<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انصاف کے بغیر امن کا منصوبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277787/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نام نہاد غزہ کے لیے امن منصوبہ بالکل ان ہی پرانے خدوخال کا حامل ہے جو ہمیشہ اسرائیل کے قریبی اتحادیوں کے بنائے گئے منصوبوں میں دیکھے جاتے ہیں، لہٰذا اس میں کوئی حیرت نہیں۔ یہ منصوبہ اس قدر حد تک تل ابیب کے حق میں جھکا ہوا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو ان کے اپنے مستقبل کے فیصلوں سے محروم کر دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کہ حماس کو صرف چند دنوں میں ہتھیار ڈالنے اور سیاست سے الگ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل سے محض ایک مبہم وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ واپس چلا جائے گا، اس تمام عدم توازن کو واضح کرتی ہے۔ نیتن یاہو تو پہلے ہی اس حصے کو مسترد کر چکے ہیں، اپنے عوام کو یقین دلا کر کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) غزہ میں موجود رہیں گی۔ جب اس منصوبے کے خالق ہی یہ روکنے سے قاصر ہیں کہ ایک فریق آغاز ہی میں منصوبے کے بنیادی نکتے کو رد کر دے، تو واضح ہو جاتا ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کے تعین میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ منصوبے میں جس عبوری ڈھانچے کا ذکر ہے، وہ نہ تو فلسطینی قیادت میں ہوگا اور نہ ہی ان فلسطینیوں کے سامنے جوابدہ جو بمباری کے عذاب سے گزرے ہیں۔ اس کے برعکس، اس پر بیرونی طاقتوں کی نگرانی ہوگی، جن میں ایک نام نہاد بورڈ آف پیس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹونی بلیئر جیسے کردار شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کی علامتی حیثیت اس کے مواد کی طرح ہی توہین آمیز ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے لوگوں کے لیے ٹونی بلیئر کا بطور نگرانِ غزہ دوبارہ سامنے آنا  مصالحت کی علامت نہیں بلکہ ان جنگوں کی تلخ یاد ہے جنہوں نے اس خطے کو تباہ کیا۔ ایسا امن معاہدہ جو نوآبادیاتی کنٹرول کی یاد تازہ کرے، وہ اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے حامی فوری ریلیف کی بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بمباری رک جائے گی، امداد دوبارہ شروع ہوگی، اور شہریوں کو جو دو سال سے مسلسل حملوں کے زیرِ سایہ جی رہے ہیں، تھوڑی سی مہلت ملے گی۔ یہ یقیناً معمولی فوائد نہیں۔ غزہ کے خاندانوں کے لیے اگر فضائی حملے رک جائیں اور خوراک و ادویات کا سلسلہ بحال ہو جائے، تو یہ زندگی اور موت کا فرق بن سکتا ہے۔ مگر یہ بھی بالکل واضح ہے کہ یہ وقفہ انتہائی نازک اور عارضی ہے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اسرائیل کسی نئے بہانے سے حملے دوبارہ شروع نہیں کرے گا، غیرقانونی بستیاں ختم کرنے کی کوئی یقینی یقین دہانی نہیں، اور نہ ہی ایسا نفاذی نظام موجود ہے جو عالمی توجہ ہٹ جانے کے بعد ایک اور تباہی کو روک سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کا ڈھانچہ مزید گہرے خطرات کا حامل ہے۔ جب حماس کو ہتھیار ڈالنے اور تحلیل ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے مگر فلسطینیوں کو نمائندگی کا کوئی معتبر راستہ نہیں دیا جاتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق کو ختم کر کے دوسرے کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ ایسا عدم توازن امن کا فارمولا نہیں بلکہ انتہا پسندی کو بڑھانے کا نسخہ ہے۔ مزاحمتی تحریکیں اُس وقت جنم لیتی ہیں جب لوگوں سے خودمختاری اور عزت چھین لی جاتی ہے۔ فلسطینیوں کو دونوں چیزوں سے محروم کر کے، اور پھر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ غیر ملکیوں کی زیرِ نگرانی ایک تکنوکریٹک عبوری حکومت کو قبول کریں، یہ دراصل عدم استحکام کی بنیاد رکھنا ہے، نہ کہ امن کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سنگین پہلو نظیر  کا ہے۔ اگر ایک نسل کشی کے بعد احتساب کے بجائے ایسا بندوبست مسلط کیا جائے جو جارح کو سلامتی کی ضمانتیں اور متاثرہ فریق کو امداد کے لیے شرائط دے، تو یہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک پیغام ہوگا۔ اس سے بین الاقوامی قانون کی ساکھ مجروح ہوگی، اور جینوسائیڈ کنونشن ایک ایسا دستاویز بن جائے گا جسے طاقتور ممالک اپنی سہولت کے مطابق لاگو یا نظر انداز کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت محتاط انداز میں کی گئی ہے، جس میں فلسطینیوں کی بے دخلی نہ ہونے اور اسرائیل کے مکمل انخلا جیسے نکات پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم عوامی ردعمل انتہائی شکوک و شبہات پر مبنی ہے۔ اگر اس حمایت کے حوالے سے کھلی بحث اور شفافیت نہ ہوئی تو خطرہ ہے کہ پاکستان کی تائید کو ایسے عمل میں شمولیت سمجھا جائے گا جو وقتی سکون تو دیتا ہے مگر انصاف سے خالی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ صرف ایک  سیزفائر پر مبننی تصفیے سے کہیں زیادہ کا مستحق ہے۔ اسے ایسے سیاسی افق کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی قانون، فلسطینی ریاست کے اعتراف، اور مجرمانہ کارروائیوں پر جوابدہی پر مبنی ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، تب تک یہ 20 نکاتی منصوبہ بھی وہی رہے گا جو نظر آتا ہے —
اسرائیل کے لیے مہلت، فلسطینیوں کے لیے زنجیر، اور ایسا “امن” جو پائیدار نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نام نہاد غزہ کے لیے امن منصوبہ بالکل ان ہی پرانے خدوخال کا حامل ہے جو ہمیشہ اسرائیل کے قریبی اتحادیوں کے بنائے گئے منصوبوں میں دیکھے جاتے ہیں، لہٰذا اس میں کوئی حیرت نہیں۔ یہ منصوبہ اس قدر حد تک تل ابیب کے حق میں جھکا ہوا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو ان کے اپنے مستقبل کے فیصلوں سے محروم کر دیتا ہے۔</strong></p>
<p>یہ حقیقت کہ حماس کو صرف چند دنوں میں ہتھیار ڈالنے اور سیاست سے الگ ہونے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل سے محض ایک مبہم وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ واپس چلا جائے گا، اس تمام عدم توازن کو واضح کرتی ہے۔ نیتن یاہو تو پہلے ہی اس حصے کو مسترد کر چکے ہیں، اپنے عوام کو یقین دلا کر کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) غزہ میں موجود رہیں گی۔ جب اس منصوبے کے خالق ہی یہ روکنے سے قاصر ہیں کہ ایک فریق آغاز ہی میں منصوبے کے بنیادی نکتے کو رد کر دے، تو واضح ہو جاتا ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے۔</p>
<p>اس منصوبے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کے تعین میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ منصوبے میں جس عبوری ڈھانچے کا ذکر ہے، وہ نہ تو فلسطینی قیادت میں ہوگا اور نہ ہی ان فلسطینیوں کے سامنے جوابدہ جو بمباری کے عذاب سے گزرے ہیں۔ اس کے برعکس، اس پر بیرونی طاقتوں کی نگرانی ہوگی، جن میں ایک نام نہاد بورڈ آف پیس کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹونی بلیئر جیسے کردار شامل ہیں۔</p>
<p>اس منصوبے کی علامتی حیثیت اس کے مواد کی طرح ہی توہین آمیز ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے لوگوں کے لیے ٹونی بلیئر کا بطور نگرانِ غزہ دوبارہ سامنے آنا  مصالحت کی علامت نہیں بلکہ ان جنگوں کی تلخ یاد ہے جنہوں نے اس خطے کو تباہ کیا۔ ایسا امن معاہدہ جو نوآبادیاتی کنٹرول کی یاد تازہ کرے، وہ اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔</p>
