<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 00:57:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 00:57:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لائیکا اور گوگل جیمنی کے ساتھ شراکت، شیاؤمی کمپنی کیا منصوبہ بنا رہی ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277861/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی اسمارٹ فون جائنٹ شیاؤمی اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید گہرا کر رہی ہے، یورپ کی لائیکا — جو اعلیٰ معیار کے کیمروں کی تیاری کے لیے مشہور ہے — اور امریکہ کی گوگل جیمِنی — ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اسسٹنٹ — کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے۔ صنعت کے ماہرین اس اقدام کو عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ میں شیاؤمی کی چیلنجر حیثیت کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میونخ، جرمنی میں منعقدہ تقریب میں شیاؤمی15ٹی سیریز کی
لانچ کے دوران، ٹیرنس شیاؤ، جو شیاؤمی انٹرنیشنل کے سینئر پروڈکٹ مارکیٹنگ منیجر ہیں، نے کہا کہ اگرچہ کاروباری توسیع کمپنی کے لیے اہم ہے، لیکن ایسی شراکت داریوں کا فوری مقصد صارفین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرنس شیاؤ نے بزنس ریکارڈر کے سوال کے جواب میں کہا  کہ
بطور کاروبار ہم ہمیشہ اپنی مارکیٹ شیئر بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم لائیکا اور گوگل  جیسے شاندار برانڈز کے ساتھ ہماری شراکت داری کا اولین مقصد کاروباری زاویے سے زیادہ یوزر ایکسپیریئنس ہے۔ ہم ہمیشہ پرجوش رہتے ہیں کہ لائیکا کے ساتھ بہترین کیمرہ سسٹم اور گوگل  کے ساتھ اے آئی صلاحیتوں اور سافٹ ویئر ایکسپیریئنسز کے ذریعے صارفین کو بہترین تجربہ فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا یہ شراکت داریاں مارکیٹ شیئر میں اضافہ کریں گی تو ٹیرنس شیاؤ نے مختصر مگر معنی خیز جواب دیا کہ
یقیناً، ہم امید کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائیکا کیمرا اے جی، جس کی بنیاد 1869 میں ارنِسٹ لائٹز نے رکھی تھی، ایک جرمن کمپنی ہے جو اعلیٰ معیار کے کیمروں اور آپٹیکل لینز کے لیے جانی جاتی ہے۔ دوسری جانب، گوگل جیمِنی، جو امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل کا ایک جدید جنریٹیو اے آئی ہے، شیاؤمی کی نئی سیریز میں ضم کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیوائس انٹیلیجنس، پرسنلائزیشن اور سافٹ ویئر تجربات کو بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دوہری شراکت داری صرف تکنیکی بہتری نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ڈیجیٹل اکانومی ایکسپرٹ حبیب اللہ خان نے کہا کہ شیاؤمی مارکیٹنگ کے اس اصول سے فائدہ اٹھا رہی ہے جسے ہالو ایفیکٹ کہا جاتا ہے — یعنی ایک برانڈ یا پروڈکٹ کے بارے میں مثبت تاثر دوسرے برانڈ یا پروڈکٹ کے بارے میں صارف کے رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ
شیاؤمی موبائل فون انڈسٹری میں ایک چیلنجر کمپنی ہے۔ چیلنجرز کو ہمیشہ ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے معروف برانڈز کے مقابلے میں اضافی برتری دکھانی پڑتی ہے، اس لیے وہ کو-برانڈنگ کے ذریعے ہالو ایفیکٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ
