<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:54:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:54:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ستمبر میں بجلی کی پیداوار، گرڈ سولر کا مقابلہ کرنے میں ناکام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277814/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ستمبر 2025 کے لیے بجلی کی پیداوار کے اعداد و شمار ایک مانوس تصویر پیش کرتے ہیں — ایک ایسی تصویر جس میں جمود اور ساختی تبدیلی ایک ہی وقت میں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔
مجموعی پیداوار 12.6 ارب یونٹس رہی، جو حوالہ جاتی پیداوار سے تقریباً 5 فیصد کم تھی۔ یہ گزشتہ 14 مہینوں میں 12ویں بار ہے کہ اصل پیداوار ہدف سے کم رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہری طور پر دیکھا جائے تو پیداوار میں سالانہ بنیاد پر صرف  ایک فیصد اضافہ ہوا، لیکن یہ اضافہ ایک کم بنیاد پر ہے کیونکہ گزشتہ سال بجلی کی پیداوار کئی سال کی کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی تصویر زیادہ تسلی بخش نہیں: مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی پیداوار 40.9 ارب یونٹس رہی — جو مالی سال 2020 کی پہلی سہ ماہی کی سطح سے اب بھی کم ہے۔
یعنی پانچ سال کے معاشی، آبادیاتی، اور تکنیکی تغیرات کے باوجود، بجلی کی پیداوار اب بھی وہیں ٹھہری ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/06074010b1d6295.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی بھی ترقی پذیر معیشت میں بجلی کی طلب اتنے طویل عرصے تک عام طور پر کم نہیں ہوتی۔ پاکستان کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک وقت ایسا ضرور آیا جب قدرتی طلب میں کمی واقع ہوئی — جب ملک قرض نادہندگی کے قریب پہنچنے والے مالی بحران سے دوچار تھا، صنعتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں، اور ٹیرف میں شدید اضافہ ہوا۔
لیکن یہ عارضی عوامل اب کافی حد تک کمزور ہو چکے ہیں، پھر بھی گرڈ سے جڑی ہوئی طلب اُس طرح بحال نہیں ہو پائی جیسی پہلے ہوا کرتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل کہانی کہیں اور ہے — شمسی توانائی کے اس غیر محسوس دھماکے میں جس نے پاکستان کے بجلی کے منظرنامے کو خاموشی سے بدل دیا ہے۔
اور زیادہ تر منتقلیوں کے برعکس، جو پالیسی اقدامات یا بڑے پیمانے کی اصلاحات سے شروع ہوتی ہیں، یہ تبدیلی نیچے سے اوپر کی طرف آئی ہے — گھروں، کسانوں، اور چھوٹے کاروباروں کی قیادت میں، نہ کہ ریاست کے ذریعے تبدیلی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سالوں میں پاکستان کی سولر درآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے — صرف سال 2024 میں سولر پینلز کی درآمدات 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو تین سال میں چار گنا اضافہ ہے۔
اسی طرح بیٹریوں کی درآمدات نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، اور سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں ہی پچھلے پورے سال کی کل درآمدات سے زیادہ ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں رجحانات وسیع پیمانے پرسولر کو اپنانے کی کہانی سناتے ہیں — ایک غیر منصوبہ بند مگر ناقابلِ روک منتقلی جو دن کے اوقات میں گرڈ پر انحصار سے دوری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کے اثرات اب اعداد و شمار میں نمایاں ہیں۔
