<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اقتصادی تعلقات مضبوط بنانا چاہتے ہیں، وزیرِاعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277811/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان، ملائیشیا کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی اقدامات کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، تاکہ دونوں ممالک کی مشترکہ مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے اپنے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا آپ کے عظیم ملک کا پہلا دورہ ہے، لیکن یقین کریں، جیسے ہی ہم گزشتہ رات یہاں پہنچے، میں نے مانوس چہرے دیکھے — بہت خوش اخلاق، بہت گرم جوش — جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ یہ تعلق اخلاص، مقصد کی سچائی اور حقیقی دوستی سے جڑا ہے۔ یہ گویا ایک خاندانی ملاقات جیسا احساس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی اپنے ہم منصب سے انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی امور پر وسیع تبادلۂ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تقریباً تمام اہم امور پر ہمارے خیالات ایک جیسے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر اقتصادی ترقی کے شعبوں میں ملائیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جہاں اس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میں آج یہ بات عوامی طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان، ملائیشیا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتا ہے — نہ صرف آپ کے تجربات سے سیکھنے کے لیے بلکہ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد کے پروگرامز کے لیے، جہاں پاکستانی اور ملائیشین مہارت مل کر کام کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 150,000 پاکستانی اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہیں، جو وہاں کے قومی تعمیراتی عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام عوامل ہمیں امید اور حوصلہ دیتے ہیں کہ ہم اس ممکنہ تعاون کو بروئے کار لا کر اپنی معیشتوں کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں، اور باہمی فائدے کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ انور ابراہیم کی کتاب اسکرپٹ کا اردو ترجمہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ان کا پائیداری، جدت، تحقیق اور ترقی کا وژن بیان کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ وہ اعلیٰ اقدار ہیں جنہیں  انور ابراہیم نے اپنی کتاب میں رقم کیا ہے، اور میرا یقین ہے کہ یہ کتاب نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی متاثر کن ثابت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے خطاب میں وزیرِاعظم انور ابراہیم نے شہباز شریف کو بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی  کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان ان مسلم ممالک میں شامل تھا جو ابتدا میں ان شعبوں میں نمایاں طور پر آگے تھے، اور یہ صلاحیت آج بھی موجود ہے۔ اب جب کہ ہم نے اپنے ملک میں استحکام حاصل کر لیا ہے، ہم یقیناً مزید تعاون کا خیرمقدم کریں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انور ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ وہ فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کے انتہائی قدردان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 نکاتی امن تجویز کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ملائیشیا کو اس کے بعض نکات پر تحفظات ہیں، لیکن کم از کم جنگ بندی، بمباری اور صیہونی اسرائیلی مظالم کے خاتمے کے حوالے سے عرب، مسلم اور دنیا کے بیشتر ممالک کا موقف یکساں ہے، اور ہم اس پر متفق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس سے قبل وزیرِاعظم شہباز شریف کو پُتراجایا میں واقع پردانا پُترا کمپلیکس (جو ملائیشیا کے وزیرِاعظم کا دفتر ہے) میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1975048063380058282?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1975048063380058282%7Ctwgr%5E563c94dc3bf5966345a26a61e7ff515769691192%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40386050"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم اتوار کے روز ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے پر پہنچے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگا رایا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے ملائیشیا کے وزیرِ اطلاعات و مواصلات فہمی فاضل، پاکستان کے ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ اور سفارتی عملے کے دیگر اراکین موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے، جن کا مقصد تجارت، آئی ٹی و ٹیلی کام، حلال انڈسٹری، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر، اور ڈیجیٹل معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، دونوں رہنما عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے نئے مواقع پر بھی بات چیت کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِاعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان، ملائیشیا کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد پر مبنی اقدامات کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے، تاکہ دونوں ممالک کی مشترکہ مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔</strong></p>
