<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے اعلان کے باجود اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری، درجنوں فلسطینی شہید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277791/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بمباری روک دے کیونکہ حماس نے ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت قیدیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں آئندہ ہفتے مصر میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے اندر ابتدائی انخلا لائن پر اتفاق کر لیا ہے، اور جیسے ہی حماس اس کی تصدیق کرے گی، جنگ بندی فوراً نافذ ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی تباہ حال پٹی میں جمعے کی رات کے بعد سے کم از کم 36 افراد شہید ہوچکے، جن میں 18 افراد ایک ہی فضائی حملے میں مارے گئے جب اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے تفاح محلے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا۔ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہدف ایک حماس جنگجو تھا جو اس علاقے میں فوج کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دعوے کہ شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں کمی آئی ہے، جھوٹے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے عارضی طور پر بمباری روکنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے حماس پر زور دیا تھا کہ وہ ان کے منصوبے پر تیزی سے عمل کرے، ورنہ تمام امکانات ختم ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق حماس نے ان کے 20 نکاتی امن منصوبے کے اہم حصوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جن میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی انخلا، اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ تاہم، اسرائیلی حکومت نے ابھی تک انخلا کے بارے میں واضح تصدیق نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے اپنے نمائندوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو مصر بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی اور مستقل امن معاہدے کے تکنیکی پہلو طے کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے، حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بمباری روک دے کیونکہ حماس نے ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت قیدیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔</strong></p>
<p>غزہ میں آئندہ ہفتے مصر میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات سے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے اندر ابتدائی انخلا لائن پر اتفاق کر لیا ہے، اور جیسے ہی حماس اس کی تصدیق کرے گی، جنگ بندی فوراً نافذ ہو جائے گی۔</p>
<p>غزہ کی تباہ حال پٹی میں جمعے کی رات کے بعد سے کم از کم 36 افراد شہید ہوچکے، جن میں 18 افراد ایک ہی فضائی حملے میں مارے گئے جب اسرائیلی طیاروں نے غزہ شہر کے تفاح محلے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا۔ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ہدف ایک حماس جنگجو تھا جو اس علاقے میں فوج کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔</p>
<p>حماس نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دعوے کہ شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں کمی آئی ہے، جھوٹے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے اسرائیل کی جانب سے عارضی طور پر بمباری روکنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے حماس پر زور دیا تھا کہ وہ ان کے منصوبے پر تیزی سے عمل کرے، ورنہ تمام امکانات ختم ہو جائیں گے۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق حماس نے ان کے 20 نکاتی امن منصوبے کے اہم حصوں پر آمادگی ظاہر کی ہے، جن میں جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی انخلا، اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ تاہم، اسرائیلی حکومت نے ابھی تک انخلا کے بارے میں واضح تصدیق نہیں کی۔</p>
<p>امریکہ نے اپنے نمائندوں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کو مصر بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ قیدیوں کی رہائی اور مستقل امن معاہدے کے تکنیکی پہلو طے کیے جا سکیں۔</p>
<p>غزہ میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، جبکہ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277791</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 11:46:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/051145217969079.webp" type="image/webp" medium="image" height="313" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/051145217969079.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
