<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور سعودی عرب کا ٹرمپ امن منصوبے سے متعلق حماس کے ردِعمل پر تبادلہ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277772/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطین کاز( تحریک آزادی ) کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے متعلق حماس کے ردعمل سمیت حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عرب و اسلامی شراکت داروں سمیت عالمی برادری کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1974404763472253102"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا، جن میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک اور امریکہ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقاتیں اور مشاورتیں شامل تھیں۔ ان کوششوں کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا، اور غزہ میں دیرپا امن کا قیام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیرِ اعظم نے ان کوششوں میں سعودی وزیر خارجہ کی مستقل دلچسپی اور تعمیری کردار کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حماس نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ میں موجود تمام یرغمالیوں کو ٹرمپ کی جنگ بندی تجویز کے تحت طے شدہ فریم ورک کے مطابق رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں حماس نے کہا ہے کہ ”تحریک صدر ٹرمپ کی تجویز میں شامل تبادلے کے فارمولے کے مطابق تمام یرغمالیوں، زندہ اور مردہ، کی رہائی کی منظوری کا اعلان کرتی ہے،“ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ تفصیلات پر بات چیت کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے بیان نے ”جنگ بندی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ایک موقع پیدا کیا ہے، جسے ہمیں دوبارہ بند نہیں ہونے دینا چاہیے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ”الحمدللہ، ہم جنگ بندی کے اس قدر قریب ہیں جتنا کہ ہم فلسطینی عوام پر اس نسل کشی کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں تھے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادتوں کا بھی شکریہ ادا کرنا لازم ہے، جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صدر ٹرمپ سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ملاقات کی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ نے بھی ہفتے کے روز ایک اعلامیے میں صدر ٹرمپ کے منصوبے پر حماس کے ردِ عمل کا خیرمقدم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے مطابق ”یہ ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی خونریزی کا خاتمہ ہو، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے اور دیرپا امن کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی راہ ہموار کی جائے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطین کاز( تحریک آزادی ) کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے ہفتے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے سے متعلق حماس کے ردعمل سمیت حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔</strong></p>
<p>ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے عرب و اسلامی شراکت داروں سمیت عالمی برادری کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven media--tweet'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1974404763472253102"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے جاری سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا، جن میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک اور امریکہ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقاتیں اور مشاورتیں شامل تھیں۔ ان کوششوں کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی کا حصول، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنانا، اور غزہ میں دیرپا امن کا قیام ہے۔</p>
<p>نائب وزیرِ اعظم نے ان کوششوں میں سعودی وزیر خارجہ کی مستقل دلچسپی اور تعمیری کردار کو سراہا۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حماس نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ وہ غزہ میں موجود تمام یرغمالیوں کو ٹرمپ کی جنگ بندی تجویز کے تحت طے شدہ فریم ورک کے مطابق رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>اپنے بیان میں حماس نے کہا ہے کہ ”تحریک صدر ٹرمپ کی تجویز میں شامل تبادلے کے فارمولے کے مطابق تمام یرغمالیوں، زندہ اور مردہ، کی رہائی کی منظوری کا اعلان کرتی ہے،“ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ تفصیلات پر بات چیت کے لیے مذاکرات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔</p>
<p>دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز اس امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے بیان نے ”جنگ بندی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ایک موقع پیدا کیا ہے، جسے ہمیں دوبارہ بند نہیں ہونے دینا چاہیے۔“</p>
<p>وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس  پر اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ”الحمدللہ، ہم جنگ بندی کے اس قدر قریب ہیں جتنا کہ ہم فلسطینی عوام پر اس نسل کشی کے آغاز سے اب تک کبھی نہیں تھے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادتوں کا بھی شکریہ ادا کرنا لازم ہے، جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صدر ٹرمپ سے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے ملاقات کی ہے۔“</p>
<p>دفتر خارجہ نے بھی ہفتے کے روز ایک اعلامیے میں صدر ٹرمپ کے منصوبے پر حماس کے ردِ عمل کا خیرمقدم کیا ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے مطابق ”یہ ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کی خونریزی کا خاتمہ ہو، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہو، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے اور دیرپا امن کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی راہ ہموار کی جائے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277772</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Oct 2025 19:15:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/041847371b9ce39.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/041847371b9ce39.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
