<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:25:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گندم: ایک بحران جو اصلاح کا تقاضا کرتا ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277826/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملکی سطح پر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) نے 11 ماہ کے وقفے کے بعد ستمبر 2025 میں 5 فیصد کی حد عبور کر لی۔  اس اضافے میں 9 بنیادی پوائنٹس  کا حصہ گندم اور گندم سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کی وجہ سے شامل ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف گندم کے دانوں کی قیمتوں میں پچھلے ماہ کے مقابلے میں 50 فیصد تک حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو صورتحال اب سامنے آ رہی ہے، وہ صرف مہنگائی میں اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کی گندم پالیسی میں ناکامی کا روشن ثبوت ہے، جہاں اصلاحات کا تاثر دیا گیا اور عارضی سہولت کو حکمت عملی کے طور پر پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال تک پالیسی ساز بلند آواز میں کہتے رہے کہ ریاستی کنٹرول والے گندم منڈیوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ خریداری کم کی جائے گی، نجی شعبہ ذمہ داری سنبھالے گا اور مارکیٹ کے سگنلز بغیر کسی رکاوٹ کے کام کریں گے،تاہم جو کچھ ختم کیا گیا، اس کی جگہ کچھ بھی قائم نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے تعین کے لیے کوئی قابلِ اعتماد مارکیٹ بینچ مارک قائم نہیں کیا گیا۔ کسانوں کو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے کوئی عبوری میکانزم وضع نہیں کیے گئے۔ نجی خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے شفاف چینلز متعارف نہیں کرائے گئے اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی، لیکویڈیٹی یا منظم تجارتی بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ادارہ جاتی ڈھانچہ  بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسے اصلاحات سمجھا گیا وہ درحقیقت ضابطوں میں نرمی کے بھیس میں مالیاتی ہتھکنڈوںسے زیادہ کچھ نہیں تھا: حکومت نے اپنے سرکاری ذخائر کو جلد فروخت کردیا، برآمدات کو دبا دیا  اور کسانوں کی آمدنی کو محدود کر کے عارضی مہنگائی میں کمی کا تاثر پیدا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب نتائج بالکل واضح ہیں۔ جب کہ عالمی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم ہیں، ملکی گندم کی قیمت غیر معمولی طاقت کے ساتھ دوبارہ بڑھ گئی ہے، جس نے پاکستان کے اصلاحاتی بیانیے کی کھوکھلی بنیادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرتے ہوئے حکومت دوبارہ کم از کم امدادی قیمت کو بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن یہ محض ایک معمولی اصلاح نہیں، بلکہ ناکامی کا عوامی اعتراف ہے۔دو سال تک تبدیلی کے وعدے کرنے کے بعد، اب کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو گندم کے شعبے کو دوبارہ انہی بگاڑوں میں واپس جانے سے روک سکے جنہوں نے شروع میں یہ بحران پیدا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;المیہ یہ ہے کہ حقیقی اصلاح کبھی خوراک کی سلامتی کو ترک کرنے کے بارے میں نہیں تھی؛ بلکہ یہ سیدھی اور غیر مؤثر پالیسیوں کی جگہ ذہین اور کارگر آلات متعارف کروانے کے بارے میں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فعال گندم کی معیشت کے لیے ایسے آلات  کی ضرورت ہوتی ہے جو پیداوار کنندہ کے لیے مالی استحکام اور صارف کے لیے سستی قیمتوں میں توازن قائم کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمت کا تعین سیاسی حکم کے بجائے بین الاقوامی برابری  سے منسلک ایک شفاف اور آزاد معیار کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ہے کہ اجتماعی حکومتی خریداری  کے بجائے، خطرے کو منتقل کرنے والے میکانزم کے ذریعے کاشت کاروں کے لیے ہدف پر مبنی تحفظ  فراہم کی جائے۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ایک شفاف تجارتی پالیسی ہو، جہاں درآمدات اور برآمدات وزارتی صوابدید  کے بجائے قواعد و ضوابط کے تحت چلائی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نجی شعبے میں ذخیرہ اندوزی اور تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، نہ کہ ریاستی ذخائر یا اچانک پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان پر دباؤ ڈالا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ کوئی جدید یا غیر معمولی معاشی اصول نہیں ہیں۔ یہ وہ کم از کم بنیادی اصول ہیں جن پر کوئی بھی مارکیٹ پر مبنی نظام چل سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان ابھی بھی کم از کم امدادی قیمت کی سیاست میں پھنس گیا ہے، جس میں کبھی بلا جواز فراخدلی اور کبھی سزاوی اقدامات کے درمیان جھول رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسان غیر یقینی صورتحال کے باعث پریشان ہیں، تاجر سپلائی چین بنانے سے گریزاں ہیں اور مالیاتی ادارے ایسے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی جرات نہیں کرتے جہاں قواعد ہر ہفتے بدلتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو کوئی حقیقی ڈیریگولیشن ہوتی ہے، نہ ہی ریاستی نگرانی۔ بلکہ، ایک اتار چڑھاؤ کا ایسا چکر وجود میں آتا ہے جو جان بوجھ کر ادارہ جاتی سطح پر قائم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار بیانات سے زیادہ بلند آواز میں بولتے ہیں، ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد اضافہ صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیمتوں کے تعین کے عمل کا کوئی مستحکم معیار موجود نہیں۔ ایک ہی ماہ میں گندم کے باعث صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں تقریباً ایک فیصد کا حصہ شامل ہونا صرف زرعی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی عدم استحکام ہے جو براہِ راست مانیٹری پالیسی کی ساکھ اور بیرونی مالیاتی انتظام پر اثر ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور جب حکومت کا ردعمل کم از کم امدادی قیمت کی پرانی حکمتِ عملی کو دوبارہ اپنانا ہوتا ہے تو یہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز دونوں کو پیغام دیتا ہے کہ اصلاحات واپس لی جا سکتی ہیں اور آئی ایم ایف یا عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے اس کاغذ سے کم قیمت کے ہیں جس پر لکھے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھنے کا طریقہ پیچیدہ نہیں، لیکن اس کے لیے سیاسی ارادہ درکار ہے۔ سب سے پہلے، ایک قابلِ اعتماد قومی قیمت کا معیار قائم کیا جائے جو ملکی مارکیٹ کی حقیقتوں اور عالمی رجحانات دونوں کی عکاسی کرے۔ یہ معیار بیوروکریٹک اندازے کی پیداوار نہیں بلکہ آزاد اور شفاف رپورٹنگ پر مبنی ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، گندم کے لیے متوقع تجارتی قواعد وضع کریں: پہلے سے واضح کریں کہ درآمدات کب کھولی جائیں یا برآمدات کی اجازت کب ہوگی اور انتظامی پابندیوں کو سہارا بنانے کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا سرکاری خریداری کو اس حد تک محدود کریں کہ صرف دو ماہ کی کھپت کے لیے اسٹریٹجک ریزرو برقرار رکھا جائے، بجائے اس کے کہ ریاست کو ہمیشہ آخری خریدار کے طور پر استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا کسانوں کے لیے ہدف پر مبنی حفاظتی آلات تیار کیے جائیں جو پوری مارکیٹ میں بگاڑ پیدا کیے بغیر انہیں تباہ کن نقصانات سے محفوظ رکھیں اور پانچواں، ایسے معاون ماحول  میں سرمایہ کاری کی جائے جیسے کہ ذخیرہ اندوزی، ضمانتی نظام  اور ڈیٹا میں شفافیت جو نجی شعبے کو اپنا کام کرنے کی اجازت دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی خیالی تصورات نہیں ہیں۔ یہ جدید اجناس کی مارکیٹ کے معیاری بنیادی اجزاء ہیں۔ جن ممالک کے پاس پاکستان سے کم مالی گنجائش اور کمزور ادارے  ہیں، وہ بھی اس طرح کی منتقلی کو کامیابی سے انجام دے چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں مسئلہ صلاحیت  کا نہیں بلکہ ارادے کا ہے۔ طویل عرصے سے گندم کو ایک سیاسی ڈرامے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے: یہ ایک ایسا لیور ہے جسے کبھی ایک سیزن میں کسانوں کو خوش کرنے کے لیے، کبھی اگلے سیزن میں صارفین کو خوش کرنے کے لیے، اور جب بھی آئی ایم ایف  مطالبہ کرتا ہے تو اسے مطمئن کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ڈرامے کی قیمت اب وسیع تر معیشت میں پھیل رہی ہے جو اصلاحات کی ساکھ کو ختم کررہی ہے اور مہنگائی کے انتظام کو کمزور کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق ہے اسے اس چکر میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ایم ایس پی دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دینا بغیر کسی ترتیب، ڈھانچے اور طویل مدتی منصوبے کے، دراصل اتار چڑھاؤ کو پالیسی کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کو یہ اصرار کرنا چاہیے کہ کسی بھی قلیل مدتی مداخلت کے ساتھ ایسے لازمی وعدے بھی ہوں جو حقیقی معنوں میں مارکیٹ کو ڈیریگولیٹ کریں، نہ کہ محض مالیاتی عارضی اقدامات کو چھپانے کا ذریعہ بنیں۔ ورنہ شرطیت، اصلاحات کی ساکھ اور ان کے دیرپا اثرات کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گندم کی اصلاح کبھی نظریاتی معاملہ نہیں تھی، بلکہ یہ عملیت پسندی کے بارے میں تھی: تاکہ پاکستان خود کو خراب شدہ خریداری کے اخراجات سے دیوالیہ نہ کرے، ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسان بے سہارا نہ رہیں اور صارفین منیپولیشن کے شکنجے میں نہ آئیں۔ یہ توازن ایم ایس پی کی واپسی اور عارضی پالیسیوں سے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اسے صرف منصوبہ بند ترتیب، شفاف قواعد، اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر وہ ماہ جو غیر یقینی اور التوا میں ضائع ہو جائے اور ہر وہ موسم جو سیاسی تماشوں پر گزرا، ملک کو بحران میں مزید دھکیل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس اختیارات ختم نہیں ہوئے؛ وقت ختم ہو گیا ہے۔ ایسا گندم کا بازار جو ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد قیمتوں کے اتار چڑھاؤ دیکھتا ہے، مارکیٹ نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ اس کے برعکس ظاہر کرنا یا دوبارہ اصلاح کا دھوکہ پیدا کرنا نہ صرف کسانوں اور صارفین کے ساتھ دھوکہ ہوگا، بلکہ ریاست کی معیشت سنبھالنے کی صلاحیت میں باقی ماندہ تھوڑی سی ساکھ کو دفن کر دے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملکی سطح پر صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) نے 11 ماہ کے وقفے کے بعد ستمبر 2025 میں 5 فیصد کی حد عبور کر لی۔  اس اضافے میں 9 بنیادی پوائنٹس  کا حصہ گندم اور گندم سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کی وجہ سے شامل ہوا ہے۔</strong></p>
<p>صرف گندم کے دانوں کی قیمتوں میں پچھلے ماہ کے مقابلے میں 50 فیصد تک حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو صورتحال اب سامنے آ رہی ہے، وہ صرف مہنگائی میں اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کی گندم پالیسی میں ناکامی کا روشن ثبوت ہے، جہاں اصلاحات کا تاثر دیا گیا اور عارضی سہولت کو حکمت عملی کے طور پر پیش کیا گیا۔</p>
<p>دو سال تک پالیسی ساز بلند آواز میں کہتے رہے کہ ریاستی کنٹرول والے گندم منڈیوں کا دور ختم ہو گیا ہے۔ خریداری کم کی جائے گی، نجی شعبہ ذمہ داری سنبھالے گا اور مارکیٹ کے سگنلز بغیر کسی رکاوٹ کے کام کریں گے،تاہم جو کچھ ختم کیا گیا، اس کی جگہ کچھ بھی قائم نہیں کیا گیا۔</p>
<p>قیمتوں کے تعین کے لیے کوئی قابلِ اعتماد مارکیٹ بینچ مارک قائم نہیں کیا گیا۔ کسانوں کو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے کوئی عبوری میکانزم وضع نہیں کیے گئے۔ نجی خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے شفاف چینلز متعارف نہیں کرائے گئے اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی، لیکویڈیٹی یا منظم تجارتی بہاؤ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ادارہ جاتی ڈھانچہ  بنایا گیا۔</p>
<p>جسے اصلاحات سمجھا گیا وہ درحقیقت ضابطوں میں نرمی کے بھیس میں مالیاتی ہتھکنڈوںسے زیادہ کچھ نہیں تھا: حکومت نے اپنے سرکاری ذخائر کو جلد فروخت کردیا، برآمدات کو دبا دیا  اور کسانوں کی آمدنی کو محدود کر کے عارضی مہنگائی میں کمی کا تاثر پیدا کیا۔</p>
