<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، اسٹیٹ بینک کا حکومتی ادائیگیاں راست کے ذریعے کرنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277710/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈیجیٹل ذرائع سے بڑی ادائیگیوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک تمام سرکاری ادائیگیاں راست، ملک کے فوری ادائیگی کے نظام، کے ذریعے کی جائیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ایک مطالعاتی رپورٹ ‘راست پر مرچنٹ پیمنٹس: موثر اور جامع قیمتوں کا تعین’ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری منصوبہ بندی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک تمام سرکاری ادائیگیاں رااست کے ذریعے منتقل کر دی جائیں۔ اس حوالے سے ہم بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے راست پر کاروباری افراد (مرچنٹس) کو شامل کرنے اور ان کا مالی بوجھ بانٹنے کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ انہیں ڈیجیٹل ادائیگی کے اس پلیٹ فارم پر لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق افراد سے تاجروں ( پرسن ٹو مرچنٹ/ پی ٹو ایم ) کے درمیان کیو آر کوڈ پر مبنی رااست ٹرانزیکشنز کے لیے متعارف کرایا گیا سبسڈی پروگرام صرف مالی سال 2025-26 تک محدود نہیں بلکہ یہ تین سالہ منصوبہ ہے۔ حکومت رواں ماہ کے آغاز میں ستمبر 2025 سے جون 2026 کے لیے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ ”اس سبسڈی کا مقصد مرچنٹس کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنانے کی لاگت کو صفر یا کم سے کم سطح پر رکھنا ہے۔ یہ سبسڈی ہر راست پی ٹو ایم کیو آر کوڈ ٹرانزیکشن کی مالیت کا 0.5 فیصد یا 100 روپے، جو بھی کم ہو، کی شرح سے ادا کی جائے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ معیشت میں 11.2 سے 11.3 کھرب روپے نقد گردش میں موجود ہیں اور اگر 2.5 سے 3 کھرب روپے تک کی رقم کو بینکاری نظام میں واپس لایا جائے تو اس سے بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ ہوگا اور غیر دستاویزی و غیر رسمی معیشت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ ”ہمارا اصل ہدف نقدی کے خلاف جنگ جیتنا ہے اور یہ صرف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان شراکت داری اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سے معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن میں تیزی آئے گی اور جامع ترقی کی رفتار بڑھے گی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسٹڈی اقوام متحدہ سے منسلک ”بیٹر دھین کیش الائنس“ نے اسٹیٹ بینک، مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر صنعتوں کے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کی ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ راست پر پی ٹو ایم لین دین پر مرچنٹس کو فیس کی ادائیگی کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان آئندہ 3 برسوں میں کیش لیس معیشت کی جانب جا سکتا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹر دھین کیش الائنس کی مینیجنگ ڈائریکٹر ایل نشوتی مبابازی نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ تین برسوں کے اندر کیش لیس معیشت بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو تین برس سے بھی کم عرصے میں کیش لیس معیشت کی طرف جانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے پاس تمام ضروری اجزاء موجود ہیں۔ یہاں موجود بینک اس رجحان میں دلچسپی رکھتے ہیں، انفرااسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی بھی میسر ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ جب کاروباری امکانات واضح ہوں گے تو انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری خودبخود آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیٹر دھین کیش الائنس کی مینیجنگ ڈائریکٹر ایل نشوتی مبابازی نے زور دیا کہ ریگولیٹرز اور حکومت ایسے موثر پالیسی اقدامات کریں جو ایک جامع ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام قائم کریں، جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے، اور معیشت میں موجود کھربوں روپے کی نقد رقم کو متحرک کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;راست پر فیس کی تجویز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان لیڈز اور بیٹر دین کیش الائنس سے وابستہ رضا ماتین نے کہا کہ جاری کردہ اسٹڈی میں تجویز دی گئی ہے کہ بیشتر شعبوں میں 0.35 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ( ایم ڈی آر) کی کم از کم شرح مقرر کی جائے تاکہ ان اداروں کے کاروباری ماڈلز کو تحفظ دیا جا سکے جو لین دین کے علاوہ آمدنی کے دیگر ذرائع نہیں رکھتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم سفارشات میں شامل نکات:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن، تعلیم، یوٹیلیٹی جیسے قیمت کے حوالے سے حساس شعبوں کے لیے مخصوص نرخ مقرر کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای کامرس جیسے زیادہ خطرے والے شعبوں کے لیے الگ فیس ڈھانچہ وضع کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرچنٹس پر بوجھ کم کرنے کے لیے اجراء کنندگان ( اشوورز) کی انٹرچینج فیس مکمل طور پر ختم کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;300 روپے سے کم مائیکرو ٹرانزیکشنز کے لیے صفر فیس متعارف کروائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرچنٹس کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ابتدائی مرحلے میں پی ٹو ایم  ڈیٹا کو ٹیکس نفاذ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رضا متین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے فیس سے متعلق تجاویز اس لیے دی ہیں کیونکہ آن لائن لین دین کی ایک لاگت ہوتی ہے۔ تاہم، راست پر فرد سے فرد ( پی ٹو پی ) ٹرانزیکشنز پر نہ تو کوئی قیمت عائد ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سفارش کی گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ڈیجیٹل ذرائع سے بڑی ادائیگیوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام تک تمام سرکاری ادائیگیاں راست، ملک کے فوری ادائیگی کے نظام، کے ذریعے کی جائیں گی۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے ایک مطالعاتی رپورٹ ‘راست پر مرچنٹ پیمنٹس: موثر اور جامع قیمتوں کا تعین’ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری منصوبہ بندی ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک تمام سرکاری ادائیگیاں رااست کے ذریعے منتقل کر دی جائیں۔ اس حوالے سے ہم بھرپور انداز میں کام کر رہے ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے راست پر کاروباری افراد (مرچنٹس) کو شامل کرنے اور ان کا مالی بوجھ بانٹنے کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ انہیں ڈیجیٹل ادائیگی کے اس پلیٹ فارم پر لایا جا سکے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق افراد سے تاجروں ( پرسن ٹو مرچنٹ/ پی ٹو ایم ) کے درمیان کیو آر کوڈ پر مبنی رااست ٹرانزیکشنز کے لیے متعارف کرایا گیا سبسڈی پروگرام صرف مالی سال 2025-26 تک محدود نہیں بلکہ یہ تین سالہ منصوبہ ہے۔ حکومت رواں ماہ کے آغاز میں ستمبر 2025 سے جون 2026 کے لیے 3.5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کر چکی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے بتایا کہ ”اس سبسڈی کا مقصد مرچنٹس کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنانے کی لاگت کو صفر یا کم سے کم سطح پر رکھنا ہے۔ یہ سبسڈی ہر راست پی ٹو ایم کیو آر کوڈ ٹرانزیکشن کی مالیت کا 0.5 فیصد یا 100 روپے، جو بھی کم ہو، کی شرح سے ادا کی جائے گی۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ معیشت میں 11.2 سے 11.3 کھرب روپے نقد گردش میں موجود ہیں اور اگر 2.5 سے 3 کھرب روپے تک کی رقم کو بینکاری نظام میں واپس لایا جائے تو اس سے بینکوں، فِن ٹیک اداروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ ہوگا اور غیر دستاویزی و غیر رسمی معیشت کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>ڈپٹی گورنر کا کہنا تھا کہ ”ہمارا اصل ہدف نقدی کے خلاف جنگ جیتنا ہے اور یہ صرف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان شراکت داری اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سے معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن میں تیزی آئے گی اور جامع ترقی کی رفتار بڑھے گی۔“</p>
<p>یہ اسٹڈی اقوام متحدہ سے منسلک ”بیٹر دھین کیش الائنس“ نے اسٹیٹ بینک، مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر صنعتوں کے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کی ہے، جس میں سفارش کی گئی ہے کہ راست پر پی ٹو ایم لین دین پر مرچنٹس کو فیس کی ادائیگی کی جائے۔</p>
<p><strong>پاکستان آئندہ 3 برسوں میں کیش لیس معیشت کی جانب جا سکتا ہے</strong></p>
<p>بیٹر دھین کیش الائنس کی مینیجنگ ڈائریکٹر ایل نشوتی مبابازی نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ تین برسوں کے اندر کیش لیس معیشت بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو تین برس سے بھی کم عرصے میں کیش لیس معیشت کی طرف جانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے پاس تمام ضروری اجزاء موجود ہیں۔ یہاں موجود بینک اس رجحان میں دلچسپی رکھتے ہیں، انفرااسٹرکچر اور کنیکٹیویٹی بھی میسر ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ جب کاروباری امکانات واضح ہوں گے تو انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری خودبخود آئے گی۔</p>
<p>بیٹر دھین کیش الائنس کی مینیجنگ ڈائریکٹر ایل نشوتی مبابازی نے زور دیا کہ ریگولیٹرز اور حکومت ایسے موثر پالیسی اقدامات کریں جو ایک جامع ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام قائم کریں، جہاں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے، اور معیشت میں موجود کھربوں روپے کی نقد رقم کو متحرک کیا جا سکے۔</p>
<p><strong>راست پر فیس کی تجویز</strong></p>
<p>پاکستان لیڈز اور بیٹر دین کیش الائنس سے وابستہ رضا ماتین نے کہا کہ جاری کردہ اسٹڈی میں تجویز دی گئی ہے کہ بیشتر شعبوں میں 0.35 فیصد مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ ( ایم ڈی آر) کی کم از کم شرح مقرر کی جائے تاکہ ان اداروں کے کاروباری ماڈلز کو تحفظ دیا جا سکے جو لین دین کے علاوہ آمدنی کے دیگر ذرائع نہیں رکھتے۔</p>
<p>اہم سفارشات میں شامل نکات:</p>
<p>ایندھن، تعلیم، یوٹیلیٹی جیسے قیمت کے حوالے سے حساس شعبوں کے لیے مخصوص نرخ مقرر کیے جائیں۔</p>
<p>ای کامرس جیسے زیادہ خطرے والے شعبوں کے لیے الگ فیس ڈھانچہ وضع کیا جائے۔</p>
<p>مرچنٹس پر بوجھ کم کرنے کے لیے اجراء کنندگان ( اشوورز) کی انٹرچینج فیس مکمل طور پر ختم کی جائے۔</p>
<p>300 روپے سے کم مائیکرو ٹرانزیکشنز کے لیے صفر فیس متعارف کروائی جائے۔</p>
<p>مرچنٹس کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ ابتدائی مرحلے میں پی ٹو ایم  ڈیٹا کو ٹیکس نفاذ کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>رضا متین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے فیس سے متعلق تجاویز اس لیے دی ہیں کیونکہ آن لائن لین دین کی ایک لاگت ہوتی ہے۔ تاہم، راست پر فرد سے فرد ( پی ٹو پی ) ٹرانزیکشنز پر نہ تو کوئی قیمت عائد ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سفارش کی گئی ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277710</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Oct 2025 09:50:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/03095046593e970.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/03095046593e970.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
