<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Jul 2026 23:46:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Jul 2026 23:46:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس کی حکومت 14 گھنٹے میں تحلیل، سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277844/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فرانس کے نئے وزیرِاعظم سباستیان لیکورنو اور ان کی کابینہ نے پیر کے روز اس وقت اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جب محض چند گھنٹے قبل لیکورنو نے اپنی کابینہ کے ارکان کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح یہ جدید فرانسیسی تاریخ کی سب سے کم مدت والی حکومت بن گئی، جس سے ملک کا سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیر متوقع استعفیٰ اُس وقت سامنے آیا جب حکومتی اتحادیوں اور مخالفین، دونوں، نے نئی حکومت کو گرانے کی دھمکیاں دیں۔ لیکورنو کے بقول، اس صورتحال میں ان کے لیے ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے اچانک جانے سے اسٹاک مارکیٹ اور یورو کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سب کی نظریں صدر ایمانوئل میکرون پر لگی ہیں، جنہوں نے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اُن پر زور دیا ہے کہ وہ یا تو مستعفی ہوں یا فوری پارلیمانی انتخابات کا اعلان کریں، یہ کہتے ہوئے کہ بحران سے نکلنے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ معتدل خیالات رکھنے والے صدر میکرون کب قوم سے خطاب کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آگے کیا ہوگا؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ چند مہینوں کے دوران، صدر ایمانوئل میکرون، جن کی آئینی مدت مئی 2027 تک ہے، نے بارہا اس امکان کو رد کیا ہے کہ وہ مستعفی ہوں گے یا نئے انتخابات کا اعلان کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ان کے پاس چند ممکنہ راستے باقی ہیں: وہ ایک اور وزیرِاعظم مقرر کر سکتے ہیں، جو کوئی سیاستدان یا ٹیکنوکریٹ ہو سکتا ہے؛ یا وہ سباستیان لیکورنو سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ نئی کابینہ تشکیل دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے لیکورنو گزشتہ دو برسوں میں میکرون کے پانچویں وزیرِاعظم تھے۔ وہ صرف 27 دن تک اس عہدے پر فائز رہے، جب کہ ان کی کابینہ محض 14 گھنٹے قائم رہ سکی، جو کہ فرانسیسی پارلیمان میں جاری شدید تقسیم کی واضح علامت ہے، ایسے وقت میں جب یوروزون کی دوسری سب سے بڑی معیشت اپنے مالیاتی معاملات کو سنبھالنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں سیاسی عدم استحکام میکرون کے 2022 کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ کوئی بھی پارٹی یا اتحاد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ میکرون کی جانب سے گزشتہ سال قبل از وقت انتخابات کا اعلان اس بحران کو مزید گہرا کر گیا، جس کے نتیجے میں ایک اور زیادہ منقسم پارلیمان سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کا مطالبہ: فوری انتخابات کرائے جائیں&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی حکومت کے اچانک خاتمے کے بعد، اپوزیشن نے فوراً صدر ایمانوئل میکرون کو نشانے پر لے لیا، ان سے مطالبہ کیا کہ یا تو فوری پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں یا وہ خود مستعفی ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما مارین لی پین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “یہ مذاق اب بہت ہو چکا، یہ تماشا ختم ہونا چاہیے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، انتہائی بائیں بازو کی جماعت فرانس انبوڈ کی رہنما ماتھیلد پانو نے کہا کہ “الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ میکرون کو جانا