<p>اب نتائج بالکل واضح ہیں۔ جب کہ عالمی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم ہیں، ملکی گندم کی قیمت غیر معمولی طاقت کے ساتھ دوبارہ بڑھ گئی ہے، جس نے پاکستان کے اصلاحاتی بیانیے کی کھوکھلی بنیادوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔</p>
<p>ملکی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرتے ہوئے حکومت دوبارہ کم از کم امدادی قیمت کو بحال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لیکن یہ محض ایک معمولی اصلاح نہیں، بلکہ ناکامی کا عوامی اعتراف ہے۔دو سال تک تبدیلی کے وعدے کرنے کے بعد، اب کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو گندم کے شعبے کو دوبارہ انہی بگاڑوں میں واپس جانے سے روک سکے جنہوں نے شروع میں یہ بحران پیدا کیا تھا۔</p>
<p>المیہ یہ ہے کہ حقیقی اصلاح کبھی خوراک کی سلامتی کو ترک کرنے کے بارے میں نہیں تھی؛ بلکہ یہ سیدھی اور غیر مؤثر پالیسیوں کی جگہ ذہین اور کارگر آلات متعارف کروانے کے بارے میں تھی۔</p>
<p>فعال گندم کی معیشت کے لیے ایسے آلات  کی ضرورت ہوتی ہے جو پیداوار کنندہ کے لیے مالی استحکام اور صارف کے لیے سستی قیمتوں میں توازن قائم کر سکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمت کا تعین سیاسی حکم کے بجائے بین الاقوامی برابری  سے منسلک ایک شفاف اور آزاد معیار کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اس کا مطلب ہے کہ اجتماعی حکومتی خریداری  کے بجائے، خطرے کو منتقل کرنے والے میکانزم کے ذریعے کاشت کاروں کے لیے ہدف پر مبنی تحفظ  فراہم کی جائے۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ایک شفاف تجارتی پالیسی ہو، جہاں درآمدات اور برآمدات وزارتی صوابدید  کے بجائے قواعد و ضوابط کے تحت چلائی جائیں۔</p>
<p>اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نجی شعبے میں ذخیرہ اندوزی اور تجارتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، نہ کہ ریاستی ذخائر یا اچانک پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان پر دباؤ ڈالا جائے۔</p>
<p>یہ سب کچھ کوئی جدید یا غیر معمولی معاشی اصول نہیں ہیں۔ یہ وہ کم از کم بنیادی اصول ہیں جن پر کوئی بھی مارکیٹ پر مبنی نظام چل سکتا ہے۔ تاہم، پاکستان ابھی بھی کم از کم امدادی قیمت کی سیاست میں پھنس گیا ہے، جس میں کبھی بلا جواز فراخدلی اور کبھی سزاوی اقدامات کے درمیان جھول رہا ہے۔</p>
<p>کسان غیر یقینی صورتحال کے باعث پریشان ہیں، تاجر سپلائی چین بنانے سے گریزاں ہیں اور مالیاتی ادارے ایسے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی جرات نہیں کرتے جہاں قواعد ہر ہفتے بدلتے رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ تو کوئی حقیقی ڈیریگولیشن ہوتی ہے، نہ ہی ریاستی نگرانی۔ بلکہ، ایک اتار چڑھاؤ کا ایسا چکر وجود میں آتا ہے جو جان بوجھ کر ادارہ جاتی سطح پر قائم کیا گیا ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار بیانات سے زیادہ بلند آواز میں بولتے ہیں، ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد اضافہ صرف موسمی اتار چڑھاؤ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیمتوں کے تعین کے عمل کا کوئی مستحکم معیار موجود نہیں۔ ایک ہی ماہ میں گندم کے باعث صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) میں تقریباً ایک فیصد کا حصہ شامل ہونا صرف زرعی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی عدم استحکام ہے جو براہِ راست مانیٹری پالیسی کی ساکھ اور بیرونی مالیاتی انتظام پر اثر ڈال رہا ہے۔</p>
<p>اور جب حکومت کا ردعمل کم از کم امدادی قیمت کی پرانی حکمتِ عملی کو دوبارہ اپنانا ہوتا ہے تو یہ ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز دونوں کو پیغام دیتا ہے کہ اصلاحات واپس لی جا سکتی ہیں اور آئی ایم ایف یا عوام کے ساتھ کیے گئے وعدے اس کاغذ سے کم قیمت کے ہیں جس پر لکھے گئے ہیں۔</p>
