<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 18:27:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 18:27:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوادر کا پوشیدہ سیلاب — I</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سمندر کی سطح میں اضافہ عام طور پر ان بنیادی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے جو نشیبی ساحلی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے بڑھنے اور وہاں کے رہائشی علاقوں کے زیرِ آب آنے کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم پاکستان کے مکران ساحل پر واقع بندرگاہی شہر گوادر میں اس مسئلے کی وجوہات کہیں زیادہ پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی ہیں۔ گوادر میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ نہ صرف موسمیاتی تبدیلی بلکہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بھی ہو رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندر کی سطح میں اضافہ نمکین پانی کو اوپر کی جانب دھکیلتا ہے، جبکہ برسوں سے جاری زیرِ زمین پانی کی زیادہ پمپنگ سمندری پانی کو آبی ذخائر میں کھینچ لاتی ہے — یعنی زیرِ زمین وہ تہیں جہاں پانی موجود ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کے تقریباً 80 فیصد حصے میں سیوریج نظام نہ ہونے کے باعث گندہ پانی سطحی آبی ذخائر میں رس جاتا ہے، جو براہِ راست زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کے استعمال میں تبدیلیاں جیسے کہ قبضہ، تجاوزات اور زمین کی بحالی — یعنی سمندر سے زمین کا حصول — قدرتی نکاسی کے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بارش کا پانی سمندر تک نہیں پہنچ پاتا اور زمین میں ہی ٹھہر جاتا ہے، جس سے پانی کے جذب ہونے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً بار بار سیلابی صورتحال، ماحولیاتی بگاڑ، اور عمارتوں کی بنیادوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں ساحلی آبی ذخائر سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ بھاری نمکین پانی ہلکے میٹھے پانی کے نیچے سے زمین کے اندر داخل ہو کر دباؤ بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح اوپر اٹھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گوادر جیسے نشیبی علاقوں میں یہ تعلق براہِ راست ہے: یہاں کا سطحی اور غیر محفوظ آبی ذخیرہ براہِ راست بحیرہ عرب سے جڑا ہوا ہے۔ جب بھاری بارشیں یا اونچی لہریں  آبی ذخائر کو سیراب کر دیتی ہیں تو زیرِ زمین پانی کی سطح زمین کی سطح سے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے اندر سے ابھرتی ہوئی پانی کی تباہی دیکھنے کو ملتی ہے — ایسا سیلاب جو سمندر کے کنارے سے نہیں بلکہ رہائشی علاقوں کے پیروں کے نیچے سے اُبل کر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ تین سے چار سالوں کے دوران، گوادر کے ساحلی علاقے کو بار بار زیرِ زمین پانی کے اُبلنے کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہاں تک کہ بارش نہ ہونے کے باوجود بھی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;گوادر کے ایک رہائشی قادِر کے مطابق، ماضی میں شہر میں سیلاب صرف بارشوں کے موسم میں آتا تھا اور ایک ہفتے کے اندر اُتر جاتا تھا۔ تاہم 2024 کی شدید بارشوں کے بعد، وہ بتاتے ہیں کہ اب سیلاب زیادہ کثرت اور شدت کے ساتھ آتا ہے، جس کے باعث کئی علاقے ناقابلِ رہائش بن چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;گوادر شہر 42 وارڈز پر مشتمل ہے اور تقریباً 1,50,000 افراد پر مشتمل ایک متحرک آبادی رکھتا ہے۔ بحیرہ عرب کے تین اطراف سے گھرا ہوا یہ شہر تقریباً 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا تقریباً 90 سے 95 فیصد علاقہ 10 میٹر سے کم اونچائی پر واقع ہے، جو اسے ایک وسیع کم بلندی والے ساحلی زون  میں شامل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/68e1bebed2071.