<p>اس منصوبے کے حامی فوری ریلیف کی بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بمباری رک جائے گی، امداد دوبارہ شروع ہوگی، اور شہریوں کو جو دو سال سے مسلسل حملوں کے زیرِ سایہ جی رہے ہیں، تھوڑی سی مہلت ملے گی۔ یہ یقیناً معمولی فوائد نہیں۔ غزہ کے خاندانوں کے لیے اگر فضائی حملے رک جائیں اور خوراک و ادویات کا سلسلہ بحال ہو جائے، تو یہ زندگی اور موت کا فرق بن سکتا ہے۔ مگر یہ بھی بالکل واضح ہے کہ یہ وقفہ انتہائی نازک اور عارضی ہے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اسرائیل کسی نئے بہانے سے حملے دوبارہ شروع نہیں کرے گا، غیرقانونی بستیاں ختم کرنے کی کوئی یقینی یقین دہانی نہیں، اور نہ ہی ایسا نفاذی نظام موجود ہے جو عالمی توجہ ہٹ جانے کے بعد ایک اور تباہی کو روک سکے۔</p>
<p>منصوبے کا ڈھانچہ مزید گہرے خطرات کا حامل ہے۔ جب حماس کو ہتھیار ڈالنے اور تحلیل ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے مگر فلسطینیوں کو نمائندگی کا کوئی معتبر راستہ نہیں دیا جاتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق کو ختم کر کے دوسرے کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ ایسا عدم توازن امن کا فارمولا نہیں بلکہ انتہا پسندی کو بڑھانے کا نسخہ ہے۔ مزاحمتی تحریکیں اُس وقت جنم لیتی ہیں جب لوگوں سے خودمختاری اور عزت چھین لی جاتی ہے۔ فلسطینیوں کو دونوں چیزوں سے محروم کر کے، اور پھر ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ غیر ملکیوں کی زیرِ نگرانی ایک تکنوکریٹک عبوری حکومت کو قبول کریں، یہ دراصل عدم استحکام کی بنیاد رکھنا ہے، نہ کہ امن کی۔</p>
<p>ایک اور سنگین پہلو نظیر  کا ہے۔ اگر ایک نسل کشی کے بعد احتساب کے بجائے ایسا بندوبست مسلط کیا جائے جو جارح کو سلامتی کی ضمانتیں اور متاثرہ فریق کو امداد کے لیے شرائط دے، تو یہ دنیا کے لیے انتہائی خطرناک پیغام ہوگا۔ اس سے بین الاقوامی قانون کی ساکھ مجروح ہوگی، اور جینوسائیڈ کنونشن ایک ایسا دستاویز بن جائے گا جسے طاقتور ممالک اپنی سہولت کے مطابق لاگو یا نظر انداز کریں گے۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت محتاط انداز میں کی گئی ہے، جس میں فلسطینیوں کی بے دخلی نہ ہونے اور اسرائیل کے مکمل انخلا جیسے نکات پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم عوامی ردعمل انتہائی شکوک و شبہات پر مبنی ہے۔ اگر اس حمایت کے حوالے سے کھلی بحث اور شفافیت نہ ہوئی تو خطرہ ہے کہ پاکستان کی تائید کو ایسے عمل میں شمولیت سمجھا جائے گا جو وقتی سکون تو دیتا ہے مگر انصاف سے خالی ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ صرف ایک  سیزفائر پر مبننی تصفیے سے کہیں زیادہ کا مستحق ہے۔ اسے ایسے سیاسی افق کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی قانون، فلسطینی ریاست کے اعتراف، اور مجرمانہ کارروائیوں پر جوابدہی پر مبنی ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوتا، تب تک یہ 20 نکاتی منصوبہ بھی وہی رہے گا جو نظر آتا ہے —
اسرائیل کے لیے مہلت، فلسطینیوں کے لیے زنجیر، اور ایسا “امن” جو پائیدار نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277787</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 11:00:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/05105856837bff9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/05105856837bff9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