چیلنجر کمپنیاں ہالو برانڈنگ کے ذریعے اپنی مارکیٹ شیئر بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ مستحکم برانڈز اپنی پوزیشن چھوٹے پروڈکٹ اپ گریڈز کے ذریعے برقرار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حبیب اللہ خان، جو ڈیزائن اسٹوڈیو پینمبرا کے بانی اور سی ای او بھی ہیں، نے یہ بھی کہا کہ شیاؤمی کی حکمتِ عملی بین الاقوامیت کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یورپ کے روایتی کیمرہ ساز اداروں اور امریکہ کے جنریٹیو اے آئی فراہم کنندگان کے ساتھ تعاون کے ذریعے شیاؤمی خود کو صرف ایک چینی نہیں بلکہ ایک عالمی برانڈ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے معروف ٹیک یوٹیوبر اور اسمارٹ فون انفلوئنسر علی عباس، جو ماسٹیک نامی یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، نے کہا کہ شیاؤمی 15ٹی پرو ایک کیمرہ سینٹرک فون ہے۔ ان کے مطابق یہ شراکت داری دونوں برانڈز کے لیے فائدہ مند ہے — جہاں شیاؤمی کو لائیکا کی لینز اور امیجنگ ٹیکنالوجی کا فائدہ ملا، وہیں لائیکا کی ٹیکنالوجی بھی شیاؤمی کے ذریعے وسیع تر صارفین تک پہنچی، کیونکہ شیاؤمی اس وقت دنیا کی ٹاپ تھری اسمارٹ فون کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں یورپ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی عباس نے مزید کہا کہ بہت سے فوٹوگرافی کے شوقین افراد جو لائیکا کے مہنگےڈی اسی ایل آرز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اب شیاؤمی فون کے ذریعے اس کے کیمرا معیار کا تجربہ کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کے اعدادوشمار بھی شیاؤمی کے اعتماد کو تقویت دیتے ہیں۔
انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) کے مطابق، شیاؤمی کا عالمی مارکیٹ شیئر 14.4فیصد ہے اور کمپنی مسلسل 20 سہ ماہیوں سے دنیا کی ٹاپ تین اسمارٹ فون ساز کمپنیوں میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف 2025 کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی نے 42.4 ملین اسمارٹ فونز کی ترسیل کی، جو کہ سست عالمی مارکیٹ کے باوجود مسلسل ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی لحاظ سے، شیاؤمی کے اسمارٹ فون سیگمنٹ نے  2025 کی دوسری سہ ماہی میں آر ایم بی 45.5 بلین (6.4 بلین ڈالر) کی آمدن حاصل کی۔ کمپنی کے ایک اپ ڈیٹ کے مطابق، مین لینڈ چائنا میں نئے ڈیوائس ایکٹیویشنز بدستور سب سے آگے رہے جب کہ اس سال کے آغاز میں شیاؤمی نے شپمنٹس کے لحاظ سے دوبارہ سرفہرست مقام حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے حالیہ برسوں میں ایک نئی پریمیومائزیشن اسٹریٹیجی بھی اپنائی ہے، جس کا مقصد ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے برانڈز کے روایتی ہائی پرائس مارکیٹ سیگمنٹ میں مقابلہ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیاؤمی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دوسری سہ ماہی میں چین کی مین لینڈ مارکیٹ میں پریمیم اسمارٹ فونز کی فروخت اس کی کل فروخت کا 27.6 فیصد رہی، جو سالانہ 5.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
آر ایم بی 4,000–5,000 (550–680 ڈالر) کی قیمت کے زمرے میں کمپنی کا حصہ 24.7 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ آر ایم بی 5,000–6,000 (680–820 ڈالر) کی رینج میں اس کا شیئر 15.4فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ماہرین کے مطابق اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ اگرچہ لائیکا اور گوگل جیمِنی کے ساتھ شراکت داریاں شیاؤمی کی عالمی اپیل کو مضبوط بنا سکتی ہیں — خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں — لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہی ہالو ایفیکٹ چین کے صارفین پر بھی اثر انداز ہوگا، جو پہلے ہی شیاؤمی کو ایک ملکی لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فی الحال شیاؤمی پراعتماد نظر آتی ہے۔ جیسا کہ ٹیرنس شیاؤ نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ
ہم ہمیشہ صارفین کے لیے بہترین تجربات لانے کے لیے پرجوش رہتے ہیں۔ ایسی شراکت داریاں صرف کاروبار کے لیے نہیں ہوتیں — یہ صارفین کے لیے ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی اسمارٹ فون جائنٹ شیاؤمی اپنی عالمی حکمتِ عملی کو مزید گہرا کر رہی ہے، یورپ کی لائیکا — جو اعلیٰ معیار کے کیمروں کی تیاری کے لیے مشہور ہے — اور امریکہ کی گوگل جیمِنی — ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی اسسٹنٹ — کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے۔ صنعت کے ماہرین اس اقدام کو عالمی اسمارٹ فون مارکیٹ میں شیاؤمی کی چیلنجر حیثیت کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>میونخ، جرمنی میں منعقدہ تقریب میں شیاؤمی15ٹی سیریز کی
لانچ کے دوران، ٹیرنس شیاؤ، جو شیاؤمی انٹرنیشنل کے سینئر پروڈکٹ مارکیٹنگ منیجر ہیں، نے کہا کہ اگرچہ کاروباری توسیع کمپنی کے لیے اہم ہے، لیکن ایسی شراکت داریوں کا فوری مقصد صارفین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔</p>
<p>ٹیرنس شیاؤ نے بزنس ریکارڈر کے سوال کے جواب میں کہا  کہ
بطور کاروبار ہم ہمیشہ اپنی مارکیٹ شیئر بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم لائیکا اور گوگل  جیسے شاندار برانڈز کے ساتھ ہماری شراکت داری کا اولین مقصد کاروباری زاویے سے زیادہ یوزر ایکسپیریئنس ہے۔ ہم ہمیشہ پرجوش رہتے ہیں کہ لائیکا کے ساتھ بہترین کیمرہ سسٹم اور گوگل  کے ساتھ اے آئی صلاحیتوں اور سافٹ ویئر ایکسپیریئنسز کے ذریعے صارفین کو بہترین تجربہ فراہم کریں۔</p>
<p>جب ان سے براہِ راست پوچھا گیا کہ کیا یہ شراکت داریاں مارکیٹ شیئر میں اضافہ کریں گی تو ٹیرنس شیاؤ نے مختصر مگر معنی خیز جواب دیا کہ
یقیناً، ہم امید کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لائیکا کیمرا اے جی، جس کی بنیاد 1869 میں ارنِسٹ لائٹز نے رکھی تھی، ایک جرمن کمپنی ہے جو اعلیٰ معیار کے کیمروں اور آپٹیکل لینز کے لیے جانی جاتی ہے۔ دوسری جانب، گوگل جیمِنی، جو امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل کا ایک جدید جنریٹیو اے آئی ہے، شیاؤمی کی نئی سیریز میں ضم کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیوائس انٹیلیجنس، پرسنلائزیشن اور سافٹ ویئر تجربات کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دوہری شراکت داری صرف تکنیکی بہتری نہیں بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے۔</p>
<p>پاکستانی ڈیجیٹل اکانومی ایکسپرٹ حبیب اللہ خان نے کہا کہ شیاؤمی مارکیٹنگ کے اس اصول سے فائدہ اٹھا رہی ہے جسے ہالو ایفیکٹ کہا جاتا ہے — یعنی ایک برانڈ یا پروڈکٹ کے بارے میں مثبت تاثر دوسرے برانڈ یا پروڈکٹ کے بارے میں صارف کے رویے پر اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ
شیاؤمی موبائل فون انڈسٹری میں ایک چیلنجر کمپنی ہے۔ چیلنجرز کو ہمیشہ ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے معروف برانڈز کے مقابلے میں اضافی برتری دکھانی پڑتی ہے، اس لیے وہ کو-برانڈنگ کے ذریعے ہالو ایفیکٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ
چیلنجر کمپنیاں ہالو برانڈنگ کے ذریعے اپنی مارکیٹ شیئر بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں، جبکہ مستحکم برانڈز اپنی پوزیشن چھوٹے پروڈکٹ اپ گریڈز کے ذریعے برقرار رکھتے ہیں۔</p>
