<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے انفراسٹرکچر پر غلبے سے ایل این جی سیکٹر تک رسائی محدود ہے، سی سی پی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277777/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) جیسے سرکاری ادارے بنیادی انفراسٹرکچر پر کنٹرول رکھتے ہیں، جس کے باعث نجی اداروں کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مارکیٹ تک رسائی محدود ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے پاکستان میں ایل این جی سیکٹر میں مسابقت کی صورتحال کے عنوان سے ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ملک کے مائع قدرتی گیس کے شعبے میں مسابقت کو درپیش ساختی، ضابطہ جاتی اور طرزِ عمل سے متعلق رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق، زیادہ سرمایہ لاگت والے منصوبے سرکاری سرپرستی یافتہ اداروں کے حق میں ہیں، جو نئے نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) جیسے اداروں کے درمیان مارکیٹ ارتکاز نے مسابقت کو مزید محدود کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ گیس سیکٹر میں گردشی قرضہ جنوری 2024 تک بڑھ کر 2,866 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس نے مسابقتی رکاوٹوں کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس قرضے کے بڑھنے کی بڑی وجوہات میں ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر (گزشتہ تین برسوں میں ٹیرف نہ بڑھایا جانا)، سیکٹر کی کارکردگی کی کمزوری (گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات)، اور سردیوں میں مہنگی آر ایل این جی کو گھریلو صارفین کی طرف موڑنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کے مطابق، ایل این جی سیکٹر میں فیصلوں کا عمل سوئی سدرن اور سوئی نادرن جیسے قریبی طور پر منسلک سرکاری اداروں کے غلبے میں ہے، جس کے باعث منصوبوں کی غیر شفاف ترجیحات قائم ہوتی ہیں جو اکثر مارکیٹ کی ضروریات کے بجائے سرکاری اداروں کے مفادات کے مطابق ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ
اگر سوئی کمپنیاں غیر حساب شدہ گیس نقصانات (یو ایف جی) کو کنٹرول کرنے کی سفارشات پر عملدرآمد کریں تو پاکستان کے ایل این جی مارکیٹ میں مسابقت میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔”
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے مطابق یو ایف جی سے مراد وہ گیس ہے جو مختلف تکنیکی وجوہات کی بنا پر گیس فیلڈز سے صارفین تک ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتی ہے۔
یہ نقصانات اس فرق کے طور پر ناپے جاتے ہیں جو ترسیلی نظام میں داخل کی گئی گیس کی مقدار اور صارفین تک پہنچنے والی گیس کی مقدار کے درمیان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں کے طویل المدتی معاہدے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور مسابقت کو محدود کرتے ہیں، جبکہ سبسڈی اور حکومتی ضمانتوں پر مبنی مالی معاونت جیسے عوامل نجی سرمایہ کاروں کے لیے غیر مساوی میدان پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سی سی پی نے ایل این جی مارکیٹ کو متاثر کرنے والے درج ذیل بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1 . درآمد، ذخیرہ اور ترسیل میں سرکاری اداروں کی اجارہ داری۔
2. لائسنسنگ اور ٹیرف کے سخت ضوابط جو نجی شعبے کی شمولیت کو محدود کرتے ہیں۔
3. انفراسٹرکچر تک رسائی میں رکاوٹیں اور تھرڈ پارٹی ایکسس  کے اصولوں کے سست عمل درآمد۔
4. گردشی قرضے کا 2,866 ارب روپے تک بڑھ جانا، جو ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر اور آر ایل این جی کی غلط سمت میں تقسیم کے باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے اصلاحات کے لیے چند اہم سفارشات بھی پیش کی ہیں، جن میں شامل ہیں:
ایل این جی درآمد کی منظوری کے لیے مرکزی رابطہ کمیٹی (سی سی سی) کے ذریعے ون اسٹاپ شاپ کا قیام۔
ایل این جی ٹرمینلز اور پائپ لائنز کے لیے تھرڈ پارٹی ایکسس  قوانین پر فوری عملدرآمد۔
سوئی کمپنیوں کے ترسیلی اور تقسیم کے نظام کو علیحدہ کرنا  تاکہ مسابقت کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
طلب کے درست تخمینے اور یو ایف جی نقصانات میں کمی کے لیے تین سالہ ہدفی منصوبے کی تیاری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے اوگرا آرڈیننس 2002 میں ترمیم کی سفارش بھی کی ہے تاکہ سرکاری اداروں کی ترسیلی و تقسیم کی علیحدگی کو قانونی بنیاد فراہم کی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، جاپان کے “گیس بزنس ایکٹ 2015” کی طرز پر کی جانے والی یہ ساختی اصلاحات مارکیٹ میں شفافیت اور رسائی کو بہتر بنائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، سی سی پی نے غیر حساب شدہ گیس نقصانات (یو ایف جی) میں کمی کے لیے تین سالہ منصوبہ تجویز کیا ہے، جس میں سالانہ کمی کے اہداف اور قانون و نظم کے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہوں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا یہ منصوبہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی پالیسیوں کے مطابق ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کہا ہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) جیسے سرکاری ادارے بنیادی انفراسٹرکچر پر کنٹرول رکھتے ہیں، جس کے باعث نجی اداروں کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مارکیٹ تک رسائی محدود ہے۔</strong></p>