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کے قریب واقع — جو دنیا کی ایک اہم عالمی تیل شپنگ لین ہے — گوادر تیزی سے ایک تجارتی مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ گوادر-کاشغر ہائی وے، جو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم حصہ ہے، بندرگاہ کو براہِ راست چین اور وسطی ایشیا سے جوڑتی ہے۔ بحیرہ عرب کے داخلی دروازے پر واقع یہ بندرگاہ سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور اکیسویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ کے درمیان ایک کلیدی رابطہ فراہم کرتی ہے۔ اپنی جغرافیائی اہمیت اور بنیادی ڈھانچے کے باعث، یہ شہر نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے ایک محرک قوت بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا بھر میں 2.4 ارب افراد سمندری اور ساحلی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں — یعنی دنیا کی 40 فیصد آبادی۔ تخمینوں کے مطابق، دنیا کی تقریباً 11 فیصد آبادی — یعنی تقریباً 896 ملین افراد — ایسے علاقوں میں رہتی ہے جو اوسط سمندری سطح  سے 10 میٹر سے کم بلندی پر واقع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ، ساحلی علاقے دنیا کے سب سے بڑے 75 فیصد میٹروپولیٹن شہروں کی میزبانی کرتے ہیں۔ آئندہ دہائیوں میں کم بلندی والے ساحلی علاقوں — یعنی وہ علاقے جو سمندری سطح سے 10 میٹر سے کم اونچائی پر ہیں — کی آبادی 2060 تک 1.4 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان علاقوں میں تیز صنعتی ترقی، شہری توسیع، اور اہم انفراسٹرکچر کی تعمیر کے باعث نمایاں سماجی و معاشی سرگرمیاں جنم لے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری توجہ اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی ساز، شہری منصوبہ ساز اور مقامی کمیونٹیز مل کر کمزور آبادیوں کی حفاظت اور لچک  کو یقینی بنا سکیں۔ گوادر کی صورتحال ان چیلنجز کی ایک واضح مثال ہے، جہاں عوامی آگاہی کی کمی، مناسب منصوبہ بندی کا فقدان، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی عدم موجودگی ساحلی برادریوں کو درپیش خطرات کو نمایاں طور پر اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ شہر ریتیلی زمین کی ایک پٹی  پر واقع ہے جو شمال سے جنوب تک تقریباً 12 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی چوڑائی بعض مقامات پر ایک کلومیٹر سے بھی کم جبکہ کچھ حصوں میں 6.5 کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی منفرد جغرافیہ اسے قدرتی کمزوریوں سے دوچار کرتا ہے۔ قدرتی ریتیلے ٹیلے زمین کی بلندی میں فرق پیدا کرتے ہیں، جس کے باعث سطحی اونچائی میں واضح تغیر پایا جاتا ہے — جو 21 پلس میٹر (عرض بلد 25.180376، طول بلد 62.330108) سے لے کر مائنس7  میٹر (عرض بلد 25.163119، طول بلد 62.327155) تک سمندری سطح سے اوپر یا نیچے جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر مساوی زمینی ساخت کی وجہ سے سطحی اور زیرِ زمین پانی کے بہاؤ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض نشیبی علاقے، اگرچہ نسبتاً اونچی زمین کے قریب ہیں، پھر بھی سمندر کی سطح میں اضافے سے متاثر ہونے کے خطرے میں رہتے ہیں۔ یہ دوہری اونچائی والا زمینی ڈھانچہ پانی کے جمع ہونے، نمکین پانی کے رساؤ  اور سمندر کی سطح سے پیدا ہونے والے زیرِ زمین سیلاب کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خدابخش ہاشم، جو 76 سالہ ریٹائرڈ استاد ہیں، یاد کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچپن میں شہر کے انہی ریت کے ٹیلوں پر کھیلا کرتے تھے، اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن تازہ پانی انہی ٹیلوں کے نیچے جمع ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انفراسٹرکچر کے اعتبار سے، گوادر شہر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے — پرانا شہر اور نیا شہر۔ زیادہ تر بازار، اسکول، سرکاری دفاتر، اسپتال، اور بندرگاہ پرانے شہر میں واقع ہیں۔ پرانا شہر نسبتاً زیادہ آبادی والا اور غیر منصوبہ بند ہے، جہاں پرانا انفراسٹرکچر موجود ہے۔ اس کے برعکس، نیا شہر ان پہلوؤں میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوپن  موسمی درجہ بندی اسکیم (بی ڈبلیو ایچ) کے مطابق، گوادر کا موسم خشک صحرائی  نوعیت کا ہے، جس کی خصوصیات گرم و خشک موسم، طویل گرمیاں، اور مختصر مگر معتدل سردیاں ہیں۔ اوسطاً شہر کو سالانہ 100 ملی میٹر (تقریباً 4 انچ) سے بھی کم بارش ملتی ہے۔ تاہم 2024 میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جب صرف دو دنوں (فروری میں) کے دوران 180 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2009 میں گونو طوفان  اور 2010 میں فیٹ طوفان کے نتیجے میں آنے والے سمندری طوفانوں نے دونوں خلیجوں کو زیرِ آب کر دیا، جس سے عمارتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے بعد شہری منصوبہ سازوں نے غور کیا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ مستقبل میں مزید زمینی سیلاب کا باعث بن سکتا ہے، جو ساحلی مکانات اور جائیدادوں کے لیے خطرہ ثابت ہو گا۔ اسی تناظر میں مقامی حکام نے دونوں ساحلی کناروں پر سی وال  تعمیر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مطابقتی حکمتِ عملی صرف سطحی سیلاب پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ سی وال کو اس مقصد سے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ سمندر کی بلند ہوتی سطح کے اثرات سے بچاؤ فراہم کرے۔ تاہم منصوبے میں اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا گیا کہ زیرِ زمین پانی بھی بلند ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی وال سمندر کو تو روک لیتی ہے مگر زیرِ زمین پانی کو نہیں روک سکتی، کیونکہ ڈھیلی ریت کے اندر پانی آسانی سے حرکت کر سکتا ہے۔ مغربی خلیج  میں تعمیر شدہ سی وال نے قدرتی زمینی ڈھلان کو زمین سے سمندر کی بجائے سمندر سے زمین کی سمت میں تبدیل کر دیا، جس کے باعث سطح پر پانی جمع ہونا شروع ہو گیا۔ نتیجتاً بخشی اور ٹی سی سی کالونی  جیسے قریبی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے اُبلنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ان تبدیلیوں نے مقامی رہائشیوں کو اپنی جائیدادوں کو ممکنہ نقصان اور علاقے کو طویل المدتی ماحولیاتی خطرات کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;(جاری ہے)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سمندر کی سطح میں اضافہ عام طور پر ان بنیادی وجوہات میں شمار کیا جاتا ہے جو نشیبی ساحلی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے بڑھنے اور وہاں کے رہائشی علاقوں کے زیرِ آب آنے کا سبب بنتی ہیں۔ تاہم پاکستان کے مکران ساحل پر واقع بندرگاہی شہر گوادر میں اس مسئلے کی وجوہات کہیں زیادہ پیچیدہ اور باہم جڑی ہوئی ہیں۔ گوادر میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ نہ صرف موسمیاتی تبدیلی بلکہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں بھی ہو رہا ہے۔</strong></p>
<p>سمندر کی سطح میں اضافہ نمکین پانی کو اوپر کی جانب دھکیلتا ہے، جبکہ برسوں سے جاری زیرِ زمین پانی کی زیادہ پمپنگ سمندری پانی کو آبی ذخائر میں کھینچ لاتی ہے — یعنی زیرِ زمین وہ تہیں جہاں پانی موجود ہوتا ہے۔</p>
<p>شہر کے تقریباً 80 فیصد حصے میں سیوریج نظام نہ ہونے کے باعث گندہ پانی سطحی آبی ذخائر میں رس جاتا ہے، جو براہِ راست زیرِ زمین پانی کی سطح بڑھا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زمین کے استعمال میں تبدیلیاں جیسے کہ قبضہ، تجاوزات اور زمین کی بحالی — یعنی سمندر سے زمین کا حصول — قدرتی نکاسی کے نظام کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کی وجہ سے بارش کا پانی سمندر تک نہیں پہنچ پاتا اور زمین میں ہی ٹھہر جاتا ہے، جس سے پانی کے جذب ہونے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً بار بار سیلابی صورتحال، ماحولیاتی بگاڑ، اور عمارتوں کی بنیادوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>دنیا بھر میں ساحلی آبی ذخائر سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح کے دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زیادہ بھاری نمکین پانی ہلکے میٹھے پانی کے نیچے سے زمین کے اندر داخل ہو کر دباؤ بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح اوپر اٹھتی ہے۔</p>
