<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی وفد کی آمد، پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی ابتدائی سرمایہ کاری کی امید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277869/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سعودی کاروباری وفد رواں ہفتے پاکستان پہنچ رہا ہے، جس سے اسلام آباد کو امید ہے کہ حالیہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی سرمایہ کاری کا انحصار پاکستان میں اصلاحات پر ہوگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے، جو ممکنہ طور پر ایک نئے فنڈ کے قیام کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بعد اقتصادی شراکت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ ہونے والے دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کے سعودی عرب میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ ریاض نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جوہری چھتری کے تحت تحفظ چاہتا ہے۔ خلیجی عرب ریاستوں کا کہنا ہے کہ قطر پر ستمبر میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل  براہ راست خطرہ بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو اس معاہدے کے بدلے کیا حاصل ہوگا، یہ اب تک واضح نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس کا مالی فائدہ ضرور پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کی قیادت شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کریں گے، جو حفر الباطن صوبے کے سابق گورنر رہ چکے ہیں۔ وفد کی موجودہ سطح کو محدود سمجھا جا رہا ہے، لیکن پاکستان آنے والے مہینوں میں سعودی عرب کی زیادہ بڑی دلچسپی کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی وزارت تجارت اور سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ شہزادہ منصور سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق سعودی کاروباری وفد کی توجہ جن شعبوں پر مرکوز ہوگی ان میں  ٹیکنالوجی، کھیلوں کا سامان، خوراک اور زرعی شعبہ شامل ہیں۔ وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کے مطابق حکومت ریاستی اداروں میں بڑی سرمایہ کاری اور ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کے قیام کی خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں سعودی عرب کی معدنیات کے شعبے میں بھی دلچسپی رہی ہے، بالخصوص بلوچستان میں ریکوڈک کے اربوں ڈالر مالیت کے تانبے کے منصوبے میں پاکستانی حکومت کا حصہ خریدنے کی بات کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفاعی شعبہ اور بھارت سے مسابقت&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی سے وابستہ محقق عمر کریم کے مطابق سعودی عرب پاکستان میں قابلِ ذکر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، مگر اس کے لیے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات ضروری قرار دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی پیداوار کا شعبہ سعودی سرمایہ کاری کا ممکنہ ہدف ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر کریم نے مزید کہا سعودی پیغام واضح ہے کہ پہلے اپنا گھر درست کرو، قابلِ عمل منصوبے تیار کرو۔ صرف پیسے نہ مانگو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے گئے، لیکن وہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے منافع کی وطن واپسی میں مشکلات، کرنسی کنٹرولز اور دیگر رکاوٹیں اکثر شکایات میں شامل رہی ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مرکز نجی شعبہ ہے اور حکومت کو ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت کا بخوبی ادراک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا ہر قدم ہمسایہ حریف بھارت کی جانب سے گہری نظر سے دیکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت کے سالانہ بجٹ کا تقریباً ساتواں حصہ ہے اور معیشت کی مسلسل مشکلات اس کی دفاعی صلاحیت پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں، جس سے فوجی بجٹ، افرادی قوت اور سازوسامان کی خریداری پر دباؤ رہتا ہے۔ نئی دہلی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ  ریاض  باہمی مفادات اور  نزاکتوں کا خیال رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سعودی کاروباری وفد رواں ہفتے پاکستان پہنچ رہا ہے، جس سے اسلام آباد کو امید ہے کہ حالیہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد سرمایہ کاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی سرمایہ کاری کا انحصار پاکستان میں اصلاحات پر ہوگا۔</strong></p>
<p>پاکستانی ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے، جو ممکنہ طور پر ایک نئے فنڈ کے قیام کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بعد اقتصادی شراکت کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ ہونے والے دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی افواج کے سعودی عرب میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ ریاض نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جوہری چھتری کے تحت تحفظ چاہتا ہے۔ خلیجی عرب ریاستوں کا کہنا ہے کہ قطر پر ستمبر میں ہونے والے اسرائیلی حملوں کے بعد اسرائیل  براہ راست خطرہ بن چکا ہے۔</p>
<p><strong>پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟</strong></p>
<p>پاکستان کو اس معاہدے کے بدلے کیا حاصل ہوگا، یہ اب تک واضح نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس کا مالی فائدہ ضرور پہنچے گا۔</p>
<p>وفد کی قیادت شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کریں گے، جو حفر الباطن صوبے کے سابق گورنر رہ چکے ہیں۔ وفد کی موجودہ سطح کو محدود سمجھا جا رہا ہے، لیکن پاکستان آنے والے مہینوں میں سعودی عرب کی زیادہ بڑی دلچسپی کا خواہاں ہے۔</p>
<p>پاکستان کی وزارت تجارت اور سعودی حکومت کے میڈیا دفتر نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ شہزادہ منصور سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق سعودی کاروباری وفد کی توجہ جن شعبوں پر مرکوز ہوگی ان میں  ٹیکنالوجی، کھیلوں کا سامان، خوراک اور زرعی شعبہ شامل ہیں۔ وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔</p>
<p>پاکستانی حکام کے مطابق حکومت ریاستی اداروں میں بڑی سرمایہ کاری اور ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ کے قیام کی خواہاں ہے۔</p>
<p>ماضی میں سعودی عرب کی معدنیات کے شعبے میں بھی دلچسپی رہی ہے، بالخصوص بلوچستان میں ریکوڈک کے اربوں ڈالر مالیت کے تانبے کے منصوبے میں پاکستانی حکومت کا حصہ خریدنے کی بات کی گئی تھی۔</p>
<p><strong>دفاعی شعبہ اور بھارت سے مسابقت</strong></p>
<p>برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی سے وابستہ محقق عمر کریم کے مطابق سعودی عرب پاکستان میں قابلِ ذکر سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے، مگر اس کے لیے پاکستان میں اقتصادی اصلاحات ضروری قرار دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دفاعی پیداوار کا شعبہ سعودی سرمایہ کاری کا ممکنہ ہدف ہو سکتا ہے۔</p>
<p>عمر کریم نے مزید کہا سعودی پیغام واضح ہے کہ پہلے اپنا گھر درست کرو، قابلِ عمل منصوبے تیار کرو۔ صرف پیسے نہ مانگو۔</p>
<p>ماضی میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کے اعلانات کیے گئے، لیکن وہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔</p>
<p>غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے منافع کی وطن واپسی میں مشکلات، کرنسی کنٹرولز اور دیگر رکاوٹیں اکثر شکایات میں شامل رہی ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مرکز نجی شعبہ ہے اور حکومت کو ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت کا بخوبی ادراک ہے۔</p>
<p>ادھر پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کا ہر قدم ہمسایہ حریف بھارت کی جانب سے گہری نظر سے دیکھا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان کا دفاعی بجٹ بھارت کے سالانہ بجٹ کا تقریباً ساتواں حصہ ہے اور معیشت کی مسلسل مشکلات اس کی دفاعی صلاحیت پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں، جس سے فوجی بجٹ، افرادی قوت اور سازوسامان کی خریداری پر دباؤ رہتا ہے۔ نئی دہلی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ  ریاض  باہمی مفادات اور  نزاکتوں کا خیال رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277869</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 12:39:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/07122058e851038.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/07122058e851038.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
