<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:26:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی پیداوار میں 49 فیصد اضافہ ، ٹیکسٹائل ملز کی خریداری سست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں کپاس کی پیداوار میں 49 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، جس کے بعد ٹیکسٹائل ملز نے خریداری عارضی طور پر روک دی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2025 تک کپاس کی مجموعی آمد 30 لاکھ 44 ہزار 409 گانٹھوں تک پہنچ گئی ہےٓ، جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 49 فیصد زیادہ ہے&lt;/strong&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب میں کپاس کی آمد 11 لاکھ 36 ہزار گانٹھیں رہی، جو 56 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ سندھ میں 19 لاکھ 7 ہزار گانٹھیں آئیں، جو 45 فیصد اضافہ ہے۔ بلوچستان سے بھی 1 لاکھ 12 ہزار گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بہتر موسم اور زراعتی پالیسیوں نے پیداوار میں بہتری میں کردار ادا کیا ہے۔ پی سی جی اے  کے مطابق گزشتہ 15 روز میں کپاس کی آمد میں 72 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 501 جننگ فیکٹریاں فعال ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے کہا کہ جب تک فصل بندی  کے قوانین نافذ نہیں ہوں گے کپاس کی صنعت کی مکمل بحالی ممکن نہیں۔ انہوں نے چولستان و بلوچستان کی اعلیٰ معیار کی کپاس کی مثال دیتے ہوئے شکرکن علاقوں میں گنے کی کاشت پر پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی منڈی میں امریکی کپاس کی قیمتیں مستحکم رہیں، جبکہ مقامی منڈی میں قیمتیں 15,600 سے 17,300 روپے فی من تک ریکارڈ کی گئیں۔ اگر کسانوں کو مناسب نرخ ملے تو اگلے سیزن میں کپاس کی کاشت میں اضافہ ممکن ہے۔&lt;br /&gt;
بزنس ریکارڈر، 2025 (کاپی رائٹ)&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں کپاس کی پیداوار میں 49 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، جس کے بعد ٹیکسٹائل ملز نے خریداری عارضی طور پر روک دی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے ) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2025 تک کپاس کی مجموعی آمد 30 لاکھ 44 ہزار 409 گانٹھوں تک پہنچ گئی ہےٓ، جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 49 فیصد زیادہ ہے</strong>۔</p>
<p>پنجاب میں کپاس کی آمد 11 لاکھ 36 ہزار گانٹھیں رہی، جو 56 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ سندھ میں 19 لاکھ 7 ہزار گانٹھیں آئیں، جو 45 فیصد اضافہ ہے۔ بلوچستان سے بھی 1 لاکھ 12 ہزار گانٹھوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بہتر موسم اور زراعتی پالیسیوں نے پیداوار میں بہتری میں کردار ادا کیا ہے۔ پی سی جی اے  کے مطابق گزشتہ 15 روز میں کپاس کی آمد میں 72 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 501 جننگ فیکٹریاں فعال ہو چکی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے کہا کہ جب تک فصل بندی  کے قوانین نافذ نہیں ہوں گے کپاس کی صنعت کی مکمل بحالی ممکن نہیں۔ انہوں نے چولستان و بلوچستان کی اعلیٰ معیار کی کپاس کی مثال دیتے ہوئے شکرکن علاقوں میں گنے کی کاشت پر پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>بین الاقوامی منڈی میں امریکی کپاس کی قیمتیں مستحکم رہیں، جبکہ مقامی منڈی میں قیمتیں 15,600 سے 17,300 روپے فی من تک ریکارڈ کی گئیں۔ اگر کسانوں کو مناسب نرخ ملے تو اگلے سیزن میں کپاس کی کاشت میں اضافہ ممکن ہے۔<br />
بزنس ریکارڈر، 2025 (کاپی رائٹ)</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277827</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 12:54:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/06124420ec01b78.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/06124420ec01b78.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
