<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:28:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آخری لمحات میں فروخت کے دباؤ سے دن بھر کی تیزی محدود، تاہم 100 انڈیکس نئی تاریخی بلند سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277721/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعہ کو نئی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جس کی وجہ ماکرو اکنامک استحکام میں بہتری اور مضبوط کارپوریٹ منافع کو تجزیہ کاروں نے اس ریکارڈ کارکردگی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل نویں سیشن میں مثبت زون بند ہوا، جو کاروباری دن کے دوران بلند ترین سطح  169,988.62 پوائنٹس تک پہنچا، تاہم بعد میں فروخت نے انٹرا ڈے کی تیزی کو محدود کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 500.45 پوائنٹس یا 0.30 فیصد اضافے کے ساتھ 168,990.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں جاری تیزی کا تعلق مثبت معاشی اشاریوں اور مارکیٹ میں اضافی لیکویڈیٹی کی دستیابی سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ ”مارکیٹ میں تیزی کا رجحان بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام، مضبوط کارپوریٹ آمدنی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی فراہمی تسلی بخش ہے، جو کلیدی شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کو سہارا دے رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈیکس میں مثبت شراکت کا سب سے بڑا حصہ ایف ایف سی، یو بی ایل، حبک، ایس وائی ایس اور اے آئی سی ایل نے دیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 980 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ بینکنگ سیکٹر میں کل کی تیزی کے بعد اس سیکٹر میں کچھ منافع خوری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں ایم ای بی ایل، ایم سی بی، ایچ بی ایل اور بی اے ایچ ایل نے مجموعی طور پر 577 پوائنٹس کا نقصان پہنچایا، جس سے انڈیکس پر منفی اثر پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں بھی مثبت اور مضبوط ٹریڈنگ سیشن دیکھنے میں آیا تھا، جہاں بڑے انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا جو بنیادی طور پر ادارہ جاتی خریداری کے باعث تھا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 2,849.29 پوائنٹس یا 1.72 فیصد بڑھ کر 168,489.63 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیاد پر کے ایس ای 100 انڈیکس نے 4.15 فیصد کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں جمعے کے روز یہ تیزی مسلسل خریداری کی وجہ سے آئی جو کہ میوچل فنڈز اور افراد کی جانب سے کی گئی جبکہ دیگر سرمایہ کاری کے شعبے پر کم منافع کی صورتحال رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کے روز ایشیائی اسٹاکس ہفتہ وار بنیاد پر مضبوط اضافے کے قریب تھے کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں جلد کمی کے امکانات نے امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے خدشات کو کم کیا، جس نے سونے کی قیمت کو ریکارڈ بلندی تک پہنچا دیا اور ڈالر پر دباؤ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں نے زیادہ تر حکومتی شٹ ڈاؤن کو نظرانداز کیا ہے، جو 1981 کے بعد 15واں شٹ ڈاؤن ہے، حالانکہ اس سے سائنسی تحقیق، مالی نگرانی معطل اور اہم معاشی اعدادوشمار بشمول جمعہ کو جاری ہونے والی روزگار رپورٹ میں تاخیر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر شٹ ڈاؤنز کا معاشی نمو اور مارکیٹ پرفارمنس پر محدود اثر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس 0.14 فیصد بڑھا، جو جمعرات کو چھوئی گئی ریکارڈ سطح کے قریب رہا۔ یہ انڈیکس ہفتے کے دوران 2 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دکھانے والا تھا اور رواں سال اب تک 23 فیصد بڑھ چکا ہے۔ چین اور ایشیا کے کچھ حصے طویل تعطیل کی وجہ سے بند ہونے کے باعث خطے میں ٹریڈنگ کے حجم کم رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکئی انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں 0.75 فیصد اوپر رہا، جو گزشتہ ماہ چھوئی گئی ریکارڈ سطح سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ اضافہ اس اہم ویک اینڈ ووٹ سے قبل آیا ہے جو اگلے وزیراعظم کے انتخاب اور مالی و مانیٹری پالیسی کے رجحان کا تعین کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی مارکیٹس وال اسٹریٹ سے رہنمائی لے رہی ہیں، جہاں تینوں بڑے انڈیکس ریکارڈ بلندیوں پر بند ہوئے۔ اس رجحان کو بالخصوص ٹیکنالوجی اسٹاکس نے سہارا دیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کا اے آئی سے متعلقہ کمپنیوں کے حوالے سے جوش برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء جمعہ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 281.26 کی سطح پر بند ہوا جو امریکی کرنسی کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس کا حجم معمولی کمی کے ساتھ 1,573.35 ملین شیئرز رہا جو پچھلے سیشن کے 1,573.40 ملین شیئرز سے کم ہے۔ شیئرز کی مجموعی مالیت 78.67 ارب روپے تک بڑھ گئی جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 70.19 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حجم کے لحاظ سے سینرجیکو پاکستان پہلے نمبر پر رہا جس کے 211.44 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 131.82 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 103.93 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 201 کے شیئرز میں اضافہ، 254 میں کمی اور 30 کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/0319114376ad341.