ہوگا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انتخابی رجحانات کیا کہتے ہیں؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ کے دو رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، اگر قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرائے جاتے ہیں تو عوام زیادہ تر وہی انداز میں ووٹ دیں گے جیسے گزشتہ سال دیا تھا: نیشنل ریلی (آر این) سب سے آگے رہے گی، بائیں بازو کا اتحاد دوسرے نمبر پرجبکہ سینٹر رائٹ اور روایتی قدامت پسند جماعتیں ان کے پیچھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پارلیمان ایک بار پھر تین مختلف سیاسی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہو گی، اور کسی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ فرانسیسی پارلیمانی انتخابات 577 حلقوں میں ہوتے ہیں، جن میں اکثر صورتوں میں دو مراحل میں ووٹنگ کی جاتی ہے، اور ان کے نتائج کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ Ifop کے ایک سروے کے مطابق مارین لی پین یا نیشنل ریلی کے صدر جارڈن بارڈیلا صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں نمایاں سبقت حاصل کریں گے، البتہ سروے میں فیصلہ کن دوسرے مرحلے پر کوئی ڈیٹا شامل نہیں تھا، جو فرانسیسی صدارتی نظام میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کیا اب پھر انتخابات ہوں گے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس میں جاری سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، اور اب بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ آیا صدر ایمانویل میکرون کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اپوزیشن اور اتحادیوں کا دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت ریپبلکنز کے رہنما ڈیوڈ لیسنارڈ نے بھی میکرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب کہ پارٹی کے صدر اور سبکدوش وزیرِ داخلہ برونو ریٹیو، جنہوں نے اتوار کو کابینہ کی تشکیل پر شدید تنقید کی تھی، جسے بحران کی ایک اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے، نسبتاً محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں: ”اگر تعطل برقرار رہا، تو ہمیں دوبارہ ووٹنگ کرانی پڑے گی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ راستے موجود ہیں۔“ ( ٹی ایف1 ٹی وی کو بیان)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لیکورنو کا الزام: سیاسی انا اور ذاتی مفادات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سباستیان لیکورنو نے، جو محض 27 دن وزیرِاعظم رہے، استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مخالف جماعتوں سے مفاہمت نہیں کر سکتے کیونکہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن لیڈرز اپنی پارٹی منشور سے ہٹنے پر آمادہ نہیں؛ اور ان کے اپنے اقلیتی اتحاد کے ارکان صدارتی امیدوار بننے کے ذاتی عزائم رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ہے کہ ریٹیو بھی آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی کابینہ پر شدید ردعمل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز لیکورنو نے مختلف سیاسی جماعتوں سے کئی ہفتوں کی مشاورت کے بعد نئی کابینہ کا اعلان کیا، اور پیر کی دوپہر پہلا اجلاس طے تھا لیکن: اپوزیشن نے کابینہ کو انتہائی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا؛ جب کہ بعض اتحادیوں کو یہ کابینہ کافی ”دائیں بازو“ کی نہیں لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی شدید ردعمل کے باعث لیکورنو نے صدر میکرون کو استعفیٰ پیش کیا، جسے میکرون نے قبول کر لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عوامی ردعمل: بے یقینی اور شرمندگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس کی گلیوں میں غیر یقینی اور غصے کی فضا چھائی رہی۔