<p>گوادر جیسے نشیبی علاقوں میں یہ تعلق براہِ راست ہے: یہاں کا سطحی اور غیر محفوظ آبی ذخیرہ براہِ راست بحیرہ عرب سے جڑا ہوا ہے۔ جب بھاری بارشیں یا اونچی لہریں  آبی ذخائر کو سیراب کر دیتی ہیں تو زیرِ زمین پانی کی سطح زمین کی سطح سے اوپر چلی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے اندر سے ابھرتی ہوئی پانی کی تباہی دیکھنے کو ملتی ہے — ایسا سیلاب جو سمندر کے کنارے سے نہیں بلکہ رہائشی علاقوں کے پیروں کے نیچے سے اُبل کر آتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ تین سے چار سالوں کے دوران، گوادر کے ساحلی علاقے کو بار بار زیرِ زمین پانی کے اُبلنے کا سامنا کرنا پڑا ہے، یہاں تک کہ بارش نہ ہونے کے باوجود بھی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>گوادر کے ایک رہائشی قادِر کے مطابق، ماضی میں شہر میں سیلاب صرف بارشوں کے موسم میں آتا تھا اور ایک ہفتے کے اندر اُتر جاتا تھا۔ تاہم 2024 کی شدید بارشوں کے بعد، وہ بتاتے ہیں کہ اب سیلاب زیادہ کثرت اور شدت کے ساتھ آتا ہے، جس کے باعث کئی علاقے ناقابلِ رہائش بن چکے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>گوادر شہر 42 وارڈز پر مشتمل ہے اور تقریباً 1,50,000 افراد پر مشتمل ایک متحرک آبادی رکھتا ہے۔ بحیرہ عرب کے تین اطراف سے گھرا ہوا یہ شہر تقریباً 20 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا تقریباً 90 سے 95 فیصد علاقہ 10 میٹر سے کم اونچائی پر واقع ہے، جو اسے ایک وسیع کم بلندی والے ساحلی زون  میں شامل کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/68e1bebed2071.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>آبنائے ہرمز کے قریب واقع — جو دنیا کی ایک اہم عالمی تیل شپنگ لین ہے — گوادر تیزی سے ایک تجارتی مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ گوادر-کاشغر ہائی وے، جو پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک اہم حصہ ہے، بندرگاہ کو براہِ راست چین اور وسطی ایشیا سے جوڑتی ہے۔ بحیرہ عرب کے داخلی دروازے پر واقع یہ بندرگاہ سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور اکیسویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ کے درمیان ایک کلیدی رابطہ فراہم کرتی ہے۔ اپنی جغرافیائی اہمیت اور بنیادی ڈھانچے کے باعث، یہ شہر نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے ایک محرک قوت بن سکتا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر میں 2.4 ارب افراد سمندری اور ساحلی علاقوں میں رہائش پذیر ہیں — یعنی دنیا کی 40 فیصد آبادی۔ تخمینوں کے مطابق، دنیا کی تقریباً 11 فیصد آبادی — یعنی تقریباً 896 ملین افراد — ایسے علاقوں میں رہتی ہے جو اوسط سمندری سطح  سے 10 میٹر سے کم بلندی پر واقع ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ، ساحلی علاقے دنیا کے سب سے بڑے 75 فیصد میٹروپولیٹن شہروں کی میزبانی کرتے ہیں۔ آئندہ دہائیوں میں کم بلندی والے ساحلی علاقوں — یعنی وہ علاقے جو سمندری سطح سے 10 میٹر سے کم اونچائی پر ہیں — کی آبادی 2060 تک 1.4 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ان علاقوں میں تیز صنعتی ترقی، شہری توسیع، اور اہم انفراسٹرکچر کی تعمیر کے باعث نمایاں سماجی و معاشی سرگرمیاں جنم لے چکی ہیں۔</p>
<p>اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری توجہ اور منظم اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پالیسی ساز، شہری منصوبہ ساز اور مقامی کمیونٹیز مل کر کمزور آبادیوں کی حفاظت اور لچک  کو یقینی بنا سکیں۔ گوادر کی صورتحال ان چیلنجز کی ایک واضح مثال ہے، جہاں عوامی آگاہی کی کمی، مناسب منصوبہ بندی کا فقدان، اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی عدم موجودگی ساحلی برادریوں کو درپیش خطرات کو نمایاں طور پر اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>یہ شہر ریتیلی زمین کی ایک پٹی  پر واقع ہے جو شمال سے جنوب تک تقریباً 12 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی چوڑائی بعض مقامات پر ایک کلومیٹر سے بھی کم جبکہ کچھ حصوں میں 6.5 کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی منفرد جغرافیہ اسے قدرتی کمزوریوں سے دوچار کرتا ہے۔ قدرتی ریتیلے ٹیلے زمین کی بلندی میں فرق پیدا کرتے ہیں، جس کے باعث سطحی اونچائی میں واضح تغیر پایا جاتا ہے — جو 21 پلس میٹر (عرض بلد 25.180376، طول بلد 62.330108) سے لے کر مائنس7  میٹر (عرض بلد 25.163119، طول بلد 62.327155) تک سمندری سطح سے اوپر یا نیچے جاتا ہے۔</p>
