<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حماس امن کے لیے تیار، اسرائیل غزہ پر بمباری روک دے، ٹرمپ کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277757/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حماس کی جانب سے 20 نکاتی امن منصوبے پر مثبت ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی صدر  ٹرمپ نے اسرائیل سے غزہ پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے امریکی امن منصوبے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی اور چند دیگر شرائط قبول کرلیں، تاہم ہتھیار ڈالنے جیسے پیچیدہ معاملات ابھی حل طلب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جواب کے بعد اسرائیل ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی یرغمالیوں کی رہائی پر فوری عملدرآمد کی تیاری کررہا ہے، اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے خبر دی کہ سیاسی قیادت نے فوج کو غزہ میں جارحانہ کارروائیاں کم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کے اعلان کے بعد دوبارہ بمباری کی اطلاعات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں فورسز کو ٹرمپ منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے نفاذ کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ فوجی کارروائی میں کمی لائی جائے گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے پر باضابطہ ردعمل دیا ہے۔ ٹرمپ نے گروہ کو اتوار تک کی مہلت دی تھی کہ یا تو شرائط قبول کرے یا سنگین نتائج کے لیے تیار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر جو خود کو غزہ میں امن قائم کرنے کی واحد قابل شخصیت قرار دیتے ہیں، اس دو سالہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بھرپور سیاسی سرمایہ لگا رہے ہیں۔ یہ جنگ اب تک دسیوں ہزار جانیں نگل چکی ہے اور اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنہائی کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک حماس نے پائیدار امن کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے اور اب ذمہ داری نیتن یاہو کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری روکنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو محفوظ اور تیزی سے نکال سکیں۔ یہ معاملہ صرف غزہ کا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کے تحت جنگ کو ان اصولوں کے مطابق ختم کرے گا جو اسرائیل نے طے کیے ہیں اور جو ٹرمپ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب غزہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ ٹرمپ کا پیغام سامنے آنے کے فوراً بعد اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ سٹی کی مرکزی شاہراہ تلاتینی اسٹریٹ پر گولہ باری کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عینی شاہدین کے مطابق حماس کے بیان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی اسرائیلی فضائیہ نے غزہ سٹی پر بمباری میں شدت پیدا کر دی اور رِمال محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خان یونس پر بھی حملے کیے گئے تاہم رہائشیوں کے مطابق وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حماس کی جانب سے 20 نکاتی امن منصوبے پر مثبت ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی صدر  ٹرمپ نے اسرائیل سے غزہ پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>حماس نے امریکی امن منصوبے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی اور چند دیگر شرائط قبول کرلیں، تاہم ہتھیار ڈالنے جیسے پیچیدہ معاملات ابھی حل طلب ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے جواب کے بعد اسرائیل ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی یرغمالیوں کی رہائی پر فوری عملدرآمد کی تیاری کررہا ہے، اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے خبر دی کہ سیاسی قیادت نے فوج کو غزہ میں جارحانہ کارروائیاں کم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔</p>
<p><strong>ٹرمپ کے اعلان کے بعد دوبارہ بمباری کی اطلاعات</strong></p>
<p>اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف نے اپنے بیان میں فورسز کو ٹرمپ منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے نفاذ کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے تاہم اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ فوجی کارروائی میں کمی لائی جائے گی یا نہیں۔</p>
<p>حماس نے امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے پر باضابطہ ردعمل دیا ہے۔ ٹرمپ نے گروہ کو اتوار تک کی مہلت دی تھی کہ یا تو شرائط قبول کرے یا سنگین نتائج کے لیے تیار ہو۔</p>
<p>امریکی صدر جو خود کو غزہ میں امن قائم کرنے کی واحد قابل شخصیت قرار دیتے ہیں، اس دو سالہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بھرپور سیاسی سرمایہ لگا رہے ہیں۔ یہ جنگ اب تک دسیوں ہزار جانیں نگل چکی ہے اور اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید تنہائی کا سامنا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نزدیک حماس نے پائیدار امن کے لیے آمادگی ظاہر کر دی ہے اور اب ذمہ داری نیتن یاہو کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری روکنی چاہیے تاکہ ہم یرغمالیوں کو محفوظ اور تیزی سے نکال سکیں۔ یہ معاملہ صرف غزہ کا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کا ہے۔</p>
<p>نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون کے تحت جنگ کو ان اصولوں کے مطابق ختم کرے گا جو اسرائیل نے طے کیے ہیں اور جو ٹرمپ کے وژن سے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب غزہ کے رہائشیوں نے بتایا کہ ٹرمپ کا پیغام سامنے آنے کے فوراً بعد اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ سٹی کی مرکزی شاہراہ تلاتینی اسٹریٹ پر گولہ باری کی۔</p>
<p>عینی شاہدین کے مطابق حماس کے بیان کے ایک گھنٹے کے اندر ہی اسرائیلی فضائیہ نے غزہ سٹی پر بمباری میں شدت پیدا کر دی اور رِمال محلے میں کئی گھروں کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>خان یونس پر بھی حملے کیے گئے تاہم رہائشیوں کے مطابق وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277757</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Oct 2025 11:14:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/04104206b4a32ee.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/04104206b4a32ee.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