79 سالہ پنشنر جیرار ڈوسیتو کا کہنا تھا کہ ”میں نے ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی… مجھے فرانسیسی ہونے پر شرمندگی ہو رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 سالہ سیاسیات کے طالبعلم ماریس لوئیر نے کہا کہ ”ہم اس طرح مزید آگے نہیں بڑھ سکتے۔ نئے انتخابات ہی واحد راستہ لگتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;معاشی اثرات: اسٹاک مارکیٹ اور یورو پر دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی بحران کا براہِ راست اثر فرانس کی معیشت پر بھی پڑا: پیرس کا سی اے سی 40 انڈیکس 2.1 فیصد تک گر گیا، اگرچہ کچھ بحالی کے بعد دن کے اختتام پر 1.4فیصد نیچے بند ہوا، جو کہ یورپ کے بڑے انڈیکسز میں سب سے بدترین کارکردگی تھی؛ یورو کی قدر 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 1.1698 ڈالر ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکورنو سے قبل ان کے دونوں پیشرو بھی اسی وجہ سے مستعفی ہوئے کہ وہ عوامی اخراجات پر کنٹرول کی کوششوں میں پارلیمان کی حمایت حاصل نہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کا قومی قرضہ اب جی ڈی پی کا 113.9فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ جب کہ بجٹ خسارہ یورپی یونین کی 3فیصد حد سے تقریباً دو گنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سنگین آئینی بحران&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1958 میں قائم ہونے والی ’پانچویں جمہوریہ‘ کے بعد سے فرانس نے اتنا سنگین سیاسی بحران شاذ و نادر ہی دیکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آئینی نظام کا مقصد سیاسی استحکام فراہم کرنا تھا، جہاں ایک طاقتور صدر کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہو؛ لیکن میکرون کے 2022 کے بعد سے یہ نظام پارلیمانی تقسیم اور اکثریت کی عدم موجودگی سے دوچار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی سیاست میں کوئلیشن بنانے اور اتفاق رائے کی روایت نہیں رہی، جو موجودہ صورتحال میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر میکرون دباؤ میں ہیں، لیکن ان کا اگلا قدم ابھی واضح نہیں؛ قبل از وقت انتخابات یا ایک اور وزیرِاعظم کی تقرری دونوں امکانات زیرِ غور ہیں؛ سیاسی غیر یقینی صورتحال نے معاشی اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فرانس کے نئے وزیرِاعظم سباستیان لیکورنو اور ان کی کابینہ نے پیر کے روز اس وقت اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا جب محض چند گھنٹے قبل لیکورنو نے اپنی کابینہ کے ارکان کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح یہ جدید فرانسیسی تاریخ کی سب سے کم مدت والی حکومت بن گئی، جس سے ملک کا سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرگیا۔</strong></p>
<p>یہ غیر متوقع استعفیٰ اُس وقت سامنے آیا جب حکومتی اتحادیوں اور مخالفین، دونوں، نے نئی حکومت کو گرانے کی دھمکیاں دیں۔ لیکورنو کے بقول، اس صورتحال میں ان کے لیے ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہیں رہا۔ ان کے اچانک جانے سے اسٹاک مارکیٹ اور یورو کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>اب سب کی نظریں صدر ایمانوئل میکرون پر لگی ہیں، جنہوں نے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اُن پر زور دیا ہے کہ وہ یا تو مستعفی ہوں یا فوری پارلیمانی انتخابات کا اعلان کریں، یہ کہتے ہوئے کہ بحران سے نکلنے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ معتدل خیالات رکھنے والے صدر میکرون کب قوم سے خطاب کریں گے۔</p>
<p><strong>آگے کیا ہوگا؟</strong></p>
<p>گزشتہ چند مہینوں کے دوران، صدر ایمانوئل میکرون، جن کی آئینی مدت مئی 2027 تک ہے، نے بارہا اس امکان کو رد کیا ہے کہ وہ مستعفی ہوں گے یا نئے انتخابات کا اعلان کریں گے۔</p>