<p>آگے بڑھنے کا طریقہ پیچیدہ نہیں، لیکن اس کے لیے سیاسی ارادہ درکار ہے۔ سب سے پہلے، ایک قابلِ اعتماد قومی قیمت کا معیار قائم کیا جائے جو ملکی مارکیٹ کی حقیقتوں اور عالمی رجحانات دونوں کی عکاسی کرے۔ یہ معیار بیوروکریٹک اندازے کی پیداوار نہیں بلکہ آزاد اور شفاف رپورٹنگ پر مبنی ہونا چاہیے۔</p>
<p>دوسرا، گندم کے لیے متوقع تجارتی قواعد وضع کریں: پہلے سے واضح کریں کہ درآمدات کب کھولی جائیں یا برآمدات کی اجازت کب ہوگی اور انتظامی پابندیوں کو سہارا بنانے کے لیے استعمال کرنا بند کریں۔</p>
<p>تیسرا سرکاری خریداری کو اس حد تک محدود کریں کہ صرف دو ماہ کی کھپت کے لیے اسٹریٹجک ریزرو برقرار رکھا جائے، بجائے اس کے کہ ریاست کو ہمیشہ آخری خریدار کے طور پر استعمال کیا جائے۔</p>
<p>چوتھا کسانوں کے لیے ہدف پر مبنی حفاظتی آلات تیار کیے جائیں جو پوری مارکیٹ میں بگاڑ پیدا کیے بغیر انہیں تباہ کن نقصانات سے محفوظ رکھیں اور پانچواں، ایسے معاون ماحول  میں سرمایہ کاری کی جائے جیسے کہ ذخیرہ اندوزی، ضمانتی نظام  اور ڈیٹا میں شفافیت جو نجی شعبے کو اپنا کام کرنے کی اجازت دیں۔</p>
<p>یہ کوئی خیالی تصورات نہیں ہیں۔ یہ جدید اجناس کی مارکیٹ کے معیاری بنیادی اجزاء ہیں۔ جن ممالک کے پاس پاکستان سے کم مالی گنجائش اور کمزور ادارے  ہیں، وہ بھی اس طرح کی منتقلی کو کامیابی سے انجام دے چکے ہیں۔</p>
<p>یہاں مسئلہ صلاحیت  کا نہیں بلکہ ارادے کا ہے۔ طویل عرصے سے گندم کو ایک سیاسی ڈرامے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے: یہ ایک ایسا لیور ہے جسے کبھی ایک سیزن میں کسانوں کو خوش کرنے کے لیے، کبھی اگلے سیزن میں صارفین کو خوش کرنے کے لیے، اور جب بھی آئی ایم ایف  مطالبہ کرتا ہے تو اسے مطمئن کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>اس ڈرامے کی قیمت اب وسیع تر معیشت میں پھیل رہی ہے جو اصلاحات کی ساکھ کو ختم کررہی ہے اور مہنگائی کے انتظام کو کمزور کررہی ہے۔</p>
<p>جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق ہے اسے اس چکر میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو ایم ایس پی دوبارہ نافذ کرنے کی اجازت دینا بغیر کسی ترتیب، ڈھانچے اور طویل مدتی منصوبے کے، دراصل اتار چڑھاؤ کو پالیسی کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کو یہ اصرار کرنا چاہیے کہ کسی بھی قلیل مدتی مداخلت کے ساتھ ایسے لازمی وعدے بھی ہوں جو حقیقی معنوں میں مارکیٹ کو ڈیریگولیٹ کریں، نہ کہ محض مالیاتی عارضی اقدامات کو چھپانے کا ذریعہ بنیں۔ ورنہ شرطیت، اصلاحات کی ساکھ اور ان کے دیرپا اثرات کی بنیاد ہی ختم ہو جائے گی۔</p>
<p>گندم کی اصلاح کبھی نظریاتی معاملہ نہیں تھی، بلکہ یہ عملیت پسندی کے بارے میں تھی: تاکہ پاکستان خود کو خراب شدہ خریداری کے اخراجات سے دیوالیہ نہ کرے، ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسان بے سہارا نہ رہیں اور صارفین منیپولیشن کے شکنجے میں نہ آئیں۔ یہ توازن ایم ایس پی کی واپسی اور عارضی پالیسیوں سے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ اسے صرف منصوبہ بند ترتیب، شفاف قواعد، اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ہر وہ ماہ جو غیر یقینی اور التوا میں ضائع ہو جائے اور ہر وہ موسم جو سیاسی تماشوں پر گزرا، ملک کو بحران میں مزید دھکیل دیتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس اختیارات ختم نہیں ہوئے؛ وقت ختم ہو گیا ہے۔ ایسا گندم کا بازار جو ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد قیمتوں کے اتار چڑھاؤ دیکھتا ہے، مارکیٹ نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ اس کے برعکس ظاہر کرنا یا دوبارہ اصلاح کا دھوکہ پیدا کرنا نہ صرف کسانوں اور صارفین کے ساتھ دھوکہ ہوگا، بلکہ ریاست کی معیشت سنبھالنے کی صلاحیت میں باقی ماندہ تھوڑی سی ساکھ کو دفن کر دے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277826</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 13:33:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/061249000a54165.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/061249000a54165.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
