<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ فلوٹیلا کے سوئس کارکنان کا دوران حراست غیر انسانی سلوک کا الزام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277831/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے کے نو سوئس شہری اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے ملک بدری کے بعد سوئٹزرلینڈ واپس پہنچ گئے۔ واپسی پر ان میں سے متعدد نے الزام عائد کیا کہ انہیں اسرائیلی حراست کے دوران غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی نمائندگی کرنے والے گروپ ویوز آف فریڈم نے یہ اطلاع فراہم کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے ان تازہ الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے پہلے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے ساتھ بدسلوکی کی خبریں مکمل جھوٹ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق، انیس سوئس شہری جن میں جنیوا کے سابق میئر ریمی پگانی بھی شامل تھے، اس بیڑے میں موجود تھے جو درجنوں کشتیوں پر مشتمل تھا اور اسرائیلی محاصرے کے شکار غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز اسرائیلی فورسز نے سمندر میں بیڑے کو روک کر تمام افراد کو اسرائیل کے کتزی اوٹ جیل منتقل کر دیا۔ نو افراد اتوار کی دوپہر جنیوا واپس پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویوز آف فریڈم کے بیان میں کہا گیا کہ شرکاء نے غیر انسانی قید کے حالات اور گرفتاری کے وقت ذلت آمیز سلوک کی شدید مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے ردعمل میں کہا کہ تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے، کوئی تشدد نہیں کیا گیا، اور قیدیوں کو پانی، کھانا اور بیت الخلا تک رسائی حاصل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم قیدیوں نے الزام لگایا کہ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، پانی اور خوراک نہیں دی گئی، بعض کو مارا پیٹا گیا، ٹھوکریں ماری گئیں، اور پنجرے میں بند رکھا گیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ ان دس سوئس شہریوں کے بارے میں انتہائی فکر مند ہے جو اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کے روز تل ابیب میں سوئس سفارت خانے نے قید شہریوں سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ حالات کے مطابق اچھی صحت میں ہیں اور ان کی جلد رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویوز آف فریڈم نے بتایا کہ بعض قیدی بھوک ہڑتال پر ہیں اور انتہائی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ درجنوں دیگر کارکنان، بشمول سویڈن کی مہم جو گریٹا تھنبرگ، بھی گرفتار کیے گئے، جو اسرائیل کی غزہ پر سمندری ناکہ بندی کے خلاف تازہ ترین احتجاج تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے کے نو سوئس شہری اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے ملک بدری کے بعد سوئٹزرلینڈ واپس پہنچ گئے۔ واپسی پر ان میں سے متعدد نے الزام عائد کیا کہ انہیں اسرائیلی حراست کے دوران غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی نمائندگی کرنے والے گروپ ویوز آف فریڈم نے یہ اطلاع فراہم کی ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیل نے ان تازہ الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے پہلے کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے ساتھ بدسلوکی کی خبریں مکمل جھوٹ ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق، انیس سوئس شہری جن میں جنیوا کے سابق میئر ریمی پگانی بھی شامل تھے، اس بیڑے میں موجود تھے جو درجنوں کشتیوں پر مشتمل تھا اور اسرائیلی محاصرے کے شکار غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔</p>
<p>بدھ کے روز اسرائیلی فورسز نے سمندر میں بیڑے کو روک کر تمام افراد کو اسرائیل کے کتزی اوٹ جیل منتقل کر دیا۔ نو افراد اتوار کی دوپہر جنیوا واپس پہنچے۔</p>
<p>ویوز آف فریڈم کے بیان میں کہا گیا کہ شرکاء نے غیر انسانی قید کے حالات اور گرفتاری کے وقت ذلت آمیز سلوک کی شدید مذمت کی۔</p>
<p>اسرائیل نے ردعمل میں کہا کہ تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے، کوئی تشدد نہیں کیا گیا، اور قیدیوں کو پانی، کھانا اور بیت الخلا تک رسائی حاصل تھی۔</p>
<p>تاہم قیدیوں نے الزام لگایا کہ انہیں نیند سے محروم رکھا گیا، پانی اور خوراک نہیں دی گئی، بعض کو مارا پیٹا گیا، ٹھوکریں ماری گئیں، اور پنجرے میں بند رکھا گیا۔ تنظیم نے کہا کہ وہ ان دس سوئس شہریوں کے بارے میں انتہائی فکر مند ہے جو اب بھی اسرائیلی حراست میں ہیں۔</p>
<p>اتوار کے روز تل ابیب میں سوئس سفارت خانے نے قید شہریوں سے ملاقات کی اور کہا کہ وہ حالات کے مطابق اچھی صحت میں ہیں اور ان کی جلد رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p>ویوز آف فریڈم نے بتایا کہ بعض قیدی بھوک ہڑتال پر ہیں اور انتہائی کمزور دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ درجنوں دیگر کارکنان، بشمول سویڈن کی مہم جو گریٹا تھنبرگ، بھی گرفتار کیے گئے، جو اسرائیل کی غزہ پر سمندری ناکہ بندی کے خلاف تازہ ترین احتجاج تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277831</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 13:42:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/06134033b3b693d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/06134033b3b693d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
