<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دعوے اور جوابی دعوے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277839/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مارچ 2024 میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر ہر ماہ شائع ہونے والی ”آؤٹ لک اینڈ اپڈیٹ“ رپورٹ میں شامل دو اعداد و شمار کے درمیان ایک واضح تضاد نظر آتا ہے: ایک طرف مقامی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے جو کہ مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی آمد کا منظر کافی مایوس کن ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل اوپر کا رجحان دکھایا ہے، یہ رجحان اگست 2025 میں بھی برقرار رہا، جیسا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ”اگست اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک“ میں نوٹ کیا گیا:27 اگست 2024 کو پی ایس ایکس 78,084 پر تھا، جو 27 اگست 2025 تک بڑھ کر 147,497 تک پہنچ گیا، جو کہ 88.89 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے؛&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کیپٹلائزیشن (جو کہ کسی عوامی کمپنی کے تمام دستیاب شیئرز کی موجودہ قیمت کو ظاہر کرتی ہے) 27 اگست 2024 کو 10,424 کھرب روپے تھی، جو 27 اگست 2025 کو بڑھ کر 17,529 کھرب روپے ہو گئی، یعنی 68.16 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پی ایس ایکس میں 5 مئی 2025 کو کمی دیکھنے میں آئی، اور 7 مئی کو بھارت کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد مارکیٹ میں 6.32 فیصد کی بڑی گراوٹ واقع ہوئی، جس کے باعث 8 مئی کو ٹریڈنگ معطل کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں جب 12 مئی تک کشیدگی کا خاتمہ ہوا تو کے ایس ای 100 انڈیکس نے تیزی سے بحالی کا سفر شروع کیا اور پھر سے نئی بلندیاں چھونے لگا، حالانکہ معمولی اتار چڑھاؤ وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری مقامی مارکیٹ کے جوش و خروش کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہی۔ مالی سال 2024-25 میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 650.2 ملین ڈالر رہی، صرف جولائی 2025 میں (جو رواں مالی سال کا پہلا مہینہ ہے) منفی 44.6 ملین ڈالر کی سرمایہ نکاسی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے کے مقابلے میں زیادہ ڈسکاؤنٹ ریٹ، جو عام طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرتا ہے، فی الحال اس کردار کو ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، حالانکہ 2019 میں اس مد میں خاطر خواہ سرمایہ کاری آئی تھی، جب اس وقت کے نئے مقرر کردہ گورنر اسٹیٹ بینک، رضا باقر نے جون میں ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا (مارچ میں یہ 10.75 فیصد تھا)، جب آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام پر بات چیت مکمل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہ سچ ہے کہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک حقیقی اور فوری خطرہ موجود ہوتا ہے کہ یہ سرمایہ محض کی بورڈ پر ایک بٹن دبانے سے کسی بھی وقت ملک سے باہر منتقل ہو سکتا ہے۔ یہی عنصر 1997 کے ایشیائی مالیاتی بحران کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو کرنسی کی قدر میں شدید کمی، اثاثوں کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ اور گہرے معاشی جمود ( رے سیشن) جیسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;باوجود اس کے یہ امر مزید تحقیق کا متقاضی ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کے بلند حوصلے کے باوجود غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری مسلسل منفی زمرے میں کیوں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین تجرباتی مطالعات اس مسئلے کی جڑوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے طلبہ، علی اور ثاقب، نے 2009 میں اپنے تھیسس ”اسٹاک مارکیٹ ایفیشنسی: پاکستان سے شواہد“ میں نتیجہ اخذ کیا کہ ”نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معلوماتی کارکردگی (انفارمیشنل ایفی شینسی ) کو بہتر بنانے کے لیے مناسب اقدامات ضروری ہیں، تاکہ ممکنہ سرمایہ کار درست قیمت پر دستیاب سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ مختصراً، پالیسی سازوں کو پاکستان میں کم از کم کمزور سطح کی ایفیشنسی حاصل کرنے کے لیے بھی طویل سفر طے کرنا ہو گا۔ ایک جامع ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جس کے تحت تمام کمپنیوں کو ممکنہ سرمایہ کاروں کو فراہم کردہ معلومات کے معیار کو بہتر بنانے کا پابند بنایا جائے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری تحقیق ”پاکستان کی اقتصادی ترقی بذریعہ اسٹاک مارکیٹ: اسٹاک قیمتوں اور میکرو اکنامک اشاریوں کے مابین باہمی تعلق“ 2013 میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کی گئی (مصنفین: رضوان رحیم احمد، یاسین احمد مینعی اور فضل حسین)۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ”کارپوریٹ گورننس کا ضابطہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ادارے کے تمام سرمایہ کاروں، خواہ وہ اسپانسر گروپ سے ہوں یا اقلیتی شیئر ہولڈرز سے، کے مفادات کا محافظ تصور کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تحقیق کے مطابق کے ایس ای 100 میں شامل متعدد کمپنیوں میں چند مخصوص اسپانسر خاندانوں کے افراد متعدد بورڈز میں شامل ہیں۔ اس سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ یہ بورڈ ممبران باہم مل کر اسپانسر مفادات کو اقلیتی سرمایہ کاروں کے مفادات پر فوقیت دے سکتے ہیں۔ لہٰذا مستقبل کی تحقیق کو اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ جب شیئر ہولڈنگ کا ارتکاز چند افراد میں ہی محدود رہے، تو فہرست میں شمولیت ( پبلک لسٹنگ) کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں،باوجود اس کے کہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے انکشافات کی پابندیاں اور اس سے جڑے اخراجات (اور سزائیں) زیادہ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تحقیق کا نتیجہ یہ تھا کہ ”اسٹاک مارکیٹ معیشت کی قیادت نہیں کرتی بلکہ معیشت اسٹاک مارکیٹ کی راہ متعین کرتی ہے۔ لہٰذا، افراد، ادارے اور حکومت کو قیاسی ببلز کے ممکنہ اثرات سے آگاہ رہنا چاہیے۔ دیگر مضبوط معاشی اشاریوں کی عدم موجودگی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اسٹاک قیمتوں کے غیر معمولی اضافے پر احتیاط برتنی چاہیے۔ تحقیق میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ حکومت کو مارکیٹ کی ترقی کو بہتر بنانے اور اسٹاک مارکیٹس کی مؤثر فعالیت کے لیے مالیاتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان میں شامل ہیں: ریگولیٹری نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانا، معلوماتی نظام اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کو بہتر بنانا، مالیاتی آلات پر فزکل پالیسی کا غیر جانبدارانہ اطلاق، کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی معلومات کے افشا کے اعلیٰ معیار کا نفاذ، اور لچکدار ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مالیاتی اختراعات کو فروغ دینا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی تحقیق بعنوان ”اے اسمال کلب: ڈسٹریبیوشن، پاور اینڈ نیٹ ورکس ان فنانشل مارکیٹس آف پاکستان“ (مصنفین: ندیم الحق اور امین حسین) میں بتایا گیا ہے کہ “ کے ایس ای میں شدید عدم توازن موجود ہے، جہاں ٹاپ 10 کمپنیاں مجموعی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کا نصف سے زائد حصہ رکھتی ہیں۔ سالانہ رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹرز یا بڑے شیئر ہولڈرز (جو کہ کل کا 73 فیصد بنتے ہیں) تقریباً 4.963 کھرب روپے کے شیئرز کے مالک ہیں، جبکہ کل مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 6.8 کھرب روپے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کے ایس ای 100 کی ہر کمپنی میں اقلیتی شیئر ہولڈرز، جو کہ ہر ایک میں 5 فیصد سے کم رکھتے ہیں، مجموعی طور پر تقریباً 25 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی کمپنیاں جیسے فلپ مورس، پاکستان ٹوبیکو، اور پاک سوزوکی میں ایک یا دو قانونی مالکان 90 فیصد سے زائد شیئرز کے مالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات واضح ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے چند مرکزی کھلاڑیوں اور ملک کی معاشی ٹیم کے رہنماؤں کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے، جو پی ایس ایکس انڈیکس میں اضافے کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی بآسانی پیدا کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب مارکیٹ کھلاڑیوں پر لاگو ٹیکس کی شرح انتہائی کم ہو۔ یہ امر اس حقیقت سے واضح ہے کہ پی ایس ایکس سے حاصل ہونے والا کل ٹیکس، آخری دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 15 ارب روپے تھا، جب کہ بھارت سالانہ 100 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کرتا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 15 ارب روپے کی یہ رقم فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ حکام سے حاصل کی گئی، جنہوں نے اس کی تصدیق کے لیے کوئی اضافی ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ نچلا، درمیانہ، اور بالائی درمیانے طبقے کی اکثریت اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری نہیں کرتی، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی نہ تو غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کر سکی ہے، نہ ہی غربت میں کمی (جو کہ ورلڈ بینک کے مطابق آخری اعداد و شمار میں 44.7 فیصد ہے) کا باعث بنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ان تین تحقیقی مطالعات سے اخذ شدہ نتائج کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں تاکہ اسٹاک مارکیٹ معیشت میں ایک ترقیاتی کردار ادا کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مارچ 2024 میں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر ہر ماہ شائع ہونے والی ”آؤٹ لک اینڈ اپڈیٹ“ رپورٹ میں شامل دو اعداد و شمار کے درمیان ایک واضح تضاد نظر آتا ہے: ایک طرف مقامی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے جو کہ مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے جبکہ دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پورٹ فولیو سرمایہ کاری کی آمد کا منظر کافی مایوس کن ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل اوپر کا رجحان دکھایا ہے، یہ رجحان اگست 2025 میں بھی برقرار رہا، جیسا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ”اگست اکنامک اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک“ میں نوٹ کیا گیا:27 اگست 2024 کو پی ایس ایکس 78,084 پر تھا، جو 27 اگست 2025 تک بڑھ کر 147,497 تک پہنچ گیا، جو کہ 88.89 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے؛</p>
<p>مارکیٹ کیپٹلائزیشن (جو کہ کسی عوامی کمپنی کے تمام دستیاب شیئرز کی موجودہ قیمت کو ظاہر کرتی ہے) 27 اگست 2024 کو 10,424 کھرب روپے تھی، جو 27 اگست 2025 کو بڑھ کر 17,529 کھرب روپے ہو گئی، یعنی 68.16 فیصد اضافہ۔</p>
<p>تاہم پی ایس ایکس میں 5 مئی 2025 کو کمی دیکھنے میں آئی، اور 7 مئی کو بھارت کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد مارکیٹ میں 6.32 فیصد کی بڑی گراوٹ واقع ہوئی، جس کے باعث 8 مئی کو ٹریڈنگ معطل کر دی گئی۔</p>
<p>بعد ازاں جب 12 مئی تک کشیدگی کا خاتمہ ہوا تو کے ایس ای 100 انڈیکس نے تیزی سے بحالی کا سفر شروع کیا اور پھر سے نئی بلندیاں چھونے لگا، حالانکہ معمولی اتار چڑھاؤ وقتاً فوقتاً دیکھنے کو ملا۔</p>
<p>دوسری جانب غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری مقامی مارکیٹ کے جوش و خروش کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہی۔ مالی سال 2024-25 میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی 650.2 ملین ڈالر رہی، صرف جولائی 2025 میں (جو رواں مالی سال کا پہلا مہینہ ہے) منفی 44.6 ملین ڈالر کی سرمایہ نکاسی ہوئی۔</p>