بجلی کی گھنٹہ وار پیداوار کے پروفائلز میں دوپہر کے وقت گرڈ طلب میں نمایاں کمی دکھائی دیتی ہے — جسے ڈک کرو  کہا جاتا ہے — جو صرف دو یا تین سال پہلے کے سطح استعمال پیٹرن سے بالکل مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دن کے وقت کی طلب، خاص طور پر دیہی اور زرعی علاقوں میں، شدید کمی کا شکار ہے کیونکہ اب شمسی توانائی سے مقامی سطح پر آبپاشی، رہائشی، اور تجارتی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شمسی انقلاب اُس وقت بھی رونما ہوا جب صنعتی صارفین دوبارہ گرڈ سے جڑ چکے ہیں اور کیپٹو پاور جنریشن میں کمی آ چکی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، اگرچہ صنعتوں کی طرف سے گرڈ کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، مجموعی نظامی پیداوار اب بھی پیچھے ہے — اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھریلو، چھوٹے تجارتی، اور زرعی صارفین کا گرڈ سے ہٹ جانا، صنعتی بحالی کے اثرات کو بھی زائل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو بڑے درآمدی ایندھن ذرائع — آر ایل این جی اور درآمدی کوئلہ — میں حقیقی اور حوالہ جاتی پیداوار کے درمیان فرق نے ایک نیا آپریشنل چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
دن کے وقت گرڈ طلب میں شدید کمی کے بعد، غروبِ آفتاب کے فوراً بعد نظام کو تیزی سے پیداوار بڑھانی پڑتی ہے، جس سے غیر مؤثر آپریشن، زیادہ لاگت، اور تھرمل پلانٹس پر اضافی دباؤ پیدا ہوتا ہے جو اس طرح کے اتار چڑھاؤ کے لیے بنائے ہی نہیں گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرڈ، جو کبھی پیش گوئی کے قابل استعمال پیٹرن اور مرکزی تقسیم نظام پر مبنی تھا، اب غیر متوقع اتار چڑھائو سے دوچار ہے — جو لاکھوں پروزیومرز  کی جانب سے پیدا ہوا ہے جن کی شمسی پیداوار نظام کے آپریٹر کو نظر ہی نہیں آتی۔
یہ ساختی تبدیلی پاکستان تک محدود نہیں، لیکن یہاں اس کی رفتار، وسعت، اور غیر رسمی نوعیت اسے خاص طور پر بے قاعدہ اور چیلنجنگ بنا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز کے لیے یہ ایک دوہرا امتحان ہے۔
ایک طرف، چھتوں پر سولر پینل لگانے کا رجحان اُن گھروں اور کاروباروں کے لیے حقیقی ریلیف بن کر آیا ہے جو انتہائی بلند ٹیرف سے تنگ آ چکے تھے۔
دوسری طرف، اس نے گرڈ کی مالی پائیداری کو متاثر کیا ہے، کیونکہ پاکستان کے پیداوار اور ترسیل کے معاہدوں میں بڑی فکسڈ لاگتیں شامل ہیں، جنہیں کم طلب برداشت نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کا نظام آنے والے مہینوں میں حقیقی اور حوالہ جاتی پیداوار کے فرق کو مزید نمایاں کرے گا، خاص طور پر درآمدی ایندھن کے معاملے میں۔
لیکن اصل مسئلہ صرف ٹیرف ایڈجسٹمنٹ تک محدود نہیں — یہ ایک سسٹم ڈھانچے کا سوال ہے جو ماضی میں پھنسا ہوا ہے، جبکہ صارفین کا رویہ ایک دہائی آگے نکل چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاور پلانرز طویل عرصے سے ترقی کو گرڈ میں شامل کیے گئے میگاواٹس سے ناپتے آئے ہیں۔
اب نیا دور ایک مختلف پیمانہ مانگتا ہے — ایسا پیمانہ جو غیرمرکزی پیداوار، اسٹوریج انضمام، اور لچکدار ڈسپیچ کو شامل کرے۔
جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، نظام قدیم اور غیر متعلق دکھائی دیتا رہے گا، چاہے صارفین خود کو جدید بنا چکے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار، پاکستان کو وہ حقیقی بحث درکار ہے جو یہ طے کرے کہ گرڈ پر کون رہے گا — اور کب تک۔
