<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واشنگٹن میں حکومتی شٹ ڈاؤن، بیجنگ میں سرگرمیاں عروج پر؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40277703/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیجنگ سے واشنگٹن کا شٹ ڈاؤن دیکھ کر کامریڈ شی (چینی صدر) کی خاموش مسکراہٹ دیدنی رہی ہوگی۔ کرنسی کی عالمی سیاست میں، ڈالر پر مبنی نظام اگر داخلی خلفشار میں الجھ جائے تو یوآن کی مستحکم تصویر سے بہتر اشتہار اور کیا ہوسکتا ہے؟ رینمنبی اور کیا چاہے گا، جب امریکی ڈالر اپنی ہی مالیاتی بدنظمی میں اس قدر الجھ جائے کہ یہ بھول جائے کہ وہ اب بھی دنیا کا ریزرو کرنسی ہے؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈالر زمین بوس ہورہا ہے یا  یوآن تخت پر براجمان ہونے کو ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا نے چین کے حق میں اپنے مالیاتی جھکاؤ کا وقت چُننے میں کمال نہیں کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے وقت میں جب امریکی اقتصادی اشاریے بےچین منڈیوں کو تسلی دینے کے لیے درکار تھے، نظام کی بجلی ہی کٹ گئی۔ بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس خاموش ہوگیا، تنخواہوں کے اعدادوشمار تاخیر کا شکار ہوئے، اور فیڈرل ریزرو کو اپنی اگلی پالیسی فیصلہ سازی اندھیرے میں کرنا پڑی۔ نہ کوئی قدرتی آفت، نہ سائبر حملہ، بلکہ محض یہ کہ دنیا کی سب سے طاقتور حکومت اپنے بلوں کی ادائیگی پر اتفاق نہیں کر سکی۔ یہ تکنیکی دیوالیہ پن نہ سہی لیکن عملی طور پر کیا یہ اُس سے بدتر نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ڈالر کی ساکھ ایک اور خود ساختہ زخم سہتی ہے، اُدھر  یوآن خاموشی سے زرِ مبادلہ کی درجہ بندیوں میں اوپر چڑھتا جا رہا ہے۔ بینک برائے بین الاقوامی تصفیہ جات (بی آئی ایس) کے مطابق   یوآن کی روزانہ تجارت 817 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اب وہ برطانوی پاؤنڈ کے برابر آ کھڑا ہوا ہے۔ عالمی کرنسی تجارت میں اس کا حصہ 8.5 فیصد ہو چکا ہے، جو 2022 میں 7 فیصد تھا جبکہ پاؤنڈ 10.2 فیصد سے نیچے جا چکا ہے۔ کیا یہ کہنا بعید از قیاس ہے کہ اگلے بی آئی ایس چکر میں  یوآن اسے پیچھے چھوڑ دے؟ یا اب یہی بنیادی امکان بن چکا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلز بینک آف چائنا کے سربراہ پان گونگ شینگ تو یہی سمجھتے ہیں۔ جون میں شنگھائی میں کی گئی اپنی تقریر میں وہ صرف ایک کثیر قطبی مالیاتی نظام پر غور ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ گویا اس کی خاکہ بندی کر رہے تھے۔ چاہے وہ ڈیجیٹل  یوآن کے آپریشن سینٹرز ہوں یا  یوآن فیوچرز مارکیٹس، ان کا مرکزی بینک کسی عالمی اتفاقِ رائے کا انتظار نہیں کر رہا، بلکہ وہ ”بعد از ڈالر“ دنیا کا انفرااسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے جبکہ باقی دنیا ابھی یہی طے کر رہی ہے کہ موجودہ نظام کام بھی کر رہا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور سرمایہ کار بھی اس تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں۔ اور وہ صرف سونے جیسے روایتی محفوظ اثاثوں میں سرمایہ محفوظ نہیں کر رہے بلکہ ڈالر سے ہٹ کر دیگر مالیاتی متبادلات کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جسے مارکیٹ نے مکمل طور پر قیمت میں شامل نہیں کیا: یہ صرف روایتی خطرے سے بچاؤ کی پرواز نہیں، بلکہ یہ ممکنہ طور پر امریکی مالیاتی نظم و نسق کے زوال، یا کم از کم اُس کے عدم استحکام، کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ ٹرمپ دور کے شٹ ڈاؤن کا انتشار، سیاسی بنیادوں پر فیڈ کی تقرریاں اور ٹیرف جنگوں سے لبریز تجارتی پالیسی، یہ سب مل کر سرمائے کو نئی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ جب ڈالر کا مقام ایک سہارا بننے کے بجائے ایک جغرافیائی سیاسی خطرہ بن جائے، تو پھر اس کی ریزرو حیثیت کا کیا بنے گا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ امریکی خزانے کی پیداوار (ٹریژری ییلڈز) اب بھی توجہ حاصل کرتی ہے اور موثر فیڈ فنڈز ریٹ 4.09 فیصد کے آس پاس منڈلا رہا ہے، جبکہ ہدفی دائرہ 4.00 سے 4.25 فیصد ہے، لیکن اصل دباؤ کہیں اور ہے۔ پالیسی ریٹ کس کام کا، جب مارکیٹیں آپ کی خودمختاری پر سوال اٹھانے لگیں؟ کیا ہیج کریں جب آپ کی ریزرو کرنسی سیاسی خطرے اور ادارہ جاتی دراڑوں کا شکار ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور فائدہ کسے ہوتا ہے جب اعداد و شمار کی تاریکی جنگ یا موسم کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض سرکاری نااہلی کا نتیجہ ہو؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوآن کے عالمی استعمال کی شرح شاید اب بھی محدود ہو، اگست تک عالمی بینکنگ نیٹ ورک (سوئفٹ) کے لین دین میں صرف 2.9 فیصد، لیکن اصل نکتہ یہ نہیں۔ اصل بات رجحان کی مستقل مزاجی ہے۔ چین کی سرمائے پر پابندیاں نرم ہو رہی ہیں، مالیاتی مصنوعات کی اقسام بڑھ رہی ہیں اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت اب وہ کردار ادا کر رہی ہے جو کبھی امریکہ کرتا تھا، یعنی چین اب اپنی معیشت یا مالی نظام کی ایسی خصوصیت دنیا کو فراہم کر رہا ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکے اور جس کی بنیاد پر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حتیٰ کہ سوئس فرانک، جو ایک غیر جانب دار حفاظتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اب روزانہ کی تجارت میں آسٹریلوی اور کینیڈین ڈالر سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ کیا یہ قابلِ غور اشارہ نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً ان عوامل سے یہ لازم نہیں آتا کہ چین کرنسی کی اس جنگ میں فاتح ہوگا۔ یوآن اب بھی مکمل طور پر قابلِ تبادلہ نہیں، بیجنگ مالیاتی منڈی میں آزادانہ مداخلت کرتا ہے اور معیشت عمومی طور پر افراطِ زر کی بجائے عمومی معاشی جمود کے ساتھ گرتی ہوئی قیمتوں (ڈیفلیشن) کے دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن اس مقابلے میں چین کو جیتنے کی ضرورت نہیں، اسے صرف اتنا درکار ہے کہ امریکہ یہ کھیل اسی طرح خراب انداز میں جاری رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر شٹ ڈاؤن، ہر منسوخ شدہ بانڈ نیلامی، ہر تاخیر زدہ اعداد و شمار اور ہر وہ ٹرمپ ٹویٹ جس میں فیڈ چیئر کو برطرف کرنے کی بات کی جاتی ہے، یہ سب ڈالر سے وفاداری کی قیمت بڑھاتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر کیا تعجب ہے اگر مرکزی بینک سونے کی طرف متوجہ ہوں، تجارتی شراکت دار ڈالر کے بغیر انوائسنگ کے طریقے ڈھونڈیں، یا نجی فنڈز یوآن میں سرمایہ کاری کو آزمانا شروع کر دیں؟ یہ فیصلے نظریات کی نہیں، بلکہ مالی خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی ( رسک مینجمنٹ) کا معاملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اور یورپ کا کیا حال ہے؟ لاگاردے کا حالیہ بیجنگ کا دورہ محض نمائشی نہیں تھا۔ یورپی مرکزی بینک کی صدر صرف چائے پینے نہیں گئی تھیں۔ ان کی “ یورو کے عالمی دور“ کی بات ابھی قبل از وقت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ امریکہ کی مالی قیادت پر اجارہ داری کمزور ہو رہی ہے۔ یہ جگہ برسلز، بیجنگ، یا ایس ڈی آر کے ایک مجموعے سے بھرے گی یا نہیں، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ لیکن کیا اس وقت کوئی واشنگٹن پر شرط لگا رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکی معیشت نسبتاً مضبوط ہے۔ مہنگائی کم ہو رہی ہے، جی ڈی پی کے اعداد و شمار ٹھوس ہیں اور روزگار کی صورتحال مستحکم ہے۔ پھر بھی ڈالر کا اعتماد بخش پریمیم آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ہمیں مارکیٹ کے ادارہ جاتی دیانت داری کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریر کے وقت، یورپی وسط دن کے سیشن میں، جب امریکی بازار بدھ کو کھلنے والے تھے، سرمایہ کار ابھی بھی شٹ ڈاؤن کی کشمکش اور اس کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن جزوی مارکیٹ کی صورتحال بھی ایک گہرا سوال اٹھا گئی: اگر ڈالر اس وقت اتنا کمزور ہو رہا ہے جب معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، تو جب حالات خراب ہوں گے پھر کیا ہوگا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی جن پنگ کو کرنسی کی جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اسے دیکھتے رہنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بیجنگ سے واشنگٹن کا شٹ ڈاؤن دیکھ کر کامریڈ شی (چینی صدر) کی خاموش مسکراہٹ دیدنی رہی ہوگی۔ کرنسی کی عالمی سیاست میں، ڈالر پر مبنی نظام اگر داخلی خلفشار میں الجھ جائے تو یوآن کی مستحکم تصویر سے بہتر اشتہار اور کیا ہوسکتا ہے؟ رینمنبی اور کیا چاہے گا، جب امریکی ڈالر اپنی ہی مالیاتی بدنظمی میں اس قدر الجھ جائے کہ یہ بھول جائے کہ وہ اب بھی دنیا کا ریزرو کرنسی ہے؟</strong></p>
<p>یقیناً اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈالر زمین بوس ہورہا ہے یا  یوآن تخت پر براجمان ہونے کو ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا نے چین کے حق میں اپنے مالیاتی جھکاؤ کا وقت چُننے میں کمال نہیں کیا؟</p>
<p>ایسے وقت میں جب امریکی اقتصادی اشاریے بےچین منڈیوں کو تسلی دینے کے لیے درکار تھے، نظام کی بجلی ہی کٹ گئی۔ بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس خاموش ہوگیا، تنخواہوں کے اعدادوشمار تاخیر کا شکار ہوئے، اور فیڈرل ریزرو کو اپنی اگلی پالیسی فیصلہ سازی اندھیرے میں کرنا پڑی۔ نہ کوئی قدرتی آفت، نہ سائبر حملہ، بلکہ محض یہ کہ دنیا کی سب سے طاقتور حکومت اپنے بلوں کی ادائیگی پر اتفاق نہیں کر سکی۔ یہ تکنیکی دیوالیہ پن نہ سہی لیکن عملی طور پر کیا یہ اُس سے بدتر نہیں؟</p>
