<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:00:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:00:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل سے ملک بدری کے بعد گریٹا تھنبرگ ایتھنز پہنچ گئیں، فلسطین حامی ہجوم کا پرجوش استقبال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277865/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوئیڈن کی ماحولیاتی مہم جو گرِیٹا تھنبرگ پیر کے روز یونان پہنچ گئیں، جہاں ایتھنز ایئرپورٹ پر فلسطین کے حق میں نعرے لگانے والے مظاہرین نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھنبرگ اور دیگر سیکڑوں کارکنوں کو اسرائیلی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسرائیل نے پیر کو اعلان کیا کہ 171 کارکنوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے، جن میں گرِیٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں، اس طرح اب تک مجموعی طور پر 341 افراد کو رہا اور ملک سے نکالا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونانی وزارتِ خارجہ کے مطابق 161 کارکن پیر کے روز ایک پرواز کے ذریعے ایتھنز پہنچے، جن میں 27 یونانی شہری بھی شامل تھے، جبکہ باقی مختلف 20 ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ ایئرپورٹ پر موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے 22 سالہ گرِیٹا تھنبرگ نے کہا کہ یہ ایک نسل کشی ہے، جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے۔ ہمارے بین الاقوامی نظام فلسطینیوں کو ناکام بنا رہے ہیں، وہ جنگی جرائم کو روکنے میں بھی ناکام ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے وہ قدم اٹھانے کی کوشش کی جو ہماری حکومتوں کو قانونی طور پر اٹھانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلوٹیلا میں درجنوں کشتیوں کے ذریعے امدادی سامان غزہ پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ دنیا کی توجہ وہاں کے انسانی بحران کی طرف دلائی جا سکے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کے 22 لاکھ میں سے بیشتر افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بھوک شدید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا ایک تشہیری ڈرامہ ہے جو حماس کو فائدہ پہنچانے کے لیے رچایا گیا۔ ملک بدر ہونے والے متعدد کارکنوں نے دورانِ حراست بدسلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان رپورٹس کو مکمل جھوٹ قرار دیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ تمام گرفتار افراد کو قانونی سہولیات، کھانا، پانی اور آرام فراہم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوئیڈن کی ماحولیاتی مہم جو گرِیٹا تھنبرگ پیر کے روز یونان پہنچ گئیں، جہاں ایتھنز ایئرپورٹ پر فلسطین کے حق میں نعرے لگانے والے مظاہرین نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔</strong></p>
<p>تھنبرگ اور دیگر سیکڑوں کارکنوں کو اسرائیلی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسرائیل نے پیر کو اعلان کیا کہ 171 کارکنوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے، جن میں گرِیٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں، اس طرح اب تک مجموعی طور پر 341 افراد کو رہا اور ملک سے نکالا جا چکا ہے۔</p>
<p>یونانی وزارتِ خارجہ کے مطابق 161 کارکن پیر کے روز ایک پرواز کے ذریعے ایتھنز پہنچے، جن میں 27 یونانی شہری بھی شامل تھے، جبکہ باقی مختلف 20 ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ ایئرپورٹ پر موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے 22 سالہ گرِیٹا تھنبرگ نے کہا کہ یہ ایک نسل کشی ہے، جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے۔ ہمارے بین الاقوامی نظام فلسطینیوں کو ناکام بنا رہے ہیں، وہ جنگی جرائم کو روکنے میں بھی ناکام ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے وہ قدم اٹھانے کی کوشش کی جو ہماری حکومتوں کو قانونی طور پر اٹھانا چاہیے تھا۔</p>
<p>اس فلوٹیلا میں درجنوں کشتیوں کے ذریعے امدادی سامان غزہ پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ دنیا کی توجہ وہاں کے انسانی بحران کی طرف دلائی جا سکے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کے 22 لاکھ میں سے بیشتر افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بھوک شدید ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا ایک تشہیری ڈرامہ ہے جو حماس کو فائدہ پہنچانے کے لیے رچایا گیا۔ ملک بدر ہونے والے متعدد کارکنوں نے دورانِ حراست بدسلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ان رپورٹس کو مکمل جھوٹ قرار دیا ہے اور مؤقف اپنایا ہے کہ تمام گرفتار افراد کو قانونی سہولیات، کھانا، پانی اور آرام فراہم کیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277865</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 12:19:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0712172167a1f9a.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0712172167a1f9a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