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس جمعہ کو نئی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جس کی وجہ ماکرو اکنامک استحکام میں بہتری اور مضبوط کارپوریٹ منافع کو تجزیہ کاروں نے اس ریکارڈ کارکردگی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل نویں سیشن میں مثبت زون بند ہوا، جو کاروباری دن کے دوران بلند ترین سطح  169,988.62 پوائنٹس تک پہنچا، تاہم بعد میں فروخت نے انٹرا ڈے کی تیزی کو محدود کر دیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 500.45 پوائنٹس یا 0.30 فیصد اضافے کے ساتھ 168,990.07 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق مارکیٹ میں جاری تیزی کا تعلق مثبت معاشی اشاریوں اور مارکیٹ میں اضافی لیکویڈیٹی کی دستیابی سے ہے۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ ”مارکیٹ میں تیزی کا رجحان بہتر ہوتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام، مضبوط کارپوریٹ آمدنی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کی فراہمی تسلی بخش ہے، جو کلیدی شعبوں میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کو سہارا دے رہی ہے۔“</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ انڈیکس میں مثبت شراکت کا سب سے بڑا حصہ ایف ایف سی، یو بی ایل، حبک، ایس وائی ایس اور اے آئی سی ایل نے دیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 980 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ بینکنگ سیکٹر میں کل کی تیزی کے بعد اس سیکٹر میں کچھ منافع خوری دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں ایم ای بی ایل، ایم سی بی، ایچ بی ایل اور بی اے ایچ ایل نے مجموعی طور پر 577 پوائنٹس کا نقصان پہنچایا، جس سے انڈیکس پر منفی اثر پڑا۔</p>
<p>جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں بھی مثبت اور مضبوط ٹریڈنگ سیشن دیکھنے میں آیا تھا، جہاں بڑے انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا جو بنیادی طور پر ادارہ جاتی خریداری کے باعث تھا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 2,849.29 پوائنٹس یا 1.72 فیصد بڑھ کر 168,489.63 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>ہفتہ وار بنیاد پر کے ایس ای 100 انڈیکس نے 4.15 فیصد کا اضافہ کیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں جمعے کے روز یہ تیزی مسلسل خریداری کی وجہ سے آئی جو کہ میوچل فنڈز اور افراد کی جانب سے کی گئی جبکہ دیگر سرمایہ کاری کے شعبے پر کم منافع کی صورتحال رہی۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کے روز ایشیائی اسٹاکس ہفتہ وار بنیاد پر مضبوط اضافے کے قریب تھے کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں جلد کمی کے امکانات نے امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے خدشات کو کم کیا، جس نے سونے کی قیمت کو ریکارڈ بلندی تک پہنچا دیا اور ڈالر پر دباؤ ڈالا۔</p>
<p>سرمایہ کاروں نے زیادہ تر حکومتی شٹ ڈاؤن کو نظرانداز کیا ہے، جو 1981 کے بعد 15واں شٹ ڈاؤن ہے، حالانکہ اس سے سائنسی تحقیق، مالی نگرانی معطل اور اہم معاشی اعدادوشمار بشمول جمعہ کو جاری ہونے والی روزگار رپورٹ میں تاخیر ہوئی ہے۔</p>
<p>اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ تاریخی طور پر شٹ ڈاؤنز کا معاشی نمو اور مارکیٹ پرفارمنس پر محدود اثر رہا ہے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک انڈیکس 0.14 فیصد بڑھا، جو جمعرات کو چھوئی گئی ریکارڈ سطح کے قریب رہا۔ یہ انڈیکس ہفتے کے دوران 2 فیصد سے زیادہ کا اضافہ دکھانے والا تھا اور رواں سال اب تک 23 فیصد بڑھ چکا ہے۔ چین اور ایشیا کے کچھ حصے طویل تعطیل کی وجہ سے بند ہونے کے باعث خطے میں ٹریڈنگ کے حجم کم رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>جاپان کا نکئی انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں 0.75 فیصد اوپر رہا، جو گزشتہ ماہ چھوئی گئی ریکارڈ سطح سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ اضافہ اس اہم ویک اینڈ ووٹ سے قبل آیا ہے جو اگلے وزیراعظم کے انتخاب اور مالی و مانیٹری پالیسی کے رجحان کا تعین کرے گا۔</p>
<p>ایشیائی مارکیٹس وال اسٹریٹ سے رہنمائی لے رہی ہیں، جہاں تینوں بڑے انڈیکس ریکارڈ بلندیوں پر بند ہوئے۔ اس رجحان کو بالخصوص ٹیکنالوجی اسٹاکس نے سہارا دیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کا اے آئی سے متعلقہ کمپنیوں کے حوالے سے جوش برقرار ہے۔</p>
<p>دریں اثناء جمعہ کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 281.26 کی سطح پر بند ہوا جو امریکی کرنسی کے مقابلے میں ایک پیسے کا اضافہ ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس کا حجم معمولی کمی کے ساتھ 1,573.35 ملین شیئرز رہا جو پچھلے سیشن کے 1,573.40 ملین شیئرز سے کم ہے۔ شیئرز کی مجموعی مالیت 78.67 ارب روپے تک بڑھ گئی جبکہ پچھلے سیشن میں یہ 70.19 ارب روپے تھی۔</p>
<p>حجم کے لحاظ سے سینرجیکو پاکستان پہلے نمبر پر رہا جس کے 211.44 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب کے 131.82 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 103.93 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔</p>
<p>جمعہ کے روز مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں سے 201 کے شیئرز میں اضافہ، 254 میں کمی اور 30 کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/10/0319114376ad341.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277721</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 20:30:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/0310142811aac25.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/0310142811aac25.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
