<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب : پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کیلئے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں نئے مواقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277837/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک و دفاعی تعاون میں اضافے کے تناظر میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں خلیجی خطے کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک  سعودی عرب  میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں شراکت داری کے امکانات سے پُرامید ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جاری کردہ گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں پاکستان اور سعودی عرب نے اعلیٰ درجہ حاصل کیا ہے اور امریکہ، جاپان، سنگاپور، آسٹریلیا اور ملائیشیا جیسے ترقی یافتہ ممالک کے برابر مقام حاصل کیا۔ ماہرین کے مطابق  پاکستان کی ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ عسکری تنازع میں شمولیت نے اس کی سائبر سیکیورٹی اور سائبر وارفیئر کی صلاحیت کو دنیا کے سامنے رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی طے پایا ہے، جو دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے اپنے حالیہ بیانات میں آئی ٹی کے شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے گورنر انجینئر ماجد بن محمد المزید سے ملاقات کی، جس میں سائبر سیکیورٹی کی تربیت، مشترکہ منصوبوں اور بہترین حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ دو برسوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں قابلِ ذکر پیشرفت ہوئی ہے۔ سعودی وزارت سرمایہ کاری نے پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایک ہیلپ ڈیسک قائم کی ہے ، تاکہ وہ تیزی سے سعودی عرب میں رجسٹر ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر سیکیورٹی ماہر عبدالصمد نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستانی کمپنیاں سعودی پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں سے شراکت داری کے وسیع امکانات رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے معروف آئی ٹی ایکسپورٹر اور ہیکسلائز کے سی ای او سعد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں اپنی شاخیں اور علاقائی دفاتر قائم کر رہی ہیں ، تاکہ سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور فِن ٹیک جیسے شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی نسبت سعودی عرب میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر پھیلاؤ آسان ہے کیونکہ وہاں سے عملے کی پاکستان آمدورفت کم خرچ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے اگلی بڑی منڈی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ اقتصادیات (ورلڈ اکنامک فورم) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کو 35 لاکھ سائبر سیکیورٹی ماہرین کی ضرورت ہے، جبکہ اس وقت صنعت میں اتنے ماہرین دستیاب نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان سافٹ ویئر ایسوسی ایشن (پی اے ایس ایچ اے )پاکستان میں سالانہ 75  ہزار آئی ٹی گریجویٹس، 20 ہزار رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیاں  دنیا کی تیسری بڑی فری لانسنگ برادری اور تیسری بڑی انگلش بولنے والی آبادی موجود ہے، جو کہ عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالصمد نے زور دیا کہ پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ سائبر سیکیورٹی میں اپنے عملے کی صلاحیتیں بڑھائیں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر بوٹ کیمپس اور ڈگری پروگرامز متعارف کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ سائبر سیکیورٹی اور متعلقہ مضامین میں مہارت حاصل کریں ، تاکہ پاکستان اور خلیجی ممالک میں بہتر ملازمتوں کے مواقع حاصل ہو سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک و دفاعی تعاون میں اضافے کے تناظر میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں خلیجی خطے کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک  سعودی عرب  میں سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں شراکت داری کے امکانات سے پُرامید ہیں۔</strong></p>
<p>عالمی سطح پر جاری کردہ گلوبل سائبر سیکیورٹی انڈیکس میں پاکستان اور سعودی عرب نے اعلیٰ درجہ حاصل کیا ہے اور امریکہ، جاپان، سنگاپور، آسٹریلیا اور ملائیشیا جیسے ترقی یافتہ ممالک کے برابر مقام حاصل کیا۔ ماہرین کے مطابق  پاکستان کی ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ عسکری تنازع میں شمولیت نے اس کی سائبر سیکیورٹی اور سائبر وارفیئر کی صلاحیت کو دنیا کے سامنے رکھا۔</p>
<p>حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی طے پایا ہے، جو دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے اپنے حالیہ بیانات میں آئی ٹی کے شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سعودیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی اتھارٹی کے گورنر انجینئر ماجد بن محمد المزید سے ملاقات کی، جس میں سائبر سیکیورٹی کی تربیت، مشترکہ منصوبوں اور بہترین حکومتی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ دو برسوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں قابلِ ذکر پیشرفت ہوئی ہے۔ سعودی وزارت سرمایہ کاری نے پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایک ہیلپ ڈیسک قائم کی ہے ، تاکہ وہ تیزی سے سعودی عرب میں رجسٹر ہو سکیں۔</p>
<p>سائبر سیکیورٹی ماہر عبدالصمد نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستانی کمپنیاں سعودی پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں سے شراکت داری کے وسیع امکانات رکھتی ہیں۔</p>
<p>اسی حوالے سے معروف آئی ٹی ایکسپورٹر اور ہیکسلائز کے سی ای او سعد خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیاں سعودی عرب میں اپنی شاخیں اور علاقائی دفاتر قائم کر رہی ہیں ، تاکہ سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور فِن ٹیک جیسے شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر ممالک کی نسبت سعودی عرب میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے عالمی سطح پر پھیلاؤ آسان ہے کیونکہ وہاں سے عملے کی پاکستان آمدورفت کم خرچ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے اگلی بڑی منڈی ہے۔</p>
<p>عالمی ادارہ اقتصادیات (ورلڈ اکنامک فورم) کی رپورٹ کے مطابق دنیا کو 35 لاکھ سائبر سیکیورٹی ماہرین کی ضرورت ہے، جبکہ اس وقت صنعت میں اتنے ماہرین دستیاب نہیں۔</p>
<p>پاکستان سافٹ ویئر ایسوسی ایشن (پی اے ایس ایچ اے )پاکستان میں سالانہ 75  ہزار آئی ٹی گریجویٹس، 20 ہزار رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیاں  دنیا کی تیسری بڑی فری لانسنگ برادری اور تیسری بڑی انگلش بولنے والی آبادی موجود ہے، جو کہ عالمی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>عبدالصمد نے زور دیا کہ پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ سائبر سیکیورٹی میں اپنے عملے کی صلاحیتیں بڑھائیں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر بوٹ کیمپس اور ڈگری پروگرامز متعارف کرائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ طلبہ کو بھی چاہیے کہ وہ سائبر سیکیورٹی اور متعلقہ مضامین میں مہارت حاصل کریں ، تاکہ پاکستان اور خلیجی ممالک میں بہتر ملازمتوں کے مواقع حاصل ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277837</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 17:17:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/06152424551b710.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/06152424551b710.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
