<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان میں پہلی خاتون وزیرِاعظم بننے کا امکان، مالیاتی پالیسی پر نئے سوالات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277796/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سانائے تاکائچی کے جاپان کی وزیرِ اعظم بننے کے امکانات بڑھنے کے ساتھ ہی  ماہرین کا ماننا ہے کہ جاپانی مرکزی بینک (بی او جے ) رواں ماہ شرح سود میں اضافہ مؤخر کر سکتا ہے، تاہم اگر جاپانی ین پر دباؤ بڑھا تو یہ وقفہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاکائچی جو ممکنہ طور پر 15 اکتوبر کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں گی، بڑی حکومتی سرمایہ کاری اور نرم مالیاتی پالیسی کی کھلی حامی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ معیشت کو فروغ دینا اور طلب میں اضافہ ان کی ترجیح ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مہنگائی 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے، لیکن تاکائچی کا ماننا ہے کہ یہ قیمتوں میں اضافہ خام مال کی قیمتوں سے جڑا ہے، نہ کہ طلب سے۔ ان کے بقول  مہنگائی تب ہی سودمند ہوگی جب اجرتوں میں اضافہ طلب کو بڑھائے اور کاروباری منافع میں بہتری آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے اقتدار میں آنے سے بی او جے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ شرح سود میں جلد بازی نہ کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ین کی قدر کمزور ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاکائچی ماضی میں آبینومکس کی مضبوط حامی رہی ہیں، یہ سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی وہ معاشی حکمت عملی تھی، جس میں حکومتی اخراجات میں اضافہ اور مالیاتی نرمی شامل تھی، تاہم موجودہ حالات میں جب مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ین کی قدر کمزور ہو چکی ہے ان کے لیے مرکزی بینک کی پالیسیوں پر ویسی کھل کر تنقید کرنا ممکن نہیں رہا جیسا کہ وہ پہلے کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سانائے تاکائچی کے جاپان کی وزیرِ اعظم بننے کے امکانات بڑھنے کے ساتھ ہی  ماہرین کا ماننا ہے کہ جاپانی مرکزی بینک (بی او جے ) رواں ماہ شرح سود میں اضافہ مؤخر کر سکتا ہے، تاہم اگر جاپانی ین پر دباؤ بڑھا تو یہ وقفہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔</strong></p>
<p>تاکائچی جو ممکنہ طور پر 15 اکتوبر کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں گی، بڑی حکومتی سرمایہ کاری اور نرم مالیاتی پالیسی کی کھلی حامی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ معیشت کو فروغ دینا اور طلب میں اضافہ ان کی ترجیح ہوگی۔</p>
<p>اگرچہ مہنگائی 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے، لیکن تاکائچی کا ماننا ہے کہ یہ قیمتوں میں اضافہ خام مال کی قیمتوں سے جڑا ہے، نہ کہ طلب سے۔ ان کے بقول  مہنگائی تب ہی سودمند ہوگی جب اجرتوں میں اضافہ طلب کو بڑھائے اور کاروباری منافع میں بہتری آئے۔</p>
<p>ان کے اقتدار میں آنے سے بی او جے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے کہ وہ شرح سود میں جلد بازی نہ کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ین کی قدر کمزور ہو رہی ہے۔</p>
<p>تاکائچی ماضی میں آبینومکس کی مضبوط حامی رہی ہیں، یہ سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی وہ معاشی حکمت عملی تھی، جس میں حکومتی اخراجات میں اضافہ اور مالیاتی نرمی شامل تھی، تاہم موجودہ حالات میں جب مہنگائی بڑھ رہی ہے اور ین کی قدر کمزور ہو چکی ہے ان کے لیے مرکزی بینک کی پالیسیوں پر ویسی کھل کر تنقید کرنا ممکن نہیں رہا جیسا کہ وہ پہلے کرتی رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277796</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 14:33:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/05140502e5f976a.webp" type="image/webp" medium="image" height="639" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/05140502e5f976a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
