<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:15:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا پاکستان سے 200 ملین ڈالر مالیت کا گوشت درآمد کریگا، دونوں ممالک میں چھ معاہدوں پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277852/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور ملائیشیا نے پیر کے روز دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، تعلیم، حلال سرٹیفکیشن اور انسداد بدعنوانی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر ملائیشیا نے پاکستان سے 200 ملین امریکی ڈالر مالیت کا حلال گوشت درآمد کرنے کا اعلان بھی کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم نے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی امور، خصوصاً غزہ میں اسرائیلی مظالم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف، جو اپنے پہلے سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچے، نے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے، آئی ٹی، اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے تجربے سے سیکھنا چاہتا ہے اور باہمی تعاون سے دونوں ممالک کی معیشتیں مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوشت کی برآمدات کا 200 ملین ڈالر کا ہدف نہ صرف حاصل کیا جائے گا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام حلال سرٹیفکیشن تقاضے اور مارکیٹ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے انور ابراہیم کو ان کی کتاب ”اسکرپٹ: فار آ بیٹر ملائیشیا“ کے اردو ترجمے کا نسخہ پیش کیا اور ان کی قیادت، عزم اور وژن کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترجمہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان فکری روابط کا ایک نیا باب ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، دفاع اور معیشت کے شعبوں میں گہرے تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-بھارت امن علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انور ابراہیم نے غزہ کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور ملائیشیا نے پیر کے روز دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارت، تعلیم، حلال سرٹیفکیشن اور انسداد بدعنوانی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر ملائیشیا نے پاکستان سے 200 ملین امریکی ڈالر مالیت کا حلال گوشت درآمد کرنے کا اعلان بھی کیا۔</strong></p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم نے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی امور، خصوصاً غزہ میں اسرائیلی مظالم پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف، جو اپنے پہلے سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچے، نے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے، آئی ٹی، اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا خواہاں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے تجربے سے سیکھنا چاہتا ہے اور باہمی تعاون سے دونوں ممالک کی معیشتیں مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گوشت کی برآمدات کا 200 ملین ڈالر کا ہدف نہ صرف حاصل کیا جائے گا بلکہ اس سے بھی آگے بڑھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام حلال سرٹیفکیشن تقاضے اور مارکیٹ کے اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔</p>
<p>وزیراعظم نے انور ابراہیم کو ان کی کتاب ”اسکرپٹ: فار آ بیٹر ملائیشیا“ کے اردو ترجمے کا نسخہ پیش کیا اور ان کی قیادت، عزم اور وژن کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترجمہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان فکری روابط کا ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p>ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، دفاع اور معیشت کے شعبوں میں گہرے تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک-بھارت امن علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ انور ابراہیم نے غزہ کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277852</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 09:47:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/07094448c1dc7d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/07094448c1dc7d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
