<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 20:18:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 20:18:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آٹھ مسلم ممالک کا حماس کے اقدامات کا خیرمقدم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277806/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دفترِ خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ آٹھ مسلم ممالک، جنہوں نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ تیار کیا تھا، نے حماس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے سے متعلق اقدامات کو سراہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ پر جنگ کے خاتمے، تمام مغویوں (زندہ یا جاں بحق) کی رہائی اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر مذاکرات کے فوری آغاز کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کی انتظامیہ کو آزاد ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کی پیشکش کا بھی خیرمقدم کیا۔ اعلامیے کے مطابق، وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی اسرائیل سے بمباری فوراً روکنے اور تبادلہ معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کی اپیل کو سراہا اور علاقائی امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ پیش رفت مستقل اور جامع جنگ بندی کے حصول اور غزہ کے عوام کو درپیش سنگین انسانی بحران کے حل کے لیے ایک حقیقی موقع فراہم کرتی ہے۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ تمام پہلوؤں پر اتفاقِ رائے ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد، غزہ پر جنگ کے فوری خاتمے، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی روک تھام، مغویوں کی رہائی اور فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے اتحاد، مکمل اسرائیلی انخلا، غزہ کی تعمیرِ نو اور دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حماس نے ہفتہ کی رات امریکی امن منصوبے سے جزوی اتفاق ظاہر کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور غیر مسلح ہونے سے متعلق نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسرائیلی حملے اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوئے جب حماس نے تل ابیب اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 68,000 سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں شدید زخمی یا معذور ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دفترِ خارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ آٹھ مسلم ممالک، جنہوں نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے خاتمے کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ تیار کیا تھا، نے حماس کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے۔</strong></p>
<p>دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے سے متعلق اقدامات کو سراہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد غزہ پر جنگ کے خاتمے، تمام مغویوں (زندہ یا جاں بحق) کی رہائی اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر مذاکرات کے فوری آغاز کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کی انتظامیہ کو آزاد ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کی پیشکش کا بھی خیرمقدم کیا۔ اعلامیے کے مطابق، وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی اسرائیل سے بمباری فوراً روکنے اور تبادلہ معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کی اپیل کو سراہا اور علاقائی امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ پیش رفت مستقل اور جامع جنگ بندی کے حصول اور غزہ کے عوام کو درپیش سنگین انسانی بحران کے حل کے لیے ایک حقیقی موقع فراہم کرتی ہے۔ وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے تاکہ تمام پہلوؤں پر اتفاقِ رائے ہو سکے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اپنی مشترکہ وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبے پر عمل درآمد، غزہ پر جنگ کے فوری خاتمے، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی روک تھام، مغویوں کی رہائی اور فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے اتحاد، مکمل اسرائیلی انخلا، غزہ کی تعمیرِ نو اور دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔</p>
<p>قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حماس نے ہفتہ کی رات امریکی امن منصوبے سے جزوی اتفاق ظاہر کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور غیر مسلح ہونے سے متعلق نکات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسرائیلی حملے اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوئے جب حماس نے تل ابیب اور دیگر شہروں میں بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 68,000 سے زائد فلسطینی شہید اور ہزاروں شدید زخمی یا معذور ہو چکے ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277806</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Oct 2025 09:41:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/06094024ee9ca96.webp" type="image/webp" medium="image" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/06094024ee9ca96.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
