<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا اگست حکومتی قرضے میں 430 ارب روپے کی کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے وفاقی حکومتی قرضے میں رواں مالی سال 2025-26 کی ابتدائی دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران 430 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے مطابق، ملک کا مجموعی قرضہ (جس میں ملکی اور بیرونی دونوں قرضے شامل ہیں) اگست 2025 کے اختتام تک گھٹ کر 77.458 ٹریلین روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 77.888 ٹریلین روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق قرضے میں زیادہ کمی ملکی قرضے کے حصے میں آئی، جو 398 ارب روپے کم ہو کر 54.073 ٹریلین روپے پر آگیا، جو جون میں 54.471 ٹریلین روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین معیشت کے مطابق اگرچہ مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں حکومتی قرضے میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن داخلی اور بیرونی قرضوں کے بھاری حجم کی وجہ سے قرضوں کی پائیداری کے چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 ٹریلین روپے کا منافع حاصل کیا تھا، جس میں سے 2.4 ٹریلین روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے۔ اس رقم نے مجموعی قرض کے بوجھ میں نمایاں کمی لانے میں مدد دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے منافع کی منتقلی کے بعد 29 اگست 2025 کو 1.133 ٹریلین روپے کا قرضہ قبل از وقت ادا کیا، جس سے سال 2025 کے دوران اسٹیٹ بینک کے قرض کی کل ابتدائی ادائیگی 1.633 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے منافع کی منتقلی کے نتیجے میں بینکنگ نظام سے بجٹ کے لیے خالص قرضہ لینے کی شرح میں نمایاں کمی آئی، جس سے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش بڑھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق طویل مدتی قرضوں میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی۔ یہ قرضے 298 ارب روپے کم ہو کر 45.353 ٹریلین روپے رہ گئے، جو جون 2025 میں 45.651 ٹریلین روپے تھے۔ اسی طرح قلیل مدتی قرضے بھی 105 ارب روپے گھٹ کر 8.654 ٹریلین روپے رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت قرضہ 62 ارب روپے سے بڑھ کر 66 ارب روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بیرونی قرضہ (روپے کی مالیت میں) 32 ارب روپے کی معمولی کمی کے ساتھ 23.417 ٹریلین روپے سے گھٹ کر 23.385 ٹریلین روپے رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے ایک بار پھر ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور نقصان اٹھانے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اصلاحات سے نہ صرف سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی گنجائش بڑھے گی بلکہ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے وفاقی حکومتی قرضے میں رواں مالی سال 2025-26 کی ابتدائی دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران 430 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کے مطابق، ملک کا مجموعی قرضہ (جس میں ملکی اور بیرونی دونوں قرضے شامل ہیں) اگست 2025 کے اختتام تک گھٹ کر 77.458 ٹریلین روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 77.888 ٹریلین روپے تھا۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق قرضے میں زیادہ کمی ملکی قرضے کے حصے میں آئی، جو 398 ارب روپے کم ہو کر 54.073 ٹریلین روپے پر آگیا، جو جون میں 54.471 ٹریلین روپے تھا۔</p>
<p>ماہرین معیشت کے مطابق اگرچہ مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں حکومتی قرضے میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن داخلی اور بیرونی قرضوں کے بھاری حجم کی وجہ سے قرضوں کی پائیداری کے چیلنجز بدستور برقرار ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 ٹریلین روپے کا منافع حاصل کیا تھا، جس میں سے 2.4 ٹریلین روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے۔ اس رقم نے مجموعی قرض کے بوجھ میں نمایاں کمی لانے میں مدد دی۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے منافع کی منتقلی کے بعد 29 اگست 2025 کو 1.133 ٹریلین روپے کا قرضہ قبل از وقت ادا کیا، جس سے سال 2025 کے دوران اسٹیٹ بینک کے قرض کی کل ابتدائی ادائیگی 1.633 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے منافع کی منتقلی کے نتیجے میں بینکنگ نظام سے بجٹ کے لیے خالص قرضہ لینے کی شرح میں نمایاں کمی آئی، جس سے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش بڑھی۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق طویل مدتی قرضوں میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی۔ یہ قرضے 298 ارب روپے کم ہو کر 45.353 ٹریلین روپے رہ گئے، جو جون 2025 میں 45.651 ٹریلین روپے تھے۔ اسی طرح قلیل مدتی قرضے بھی 105 ارب روپے گھٹ کر 8.654 ٹریلین روپے رہ گئے۔</p>
<p>تاہم، نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت قرضہ 62 ارب روپے سے بڑھ کر 66 ارب روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>پاکستان کا بیرونی قرضہ (روپے کی مالیت میں) 32 ارب روپے کی معمولی کمی کے ساتھ 23.417 ٹریلین روپے سے گھٹ کر 23.385 ٹریلین روپے رہ گیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے ایک بار پھر ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور نقصان اٹھانے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اصلاحات سے نہ صرف سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے مالی گنجائش بڑھے گی بلکہ معاشی جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277853</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 09:55:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/07095325c54e3fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/07095325c54e3fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