کیونکہ رجحانات تو واضح ہیں: پیداوار شاید ماضی میں اٹکی ہوئی ہے، مگر صارفین کا رویہ بے شک مستقبل میں قدم رکھ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ستمبر 2025 کے لیے بجلی کی پیداوار کے اعداد و شمار ایک مانوس تصویر پیش کرتے ہیں — ایک ایسی تصویر جس میں جمود اور ساختی تبدیلی ایک ہی وقت میں آپس میں ٹکرا رہی ہیں۔
مجموعی پیداوار 12.6 ارب یونٹس رہی، جو حوالہ جاتی پیداوار سے تقریباً 5 فیصد کم تھی۔ یہ گزشتہ 14 مہینوں میں 12ویں بار ہے کہ اصل پیداوار ہدف سے کم رہی۔</strong></p>
<p>ظاہری طور پر دیکھا جائے تو پیداوار میں سالانہ بنیاد پر صرف  ایک فیصد اضافہ ہوا، لیکن یہ اضافہ ایک کم بنیاد پر ہے کیونکہ گزشتہ سال بجلی کی پیداوار کئی سال کی کم ترین سطح تک گر گئی تھی۔</p>
<p>بڑی تصویر زیادہ تسلی بخش نہیں: مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی پیداوار 40.9 ارب یونٹس رہی — جو مالی سال 2020 کی پہلی سہ ماہی کی سطح سے اب بھی کم ہے۔
یعنی پانچ سال کے معاشی، آبادیاتی، اور تکنیکی تغیرات کے باوجود، بجلی کی پیداوار اب بھی وہیں ٹھہری ہوئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/06074010b1d6295.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>کسی بھی ترقی پذیر معیشت میں بجلی کی طلب اتنے طویل عرصے تک عام طور پر کم نہیں ہوتی۔ پاکستان کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔</p>
<p>ایک وقت ایسا ضرور آیا جب قدرتی طلب میں کمی واقع ہوئی — جب ملک قرض نادہندگی کے قریب پہنچنے والے مالی بحران سے دوچار تھا، صنعتی سرگرمیاں سست پڑ گئیں، اور ٹیرف میں شدید اضافہ ہوا۔
لیکن یہ عارضی عوامل اب کافی حد تک کمزور ہو چکے ہیں، پھر بھی گرڈ سے جڑی ہوئی طلب اُس طرح بحال نہیں ہو پائی جیسی پہلے ہوا کرتی تھی۔</p>
<p>اصل کہانی کہیں اور ہے — شمسی توانائی کے اس غیر محسوس دھماکے میں جس نے پاکستان کے بجلی کے منظرنامے کو خاموشی سے بدل دیا ہے۔
اور زیادہ تر منتقلیوں کے برعکس، جو پالیسی اقدامات یا بڑے پیمانے کی اصلاحات سے شروع ہوتی ہیں، یہ تبدیلی نیچے سے اوپر کی طرف آئی ہے — گھروں، کسانوں، اور چھوٹے کاروباروں کی قیادت میں، نہ کہ ریاست کے ذریعے تبدیلی آئی۔</p>
<p>گزشتہ تین سالوں میں پاکستان کی سولر درآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے — صرف سال 2024 میں سولر پینلز کی درآمدات 2 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جو تین سال میں چار گنا اضافہ ہے۔
اسی طرح بیٹریوں کی درآمدات نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، اور سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں ہی پچھلے پورے سال کی کل درآمدات سے زیادہ ہو گئیں۔</p>
<p>یہ دونوں رجحانات وسیع پیمانے پرسولر کو اپنانے کی کہانی سناتے ہیں — ایک غیر منصوبہ بند مگر ناقابلِ روک منتقلی جو دن کے اوقات میں گرڈ پر انحصار سے دوری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔</p>
<p>اس تبدیلی کے اثرات اب اعداد و شمار میں نمایاں ہیں۔
بجلی کی گھنٹہ وار پیداوار کے پروفائلز میں دوپہر کے وقت گرڈ طلب میں نمایاں کمی دکھائی دیتی ہے — جسے ڈک کرو  کہا جاتا ہے — جو صرف دو یا تین سال پہلے کے سطح استعمال پیٹرن سے بالکل مختلف ہے۔</p>