<p>اس غیر مساوی زمینی ساخت کی وجہ سے سطحی اور زیرِ زمین پانی کے بہاؤ میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ بعض نشیبی علاقے، اگرچہ نسبتاً اونچی زمین کے قریب ہیں، پھر بھی سمندر کی سطح میں اضافے سے متاثر ہونے کے خطرے میں رہتے ہیں۔ یہ دوہری اونچائی والا زمینی ڈھانچہ پانی کے جمع ہونے، نمکین پانی کے رساؤ  اور سمندر کی سطح سے پیدا ہونے والے زیرِ زمین سیلاب کے امکانات میں اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>خدابخش ہاشم، جو 76 سالہ ریٹائرڈ استاد ہیں، یاد کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچپن میں شہر کے انہی ریت کے ٹیلوں پر کھیلا کرتے تھے، اور کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن تازہ پانی انہی ٹیلوں کے نیچے جمع ہو جائے گا۔</p>
<p>انفراسٹرکچر کے اعتبار سے، گوادر شہر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے — پرانا شہر اور نیا شہر۔ زیادہ تر بازار، اسکول، سرکاری دفاتر، اسپتال، اور بندرگاہ پرانے شہر میں واقع ہیں۔ پرانا شہر نسبتاً زیادہ آبادی والا اور غیر منصوبہ بند ہے، جہاں پرانا انفراسٹرکچر موجود ہے۔ اس کے برعکس، نیا شہر ان پہلوؤں میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔</p>
<p>کوپن  موسمی درجہ بندی اسکیم (بی ڈبلیو ایچ) کے مطابق، گوادر کا موسم خشک صحرائی  نوعیت کا ہے، جس کی خصوصیات گرم و خشک موسم، طویل گرمیاں، اور مختصر مگر معتدل سردیاں ہیں۔ اوسطاً شہر کو سالانہ 100 ملی میٹر (تقریباً 4 انچ) سے بھی کم بارش ملتی ہے۔ تاہم 2024 میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جب صرف دو دنوں (فروری میں) کے دوران 180 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>2009 میں گونو طوفان  اور 2010 میں فیٹ طوفان کے نتیجے میں آنے والے سمندری طوفانوں نے دونوں خلیجوں کو زیرِ آب کر دیا، جس سے عمارتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے بعد شہری منصوبہ سازوں نے غور کیا کہ سمندر کی سطح میں اضافہ مستقبل میں مزید زمینی سیلاب کا باعث بن سکتا ہے، جو ساحلی مکانات اور جائیدادوں کے لیے خطرہ ثابت ہو گا۔ اسی تناظر میں مقامی حکام نے دونوں ساحلی کناروں پر سی وال  تعمیر کیں۔</p>
<p>یہ مطابقتی حکمتِ عملی صرف سطحی سیلاب پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ سی وال کو اس مقصد سے ڈیزائن کیا گیا کہ وہ سمندر کی بلند ہوتی سطح کے اثرات سے بچاؤ فراہم کرے۔ تاہم منصوبے میں اس حقیقت کو نظرانداز کر دیا گیا کہ زیرِ زمین پانی بھی بلند ہو سکتا ہے۔</p>
<p>سی وال سمندر کو تو روک لیتی ہے مگر زیرِ زمین پانی کو نہیں روک سکتی، کیونکہ ڈھیلی ریت کے اندر پانی آسانی سے حرکت کر سکتا ہے۔ مغربی خلیج  میں تعمیر شدہ سی وال نے قدرتی زمینی ڈھلان کو زمین سے سمندر کی بجائے سمندر سے زمین کی سمت میں تبدیل کر دیا، جس کے باعث سطح پر پانی جمع ہونا شروع ہو گیا۔ نتیجتاً بخشی اور ٹی سی سی کالونی  جیسے قریبی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے اُبلنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ان تبدیلیوں نے مقامی رہائشیوں کو اپنی جائیدادوں کو ممکنہ نقصان اور علاقے کو طویل المدتی ماحولیاتی خطرات کے بارے میں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277788</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 11:19:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پزیر احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0511180567f0c76.webp" type="image/webp" medium="image" height="576" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0511180567f0c76.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
