<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:26:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:26:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پنجاب اور وفاق کے درمیان مالی معاملات پر اختلافات شدت اختیار کر گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277849/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت اور اسلام آباد کے درمیان  مالی مسائل پر اختلافات  شدت اختیار کرگئے، جس کے نتیجے میں صوبے پر اضافی مالی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاملہ پنجاب کے وزیر خزانہ، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے 23 ستمبر 2025 کو وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو بھیجے گئے خط میں بیان کیا، جس کا عنوان تھا حکومت پنجاب سے بقایا رقم کی وصولی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر خزانہ نے خط میں وفاقی وزیر برائے توانائی کے 10 دسمبر 2024 کے سابقہ مراسلے کا حوالہ دیا، جس میں وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ مختلف پنجاب کے محکموں کی جانب سے ستمبر 2024 تک 38.014 ارب روپے کی بقایا بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔ تاہم پنجاب کے مطابق، جون 2024 تک اس کی تصدیق شدہ اور مفاہمت شدہ ذمہ داری صرف 14.957 ارب روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رقم پنجاب کے محکمہ توانائی کے ریکنسیلی ایشن سیل نے متعلقہ ڈسکو کمپنیوں اور پنجاب حکومت کے محکموں کے نمائندگان کے ساتھ کئی ملاقاتوں کے بعد تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کے مطابق، وفاقی حکومت نے مالی سال 2024–25 کے دوران وفاقی منتقلیوں سے بجلی کے شعبے کی واجب الادائیگیوں کی بجائے 25 فیصد کی کٹوتیاں کیں، جو مجموعی طور پر 18.142 ارب روپے بنتی ہیں، جس سے 23ستمبر، 2025 تک مجموعی کٹوتیاں 33 ارب روپے ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کٹوتیوں کے باوجود، پنجاب کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے واجب الادا اہم بقایاجات حل نہیں ہوئے ہیں۔ بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ یہ صورتحال ایک عدم توازن پیدا کر رہی ہے جہاں وفاقی حکومت اپنے دعووں کی کٹوتی کرتی ہے لیکن پنجاب کے لیے اپنی مالی ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے پورا نہیں کرتی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم توازن صوبے پر پہلے سے موجود مالی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، آئین پاکستان (1973) کے آرٹیکل 157(2)(ب) کے تحت پنجاب حکومت کے لیے واجب الادا برقی ڈیوٹی کو توانائی کے محکمے نے ڈسکو کمپنیوں کے ساتھ جون 2024 تک مفاہمت کے بعد تصدیق کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے 31.93 ارب روپے وصول ہونے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب میں ڈسکو کمپنیوں نے بجلی صارفین سے جمع شدہ برقی ڈیوٹی کی رقم مسلسل اپنے پاس رکھی اور یک طرفہ طور پر اسے یا تو پنجاب حکومت کے بقایا واجب الادا کنکشنز کے خلاف ایڈجسٹ کیا یا پنجاب کے نجی زرعی ٹیوب ویل صارفین کے لیے جی ایس ٹی سبسڈی کے خلاف ایڈجسٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی تنازعہ کی وضاحت کے بعد، وزیر خزانہ نے تمام برقی واجب الادائیگیوں اور برقی ڈیوٹی سے متعلق وصولیوں کے جامع مفاہمتی عمل کی تجویز دی۔ ان کے مطابق، اس سے وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان واجب الادا اور وصولیوں کی اصل مقدار کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ مشترکہ کوششوں اور شفاف فریم ورک اختیار کرنے کے ذریعے واجب الادائیگیوں اور وصولیوں کے مسائل کو حل کر کے ایک مؤثر نظام یقینی بنایا جا سکتا ہے جو ہمارے مشترکہ اہداف کی حمایت کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے توانائی نے پہلے ایک علیحدہ خط میں صوبائی وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ برقی صارفین سے برقی ڈیوٹی کی وصولی بند کی جائے تاکہ ٹیرف کم کی جا سکے، تاہم پنجاب حکومت نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت اور اسلام آباد کے درمیان  مالی مسائل پر اختلافات  شدت اختیار کرگئے، جس کے نتیجے میں صوبے پر اضافی مالی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ معاملہ پنجاب کے وزیر خزانہ، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے 23 ستمبر 2025 کو وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کو بھیجے گئے خط میں بیان کیا، جس کا عنوان تھا حکومت پنجاب سے بقایا رقم کی وصولی۔</p>
<p>صوبائی وزیر خزانہ نے خط میں وفاقی وزیر برائے توانائی کے 10 دسمبر 2024 کے سابقہ مراسلے کا حوالہ دیا، جس میں وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ مختلف پنجاب کے محکموں کی جانب سے ستمبر 2024 تک 38.014 ارب روپے کی بقایا بجلی کے بلوں کی ادائیگیاں واجب الادا ہیں۔ تاہم پنجاب کے مطابق، جون 2024 تک اس کی تصدیق شدہ اور مفاہمت شدہ ذمہ داری صرف 14.957 ارب روپے ہے۔</p>
<p>یہ رقم پنجاب کے محکمہ توانائی کے ریکنسیلی ایشن سیل نے متعلقہ ڈسکو کمپنیوں اور پنجاب حکومت کے محکموں کے نمائندگان کے ساتھ کئی ملاقاتوں کے بعد تصدیق کی۔</p>
<p>پنجاب کے مطابق، وفاقی حکومت نے مالی سال 2024–25 کے دوران وفاقی منتقلیوں سے بجلی کے شعبے کی واجب الادائیگیوں کی بجائے 25 فیصد کی کٹوتیاں کیں، جو مجموعی طور پر 18.142 ارب روپے بنتی ہیں، جس سے 23ستمبر، 2025 تک مجموعی کٹوتیاں 33 ارب روپے ہو گئی ہیں۔</p>
<p>ان کٹوتیوں کے باوجود، پنجاب کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کے واجب الادا اہم بقایاجات حل نہیں ہوئے ہیں۔ بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ یہ صورتحال ایک عدم توازن پیدا کر رہی ہے جہاں وفاقی حکومت اپنے دعووں کی کٹوتی کرتی ہے لیکن پنجاب کے لیے اپنی مالی ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے پورا نہیں کرتی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم توازن صوبے پر پہلے سے موجود مالی دباؤ میں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>مزید برآں، آئین پاکستان (1973) کے آرٹیکل 157(2)(ب) کے تحت پنجاب حکومت کے لیے واجب الادا برقی ڈیوٹی کو توانائی کے محکمے نے ڈسکو کمپنیوں کے ساتھ جون 2024 تک مفاہمت کے بعد تصدیق کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے 31.93 ارب روپے وصول ہونے ہیں۔</p>
<p>صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب میں ڈسکو کمپنیوں نے بجلی صارفین سے جمع شدہ برقی ڈیوٹی کی رقم مسلسل اپنے پاس رکھی اور یک طرفہ طور پر اسے یا تو پنجاب حکومت کے بقایا واجب الادا کنکشنز کے خلاف ایڈجسٹ کیا یا پنجاب کے نجی زرعی ٹیوب ویل صارفین کے لیے جی ایس ٹی سبسڈی کے خلاف ایڈجسٹ کیا۔</p>
<p>مالی تنازعہ کی وضاحت کے بعد، وزیر خزانہ نے تمام برقی واجب الادائیگیوں اور برقی ڈیوٹی سے متعلق وصولیوں کے جامع مفاہمتی عمل کی تجویز دی۔ ان کے مطابق، اس سے وفاق اور پنجاب حکومت کے درمیان واجب الادا اور وصولیوں کی اصل مقدار کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ مشترکہ کوششوں اور شفاف فریم ورک اختیار کرنے کے ذریعے واجب الادائیگیوں اور وصولیوں کے مسائل کو حل کر کے ایک مؤثر نظام یقینی بنایا جا سکتا ہے جو ہمارے مشترکہ اہداف کی حمایت کرے۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے توانائی نے پہلے ایک علیحدہ خط میں صوبائی وزرائے اعلیٰ سے درخواست کی تھی کہ برقی صارفین سے برقی ڈیوٹی کی وصولی بند کی جائے تاکہ ٹیرف کم کی جا سکے، تاہم پنجاب حکومت نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277849</guid>
      <pubDate>Tue, 07 Oct 2025 09:22:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/070920445bb5bc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/070920445bb5bc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
