<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:05:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ جانے والے فلوٹیلا روکنے پر اسرائیلی وزیرِاعظم کا بحریہ کو خراجِ تحسین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277734/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے جمعرات کو بحریہ کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی کارروائی کی۔ اس فلوٹیلا میں تقریباً 45 جہاز شامل تھے جن پر سیاست دان اور سماجی کارکنان سوار تھے، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام کے مطابق بدھ سے اب تک ایک ایک کرکے کئی جہازوں کو روکا گیا اور 41 جہازوں پر سوار 400 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے تقریباً 12 گھنٹے طویل کارروائی میں ان جہازوں کو اشدود کی بندرگاہ پر لنگر انداز کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام مسافر محفوظ ہیں اور کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونانی وزیرِخارجہ کے مطابق جہازوں پر موجود 11 یونانی کارکن بھوک ہڑتال پر ہیں تاکہ اپنی غیرقانونی حراست کے خلاف احتجاج کرسکیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ تمام کارکنوں کو یورپ واپس بھیج دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کارروائی کو دھونس اور خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے غزہ پر غیرقانونی محاصرے کے ناقدین کو خاموش کرانے کے مترادف ہے۔ حماس نے بھی اسے سمندری قزاقی اور دہشت گردی قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ نے اس واقعے کو دہشت گردانہ عمل کہا اور اپنے شہریوں کی گرفتاری پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اسپین نے اسرائیل کے سفیر کو طلب کیا جبکہ میکسیکو نے اپنے 6 شہریوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے بھی کارکنوں کی رہائی پر زور دیا، جن میں نیلسن منڈیلا کے نواسے منڈلا منڈیلا بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران اٹلی میں فلوٹیلا کی حمایت میں مظاہرے اور ہڑتالیں جاری ہیں، جب کہ وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے حق میں فائدہ مند نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ کی جنگ کے خلاف دنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے جمعرات کو بحریہ کے جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کی کارروائی کی۔ اس فلوٹیلا میں تقریباً 45 جہاز شامل تھے جن پر سیاست دان اور سماجی کارکنان سوار تھے، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔</strong></p>
<p>اسرائیلی حکام کے مطابق بدھ سے اب تک ایک ایک کرکے کئی جہازوں کو روکا گیا اور 41 جہازوں پر سوار 400 سے زائد کارکنان کو حراست میں لیا گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے تقریباً 12 گھنٹے طویل کارروائی میں ان جہازوں کو اشدود کی بندرگاہ پر لنگر انداز کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام مسافر محفوظ ہیں اور کوئی تشدد نہیں کیا گیا۔</p>
<p>یونانی وزیرِخارجہ کے مطابق جہازوں پر موجود 11 یونانی کارکن بھوک ہڑتال پر ہیں تاکہ اپنی غیرقانونی حراست کے خلاف احتجاج کرسکیں۔ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ تمام کارکنوں کو یورپ واپس بھیج دیا جائے گا۔</p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس کارروائی کو دھونس اور خوفزدہ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے غزہ پر غیرقانونی محاصرے کے ناقدین کو خاموش کرانے کے مترادف ہے۔ حماس نے بھی اسے سمندری قزاقی اور دہشت گردی قرار دیا۔</p>
<p>ترکیہ نے اس واقعے کو دہشت گردانہ عمل کہا اور اپنے شہریوں کی گرفتاری پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اسپین نے اسرائیل کے سفیر کو طلب کیا جبکہ میکسیکو نے اپنے 6 شہریوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ جنوبی افریقہ نے بھی کارکنوں کی رہائی پر زور دیا، جن میں نیلسن منڈیلا کے نواسے منڈلا منڈیلا بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اس دوران اٹلی میں فلوٹیلا کی حمایت میں مظاہرے اور ہڑتالیں جاری ہیں، جب کہ وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے حق میں فائدہ مند نہیں۔</p>
<p>یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب غزہ کی جنگ کے خلاف دنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی بڑھ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277734</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 11:58:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/031156540e04a6d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/031156540e04a6d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