<p>خطے کے مقابلے میں زیادہ ڈسکاؤنٹ ریٹ، جو عام طور پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرتا ہے، فی الحال اس کردار کو ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، حالانکہ 2019 میں اس مد میں خاطر خواہ سرمایہ کاری آئی تھی، جب اس وقت کے نئے مقرر کردہ گورنر اسٹیٹ بینک، رضا باقر نے جون میں ڈسکاؤنٹ ریٹ کو 13.25 فیصد تک بڑھا دیا تھا (مارچ میں یہ 10.75 فیصد تھا)، جب آئی ایم ایف کے ساتھ قرض پروگرام پر بات چیت مکمل ہوئی تھی۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہ سچ ہے کہ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک حقیقی اور فوری خطرہ موجود ہوتا ہے کہ یہ سرمایہ محض کی بورڈ پر ایک بٹن دبانے سے کسی بھی وقت ملک سے باہر منتقل ہو سکتا ہے۔ یہی عنصر 1997 کے ایشیائی مالیاتی بحران کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں ملائیشیا، انڈونیشیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کو کرنسی کی قدر میں شدید کمی، اثاثوں کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ اور گہرے معاشی جمود ( رے سیشن) جیسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
</blockquote>
<p>باوجود اس کے یہ امر مزید تحقیق کا متقاضی ہے کہ مقامی سرمایہ کاروں کے بلند حوصلے کے باوجود غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری مسلسل منفی زمرے میں کیوں موجود ہے۔</p>
<p>تین تجرباتی مطالعات اس مسئلے کی جڑوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے طلبہ، علی اور ثاقب، نے 2009 میں اپنے تھیسس ”اسٹاک مارکیٹ ایفیشنسی: پاکستان سے شواہد“ میں نتیجہ اخذ کیا کہ ”نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معلوماتی کارکردگی (انفارمیشنل ایفی شینسی ) کو بہتر بنانے کے لیے مناسب اقدامات ضروری ہیں، تاکہ ممکنہ سرمایہ کار درست قیمت پر دستیاب سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ مختصراً، پالیسی سازوں کو پاکستان میں کم از کم کمزور سطح کی ایفیشنسی حاصل کرنے کے لیے بھی طویل سفر طے کرنا ہو گا۔ ایک جامع ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جس کے تحت تمام کمپنیوں کو ممکنہ سرمایہ کاروں کو فراہم کردہ معلومات کے معیار کو بہتر بنانے کا پابند بنایا جائے۔“</p>
<p>دوسری تحقیق ”پاکستان کی اقتصادی ترقی بذریعہ اسٹاک مارکیٹ: اسٹاک قیمتوں اور میکرو اکنامک اشاریوں کے مابین باہمی تعلق“ 2013 میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے کی گئی (مصنفین: رضوان رحیم احمد، یاسین احمد مینعی اور فضل حسین)۔ اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ”کارپوریٹ گورننس کا ضابطہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ادارے کے تمام سرمایہ کاروں، خواہ وہ اسپانسر گروپ سے ہوں یا اقلیتی شیئر ہولڈرز سے، کے مفادات کا محافظ تصور کرتا ہے۔“</p>
<p>تاہم تحقیق کے مطابق کے ایس ای 100 میں شامل متعدد کمپنیوں میں چند مخصوص اسپانسر خاندانوں کے افراد متعدد بورڈز میں شامل ہیں۔ اس سے یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ یہ بورڈ ممبران باہم مل کر اسپانسر مفادات کو اقلیتی سرمایہ کاروں کے مفادات پر فوقیت دے سکتے ہیں۔ لہٰذا مستقبل کی تحقیق کو اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ جب شیئر ہولڈنگ کا ارتکاز چند افراد میں ہی محدود رہے، تو فہرست میں شمولیت ( پبلک لسٹنگ) کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں،باوجود اس کے کہ لسٹڈ کمپنیوں کے لیے انکشافات کی پابندیاں اور اس سے جڑے اخراجات (اور سزائیں) زیادہ ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس تحقیق کا نتیجہ یہ تھا کہ ”اسٹاک مارکیٹ معیشت کی قیادت نہیں کرتی بلکہ معیشت اسٹاک مارکیٹ کی راہ متعین کرتی ہے۔ لہٰذا، افراد، ادارے اور حکومت کو قیاسی ببلز کے ممکنہ اثرات سے آگاہ رہنا چاہیے۔ دیگر مضبوط معاشی اشاریوں کی عدم موجودگی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اسٹاک قیمتوں کے غیر معمولی اضافے پر احتیاط برتنی چاہیے۔ تحقیق میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ حکومت کو مارکیٹ کی ترقی کو بہتر بنانے اور اسٹاک مارکیٹس کی مؤثر فعالیت کے لیے مالیاتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان میں شامل ہیں: ریگولیٹری نظام کو مضبوط اور مؤثر بنانا، معلوماتی نظام اور ادائیگیوں کے طریقہ کار کو بہتر بنانا، مالیاتی آلات پر فزکل پالیسی کا غیر جانبدارانہ اطلاق، کمپنیوں کی جانب سے مالیاتی معلومات کے افشا کے اعلیٰ معیار کا نفاذ، اور لچکدار ریگولیٹری فریم ورک کے تحت مالیاتی اختراعات کو فروغ دینا۔“</p>
<p>2021 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کی تحقیق بعنوان ”اے اسمال کلب: ڈسٹریبیوشن، پاور اینڈ نیٹ ورکس ان فنانشل مارکیٹس آف پاکستان“ (مصنفین: ندیم الحق اور امین حسین) میں بتایا گیا ہے کہ “ کے ایس ای میں شدید عدم توازن موجود ہے، جہاں ٹاپ 10 کمپنیاں مجموعی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کا نصف سے زائد حصہ رکھتی ہیں۔ سالانہ رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹرز یا بڑے شیئر ہولڈرز (جو کہ کل کا 73 فیصد بنتے ہیں) تقریباً 4.963 کھرب روپے کے شیئرز کے مالک ہیں، جبکہ کل مارکیٹ کیپیٹلائزیشن 6.8 کھرب روپے ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کے ایس ای 100 کی ہر کمپنی میں اقلیتی شیئر ہولڈرز، جو کہ ہر ایک میں 5 فیصد سے کم رکھتے ہیں، مجموعی طور پر تقریباً 25 فیصد شیئرز کے مالک ہیں۔“</p>
<p>بڑی کمپنیاں جیسے فلپ مورس، پاکستان ٹوبیکو، اور پاک سوزوکی میں ایک یا دو قانونی مالکان 90 فیصد سے زائد شیئرز کے مالک ہیں۔</p>
<p>یہ بات واضح ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے چند مرکزی کھلاڑیوں اور ملک کی معاشی ٹیم کے رہنماؤں کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے، جو پی ایس ایکس انڈیکس میں اضافے کو اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں تیزی بآسانی پیدا کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب مارکیٹ کھلاڑیوں پر لاگو ٹیکس کی شرح انتہائی کم ہو۔ یہ امر اس حقیقت سے واضح ہے کہ پی ایس ایکس سے حاصل ہونے والا کل ٹیکس، آخری دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 15 ارب روپے تھا، جب کہ بھارت سالانہ 100 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کرتا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 15 ارب روپے کی یہ رقم فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ حکام سے حاصل کی گئی، جنہوں نے اس کی تصدیق کے لیے کوئی اضافی ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔</p>
<p>آخر میں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ نچلا، درمیانہ، اور بالائی درمیانے طبقے کی اکثریت اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری نہیں کرتی، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی نہ تو غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کر سکی ہے، نہ ہی غربت میں کمی (جو کہ ورلڈ بینک کے مطابق آخری اعداد و شمار میں 44.7 فیصد ہے) کا باعث بنی ہے۔</p>
<p>اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ان تین تحقیقی مطالعات سے اخذ شدہ نتائج کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں تاکہ اسٹاک مارکیٹ معیشت میں ایک ترقیاتی کردار ادا کر سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277839</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 16:22:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/061623241ce24c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/061623241ce24c5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