<p>اب ان کے پاس چند ممکنہ راستے باقی ہیں: وہ ایک اور وزیرِاعظم مقرر کر سکتے ہیں، جو کوئی سیاستدان یا ٹیکنوکریٹ ہو سکتا ہے؛ یا وہ سباستیان لیکورنو سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ نئی کابینہ تشکیل دیں۔</p>
<p>یاد رہے لیکورنو گزشتہ دو برسوں میں میکرون کے پانچویں وزیرِاعظم تھے۔ وہ صرف 27 دن تک اس عہدے پر فائز رہے، جب کہ ان کی کابینہ محض 14 گھنٹے قائم رہ سکی، جو کہ فرانسیسی پارلیمان میں جاری شدید تقسیم کی واضح علامت ہے، ایسے وقت میں جب یوروزون کی دوسری سب سے بڑی معیشت اپنے مالیاتی معاملات کو سنبھالنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔</p>
<p>فرانس میں سیاسی عدم استحکام میکرون کے 2022 کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ کوئی بھی پارٹی یا اتحاد پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ میکرون کی جانب سے گزشتہ سال قبل از وقت انتخابات کا اعلان اس بحران کو مزید گہرا کر گیا، جس کے نتیجے میں ایک اور زیادہ منقسم پارلیمان سامنے آئی۔</p>
<p>اپوزیشن کا مطالبہ: فوری انتخابات کرائے جائیں</p>
<p>فرانسیسی حکومت کے اچانک خاتمے کے بعد، اپوزیشن نے فوراً صدر ایمانوئل میکرون کو نشانے پر لے لیا، ان سے مطالبہ کیا کہ یا تو فوری پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں یا وہ خود مستعفی ہو جائیں۔</p>
<p>انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کی رہنما مارین لی پین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “یہ مذاق اب بہت ہو چکا، یہ تماشا ختم ہونا چاہیے۔”</p>
<p>اسی طرح، انتہائی بائیں بازو کی جماعت فرانس انبوڈ کی رہنما ماتھیلد پانو نے کہا کہ “الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ میکرون کو جانا ہوگا۔”</p>
<p><strong>انتخابی رجحانات کیا کہتے ہیں؟</strong></p>
<p>گزشتہ ماہ کے دو رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق، اگر قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرائے جاتے ہیں تو عوام زیادہ تر وہی انداز میں ووٹ دیں گے جیسے گزشتہ سال دیا تھا: نیشنل ریلی (آر این) سب سے آگے رہے گی، بائیں بازو کا اتحاد دوسرے نمبر پرجبکہ سینٹر رائٹ اور روایتی قدامت پسند جماعتیں ان کے پیچھے۔</p>
<p>تاہم پارلیمان ایک بار پھر تین مختلف سیاسی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہو گی، اور کسی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ فرانسیسی پارلیمانی انتخابات 577 حلقوں میں ہوتے ہیں، جن میں اکثر صورتوں میں دو مراحل میں ووٹنگ کی جاتی ہے، اور ان کے نتائج کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ Ifop کے ایک سروے کے مطابق مارین لی پین یا نیشنل ریلی کے صدر جارڈن بارڈیلا صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں نمایاں سبقت حاصل کریں گے، البتہ سروے میں فیصلہ کن دوسرے مرحلے پر کوئی ڈیٹا شامل نہیں تھا، جو فرانسیسی صدارتی نظام میں انتہائی اہم ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>کیا اب پھر انتخابات ہوں گے؟</strong></p>
<p>فرانس میں جاری سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے، اور اب بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ آیا صدر ایمانویل میکرون کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنا چاہیے یا نہیں۔</p>
<p><strong>اپوزیشن اور اتحادیوں کا دباؤ</strong></p>
<p>دائیں بازو کی قدامت پسند جماعت ریپبلکنز کے رہنما ڈیوڈ لیسنارڈ نے بھی میکرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>جب کہ پارٹی کے صدر اور سبکدوش وزیرِ داخلہ برونو ریٹیو، جنہوں نے اتوار کو کابینہ کی تشکیل پر شدید تنقید کی تھی، جسے بحران کی ایک اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے، نسبتاً محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں: ”اگر تعطل برقرار رہا، تو ہمیں دوبارہ ووٹنگ کرانی پڑے گی۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس سے پہلے بھی کچھ راستے موجود ہیں۔“ ( ٹی ایف1 ٹی وی کو بیان)</p>