<p>حبیب اللہ خان، جو ڈیزائن اسٹوڈیو پینمبرا کے بانی اور سی ای او بھی ہیں، نے یہ بھی کہا کہ شیاؤمی کی حکمتِ عملی بین الاقوامیت کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یورپ کے روایتی کیمرہ ساز اداروں اور امریکہ کے جنریٹیو اے آئی فراہم کنندگان کے ساتھ تعاون کے ذریعے شیاؤمی خود کو صرف ایک چینی نہیں بلکہ ایک عالمی برانڈ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے معروف ٹیک یوٹیوبر اور اسمارٹ فون انفلوئنسر علی عباس، جو ماسٹیک نامی یوٹیوب چینل چلاتے ہیں، نے کہا کہ شیاؤمی 15ٹی پرو ایک کیمرہ سینٹرک فون ہے۔ ان کے مطابق یہ شراکت داری دونوں برانڈز کے لیے فائدہ مند ہے — جہاں شیاؤمی کو لائیکا کی لینز اور امیجنگ ٹیکنالوجی کا فائدہ ملا، وہیں لائیکا کی ٹیکنالوجی بھی شیاؤمی کے ذریعے وسیع تر صارفین تک پہنچی، کیونکہ شیاؤمی اس وقت دنیا کی ٹاپ تھری اسمارٹ فون کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں یورپ بھی شامل ہے۔</p>
<p>علی عباس نے مزید کہا کہ بہت سے فوٹوگرافی کے شوقین افراد جو لائیکا کے مہنگےڈی اسی ایل آرز خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، اب شیاؤمی فون کے ذریعے اس کے کیمرا معیار کا تجربہ کر سکیں گے۔</p>
<p>مارکیٹ کے اعدادوشمار بھی شیاؤمی کے اعتماد کو تقویت دیتے ہیں۔
انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) کے مطابق، شیاؤمی کا عالمی مارکیٹ شیئر 14.4فیصد ہے اور کمپنی مسلسل 20 سہ ماہیوں سے دنیا کی ٹاپ تین اسمارٹ فون ساز کمپنیوں میں شامل ہے۔</p>
<p>صرف 2025 کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی نے 42.4 ملین اسمارٹ فونز کی ترسیل کی، جو کہ سست عالمی مارکیٹ کے باوجود مسلسل ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>مالی لحاظ سے، شیاؤمی کے اسمارٹ فون سیگمنٹ نے  2025 کی دوسری سہ ماہی میں آر ایم بی 45.5 بلین (6.4 بلین ڈالر) کی آمدن حاصل کی۔ کمپنی کے ایک اپ ڈیٹ کے مطابق، مین لینڈ چائنا میں نئے ڈیوائس ایکٹیویشنز بدستور سب سے آگے رہے جب کہ اس سال کے آغاز میں شیاؤمی نے شپمنٹس کے لحاظ سے دوبارہ سرفہرست مقام حاصل کیا۔</p>
<p>کمپنی نے حالیہ برسوں میں ایک نئی پریمیومائزیشن اسٹریٹیجی بھی اپنائی ہے، جس کا مقصد ایپل اور سام سنگ جیسے بڑے برانڈز کے روایتی ہائی پرائس مارکیٹ سیگمنٹ میں مقابلہ کرنا ہے۔</p>
<p>شیاؤمی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دوسری سہ ماہی میں چین کی مین لینڈ مارکیٹ میں پریمیم اسمارٹ فونز کی فروخت اس کی کل فروخت کا 27.6 فیصد رہی، جو سالانہ 5.5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
آر ایم بی 4,000–5,000 (550–680 ڈالر) کی قیمت کے زمرے میں کمپنی کا حصہ 24.7 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ آر ایم بی 5,000–6,000 (680–820 ڈالر) کی رینج میں اس کا شیئر 15.4فیصد رہا۔</p>
<p>صنعتی ماہرین کے مطابق اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ اگرچہ لائیکا اور گوگل جیمِنی کے ساتھ شراکت داریاں شیاؤمی کی عالمی اپیل کو مضبوط بنا سکتی ہیں — خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں — لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہی ہالو ایفیکٹ چین کے صارفین پر بھی اثر انداز ہوگا، جو پہلے ہی شیاؤمی کو ایک ملکی لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں۔</p>
<p>فی الحال شیاؤمی پراعتماد نظر آتی ہے۔ جیسا کہ ٹیرنس شیاؤ نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ
ہم ہمیشہ صارفین کے لیے بہترین تجربات لانے کے لیے پرجوش رہتے ہیں۔ ایسی شراکت داریاں صرف کاروبار کے لیے نہیں ہوتیں — یہ صارفین کے لیے ہوتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277861</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 12:08:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بلال حسین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0712034204d5c8b.webp" type="image/webp" medium="image" height="963" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0712034204d5c8b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