<p>دن کے وقت کی طلب، خاص طور پر دیہی اور زرعی علاقوں میں، شدید کمی کا شکار ہے کیونکہ اب شمسی توانائی سے مقامی سطح پر آبپاشی، رہائشی، اور تجارتی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>یہ شمسی انقلاب اُس وقت بھی رونما ہوا جب صنعتی صارفین دوبارہ گرڈ سے جڑ چکے ہیں اور کیپٹو پاور جنریشن میں کمی آ چکی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، اگرچہ صنعتوں کی طرف سے گرڈ کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، مجموعی نظامی پیداوار اب بھی پیچھے ہے — اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گھریلو، چھوٹے تجارتی، اور زرعی صارفین کا گرڈ سے ہٹ جانا، صنعتی بحالی کے اثرات کو بھی زائل کر رہا ہے۔</p>
<p>دو بڑے درآمدی ایندھن ذرائع — آر ایل این جی اور درآمدی کوئلہ — میں حقیقی اور حوالہ جاتی پیداوار کے درمیان فرق نے ایک نیا آپریشنل چیلنج پیدا کر دیا ہے۔
دن کے وقت گرڈ طلب میں شدید کمی کے بعد، غروبِ آفتاب کے فوراً بعد نظام کو تیزی سے پیداوار بڑھانی پڑتی ہے، جس سے غیر مؤثر آپریشن، زیادہ لاگت، اور تھرمل پلانٹس پر اضافی دباؤ پیدا ہوتا ہے جو اس طرح کے اتار چڑھاؤ کے لیے بنائے ہی نہیں گئے تھے۔</p>
<p>گرڈ، جو کبھی پیش گوئی کے قابل استعمال پیٹرن اور مرکزی تقسیم نظام پر مبنی تھا، اب غیر متوقع اتار چڑھائو سے دوچار ہے — جو لاکھوں پروزیومرز  کی جانب سے پیدا ہوا ہے جن کی شمسی پیداوار نظام کے آپریٹر کو نظر ہی نہیں آتی۔
یہ ساختی تبدیلی پاکستان تک محدود نہیں، لیکن یہاں اس کی رفتار، وسعت، اور غیر رسمی نوعیت اسے خاص طور پر بے قاعدہ اور چیلنجنگ بنا دیتی ہے۔</p>
<p>پالیسی سازوں اور ریگولیٹرز کے لیے یہ ایک دوہرا امتحان ہے۔
ایک طرف، چھتوں پر سولر پینل لگانے کا رجحان اُن گھروں اور کاروباروں کے لیے حقیقی ریلیف بن کر آیا ہے جو انتہائی بلند ٹیرف سے تنگ آ چکے تھے۔
دوسری طرف، اس نے گرڈ کی مالی پائیداری کو متاثر کیا ہے، کیونکہ پاکستان کے پیداوار اور ترسیل کے معاہدوں میں بڑی فکسڈ لاگتیں شامل ہیں، جنہیں کم طلب برداشت نہیں کر سکتی۔</p>
<p>فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کا نظام آنے والے مہینوں میں حقیقی اور حوالہ جاتی پیداوار کے فرق کو مزید نمایاں کرے گا، خاص طور پر درآمدی ایندھن کے معاملے میں۔
لیکن اصل مسئلہ صرف ٹیرف ایڈجسٹمنٹ تک محدود نہیں — یہ ایک سسٹم ڈھانچے کا سوال ہے جو ماضی میں پھنسا ہوا ہے، جبکہ صارفین کا رویہ ایک دہائی آگے نکل چکا ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاور پلانرز طویل عرصے سے ترقی کو گرڈ میں شامل کیے گئے میگاواٹس سے ناپتے آئے ہیں۔
اب نیا دور ایک مختلف پیمانہ مانگتا ہے — ایسا پیمانہ جو غیرمرکزی پیداوار، اسٹوریج انضمام، اور لچکدار ڈسپیچ کو شامل کرے۔
جب تک یہ تبدیلی نہیں آتی، نظام قدیم اور غیر متعلق دکھائی دیتا رہے گا، چاہے صارفین خود کو جدید بنا چکے ہوں۔</p>
<p>آخرکار، پاکستان کو وہ حقیقی بحث درکار ہے جو یہ طے کرے کہ گرڈ پر کون رہے گا — اور کب تک۔
کیونکہ رجحانات تو واضح ہیں: پیداوار شاید ماضی میں اٹکی ہوئی ہے، مگر صارفین کا رویہ بے شک مستقبل میں قدم رکھ چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277814</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 11:06:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0611033474b708f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0611033474b708f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