<p><strong>لیکورنو کا الزام: سیاسی انا اور ذاتی مفادات</strong></p>
<p>سباستیان لیکورنو نے، جو محض 27 دن وزیرِاعظم رہے، استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مخالف جماعتوں سے مفاہمت نہیں کر سکتے کیونکہ:</p>
<p>اپوزیشن لیڈرز اپنی پارٹی منشور سے ہٹنے پر آمادہ نہیں؛ اور ان کے اپنے اقلیتی اتحاد کے ارکان صدارتی امیدوار بننے کے ذاتی عزائم رکھتے ہیں۔</p>
<p>خیال ہے کہ ریٹیو بھی آئندہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p><strong>نئی کابینہ پر شدید ردعمل</strong></p>
<p>اتوار کے روز لیکورنو نے مختلف سیاسی جماعتوں سے کئی ہفتوں کی مشاورت کے بعد نئی کابینہ کا اعلان کیا، اور پیر کی دوپہر پہلا اجلاس طے تھا لیکن: اپوزیشن نے کابینہ کو انتہائی دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا؛ جب کہ بعض اتحادیوں کو یہ کابینہ کافی ”دائیں بازو“ کی نہیں لگی۔</p>
<p>اسی شدید ردعمل کے باعث لیکورنو نے صدر میکرون کو استعفیٰ پیش کیا، جسے میکرون نے قبول کر لیا۔</p>
<p><strong>عوامی ردعمل: بے یقینی اور شرمندگی</strong></p>
<p>پیرس کی گلیوں میں غیر یقینی اور غصے کی فضا چھائی رہی۔
79 سالہ پنشنر جیرار ڈوسیتو کا کہنا تھا کہ ”میں نے ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی… مجھے فرانسیسی ہونے پر شرمندگی ہو رہی ہے۔“</p>
<p>20 سالہ سیاسیات کے طالبعلم ماریس لوئیر نے کہا کہ ”ہم اس طرح مزید آگے نہیں بڑھ سکتے۔ نئے انتخابات ہی واحد راستہ لگتے ہیں۔“</p>
<p><strong>معاشی اثرات: اسٹاک مارکیٹ اور یورو پر دباؤ</strong></p>
<p>سیاسی بحران کا براہِ راست اثر فرانس کی معیشت پر بھی پڑا: پیرس کا سی اے سی 40 انڈیکس 2.1 فیصد تک گر گیا، اگرچہ کچھ بحالی کے بعد دن کے اختتام پر 1.4فیصد نیچے بند ہوا، جو کہ یورپ کے بڑے انڈیکسز میں سب سے بدترین کارکردگی تھی؛ یورو کی قدر 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 1.1698 ڈالر ہو گئی۔</p>
<p>لیکورنو سے قبل ان کے دونوں پیشرو بھی اسی وجہ سے مستعفی ہوئے کہ وہ عوامی اخراجات پر کنٹرول کی کوششوں میں پارلیمان کی حمایت حاصل نہ کر سکے۔</p>
<p>فرانس کا قومی قرضہ اب جی ڈی پی کا 113.9فیصد تک پہنچ چکا ہے؛ جب کہ بجٹ خسارہ یورپی یونین کی 3فیصد حد سے تقریباً دو گنا ہے۔</p>
<p><strong>ایک سنگین آئینی بحران</strong></p>
<p>1958 میں قائم ہونے والی ’پانچویں جمہوریہ‘ کے بعد سے فرانس نے اتنا سنگین سیاسی بحران شاذ و نادر ہی دیکھا ہے۔</p>
<p>اس آئینی نظام کا مقصد سیاسی استحکام فراہم کرنا تھا، جہاں ایک طاقتور صدر کو پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل ہو؛ لیکن میکرون کے 2022 کے بعد سے یہ نظام پارلیمانی تقسیم اور اکثریت کی عدم موجودگی سے دوچار ہے۔</p>
<p>فرانسیسی سیاست میں کوئلیشن بنانے اور اتفاق رائے کی روایت نہیں رہی، جو موجودہ صورتحال میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔</p>
<p>صدر میکرون دباؤ میں ہیں، لیکن ان کا اگلا قدم ابھی واضح نہیں؛ قبل از وقت انتخابات یا ایک اور وزیرِاعظم کی تقرری دونوں امکانات زیرِ غور ہیں؛ سیاسی غیر یقینی صورتحال نے معاشی اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277844</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 22:17:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/06215503566be34.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/06215503566be34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