<p>سی سی پی نے پاکستان میں ایل این جی سیکٹر میں مسابقت کی صورتحال کے عنوان سے ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ملک کے مائع قدرتی گیس کے شعبے میں مسابقت کو درپیش ساختی، ضابطہ جاتی اور طرزِ عمل سے متعلق رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p>تحقیق کے مطابق، زیادہ سرمایہ لاگت والے منصوبے سرکاری سرپرستی یافتہ اداروں کے حق میں ہیں، جو نئے نجی سرمایہ کاروں کی شمولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) جیسے اداروں کے درمیان مارکیٹ ارتکاز نے مسابقت کو مزید محدود کر رکھا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ گیس سیکٹر میں گردشی قرضہ جنوری 2024 تک بڑھ کر 2,866 ارب روپے تک پہنچ گیا، جس نے مسابقتی رکاوٹوں کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس قرضے کے بڑھنے کی بڑی وجوہات میں ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر (گزشتہ تین برسوں میں ٹیرف نہ بڑھایا جانا)، سیکٹر کی کارکردگی کی کمزوری (گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات)، اور سردیوں میں مہنگی آر ایل این جی کو گھریلو صارفین کی طرف موڑنا شامل ہیں۔</p>
<p>سی سی پی کے مطابق، ایل این جی سیکٹر میں فیصلوں کا عمل سوئی سدرن اور سوئی نادرن جیسے قریبی طور پر منسلک سرکاری اداروں کے غلبے میں ہے، جس کے باعث منصوبوں کی غیر شفاف ترجیحات قائم ہوتی ہیں جو اکثر مارکیٹ کی ضروریات کے بجائے سرکاری اداروں کے مفادات کے مطابق ہوتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ
اگر سوئی کمپنیاں غیر حساب شدہ گیس نقصانات (یو ایف جی) کو کنٹرول کرنے کی سفارشات پر عملدرآمد کریں تو پاکستان کے ایل این جی مارکیٹ میں مسابقت میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔”
وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کے مطابق یو ایف جی سے مراد وہ گیس ہے جو مختلف تکنیکی وجوہات کی بنا پر گیس فیلڈز سے صارفین تک ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتی ہے۔
یہ نقصانات اس فرق کے طور پر ناپے جاتے ہیں جو ترسیلی نظام میں داخل کی گئی گیس کی مقدار اور صارفین تک پہنچنے والی گیس کی مقدار کے درمیان ہوتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں کے طویل المدتی معاہدے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور مسابقت کو محدود کرتے ہیں، جبکہ سبسڈی اور حکومتی ضمانتوں پر مبنی مالی معاونت جیسے عوامل نجی سرمایہ کاروں کے لیے غیر مساوی میدان پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p><strong>سی سی پی نے ایل این جی مارکیٹ کو متاثر کرنے والے درج ذیل بنیادی مسائل کی نشاندہی کی ہے:</strong></p>
<p>1 . درآمد، ذخیرہ اور ترسیل میں سرکاری اداروں کی اجارہ داری۔
2. لائسنسنگ اور ٹیرف کے سخت ضوابط جو نجی شعبے کی شمولیت کو محدود کرتے ہیں۔
3. انفراسٹرکچر تک رسائی میں رکاوٹیں اور تھرڈ پارٹی ایکسس  کے اصولوں کے سست عمل درآمد۔
4. گردشی قرضے کا 2,866 ارب روپے تک بڑھ جانا، جو ٹیرف ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر اور آر ایل این جی کی غلط سمت میں تقسیم کے باعث ہے۔</p>
<p>سی سی پی نے اصلاحات کے لیے چند اہم سفارشات بھی پیش کی ہیں، جن میں شامل ہیں:
ایل این جی درآمد کی منظوری کے لیے مرکزی رابطہ کمیٹی (سی سی سی) کے ذریعے ون اسٹاپ شاپ کا قیام۔
ایل این جی ٹرمینلز اور پائپ لائنز کے لیے تھرڈ پارٹی ایکسس  قوانین پر فوری عملدرآمد۔
سوئی کمپنیوں کے ترسیلی اور تقسیم کے نظام کو علیحدہ کرنا  تاکہ مسابقت کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
طلب کے درست تخمینے اور یو ایف جی نقصانات میں کمی کے لیے تین سالہ ہدفی منصوبے کی تیاری۔</p>
<p>سی سی پی نے اوگرا آرڈیننس 2002 میں ترمیم کی سفارش بھی کی ہے تاکہ سرکاری اداروں کی ترسیلی و تقسیم کی علیحدگی کو قانونی بنیاد فراہم کی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، جاپان کے “گیس بزنس ایکٹ 2015” کی طرز پر کی جانے والی یہ ساختی اصلاحات مارکیٹ میں شفافیت اور رسائی کو بہتر بنائیں گی۔</p>
<p>مزید برآں، سی سی پی نے غیر حساب شدہ گیس نقصانات (یو ایف جی) میں کمی کے لیے تین سالہ منصوبہ تجویز کیا ہے، جس میں سالانہ کمی کے اہداف اور قانون و نظم کے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہوں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا یہ منصوبہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی پالیسیوں کے مطابق ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277777</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Oct 2025 09:34:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/05093107e0d98e3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/05093107e0d98e3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