<p>وزیرِاعظم نے اپنے ملائیشین ہم منصب انور ابراہیم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا آپ کے عظیم ملک کا پہلا دورہ ہے، لیکن یقین کریں، جیسے ہی ہم گزشتہ رات یہاں پہنچے، میں نے مانوس چہرے دیکھے — بہت خوش اخلاق، بہت گرم جوش — جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔ یہ تعلق اخلاص، مقصد کی سچائی اور حقیقی دوستی سے جڑا ہے۔ یہ گویا ایک خاندانی ملاقات جیسا احساس ہے۔</p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کی اپنے ہم منصب سے انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی، جس میں دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی امور پر وسیع تبادلۂ خیال کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تقریباً تمام اہم امور پر ہمارے خیالات ایک جیسے ہیں۔</p>
<p>وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر اقتصادی ترقی کے شعبوں میں ملائیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جہاں اس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میں آج یہ بات عوامی طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان، ملائیشیا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتا ہے — نہ صرف آپ کے تجربات سے سیکھنے کے لیے بلکہ مشترکہ منصوبوں اور باہمی مفاد کے پروگرامز کے لیے، جہاں پاکستانی اور ملائیشین مہارت مل کر کام کر سکے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ 150,000 پاکستانی اس وقت ملائیشیا میں مقیم ہیں، جو وہاں کے قومی تعمیراتی عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام عوامل ہمیں امید اور حوصلہ دیتے ہیں کہ ہم اس ممکنہ تعاون کو بروئے کار لا کر اپنی معیشتوں کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں، اور باہمی فائدے کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔</p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ انور ابراہیم کی کتاب اسکرپٹ کا اردو ترجمہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ان کا پائیداری، جدت، تحقیق اور ترقی کا وژن بیان کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ وہ اعلیٰ اقدار ہیں جنہیں  انور ابراہیم نے اپنی کتاب میں رقم کیا ہے، اور میرا یقین ہے کہ یہ کتاب نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی متاثر کن ثابت ہوگی۔</p>
<p>اپنے خطاب میں وزیرِاعظم انور ابراہیم نے شہباز شریف کو بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی  کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان ان مسلم ممالک میں شامل تھا جو ابتدا میں ان شعبوں میں نمایاں طور پر آگے تھے، اور یہ صلاحیت آج بھی موجود ہے۔ اب جب کہ ہم نے اپنے ملک میں استحکام حاصل کر لیا ہے، ہم یقیناً مزید تعاون کا خیرمقدم کریں گے۔‘‘</p>
<p>انور ابراہیم نے یہ بھی کہا کہ وہ فلسطین اور غزہ کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کے انتہائی قدردان ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 20 نکاتی امن تجویز کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ملائیشیا کو اس کے بعض نکات پر تحفظات ہیں، لیکن کم از کم جنگ بندی، بمباری اور صیہونی اسرائیلی مظالم کے خاتمے کے حوالے سے عرب، مسلم اور دنیا کے بیشتر ممالک کا موقف یکساں ہے، اور ہم اس پر متفق ہیں۔</p>
<p>پریس کانفرنس سے قبل وزیرِاعظم شہباز شریف کو پُتراجایا میں واقع پردانا پُترا کمپلیکس (جو ملائیشیا کے وزیرِاعظم کا دفتر ہے) میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/1975048063380058282?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1975048063380058282%7Ctwgr%5E563c94dc3bf5966345a26a61e7ff515769691192%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40386050"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>وزیرِاعظم اتوار کے روز ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے پر پہنچے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کثیر الجہتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>بنگا رایا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کے لیے ملائیشیا کے وزیرِ اطلاعات و مواصلات فہمی فاضل، پاکستان کے ہائی کمشنر سید احسن رضا شاہ اور سفارتی عملے کے دیگر اراکین موجود تھے۔</p>
<p>وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے، جن کا مقصد تجارت، آئی ٹی و ٹیلی کام، حلال انڈسٹری، سرمایہ کاری، تعلیم، توانائی، انفراسٹرکچر، اور ڈیجیٹل معیشت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں، دونوں رہنما عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے نئے مواقع پر بھی بات چیت کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277811</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 10:48:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/T2EJwFBJkis/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/T2EJwFBJkis/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=T2EJwFBJkis"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
