو فروغ دینے، عوامی تعلقات مضبوط کرنے اور پاکستانی تارکین وطن کے مثبت کردار کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات پر بھی بات ہوئی۔ توانائی کی سلامتی، متبادل توانائی، ماحولیاتی لچک، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>رہنماؤں نے صحت عامہ، دوا سازی اور طبی آلات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ ان شعبوں میں عوامی صحت اور تجارتی تبادلوں کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>دونوں برادر ممالک کے وزرائے اعظم نے سیاحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں مثبت توقعات کا اظہار کیا</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے عوامی رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کیا اور ملائیشیا میں پاکستانی تارکین وطن کے قومی ترقی میں مثبت کردار کا خیرمقدم کیا۔ رہنماؤں نے تکنیکی تربیت اور ہنر کی ترقی سمیت لیبر کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کی تصدیق کی۔</p>
<p>رہنماؤں نے توانائی کی سلامتی اور پائیداری کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے متبادل توانائی، توانائی کے تبادلے اور ماحولیاتی لچک کے شعبوں میں تعاون کے امکانات تلاش کرنے پر اتفاق کیا جس میں علم کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔</p>
<p>دونوں رہنماؤں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت  کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے لیے اپنے عزم کی تصدیق کی جس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے شعبے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/anwaribrahim/status/1975440138328285483?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1975440138328285483%7Ctwgr%5Ed3f7136402a8f2ae0decf243d443df02df4cd918%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40386247"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیراعظم ملائیشیا نے شہباز شریف کی دورے کے اختتام پر پاکستان کے وزیر اعظم اور وفد کی ملائیشیا کے سرکاری دورے کی تعریف کی۔</p>
<p>انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا یہ دورہ دونوں دوست ممالک کے درمیان دیرینہ قریبی دوطرفہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے جو باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں۔</p>
<p>انور ابراہیم نے کہا کہ یہ دورہ تجارتی، سرمایہ کاری، حلال صنعت، تعلیم اور دفاع کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کے نئے مواقع بھی فراہم کرتا ہے، جو ملائیشیا اور پاکستان کے عوام کی خوشحالی، امن اور فلاح و بہبود کے لیے مفید ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277872</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 13:06:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0712532765e5453.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0712532765e5453.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