<p>ادھر ڈالر کی ساکھ ایک اور خود ساختہ زخم سہتی ہے، اُدھر  یوآن خاموشی سے زرِ مبادلہ کی درجہ بندیوں میں اوپر چڑھتا جا رہا ہے۔ بینک برائے بین الاقوامی تصفیہ جات (بی آئی ایس) کے مطابق   یوآن کی روزانہ تجارت 817 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اب وہ برطانوی پاؤنڈ کے برابر آ کھڑا ہوا ہے۔ عالمی کرنسی تجارت میں اس کا حصہ 8.5 فیصد ہو چکا ہے، جو 2022 میں 7 فیصد تھا جبکہ پاؤنڈ 10.2 فیصد سے نیچے جا چکا ہے۔ کیا یہ کہنا بعید از قیاس ہے کہ اگلے بی آئی ایس چکر میں  یوآن اسے پیچھے چھوڑ دے؟ یا اب یہی بنیادی امکان بن چکا ہے؟</p>
<p>پیپلز بینک آف چائنا کے سربراہ پان گونگ شینگ تو یہی سمجھتے ہیں۔ جون میں شنگھائی میں کی گئی اپنی تقریر میں وہ صرف ایک کثیر قطبی مالیاتی نظام پر غور ہی نہیں کر رہے تھے بلکہ گویا اس کی خاکہ بندی کر رہے تھے۔ چاہے وہ ڈیجیٹل  یوآن کے آپریشن سینٹرز ہوں یا  یوآن فیوچرز مارکیٹس، ان کا مرکزی بینک کسی عالمی اتفاقِ رائے کا انتظار نہیں کر رہا، بلکہ وہ ”بعد از ڈالر“ دنیا کا انفرااسٹرکچر تعمیر کر رہا ہے جبکہ باقی دنیا ابھی یہی طے کر رہی ہے کہ موجودہ نظام کام بھی کر رہا ہے یا نہیں۔</p>
<p>اور سرمایہ کار بھی اس تبدیلی کو محسوس کر رہے ہیں۔ اور وہ صرف سونے جیسے روایتی محفوظ اثاثوں میں سرمایہ محفوظ نہیں کر رہے بلکہ ڈالر سے ہٹ کر دیگر مالیاتی متبادلات کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جسے مارکیٹ نے مکمل طور پر قیمت میں شامل نہیں کیا: یہ صرف روایتی خطرے سے بچاؤ کی پرواز نہیں، بلکہ یہ ممکنہ طور پر امریکی مالیاتی نظم و نسق کے زوال، یا کم از کم اُس کے عدم استحکام، کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر ہے۔ ٹرمپ دور کے شٹ ڈاؤن کا انتشار، سیاسی بنیادوں پر فیڈ کی تقرریاں اور ٹیرف جنگوں سے لبریز تجارتی پالیسی، یہ سب مل کر سرمائے کو نئی راہ پر ڈال رہے ہیں۔ جب ڈالر کا مقام ایک سہارا بننے کے بجائے ایک جغرافیائی سیاسی خطرہ بن جائے، تو پھر اس کی ریزرو حیثیت کا کیا بنے گا؟</p>
<p>اگرچہ امریکی خزانے کی پیداوار (ٹریژری ییلڈز) اب بھی توجہ حاصل کرتی ہے اور موثر فیڈ فنڈز ریٹ 4.09 فیصد کے آس پاس منڈلا رہا ہے، جبکہ ہدفی دائرہ 4.00 سے 4.25 فیصد ہے، لیکن اصل دباؤ کہیں اور ہے۔ پالیسی ریٹ کس کام کا، جب مارکیٹیں آپ کی خودمختاری پر سوال اٹھانے لگیں؟ کیا ہیج کریں جب آپ کی ریزرو کرنسی سیاسی خطرے اور ادارہ جاتی دراڑوں کا شکار ہو؟</p>
<p>اور فائدہ کسے ہوتا ہے جب اعداد و شمار کی تاریکی جنگ یا موسم کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض سرکاری نااہلی کا نتیجہ ہو؟</p>
<p>یوآن کے عالمی استعمال کی شرح شاید اب بھی محدود ہو، اگست تک عالمی بینکنگ نیٹ ورک (سوئفٹ) کے لین دین میں صرف 2.9 فیصد، لیکن اصل نکتہ یہ نہیں۔ اصل بات رجحان کی مستقل مزاجی ہے۔ چین کی سرمائے پر پابندیاں نرم ہو رہی ہیں، مالیاتی مصنوعات کی اقسام بڑھ رہی ہیں اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت اب وہ کردار ادا کر رہی ہے جو کبھی امریکہ کرتا تھا، یعنی چین اب اپنی معیشت یا مالی نظام کی ایسی خصوصیت دنیا کو فراہم کر رہا ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکے اور جس کی بنیاد پر مستقبل کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔</p>
<p>حتیٰ کہ سوئس فرانک، جو ایک غیر جانب دار حفاظتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے، اب روزانہ کی تجارت میں آسٹریلوی اور کینیڈین ڈالر سے بھی آگے نکل چکا ہے۔ کیا یہ قابلِ غور اشارہ نہیں؟</p>
<p>یقیناً ان عوامل سے یہ لازم نہیں آتا کہ چین کرنسی کی اس جنگ میں فاتح ہوگا۔ یوآن اب بھی مکمل طور پر قابلِ تبادلہ نہیں، بیجنگ مالیاتی منڈی میں آزادانہ مداخلت کرتا ہے اور معیشت عمومی طور پر افراطِ زر کی بجائے عمومی معاشی جمود کے ساتھ گرتی ہوئی قیمتوں (ڈیفلیشن) کے دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن اس مقابلے میں چین کو جیتنے کی ضرورت نہیں، اسے صرف اتنا درکار ہے کہ امریکہ یہ کھیل اسی طرح خراب انداز میں جاری رکھے۔</p>
<p>ہر شٹ ڈاؤن، ہر منسوخ شدہ بانڈ نیلامی، ہر تاخیر زدہ اعداد و شمار اور ہر وہ ٹرمپ ٹویٹ جس میں فیڈ چیئر کو برطرف کرنے کی بات کی جاتی ہے، یہ سب ڈالر سے وفاداری کی قیمت بڑھاتے جا رہے ہیں۔</p>
<p>تو پھر کیا تعجب ہے اگر مرکزی بینک سونے کی طرف متوجہ ہوں، تجارتی شراکت دار ڈالر کے بغیر انوائسنگ کے طریقے ڈھونڈیں، یا نجی فنڈز یوآن میں سرمایہ کاری کو آزمانا شروع کر دیں؟ یہ فیصلے نظریات کی نہیں، بلکہ مالی خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی ( رسک مینجمنٹ) کا معاملہ ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اور یورپ کا کیا حال ہے؟ لاگاردے کا حالیہ بیجنگ کا دورہ محض نمائشی نہیں تھا۔ یورپی مرکزی بینک کی صدر صرف چائے پینے نہیں گئی تھیں۔ ان کی “ یورو کے عالمی دور“ کی بات ابھی قبل از وقت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ امریکہ کی مالی قیادت پر اجارہ داری کمزور ہو رہی ہے۔ یہ جگہ برسلز، بیجنگ، یا ایس ڈی آر کے ایک مجموعے سے بھرے گی یا نہیں، یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ لیکن کیا اس وقت کوئی واشنگٹن پر شرط لگا رہا ہے؟</p>
</blockquote>
<p>مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب امریکی معیشت نسبتاً مضبوط ہے۔ مہنگائی کم ہو رہی ہے، جی ڈی پی کے اعداد و شمار ٹھوس ہیں اور روزگار کی صورتحال مستحکم ہے۔ پھر بھی ڈالر کا اعتماد بخش پریمیم آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ہمیں مارکیٹ کے ادارہ جاتی دیانت داری کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟</p>
<p>تحریر کے وقت، یورپی وسط دن کے سیشن میں، جب امریکی بازار بدھ کو کھلنے والے تھے، سرمایہ کار ابھی بھی شٹ ڈاؤن کی کشمکش اور اس کے اثرات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن جزوی مارکیٹ کی صورتحال بھی ایک گہرا سوال اٹھا گئی: اگر ڈالر اس وقت اتنا کمزور ہو رہا ہے جب معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، تو جب حالات خراب ہوں گے پھر کیا ہوگا؟</p>
<p>شی جن پنگ کو کرنسی کی جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس اسے دیکھتے رہنا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40277703</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Oct 2025 16:56:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شہاب جعفری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/10/02160417ac5a541.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/10/02160417ac5a541.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
